علی بن ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(علی ابن ابی طالب سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Disambigua compass.svg یہ صفحہ علی بن ابی طالب، مسلمان خلیفہ سے متعلق ہے۔ اس نام سے مشابہت والے صفحات کے لیے صفحہ ← علی (ضد ابہام) دیکھیں۔
علی بن ابی طالب
علی بن ابی طالب کا نام عربی خطاطی میں
ابو الحسن، ابو تراب، حیدر و حیدرہ، اسد الله، المرتضی، باب مدینة العلم
اور عام طور پر عرب میں: سیِّدُنا علی، اور عرب و عجم میں امام علی، ہند و پاک میں مولا علی، اضافی دعا‏ئیہ الفاظ (كرَّم الله وجہہ) اور (علیه السلام) اور (رضی الله عنہ)
ولادت 13 رجب 23 ق ھ بمطابق 17 مارچ 599ء
مکہ مکرمہ تہامہ، شبہ جزيرہ عرب
وفات 21 رمضان 40ھ، بمطابق 27 جنوری ء
كوفہ، عراق، BlackFlag.svg سلطنت خلافت راشدہ
قابل احترام اسلام: اہل سنت و جماعت، تمام شیعہ مکاتب فکر، اباضیہ، دروزیہ
المقام الرئيسي *حرم علی بن ابی طالب، نجف، عراق (اہل تشیع کے مطابق)
نسب * والد: ابو طالب بن عبد المطلب

علی بن ابی طالب (599ء661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔[1] علی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔ حضرت علی پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔

جہاد

مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔ آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا۔ بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں۔پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی، اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا، آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا آپ شہر کے اندرر کر مقابلہ کریں اور دشمن کو یہ موقع دیں کہ وہ مدینہ کی پر امن ابادی اور عورتوں اور بچوں کو بھی پریشان کرسکے۔ گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے، ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کرلیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی۔ جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ اس لڑائی میں زیادہ رسول نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوئے۔ علی ابن ابو طالب علیہ السلام کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی بن ابی طالب کے سر رہا۔جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں علی بن ابی طالب نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے۔ تقریباًان تمام لڑائیوں میں علی بن ابی طالب کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا۔ اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو تنہا بھیجا اورانھوںنے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں علی بن ابی طالب نے بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا۔ آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے۔ صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا، اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر علی بن ابی طالب نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی۔ چنانچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر آئی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر آگیا کہ اس کا قاتل علی بن ابی طالب سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔

علی کی زندگی کا خط وقت
علی بن ابی طالب کی زندگی کے واقعات
مكَّہ میں
599ء ولادت 13 رجب 23 ھ بمُطابق 17 مارچ
610ء پہلی وحی کا نزول
613ء دعوت ذو العشیرہ میں رسول اکرم کی دعوت اسلام کو قبول کیا (شیعہ نظریہ)
617- 619ء شُعب ابی طالب
622ء رسول اکرم کی ہجرت کی رات بستر نبی پر سوئے
مدينہ مُنوَّرہ میں
622ء نبی اکرم کی ہجرت مکہ سے یثرب
اور نبی اکرم کے بھائی بنے (اخوت)
623ء فاطمہ زہراء سے شادی
624ء غزوہ كُبرى بدر مُشركین قُریش کے بڑوں کو ہلاک کیا
625ء ولادت حسن وفات والدہ فاطمہ بنت اسد
غزوہ احد مسلمانوں کے بھاگنے پر رسول اکرم کی حفاظت کی
626ء ولادت حُسین
627ء غزوہ خندق: عمرو بن عبد ود کو ہلاک کیا
628ء صلح حُدیبیہ
628ء غزوہ خيبر
ولادت زينب
629ء غزوہ مؤتہ
630ء فتح مكَّہ اور غزوہ حُنين
631ء مُباہلہ نجران کے نصاری
632ء جانشینی کا اعلان|غدير خُم (شیعہ نظریہ)
632ء نبی اکرم کا وصال، ان کے غسل، کفن اور دفن کا انتظام (شیعہ نظریہ)
رسول اکرم کی وفات کے بعد
632ء ابو بكر صدِّيق کی خلافت اور سقیفہ بنی ساعدہ
وفات فاطمہ
644ء مجوسی ابو لؤلؤہ کے ہاتھوں عُمر بن خطَّاب کا قتل اور شورائے خلافت میں علی کی شمولیت
648ء ولادت غازی عبَّاس
علی کی خلافت
656ء علی کی خِلافت
فتنوں کا آغاز
واقعہ جمل
657ء دار الحکومت كوفہ منتقل کیا
واقعہ صفين
658-59ء واقعہ حکمیت
خوارج کا قتل
660ء مُعاويہ بن أبي سُفيان نے اپنی خلافت کا اعلان کیا
661ء مسجد كوفہ میں نماز کے دوران ایک خارجی عبد الرحمٰن بن ملجم کے حملے میں شہادت

خدمات

جہاد سمیت اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے کسی کام کے کرنے میں آپ کو انکار نہ تھا۔ یہ کام مختلف طرح کے تھے رسول اکرم کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنا، خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمہ تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا۔

جب سورہ برائت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے لیے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورئہ برائت کی آیتیں سنائیں- اس کے علاوہ رسالت مآب کی ہر خدمت انجام دینے پر تیار رہتے تھے- یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رسول کی جوتیاں اپنے ہاتھ سے سی رہے ہیں علی بن ابی طالب اسے اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔

اعزاز

علی بن ابی طالب کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب علی بن ابی طالب کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ مثلا آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ الفاظ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں«۔کبھی یہ کہا کہ »میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔,, کبھی یہ کہا »تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے۔ کبھی یہ کہا»علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی۔ کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔

کبھی یہ کہ» وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں،, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا۔ عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا اور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔

بعدِ رسول

جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا وہ بعد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے جسد اطہر مبارک کو کس طرح چھوڑتا, چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام علی بن ابی طالب ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا۔ اس کے علاوہ بطور خود خاموشی کے ساتھ اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے۔ قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا۔ مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا۔ بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کا کام انجام دے سکیں، زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے۔ ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفاد ملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو انسان اپنی ملّت، قوم اور مذہب کی خدمت ہر حال میں کرتا رہے۔

خلافت

پچیس برس تک رسول کے بعد علی بن ابی طالب نے خانہ نشینی میں بسر کی 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب علی بن ابی طالب کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے پہلے انکار کیا، لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا۔ مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا، آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا، آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل ، صفین اور نہروان کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں۔ جن میں حضرت علی بن ابی طالب نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی۔ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسا دل چاہتا تھا اس طرح اصلاح فرمائیں۔ پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی، مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور اپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے، پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے، غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے۔ جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہوسکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے۔ مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں، انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بھجادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے۔ آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے۔ آپ اسلامی خزانے میں مال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے۔

تالیفات اور احادیث

1۔ کتاب جامعہ کہ بنا بر روایت ابوبصیر،علی بن ابی طالب نے اس میں اسلامی احکام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے لکھے اور اس میں متعدد موضوعات کے حلال اور حرام کے مسائل جمع فرمائے۔ یہ ایک ضخیم کتاب تھی اسے کتاب علی بھی کہا جاتا ہے۔

2۔ صحیفہ امام علی کہ جس میں جامعہ مذکورہ کے علاوہ خاص احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو سے سنے تھے لکھے گئے ہیں۔

3۔ الملاحم یا صحیفة‏الدولة ایک اور کتاب ہے جوعلی بن ابی طالب نے زبان مبارک رسول اکرم سے سن کر ان کے لکھوانے پر تحریر فرمایا جو آنحضرت کی وفات کے بعد کے واقعات کی پیشگوئی نیز ان کی وصیتوں اور نصیحتوں پر مشتمل ہے۔

4۔ مصحف امام علی،علی بن ابی طالب نے قرآن مجید کو شأن نزول کی ترتیب سے آیات کی جمع ‏آوری فرمائی و علماء اہل سنت بھی اعتراف کرتے ہیں کہ یہ بہت قابل قدر کام ہے۔

5۔ کتاب جفر واشعار کا دیوان شعر بھی حضرت علی سے منسوب ہے۔

6۔ آثار امام علی علیه‏ السلام میں سے ایک بہت بڑا ذخیرہ ان کی بارگاہ ربوبیت میں کی گئی دعائیں ہیں جو معارف الہی کا بہت قیمتی خزانہ ہے۔

7۔اہم ‏ترین اور مشہور دعائیں جیسے: دعای کمیل، دعای توسّل، دعای ابوحمزه ثمالی، صباح، جوشن وغیر‏ہ

8۔ ان کے خطبوں کا ایک وسیع سلسلہ تھا جو اسلامی، ادبی، علمی، تاریخی، اخلاقی، سیاسی، الہی مضامین پر مشتمل ہے ایسا کلام کسی دیگر بشر سے نہیں سنا گیا۔ ان میں سے کچھ خطبے نہج البلاغۃ نامی کتاب میں چوتھی صدی کے ایک عظیم شیعہ عالم دین سید رضی (395ھ وفات 406ھ) میں جمع کئے ہیں۔

9۔ ان کے نجی یا سرکاری خطوط جو تاریخی، ادبی اور اسلامی معارف اور اقدار کے لحاظ سے بے نظیر اور نمونہ عمل ہیں۔ کچھ خطوط نہج البلاغۃ میں نقل ہوئے ہیں۔

10۔ ان کے حکیمانہ جملے اور کلمات قصار جو سمندر کو کوزے میں سموئے ہوئے ہیں۔ ان ہزاروں جملوں میں سے چند سو نہج البلاغۃ میں موجود ہیں۔

نہج البلاغۃ کی بہت سی شرحیں سنی اور شیعہ علماء نے لکھی ہیں جن میں سے مشہور یہ ہیں۔ شرح محمد عبده، شرح ابن ابی الحدید، شرح قطب راوندی، شرح محمدتقی جعفری، شرح محمد دشتی وغیره۔

احادیث

بے شمار نبوی احادیث علی بن ابی طالب نے نقل فرمائی ہیں چونکہ آپ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریب اور ساتھ ہوتے تھے تو سب سے زیادہ ان کے فرامین سنتے تھے۔ علامہ ابن حزم اندلسی نے اپنی کتاب أسماء الصحابه و ما لكل واحد منهم من العدد میں آپ کی مرویات کی تعداد پانچ سو سینتیس لکھی ہےاہل سنّت کے علماء کے بقول ان احادیث کی تعداد مختلف ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنیاد پر صرف پچاس حدیثیں ہی اہل سنت کی کتب حدیث میں نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق حضرت علی کی مرویات کی تعداد بارہ ہزار ہے

1۔ مسند الامام علی دو جلدوں میں جو احادیث آج کل جمع کی گئی ہیں وہ 1450 احادیث ہیں۔

امام علی علیه‏السلام نے بہت سے راویوں کی تربیت فرمائی اور اسلامی معاشرے کی بہبود کے لئے ان شاگرد ہمیشہ احادیث بیان کرتے رہے جن میں سے اہم ترین حسن بن علی، حسین بن علی، محمد بن حنفیہ، عمرو بن علی، فاطمہ بنت علی، جعفر بن ہبیرہ مخزومی، عبدالله بن عباس، جابر بن عبدالله انصاری، ابورافع، و اسامہ بن زید کے نام ہیں۔ کتب رجال، میںعلی بن ابی طالب کے شاگرد راویوں میں اصحاب میں سے 66 راوی اور تابعین میں سے 180 کا تذکرہ ملتا ہے۔

ان کے شاگردوں نے جو آپ کی زبان سے جاری کلمات کو لکھا ہے ان میں سے چند کتب یہ ہیں۔

1۔ القضایا و الاحکام، تألیف بریربن خضیر همدانی شرقی (شهید عاشورہ)؛

2۔ السنن و الاحکام والقضایا، تألیف ابورافع ابراہیم بن مالک انصاری (م 40)؛

3۔ قضایا امیرالمؤمنین، تألیف عبدالله بن ابی رافع؛ (امام علی کے فیصلے)

4۔ کتاب فقه، تألیف علی بن ابی رافع؛

5۔ جانوروں کے بارےکتاب، تألیف ربیعه بن سمیع؛

6۔ کتاب میثم بن یحیی تمّار کوفی (م 60)؛

7۔ کتاب الدیات، تألیف ظریف بن ناصح وغیرہ

شہادت

علی بن ابی طالب کو 19 رمضان40ھ ( 660ء ) کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔

اولاد

آپ کے بچوں کی تعداد ۲۷ تھی۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن ، امام حسن اور امام حسین ، جبکہ دو صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت ام کلثوم علیہما السّلام بھی حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے تھیں۔ باقی ازواج سے آپ کو جو اولاد ہوئی، ان میں حضرت حنفیہ، حضرت عباس بن علی شامل ہیں۔ علی ابن طالب علیہ السلام کی اولاد یہ ہیں :

بیٹے

بیٹیاں

  • رقیہ بنت علی
  • رملہ بنت علی
  • نفیسہ بنت علی
  • خدیجہ بنت علی
  • ام ہانی بنت علی
  • جمانہ بنت علی
  • امامہ بنت علی
  • مونا بنت علی
  • سلمیٰ بنت علیحوالہ درکار؟

حوالہ جات

  1. ازالۃ الخفاء از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

بیرونی روابط

  • علی، انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں مقالہ
حضرت علی کے کچھ خصوصی خطوط
شیعہ مکتب فکر
اہلسنت مکتب فکر
علی بن ابی طالب
اہل بیت
سردار بنو ہاشم 653ء سے
بنو قریش کی ایک شاخ
پیدائش: 23 اکتوبر 598ء وفات: 28 فروری 661ء
مناصب اہل تشیع
پیشتر
محمد
مہر نبوت — آخری نبی
شیعہ مکتبہ فکر کے پہلے امام
632ءعیسوی661ء
اگلا
حسن بن علی
مناصب سنت
پیشتر
عثمان بن عفان
اہلسنت مکتبہ فکر کے چوتھے خلیفہ راشد
565ء661ء
اگلا
حسن بن علی