حذیفہ مرعشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خواجہ حذیفہ مرعشی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خواجہ حذیفہ مرعشی آپ مشائخ کبار و متقدمین میں سے تھے اور سلطان ابراہیم بن ادہم کے خلیفہ تھے۔

نام و لقب[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی حذیفہ مرعشی اور لقب سدید الدین تھا۔آپ کا تعلق شام کے علاقہ مرعش سے تھا ۔

علم و تقویٰ[ترمیم]

حذیفہ مرعشی رحمۃ اللہ علیہ عالم و فقیہ بے بدل تھے آپ رحمۃ اللہ علیہ تیس سال تک بلا وجہ بے وضو نہیں رہے آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ روزہ سے رہتے اور چھ دن بعد افطار کیا کرتے آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے اہل دل کی غذا تو لا الہ اللہ محمد رسول اللہ ہی ہے ۔

بددعا کا اثر[ترمیم]

ایک دن بزرگان دین کے خلاف چند بےوقوف حذیفہ مرعشی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے متعلق سخت گفتگو کرنے لگے۔ حذیفہ مرعشی نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا مگر انہوں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنا شروع کردیا۔ جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ اگر تم ولی اللہ ہو تو ہمارے لئے بددعا کرو۔ حذیفہ مرعشی کے منہ سے تین بار آہ آہ نکلا اور منہ سے شعلے نکلتے دکھائی دئیے اور وہ تمام کے تمام جل کر راکھ ہوگئے۔

خوف خدا[ترمیم]

ایک دن حذیفہ مرعشی اللہ کے خوف سے رو رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ اس قدر گریہ زاری اور اضطراب کیوں ہے کیاآپ اللہ تعالیٰ کو غفور و رحیم نہیں پاتے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "ایک طبقہ جنت میں ہوگا، ایک جہنم کی سختیوں میں رہے گا" مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں کس طبقہ میں ہوں گا۔ اس شخص نے کہا کہ اگر آپ کو اپنی عاقبت کی خبر بھی نہیں تو لوگوں سے بیعت کیوں لیتے ہیں۔ اس طرح دوسروں کو بھی اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ یہ سن کر حذیفہ مرعشی نعرہ زن ہوئے اور بےہوش ہوگئے۔ ہوش میں آئے تو غیب سے آواز آئی کہ اے حذیفہ ہم تمہیں اپنا دوست رکھتے ہیں اور برگزیدہ قرار دیتے ہیں۔ میدان حشر میں اصحاب جنت میں اٹھوگے۔ یہ آواز تمام حاضرین نے سنی۔ اس دن تین سو کافر حلقہ اسلام میں داخل ہوئے اور آپ سے بیعت کی۔ حذیفہ مر عشی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق دمشق (شام) کے علاقہ مرعش سے تھاانتہائی ذہین تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا اور اٹھارہ سال کی عمر میں تمام ظاہری علوم حاصل کرچکے تھے۔کثرت ریاضت و مجاہدہ کے سبب چھ مہینے میں ہی باطنی کمالات حاصل کرلئےاور خلیفہ بنے۔ مرشد نے خلافت اور دعاؤں سے نوازا۔ خوف و خشیت کا غلبہ رہتا تھا۔ اکثر گریہ و زاری کرتے رہتے تھے اور معمولی لباس پہنتے تھے۔

وصال[ترمیم]

تذکرۃالعاشقین کے مصنف نے حذیفہ مرعشی کےاس دارفانی سےرخصتی کا سن 14 شوال 276ھ لکھا ہے جبکہ صاحب سیرالاقطاب نے24شوال 252ھ لکھاہے۔ تمام تذکرہ نگاروں کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ حضرت ابراہیم بن ادہم کے بعد نوسال تک زندہ رہے۔ آپ کا مزارشریف بصرہ میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • خزینۃ الاصفیاءجلد دوم: صفحہ 32،33،مفتی غلام سرور لاہوری مکتبہ نبویہ لاہور
  • سفینۃ الاولیاء : از شہزادہ دارا شکوہ قادریؒ