علی ابن ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
{{{نام}}}
ولادت 13 رجب 23 ق ھ بمطابق 17 مارچ 599ء
مکہ مکرمہ تہامہ، شبہ جزيرہ عرب (جائے پیدائش)
وفات 21 رمضان 40ھ، بمطابق 27 جنوری ء
كوفہ، عراق، BlackFlag.svg خلافت راشدہ
محترم در اسلام: اہل سنت و جماعت، تمام شیعہ مکاتب فکر، اباضیہ، دروزیہ
مزار * قصر الاِمارہ، کوفہ، Flag of Iraq.svg عراق (اہل سنت کے مطابق)[1][2][3]
نسب * والد: ابو طالب بن عبد المطلب

ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء)[4][5] پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ عثمان بن عفان کے بعد چوتھے خلیفہ راشد کے طور پر سنہ 656ء سے 661ء تک حکمرانی کی، لیکن انہیں شیعہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔

ابو طالب[6] اور فاطمہ بنت اسد[7] کے ہاں پیدا ہوئے۔ روایات کے مطابق علی، مقدس ترین اسلامی شہر مکہ میں کعبہ کے اندر جائے حرمت میں پیدا ہوئے تھے۔[7][8][9] علی بچوں میں پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے، [10][11] اور کچھ مصنفین کے مطابق پہلے مسلم تھے۔[12] ابتدائی دور میں علی نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کی[13] اور ابتدائی مسلم برادری کی جانب سے لڑی گئی تقریباً تمام جنگوں میں حصہ لیا۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے پیغمبر اسلام کی بیٹی فاطمہ زہرا سے شادی کی۔[7] خلیفہ عثمان بن عفان کے قتل کے بعد سنہ 656ء میں صحابہ نے انہیں خلیفہ منتخب کیا تھا۔[14][15] علی نے اپنے دور خلافت میں خانہ جنگیاں دیکھیں اور سنہ 661ء میں جب وہ جامع مسجد کوفہ میں نماز پڑھ رہے تھے عبد الرحمن بن ملجم نامی ایک خارجی نے ان پر حملہ کر دیا اور وہ دو دنوں بعد شہید ہو گئے۔[16][17][18]

علی شیعوں اور سنیوں، دونوں کے ہاں سیاسی طور پر اور روحانی طور پر اہم ہیں۔[19] فرقوں کے نزدیک علی کے متعلق متعدد سوانح عمریاں، ایک دوسرے کے نزدیک نادرست ہیں، لیکن وہ اس بات پر تمام متفق ہیں کہ وہ پارسا مسلم اور قرآن و سنت پر سختی سے کاربند تھے۔[4] سنی علی کو چوتھا اور آخری خلیفہ راشد سمجھتے ہیں جبکہ شیعہ واقعہ غدیر خم کی تاویل کر کے انہیں محمد کے بعد پہلا اِمام مانتے ہیں۔ شیعوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ علی اور دیگر شیعہ ائمہ (اہل بیت سے تمام) بھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی جانشین ہیں۔ اسی اختلاف پر امت مسلمہ کو شیعہ اور سنی فرقوں میں تقسیم کیا تھا۔[7][19][20][21] علی نے مختلف غیر مسلم تنظیموں کی جانب سے پزیرائی حاصل کی ہے جیسے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے لیے عالمی تنظیم نے ان کے طرز حکمرانی اور سماجی انصاف کی تعریف کی ہے۔[22][23][24][25]

نام، نسب، خاندان

علی نام، ابوالحسن اورابوتراب کنیت، حیدر (شیر)لقب، [26]والد کا نام ابوطالب اوروالدہ کا نام فاطمہ تھا، پوراسلسلہ نسب یہ ہے، علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مروہ بن کعب بن لوی، چونکہ ابوطالب کی شادی اپنے چچا کی لڑکی سے ہوئی تھی اس لیے حضرت علی ؓ نجیب الطرفین ہاشمی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی تھے۔ خاندانِ ہاشم کو عرب اورقبیلہ قریش میں جو وقعت وعظمت حاصل تھی وہ محتاجِ اظہار نہیں، خانہ کعبہ کی خدمت اوراس کا اہتمام بنوہاشم کا مخصوص طغرائے امتیاز تھا اوراس شرف کے باعث ان کو تمام عرب میں مذہبی سیادت حاصل تھی۔ حضرت علی مرتضی ؓ کے والد ابو طالب مکہ کے ذی اثر بزرگ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی آغوش شفقت میں پرورش پائی تھی اوربعثت کے بعد ان ہی کے زیر حمایت مکہ کے کفرستان میں دعوتِ حق کا اعلان کیا تھا، ابو طالب ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے پنجہ ظلم ستم سے محفوظ رکھا، مشرکین قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پناہی اورحمایت کے باعث ابوطالب اوران کے خاندان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، ایک گھاٹی میں ان کو محصور کر دیا، کاروبار اورلین دین بند کر دیا، شادی بیاہ کے تعلقات منقطع کرلئے، کھانا پینا تک بند کر دیا، غرض ہر طرح پریشان کیا، مگر اس نیک طینت بزرگ نے آخری لمحہ حیات تک اپنے عزیز بھتیجے کے سر سے دستِ شفقت نہ اُٹھایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو تھی کہ ابو طالب کا دل نورِ ایمان سے منور ہوجائے اور انہوں نے اپنی ذات سے دنیا میں مہبط وحی(صلی اللہ علیہ وسلم )کی جو خدمت وحمایت کی ہے اس کے معاوضہ میں ان کو نعیم فردوس کی ابدی اورلامتناہی دولت حاصل ہو، اس لیے ابو طالب کی وفات کے وقت نہایت اصرار کے ساتھ کلمہ توحید کی دعوت دی، ابوطالب نے کہا عزیز بھتیجے! اگر مجھے قریش کی طعنہ زنی کاخوف نہ ہوتا تو نہایت خوشی سے تمہاری دعوت قبول کرلیتا، [27]سیرت ابن ہشام میں حضرت عباس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نزع کی حالت میں کلمۂ توحید ان کی زبان پر تھا، مگر یہ روایت کمزور ہے، بہر حال ابو طالب نے گو علانیہ اسلام قبول نہیں کیا، تاہم انہوں نے حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طرح پرورش وپرداخت کی اورکفار کے مقابلہ میں جس ثبات اور استقلال کے ساتھ آپ کی نصرت وحمایت کا فرض انجام دیا، اس کے لحاظ سے اسلام کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ شکر گزاری اوراحسان مندی کے ساتھ لیا جائے گا۔ حضرت علی ؓ کی والدہ حضرت فاطمہ ؓ بنت اسد نے بھی حضرت آمنہ ؓ کے اس یتیم معصوم کی ماں کی طرح شفقت ومحبت سے پرورش کی، مستند روایات کے مطابق وہ مسلمان ہوئیں اورہجرت کرکے مدینہ گئیں، ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفن میں اپنی قمیص مبارک پہنائی اور قبر میں لیٹ کر اس کو متبرک کیا، لوگوں نے اس عنایت کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ اسی نیک سیرت خاتون کاممنونِ احسان ہوں۔ [28] حضرت علی ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے تھے، ابو طالب نہایت کثر العیال اورمعاش کی تنگی سے نہایت پریشان تھے، قحط وخشک سالی نے اس مصیبت میں اور بھی اضافہ کر دیا، اس لیے رحمۃاللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے محبوب چچا کی عسرت سے متاثر ہوکر حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ ہم کو اس مصیبت وپریشان حالی میں چچا کا ہاتھ بٹانا چاہیے؛چنانچہ حضرت عباس ؓ نے حسب ارشاد جعفر کی کفالت اپنے ذمہ لی اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ انتخاب نے علی ؓ کو پسند کیا؛چنانچہ وہ اس وقت سے برابر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ [29]

اسلام

حضرت علی ؓ کاسن ابھی صرف دس سال کا تھا کہ ان کے شفیق مربی کو دربارِ خداوندی سے نبوت کا خلعت عطاہوا، چونکہ حضرت علی ؓ آپ کے ساتھ رہتے تھے اس لیے ان کواسلام کے مذہبی مناظر سب سے پہلے نظر آئے؛چنانچہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو مصروفِ عبادت دیکھا، اس مؤثر نظارہ نے اثر کیا، طفلانہ استعجاب کے ساتھ پوچھا، آپ دونوں کیا کر رہے تھے؟ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے منصبِ گرامی کی خبردی اورکفر وشرک کی مذمت کرکے توحید کی دعوت دی، حضرت علی ؓ کے کان ایسی باتوں سے آشنا نہ تھے، متحیر ہوکر عرض کیا، اپنے والد ابوطالب سے دریافت کروں اس کے متعلق؟چونکہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی اعلان عام منظور نہ تھا، اس لیے فرمایا کہ اگر تمہیں تامل ہے توخود غورکرو؛لیکن کسی سے اس کا تذکرہ نہ کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش سے فطرت سنورچکی تھی، توفیق الہیٰ شامل ہوئی، اس لیے زیادہ غور و فکر کی ضرورت پیش نہ آئی اوردوسرے ہی دن بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہو گئے۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بعد سب سے پہلے کون ایمان لایا، بعض روایات سے حضرت ابوبکر ؓ کی، بعض سے حضرت علی ؓ کی اولیت ظاہر ہوتی ہے اوربعضوں کے خیال میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کا ایمان سب پر مقدم ہے؛لیکن محققین نے ان مختلف احادیث میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ عورتوں میں، حضرت ابوبکر صدیق ؓ مردوں میں، حضرت زید بن حارثہ ؓ غلاموں اور حضرت علی ؓ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔

مکہ کی زندگی

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی ؓ کی زندگی کے تیرہ سال مکہ معظمہ میں بسر ہوئے، چونکہ وہ رات دن سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے مشورہ کی مجلسوں میں تعلیم وارشاد کے مجمعوں میں، کفارو مشرکین کے مباحثوں میں اورمعبودِحقیقی کی پرستش وعبادت کے موقعوں پر، غرض ہر قسم کی صحبتوں میں شریک رہے۔ حضرت عمر ؓ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے سرزمین مکہ میں مسلمانوں کے لیے علانیہ خدا کا نام لینا اور اس کی عبادت وپرستش کرنا تقریباً ناممکن تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چھپ چھپ کر اپنے معبود حقیقی کی پرستش فرماتے، حضرت علی ؓ بھی ان عبادتوں میں شریک ہوتے، ایک دفعہ وادی نخلہ میں حسب معمول مصروفِ عبادت تھے کہ اتفاق سے اس طرف ابو طالب کا گزرہوا، اپنے معصوم بھتیجے اورنیک بخت بیٹے کو مصروفِ عبادت دیکھ کر پوچھا کیا کرتے ہو؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ حق کی دعوت دی تو کہنے لگے کہ اس میں کوئی ہرج نہیں ؛لیکن مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ [30]

انتظام دعوت

منصب نبوت عطا ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین برس تک علانیہ دعوتِ اسلام کی صدا بلند نہیں فرمائی؛بلکہ پوشیدہ طریقہ پر خاص خاص لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے رہے، چوتھے سال کے اعلان عام اور سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میں اس کی تبلیغ کا حکم ہوا؛چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبیْنَ "اپنے قریبی اعزہ کو (عذب ِالہی سے) ڈراؤ" سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے موافق کوہِ صفاپر چڑھ کر اپنے خاندان کے سامنے دعوتِ اسلام کی صدا بلند کی ؛لیکن مدت کا زنگ ایک دن کے صیقل سے نہیں دور ہوسکتا تھا، ابولہب نے کہا :تَبًّالَکَ، اسی لیے تو نے ہم لوگوں کو جمع کیا تھا؟اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ پھر اپنے خاندان میں تبلیغ اسلام کی کوشش فرمائی اورحضرت علی ؓ کو انتظام دعوت کی خدمت پر مامور کیا۔ حضرت علی ؓ کی عمر اس وقت مشکل سے چودہ پندرہ برس کی تھی ؛لیکن انہوں نے اس کمسنی کے باوجود نہایت اچھا انتظام کیا، دسترخوان پر بکرے کے پائے اوردودھ تھا، دعوت میں کل خاندان شریک تھا جن کی تعداد چالیس تھی، حضرت حمزہ ؓ، عباس ؓ، ابولہب اور ابوطالب بھی شرکاء میں تھے، لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُٹھ کر فرمایا:‘‘ یا بنی عبدالمطلب:خداکی قسم میں تمہارے سامنے دنیا وآخرت کی بہترین نعمت پیش کرتا ہوں، بولو تم میں سے کون اس شرط پر میرا ساتھ دیتا ہے کہ وہ میرا معاون و مددگار ہوگا؟ اس کے جواب میں سب چپ رہے، صرف شیر خدا علی مرتضی کی آواز بلند ہوئی کہ گو میں عمر میں سب سے چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کا عارضہ ہے اور میری ٹانگیں پتلی ہیں، تاہم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یاور اوردست وبازو بنوں گا۔’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم بیٹھ جاؤاورپھر لوگوں سے خطاب فرمایا؛لیکن کسی نے جواب نہ دیا، حضرت علی ؓ پھر آٹھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دفعہ بھی ان کو بٹھا دیا، یہاں تک کہ جب تیسری دفعہ بھی اس بارِگراں کا اٹھانا کسی نے قبول نہیں کیا تو اس مرتبہ بھی حضرت علی ؓ نے جاں بازی کے لہجہ میں انہی الفاظ کا اعادہ کیا تو ارشاد ہوا کہ بیٹھ جاؤ تو میرا بھائی اورمیرا وارث ہے۔" [31]

ہجرت

بعثت کے بعد تقریباً تیرہ برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گھاٹیوں میں اسلام کی صدا بلند کرتے رہے؛لیکن مشرکین قریش نے اس کا جواب محض بغض وعناد سے دیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائیوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے، رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثاروں کو اسیر پنجۂ ستم دیکھ کر آہستہ آہستہ ان سب کو مدینہ چلے جانے کا حکم دیا؛چنانچہ چند نفوسِ قدسیہ کے علاوہ مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا، اس ہجرت سے مشرکین کو اندیشہ ہوا کہ اب مسلمان ہمارے قبضہ اقتدار سے باہر ہو گئے ہیں اس لیے بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی قوت مضبوط کرکے ہم سے انتقام لیں، اس خطرہ نےان کو خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کا دشمن بنادیا؛چنانچہ ایک روز مشورہ کرکے وہ رات کے وقت کاشانۂ نبوت کی طرف چلے کہ مکہ چھوڑنے سے پہلے ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے رخصت کر دیں؛لیکن مشیت الہی تو یہ تھی کہ ایک دفعہ تمام عالم حقانیت کے نور سے پرنور اورتوحید کی روشنی سے شرک کی ظلمت کا فورہوجائے، اس مقصد کی تکمیل سے پہلے آفتاب رسالت کس طرح غروب ہوسکتا ہے، اس لیے وحی الہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کے ارادوں کی اطلاع دیدی اورہجرتِ مدینہ کا حکم ہوا، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ مشرکین کو شبہ نہ ہو، حضرت علی ؓ مرتضیٰ کو اپنے فرشِ اطہر پر استراحت کا حکم دیا اورخود حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔

فدیت وجان نثاری کا ایک عدیم المثال کارنامہ

حضرت علی ؓ کی عمر اس وقت زیادہ سے زیادہ بائیس تئیس برس کی تھی، اس عنفوانِ شباب میں اپنی زندگی کو قربانی کے لیے پیش کرنا فدویت وجاں نثاری کا عدیم المثال کارنامہ ہے، رات بھر مشرکین کا محاصرہ قائم رہا اوراس خطرہ کی حالت میں یہ نوجوان نہایت سکون واطمینان کے ساتھ محو خواب رہا، غرض تمام رات مشرکین قریش اس دھوکا میں رہے کہ خود سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہی استراحت فرما ہیں، صبح ہوتے ہی اپنے ناپاک ارادہ کی تکمیل کے لیے اندر آئے؛لیکن یہاں یہ دیکھ کر وہ متحیرہوگئے کہ شہنشاہِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جاں نثار اپنے آقا پر قربان ہونے کے لیے سربکف سو رہا ہے، مشرکین اپنی اس غفلت پر سخت برہم ہوئے اورحضرت علی ؓ کو چھوڑ کر اصل مقصود کی تلاش وجستجو میں روانہ ہو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد دو یا تین دن تک مکہ میں مقیم رہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق جن لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاروبار اور لین دین تھا، ان کے معاملات سے فراغت حاصل کی اور تیسرے یا چوتھے دن وطن کو خیر باد کہہ کر عازم مدینہ ہوئے، اس زمانہ میں حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت کلثوم بن ہدم ؓ کے مہمان تھے اس لیے حضرت علی ؓ بھی انہی کے مکان میں جاکر روکش ہوئے، [32]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مہاجرین میں باہم بھائی چارہ کرایا تو حضرت علی ؓ کو اپنا بھائی بنایا۔ [33]

تعمیر مسجد

مدینہ کا اسلام مکہ کی طرح بے بس ومجبورنہ تھا ؛بلکہ آزادی وحریت کی سرزمین میں تھا جہاں ہر شخص علانیہ خدائے واحد کی پرستش کرسکتا اوراحکام شرعیہ نہایت اطمینان کے ساتھ ادا کرسکتاتھا، مسلمانوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جاتی تھی، یہاں تک کہ ہجرت کے چھٹے یا ساتویں مہینہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مسجد تعمیر کرنے کا خیال پیدا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بنیاد رکھی اور اپنے رفقا کے ساتھ خود اس کی تعمیر میں حصہ لیا، تمام صحابہ جوش کے ساتھ شریک کار تھے، حضرت علی ؓ اینٹ اورگارہ لالا کر دیتے تھے اوریہ رجز پڑھتے تھے: لایستوی من یعمر المساجدیدائب فیہ قائما وقاعداومن یری عن الغبار حائدا [34] "جو مسجد تعمیر کرتا ہے کھڑے ہوکر اوربیٹھ کر اس مشقت کو برداشت کرتا ہے اور جو گردوغبار کے باعث اس کام سے جی چراتا ہے وہ برابر نہیں ہوسکتے۔"

غزوہ ٔبدر

سلسلۂ غزوات میں سب سے پہلا معرکہ غزوہ ٔبدر ہے، اس غزوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تین سو تیرہ جان نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آگے آگے دوسیاہ رنگ کے عَلم تھے، ان میں سے ایک حیدرکرار کے ہاتھ میں تھا، جب رزمگاہِ بدر کے قریب پہنچے تو سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو چند منتخب جان بازوں کے ساتھ غنیم کی نقل وحرکت کا پتہ چلانے کے لیے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی اورمجاہدین نے مشرکین سے پہلے پہنچ کر اہم مقاموں پر قبضہ کر لیا، سترہویں رمضان جمعہ کے دن جنگ کی ابتداہوئی، قاعدہ کے موافق پہلے تنہا مقابلہ ہوا، سب سے پہلے قریش کی صف سے تین نامی بہادر نکل کر مسلمانوں سے مبازرطلب ہوئے، تین انصاریوں نے ان کی دعوت کو لبیک کہا اورآگے بڑھے، قریش کے بہادروں نے ان کا نام نسب پوچھا، جب یہ معلوم ہوا کہ دویثرب کے نوجوان ہیں تو ان کے ساتھ لڑنے سے انکار کردیااور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مقابلہ میں ہمارے ہمسر کے آدمی بھیجو، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے تین عزیزوں کے نام لیے، حمزہ ؓ، علی ؓ اور عبیدہ ؓ تینوں اپنے حریفوں کے لیے میدان میں آئے، حضرت علی ؓ نے اپنے حریف ولید کو ایک ہی وار میں تہ تیغ کر دیا، اس کے بعد جھپٹ کر عبیدہ ؓ کی مدد کی اوران کے حریف شیبہ کو بھی قتل کیا، مشرکین نے طیش میں آکر عام حملہ کر دیا، یہ دیکھ کر مجاہدین بھی نعرۂ تکبیر کے ساتھ کفار کے نرغہ میں گھس گئے اور عام جنگ شروع ہو گئی، شیر خدانے صفیں کی صفیں الٹ دیں اور ذوالفقارحیدری نے بجلی کی طرح چمک چمک کر اعدائے اسلام کے خرمن ہستی کو جلادیا، مشرکین کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمان مظفر ومنصوربے شمار مال غنیمت اورتقریباً ستر قیدیوں کے ساتھ مدینہ واپس آئے، مال غنیمت میں سے آ پ کو ایک زرہ ایک اونٹ اورایک تلوار ملی، [35]

حضرت فاطمہؓ سے نکاح

اسی سال یعنی ؁ 2ھ میں حضرت سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دامادی کا شرف بخشا یعنی اپنی محبوب ترین صاحبزادی سیدۃ النساء حضرت فاطمہ زہرا ؓ سے نکاح کر دیا۔ حضرت فاطمہ ؓ سے عقد کی درخواست سب سے پہلے حضرت ابوبکر ؓ اوران کے بعد حضرت عمر ؓ نے کی تھی؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، اس کے بعد حضرت علی ؓ نے خواہش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس مہراداکرنے کے لیے کچھ ہے؟ بولے ایک گھوڑے اورایک ذرہ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تو لڑائی کے لیے ہے البتہ ذرہ کو فروخت کردو، حضرت علی ؓ نے اس کو حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ چارسو اسی درہم میں بیچا اور قیمت لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ بازار سے عطر اورخوشبو خرید لائیں اور خود نکاح پڑھایا اوردونوں میاں بیوی پر وضو کا پانی چھڑک کر خیر وبرکت کی دعادی۔ [36]

رخصتی

نکاح کے تقریباً دس گیارہ ماہ بعد باقاعدہ رخصتی ہوئی، اس وقت تک حضرت علی ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے جب رخصتی کا وقت آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ایک مکان کرایہ پر لے لو؛چنانچہ حارث بن النعمان کا مکان ملا اورحضرت علی ؓ ملکہ جنت کو رخصت کراکے اس میں لے آئے۔ [37]

جہیز

حضرت سیدہ زہرا ؓ کو اپنے گھر سے جو جہیز ملا تھا اس کی کل کائنات یہ تھی، ایک پلنگ، ایک بستر، ایک چادر، دوچکیاں اورایک مشکیزہ، عجیب اتفاق ہے کہ یہی چیزیں حضرت فاطمہ ؓ کی زندگی تک ان کی رفیق رہیں اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ اس میں کوئی اضافہ نہ کرسکے۔

دعوت ولیمہ

حضرت علی ؓ کی زندگی نہایت فقیرانہ وزاہدانہ تھی، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، ذاتی ملکیت میں صرف ایک اونٹ تھا جس کے ذریعہ سے اذخر(ایک قسم کی گھاس) کی تجارت کرکے دعوت ولیمہ کے لیے کچھ رقم جمع کرنے کا ارادہ تھا؛لیکن حضرت حمزہ ؓ نے حالت نشہ میں (اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی، بخاری میں مفصل واقعہ مذکور ہے) اس اونٹ کو ذبح کرکے کباب سیخ بنادیا، اس لیے اب اقلیم زہد کے تاجدار کے پاس اس رقم کے سوا جو ذرہ کی قیمت میں سے مہر ادا کرنے کے بعد بچ رہی تھی اور کچھ نہ تھی؛چنانچہ اسی سے دعوت ولیمہ کا سامان کیا جس میں کھجور، جو کی روٹی، پنیز اور ایک خاص قسم کا شوربہ تھا؛لیکن یہ اس زمانہ کے لحاظ سے پرتکلف ولیمہ تھا، حضرت اسماء ؓ کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں اس سے بہتر ولیمہ نہیں ہوا۔ [38]

غزوۂ احد

؁ 3 ھ میں اُحد کا معرکہ پیش آیا، شوال ہفتہ کے دن لڑائی شروع ہوئی اورپہلے مسلمانوں نے قلت تعداد کے باجود غنیم کو بھگادیا؛لیکن عقب کے محافظ تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھا کہ مشرکین پیچھے سے یکایک ٹوٹ پڑے، اس ناگہانی حملے سے مسلمانوں کے اوسان جاتے رہے، اسی حالت میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو چشم زخم پہنچا، دندانِ مبارک شہید ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خندق میں گرپڑے، [39] مشرکین ادھر بڑھے ؛لیکن حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے روکا اور اسی میں لڑتے لڑتے شہید ہوئے، اس کے بعد حیدر کرار ؓ نے بڑھ کر علم سنبھالا اور بے جگری کے ساتھ دادِ شجاعت دی، مشرکین کے علمبردار، ابوسعدبن ابی طلحہ نے مقابلہ کے لیے للکارا، شیر خدانے بڑھ کر ایسا ہاتھ مارا کہ فرشِ خاک پرتڑپنے لگا اوربدحواسی کے عالم میں برہنہ ہو گیا، حضرت علی ؓ کو اس کی بدحواسی اور بے بسی پر رحم آگیا اورزندہ چھوڑکر واپس آئے۔ مشرکین کا زور کم ہوا توحضرت علی چند صحابہ ؓ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہاڑ پر لے گئے، حضرت فاطمہ ؓ نے زخم دھویا اورحضرت علی ؓ نے ڈھال میں پانی بھر بھر کر گرایا، اس سے خون بند نہ ہوا تو حضرت فاطمہ ؓ نے چٹائی جلا کر اس کی راکھ سے زخم کا منہ بند کیا۔

بنونضیر

غزوہ احد کے بعد ؁ 4ھ میں بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کے باعث جلاوطن کیا گیا، حضرت علی ؓ اس میں بھی پیش پیش تھے اور علم ان ہی کے ہاتھ میں تھا۔

غزوۂ خندق

؁ 5ھ میں غزوۂ خندق پیش آیا اس میں کفار کبھی کبھی خندق میں گھس گھس کر حملہ کرتے تھے، ایک دفعہ سواروں نے حملہ کیا، حضرت علی ؓ نے چند جان بازوں کے ساتھ بڑھ کر روکا، سواروں کے سردار عمروبن عبدود نے کسی کو تنہا مقابلہ کی دعوت دی، حضرت علی ؓ نے اپنے کو پیش کیا، اس نے کہامیں تم کو قتل کرنا نہیں چاہتا، شیر خدانے کہا؛لیکن میں تم کو قتل کرنا چاہتا ہوں، وہ برہم ہوکر گھوڑے سے کود پڑا، اورمقابلہ میں آیا، تھوڑی دیر تک شجاعانہ مقابلہ کے بعد ذوالفقارحیدری نے اس کو واصل جہنم کیا، اس کا مقتول ہونا تھا کہ باقی سوار بھاگ کھڑے ہوئے، [40] کفار بہت دن تک خندق کا محاصرہ کیے رہے ؛لیکن بالآخر مسلمانوں کی اس پامردی اوراستقلال کے آگے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور یہ معرکہ بھی مجاہدین کرام کے ہاتھ رہا۔

بنو قریظہ

بنو قریظہ نے مسلمانوں سے معاہدہ کے باوجود ان کے مقابلہ میں قریش کا ساتھ دیا اور تمام قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکادیاتھا، اس لیے غزوۂ خندق سے فراغت کے بعدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف توجہ کی، اس مہم میں بھی علم حضرت علی ؓ کے ہاتھ میں تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے مطابق قلعہ پر قبضہ کرکے اس کے صحن میں عصر کی نماز اداکی۔

بنو سعد کی سرکوبی

؁ 6ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بنو سعد یہود خیبر کی اعانت کے لیے مجتمع ہو رہے ہیں، اس لیے حضرت علی ؓ کو ایک سو کی جمعیت کے ساتھ ان کی سرکوبی پر مامور کیا، انہوں نے ماہِ شعبان میں حملہ کرکے بنو سعد کو منتشر کر دیا اور پانچ سواونٹ اوردوہزار بکریاں مال غنیمت میں لائے۔

صلح حدیبیہ

اسی سال یعنی ؁ 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً چودہ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ زیارت کعبہ کا ارادہ فرمایا، مقام حدیبیہ میں معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ مزاحمت کریں گے، حضرت عثمان ؓ گفتگوکے لیے سفیر بنا کر بھیجے گئے، مشرکین نے ان کو روک لیا، یہاں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ وہ شہید کر دیے گئے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓ کے انتقام کے لیے مسلمانوں سے بیعت لی، حضرت علی ؓ بھی اس بیعت میں شریک تھے، بعد کو جب یہ معلوم ہوا کہ شہادت کی خبر غلط تھی تو مسلمانوں کا جوش کسی قدر کم ہوا، اورطرفین نے مصالحت پر رضا مندی ظاہر کی، حضرت علی ؓ کو صلح نامہ لکھنے کا حکم ہوا، انہوں نے حسب دستور :ھذا اماقاضٰی علیہ محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی عبارت سے عہد نامہ کی ابتدا کی، مشرکین نے ‘رسول اللہ ’’کے لفظ پر اعتراض کیا اگر ہم کو رسول اللہ ہونا تسلیم ہوتا تو پھر جھگڑاہی کیا تھا؟ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو مٹادینے کا حکم دیا؛لیکن حضرت علی ؓ کی غیرت نے گوارا نہ کیا اورعرض کیا، خداکی قسم! میں اس کو نہیں مٹا سکتا، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ست مبارک سے اس کو مٹادیا اس کے بعد معاہدہ صلح لکھا گیا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زیارت کا ارادہ ملتوی کرکے مدینہ واپس تشریف لائے۔

فتح خیبر

؁ 7ھ میں خیبر پر فوج کشی ہوئی، یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے مضبوط قلعے تھے جن کا مفتوح ہونا آسان نہ تھا، پہلے حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے بعد حضرت عمر ؓ اس کی تسخیر پر مامور ہوئے ؛لیکن کامیابی نہ ہوئی، حضورسرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل ایک ایسے بہادر کو علم دوں گا جو خدا اور رسول کا محبوب ہے اور خیبر کی فتح اسی کے ہاتھ سے مقدر ہے، صبح ہوئی تو ہر شخص متمنی تھا کہ کاش اس فخر وشرف کا تاج اس کے سرپر ہوتا؛لیکن یہ دولت گرانمایہ حیدرکرار ؓ کے لیے مقدر ہوچکی تھی، صبح کو بڑے بڑے جاں نثار اپنے نام سننے کے منتظر تھے کہ دفعتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ؓ کا نام لیا، یہ آواز غیر متوقع تھی، کیونکہ حضرت علی ؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلاکر ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا جس سے یہ شکایت فوراً جاتی رہی۔ [41]

مرحب

اس کے بعد علم مرحمت فرمایا، حضرت علی ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں لڑکر ان کو مسلمان بنالوں؟ فرمایا نہیں؛بلکہ پہلے اسلام پیش کرواوران کو اسلام کے فرائض سے آگاہ کرو کیونکہ تمہاری کوششوں سے ایک شخص بھی مسلمان ہو گیا تو وہ تمہارے لیے بڑی سے بڑی نعمت سے بہتر ہے[42]لیکن یہودیوں کی قسمت میں اسلام کی عزت کی بجائے شکست، ذلت اوررسوائی لکھی تھی، اس لیے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اوران کا معزز سردار مرحب بڑے جوش وخروش سے یہ رجز پڑھتا ہوانکلا۔ قد علمت خیبر انی مرحب شاکی السلاح بطل مجرب خیبر مجھ کو جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں سطح پوش ہوں، بہادر ہوں، تجربہ کار ہوں اذالحروب اقبلت تلھب جب کہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے فاتح خیبر اس متکبرانہ رجز کا جواب دیتے ہوئے بڑھا: اناالذی سمتنی امی حیدرہ کلیث غابات کریہ النظرہ میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے جھاڑی کے شیر کی طرح مہیب اورڈراؤنا اوفیہم بالصاع کیل السدرہ میں دشمنوں کو نہایت سرعت سے قتل کردیتا ہوں اور جھپٹ کر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا، [43] اس کے بعد حیدر کرار ؓ نے بڑھ کر حملہ کیا اورحیرت انگیز شجاعت کے ساتھ اس کو مسخر کر لیا۔

مہم مکہ

رمضان ؁ 8ھ میں مکہ پر فوج کشی کی تیاریاں شروع ہوئیں، ابھی مجاہدین روانہ نہ ہوئے تھے، معلوم ہوا کہ ایک عورت غنیم کو یہاں کے تمام حالات سے مطلع کرنے کے لیے روانہ ہو گئی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ، زبیر ؓ، اورمقداد ؓ کو اس کی گرفتاری پر مامور کیا، یہ تینوں تیز گھوڑوں پر سوار ہوکر اس کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔اورخاخ کے باغ میں گرفتار کرکے خط مانگا، پہلے اس عورت نےلا علمی ظاہر کی ؛لیکن جب ان لوگوں نے جامہ تلاشی کا ارادہ کیا تو اس نےخط حوالہ کر دیا اوریہ لوگ خط لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب یہ خط پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ مشہور صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین مکہ کے نام بھیجا تھا اور اس میں بعض مخفی حالات کی اطلاع تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاتم بن ابی بلتعہ سے پوچھا یہ کیامعاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرد جرم قراردینے سے قبل اصل حالات سن لیں، واقعہ یہ ہے کہ مجھ کو قریش سے کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، صرف اس کا حلیف ہوں اور مکہ میں دوسرے مہاجرین کی قرابتیں ہیں جو فتح مکہ کے وقت ان کے اہل و عیال کی حفاظت کرتے، میں نے اس خیال سے کہ اگر کوئی نازک وقت آئے تو میرے بچے بے یارومددگار نہ رہ جائیں یہ خط لکھا تھا، حاشاوکلا اس سے مخبری یا اسلام کے ساتھ دشمنی مقصود نہ تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عذر کو قبول کیا اور لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ انہوں نے سچ بیان کیا ہے؛ لیکن حضرت عمر ؓ کی آتش غضب بھڑک چکی تھی انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اُڑادوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بدری ہیں، کیا تم کو معلوم نہیں کہ بدریوں کے تمام گناہ معاف ہیں۔’’ [44] غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 10/رمضان ؁ 8ھ کو مدینہ روانہ ہوئے اورایک مرتبہ پھر اس محبوب سرزمین پر دس ہزار قدسیوں کے ساتھ فاتحانہ جاہ وجلال کے ساتھ داخل ہوئے، جہاں سے آٹھ سال پہلے بڑی بے کسی کے ساتھ مسلمان نکالے گئے تھے، ایک علم حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے ہاتھ میں تھا اور وہ جوش کی حالت میں یہ رجز پڑھتے جاتے تھے۔ الیوم یوم الملحۃ الیوم تستحل الکعبۃ ‘‘آج شدید جنگ کا دن ہے آج حرم میں خونریزی جائز ہے۔’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا توفرمایا، نہیں ایسا نہ کہوآج تو کعبہ کی عظمت کا دن ہے اورحضرت علی ؓ کو حکم ہوا کہ سعد بن عبادہ ؓ سے علم لے کر فوج کے ساتھ شہر میں داخل ہوں؛چنانچہ وہ کداء کی جانب سے مکہ میں داخل ہوئے[45] اورمکہ بلاکسی خونریزی کے تسخیر ہو گیا اور وقت آگیا کہ خلیل بت شکن کی یادگارِ (خانہ کعبہ) کو بتوں کی آلائشوں سے پاک کیا جائے جس کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اس فریضہ کو ادا کیا اورخانۂ کعبہ کے گرد جس قدر بت تھے، سب کو لکڑی سے ٹھکراتے جاتے تھے اور یہ آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے‘‘وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا’[46]پھر خانۂ کعبہ کے اندر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام کی مورتیوں کو الگ کروایا اور تطہیر کعبہ کے بعد اندر داخل ہوئے، [47] لیکن چونکہ اس وحدت کدہ کا گوشہ گوشہ بتوں کی مورتیوں سے اٹا ہوا تھا اس لیے اس اہتمام کے باوجود تانبے کا سب سے بڑا بت باقی رہ گیا، یہ لوہے کی سلاخ میں پیوست کیا ہوا زمین پر نصب تھا اس لیے بہت بلندی پر تھا، پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کے کندھوں پر چڑھ کر اس کے گرانے کی کوشش کی؛لیکن وہ جسم اطہر کا بارنہ سنبھال سکے، اس لیے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شانہ اقدس پر چڑھاکراس کے گرانے کا حکم دیا اورانہوں نے سلاخ سے اکھاڑکر حسب ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پاش پاش کرڈالا اورخانہ کعبہ کی کامل تطہیر ہو گئی۔( حاکم نے مستدرک میں اس واقعہ کو بہ تفصیل نقل کیا ہے؛لیکن فتح مکہ کی بجائے شب ہجرت کی طرف منسوب کیا ہے؛لیکن اس کے علاوہ دوسرے محدثین اورارباب سیر نے فتح مکہ میں لکھا ہے اور یہی صحیح اور قریب عقل ہے، ہجرت کی ایسی نازک رات میں جبکہ جان خطرہ میں تھی ایسے بڑے اور خطرناک کام کا انجام دینا بعید از قیاس ہے، دوسرے مکہ کی زندگی میں بت شکنی کا کوئی واقعہ نہیں ہے)

ایک غلطی کی تلافی

فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو بنوحذیمہ میں تبلیغ اسلام کے لیے روانہ فرمایا، انہوں نے توحید کی دعوت دی، بنوحذیمہ نے اسے قبول کیا؛لیکن اپنی بدویت اورجہالت کے باعث اس کو ادا نہ کرسکے اور اسلمنا یعنی ہم نے اسلام قبول کیا کی بجائے صبانا صبانا یعنی ہم بے دین ہو گئے کہنے لگے، حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان کا منشا سمجھ کر سب کو قید کر لیا اوربہتوں کو قتل کرڈالا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو نہایت متاثر ہوئے اورحضرت علی ؓ کو اس غلطی کی تلافی کے لیے روانہ فرمایا، انہوں نے پہنچ کر تمام قیدیوں کو آزاد کرادیا اور مقتولین کے معاوضہ خوں بہادیا۔ [48]

غزوہ حنین

فتح مکہ کے بعد اسی سال غزوہ حنین کا عظیم الشان معرکہ پیش آیا اور اس میں پہلے مسلمانوں کی فتح ہوئی؛لیکن جب وہ مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہوئے تو شکست خوردہ غنیم نے غافل پاکر پھر اچانک حملہ کر دیا، مجاہدین اس ناگہانی مصیبت سے ایسے پریشان ہوئے کہ بارہ ہزار نفوس میں سے صرف چند ثابت قدم رہ سکے، ان میں ایک حضرت علی ؓ بھی تھے، آپ نہ صرف پامردی اوراستقلال کے ساتھ قائم رہے ؛بلکہ اپنی غیر معمولی شجاعت سے لڑائی کو سنبھال لیا اورغنیم کے امیر عسکر پر حملہ کرکے اس کا کام تمام کر دیا اوردوسری طرف جو مجاہدین ثابت قدم رہ گئے تھے وہ اس بے جگری کے ساتھ لڑے کہ مسلمانوں کی ابتری اورپریشانی کے باوجود دشمن کو شکست ہوئی۔ [49]

اہل بیت کی حفاظت

؁ 9ھ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کا قصد فرمایا توحضرت علی ؓ کواہل بیت کی حفاظت کے لیے مدینہ میں رہنے کا حکم دیا، شیرخدا کو شرکتِ جہاد سے محرومی کا غم تو تھا، منافقین کی طعنہ زنی نے اوربھی رنجیدہ کر دیا، سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال کا علم ہوا تو ان کا غم دورکرنے کے لیے فرمایا، علیؓ !کیا تم اسے پسند کروگے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ رتبہ ہو جو ہارون کا موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا۔" [50]

تبلیغ فرمانِ رسول

غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بناکر روانہ فرمایا، اسی اثناء میں سورۂ برأت نازل ہوئی، لوگوں نے کہا کہ اگر یہ سورۃ ابوبکر ؓ کے ساتھ حج کے موقع پر لوگوں کو سنانے کے لیے بھیجی جاتی تو اچھا ہوتا، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری طرف سے صرف میرے خاندان کا آدمی اس کی تبلیغ کرسکتا ہے؛چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بلاکر حکم دیا کہ وہ مکہ جاکر اس سورۃ کو سنائیں اورعام اعلان کر دیں کہ کوئی کافرجنت میں داخل نہ ہوگا اوراس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی شخص برہنہ خانہ کعبہ کا طواف کرے اورجس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہدہے وہ مدتِ مہینہ تک باقی رہے گا۔ [51]

مہم یمن اوراشاعتِ اسلام

تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مہمیں روانہ فرمائیں ان میں یمن کی مہم پر حضرت خالد بن ولید ؓ مامور ہوئے، لیکن چھ مہینہ کی مسلسل جدوجہد کے باوجود اشاعت اسلام میں کامیاب نہ ہو سکے، اس لیے رمضان 10ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو بلا کر یمن جانے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسی قوم میں بھیجا جاتا ہوں جس میں مجھ سے زیادہ معمر اورتجربہ کارلوگ موجود ہیں، ان لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنا میرے لیے نہایت دشوار ہوگا، ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی‘‘ اے خدا اس کی زبان کوراست گو بنا اور ا س کے دل کو ہدایت کے نورسے منور کر دے’’ اس کے بعد خود اپنے دستِ اقدس سے ان کے فرقِ مبارک پر عمامہ باندھا اورسیاہ علم دے کر یمن کی طرف روانہ فرمایا۔ [52] حضرت علی ؓ کے یمن پہنچتے ہی یہاں کا رنگ بالکل بدل گیا، جولوگ خالد ؓ کی چھہ مہینہ کی سعی و کوشش سے بھی اسلام کی حقیقت کو نہیں سمجھے تھے وہ حضرت علی مرتضی ؓ کی صرف چند روزہ تعلیم وتلقین سے اسلام کے شیدائی ہو گئے اور قبیلہ ہمدان مسلمان ہو گیا۔[53]

حجۃ الوداع میں شرکت

اسی سال یعنی ؁ 10ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کیا، حضرت علی ؓ بھی یمن سے آکر اس یادگار حج میں شریک ہوئے۔

صدمۂ جانکاہ

حج سے واپسی کے بعد ابتدائے ماہ ربیع الاول ؁ 11ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، حضرت علی ؓ نےنہایت تندہی اورجانفشانی کے ساتھ تیمار داری اورخدمت گزاری کا فرض انجام دیا، ایک روز باہر آئے، لوگوں نےپوچھا، اب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج کیسا ہے؟ حضرت علی ؓ نے اطمینان ظاہرکیا، حضرت عباس ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، خدا کی قسم! میں موت کے وقت خاندان عبدالمطلب کے چہرے پہچانتا ہوں، آؤ چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ ہمارے لیے خلافت کی وصیت کرجائیں، حضرت علی ؓ نے کہا، میں عرض نہیں کروں گا، اگر خدا کی قسم!آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر آئندہ کوئی امید باقی نہیں رہے گی، [54] دس روز کی مختصر علالت کے بعد 12/ربیع الاول دوشنبہ کے دن دوپہر کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان نثاروں کو اپنی مفارقت کا داغ دیا، حضرت علی ؓ چونکہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین عزیز اورخاندان کے رکن رکین تھے، اس لیے غسل اورتجہیز وتکفین کے تمام مراسم انہی کے ہاتھ سے انجام پائے۔ [55] انصار ومہاجرین دروازے کے باہر کھڑے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایک انصاری کو بھی اس میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔

خلیفۂ اول کی بیعت توقف کی وجہ

سقیفۂ بنو ساعدہ کی مجلس نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت پر اتفاق کیا اورتقریباً تمام اہل مدینہ نے بیعت کرلی، البتہ صحیح روایات کے مطابق صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے چھہ مہینے تک دیر کی، لوگوں نے اس توقف کے عجیب وغریب وجوہ اختراع کرلئے ہیں ؛لیکن صحیح یہ ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کی سوگوار زندگی نے ان کو بالکل خانہ نشین بنادیا تھا اورتمام معاملات سے قطع تعلق کرکے وہ صرف ان کی تسلی ودلدہی اورقرآن شریف کے جمع کرنے میں مصروف تھے؛چنانچہ جب حضرت فاطمہ ؓ کا انتقال ہو گیا اس وقت انہوں نے خود حضرت ابوبکر ؓ سے ان کے فضل کا اعتراف کیا اوربیعت کرلی۔ [56] سوا دو برس کی خلافت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے وفات پائی اورحضرت عمرؓ مسند آرائے خلافت ہوئے، حضرت عمرؓ بڑی بڑی مہمات میں حضرت علی ؓ کے مشورے کے بغیر کام نہیں کرتے تھے اورحضرت علی ؓ بھی نہایت دوستانہ اورمخلصانہ مشورے دیتے تھے، نہاوند کے معرکہ میں ان کو سپہ سالار بھی بنانا چاہا تھا ؛لیکن انہوں نے منظور نہیں کیا، بیت المقدس گئے تو کاروبارِخلافت انہی کے ہاتھ دے کر گئے، [57]اتحاد ویگانگت کاعالم اخیر مرتبہ یہ تھا کہ باہم رشتہ مصاہرت قائم ہو گیا، یعنی حضرت علی ؓ کی صاحبزادی ام کلثوم ؓ حضرت عمر ؓ کے نکاح میں آئیں۔ فاروق اعظم ؓ کے بعد حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں فتنہ و فساد شروع ہوا تو حضرت علی ؓ نے ان کو رفع کرنے کے لیے ان کو نہایت مخلصانہ مشورے دیے، ایک دفعہ حضرت عثمان ؓ نے ان سے پوچھا کہ ملک میں موجودہ شورش وہنگامہ کی حقیقی وجہ اوراس کے رفع کرنے کی صورت کیاہے؟ انہوں نے نہایت خلوص اورآزادی سے ظاہر کر دیا کہ موجودہ بے چینی تمام تر آپ کے عمال کے بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہے، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں نے عمال کے انتخاب میں انہی صفات کو ملحوظ رکھا ہے جو فاروق اعظم ؓ کے پیش نظر تھے، پھر ان سے عام بیزاری کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی؟ جناب علی مرتضی ؓ نے فرمایا ہاں! یہ صحیح ہے کہ حضرت عمرؓ نے سب کی نکیل اپنےہاتھ میں لے رکھی تھی اور گرفت ایسی سخت تھی کہ عرب کا سرکش سے سرکش اونٹ بھی بلبلااٹھا برخلاف اس کے آپ ضرورت سے زیادہ نرم دل ہیں، آپ کے عمال اس نرمی سے فائدہ اٹھا کر من مانی کارووائیاں کرتے ہیں اورآپ کو خبر بھی نہیں ہونے پاتی، رعایا سمجھتی ہے کہ عمال جو کچھ کرتے ہیں وہ سب دربارِ خلافت کے احکام کی تعمیل ہے، اس طرح تمام بے اعتدالیوں کا ہدف آپ کو بننا پڑا۔ [58] سب سے آخر میں مصری وفد کا معاملہ پیش آیا، حضرت عثمان ؓ نے ان سے اصرار کیا کہ اپنی وساطت سےا س جھگڑے کا تصفیہ کرادیں اور انقلاب پسند جماعت کو راضی کرکے واپس کر دیں، پہلے تو انہوں نے انکار کیا ؛لیکن پھر معاملہ کی اہمیت اورحضرت عثمان ؓ کے اصرار سے مجبور ہوکر درمیان میں پڑے اورحضرت عثمان ؓ سے اصلاحات کا وعدہ لیکر انقلاب پسندوں کو اپنی ذمہ داری پر واپس کر دیا، مصری وفد کے ارکان ابھی راہ ہی میں تھے کہ ان کو سرکاری قاصد کی تلاشی سے ایک فرمان ہاتھ آیا جس میں حاکم مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ اس وفد کے تمام شرکاء کو تہ تیغ کر دیا جائے، مصری اس غداری سے غضبناک ہوکر واپس آئے اورحضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ایک طرف تو آپ نے ہم کو اصلاحات کا اطمینان دلا کر واپس کیا اور دوسری طرف سے دربارِ خلافت کا یہ غدار انہ فرمان جاری ہوا، حضر علی ؓ نے فرمان دیکھا تو تعجب ہوئے اورحضرت عثمان ؓ کے پاس جاکر اس کی حقیقت دریافت کی، انہوں نے اس سے حیرت کے ساتھ لا علمی ظاہر کی حضرت علی ؓ نے کہا مجھے بھی آپ سے ایسی توقع نہیں ہوسکتی تھی لیکن اب میں آئندہ کسی معاملہ میں نہ پڑوں گا؛چنانچہ اس کے بعد وہ بالکل عزلت نشین ہو گئے۔ مصریوں نے جوش انتقام میں نہایت سختی کے ساتھ کاشانۂ خلافت کا محاصرہ کر لیا اورآخر میں یہاں تک شدت اختیار کی کہ آب ودانہ سے بھی محروم کر دیا، حضرت علی ؓ کو معلوم ہوا تو عزلت گزینی اورخلوت نشینی کے باوجود محاصرہ کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اورفرمایا کہ تم لوگوں نے جس قسم کا محاصرہ قائم کیا ہے وہ نہ صرف اسلام ؛بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے، کفار بھی مسلمانوں کو قید کرلیتے ہیں توآب ودانہ سے محروم نہیں کرتے، اس شخص نے تمہارا کیا نقصان کیا ہے جو ایسی سختی روارکھتے ہو؟ محاصرین نے حضرت علی ؓ کی سفارش کی کچھ پروا نہ کی اور محاصرہ میں سہولت پیدا کرنے سے قطعی انکار کر دیا حضرت علی ؓ غصہ میں اپنا عمامہ پھینک کر واپس چلے آئے۔ [59] محاصرہ اگرچہ نہایت سخت تھا تاہم حضرت علی ؓ کو اس کا وہم بھی نہ تھا کہ یہ معاملہ اس قدر طول کھینچے گا کہ شہادت تک نوبت پہنچے گی، وہ سمجھے جس طرح حقوق طلبی کے متواتر مظاہرے ہوتے رہے ہیں، یہ بھی اسی قسم کا ایک سخت مظاہرہ ہے، تاہم اپنے دونوں صاحبزادوں کواحتیاطاً حفاظت کے لیے بھیج دیا، جنھوں نے نہایت تندہی اور جانفشانی کے ساتھ مدافعت کی، یہاں تک کہ اسی کشمکش میں زخمی ہوئے ؛لیکن کثیر التعداد مفسدین کا روکنا آسان نہ تھا، وہ دوسری طرف سے دیوار پھاند کر اندر گھس آئے اور خلیفہ وقت کو شہید کرڈالا، حضرت علی ؓ کو معلوم ہوا تو اس سانحہ جانکاہ پرحددرجہ متاسف ہوئے اورجولوگ حفاظت پر مامور تھے، ان پر سخت ناراضی ظاہرکی، حضرت امام حسن ؓ اورامام حسین ؓ کا مارا، محمد بن طلحہ ؓ اورعبداللہ بن زبیر ؓ کو برابھلا کہا کہ تم لوگوں کی موجود گی میں یہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔

خلافت

حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد تین دن تک مسند خلافت خالی رہی، اس عرصہ میں لوگوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے اس منصب کے قبول کرنے کے لیے سخت اصرار کیا، انہوں نے پہلے اس بارِ گراں کے اٹھانے سے انکار کر دیا ؛لیکن آخر میں مہاجرین وانصار کے اصرار سے مجبور ہوکر اٹھانا پڑا، [60]اور اس واقعہ کے تیسرے دن 21/ذی الحجہ دوشنبہ کے دن مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جناب علی مرتضی ٰ کے دست اقدس پر بیعت ہوئی۔ مسند نشین خلافت ہونے کے بعد سب سے پہلے کام حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کا پتہ چلانا اور ان کو سزا دیناتھا؛لیکن دقت یہ تھی کہ شہادت کے وقت صرف ان کی بیوی نائلہ بنت الفرافصہ موجود تھیں جو اس کے سوا کچھ نہ بتاسکیں کہ محمد بن ابی بکر ؓ دو آدمیوں کے ساتھ جن کو وہ پہلے سے پہنچانتی نہیں تھیں، اندر آئے، حضرت علی ؓ نے محمد بن ابی بکر ؓ کو پکڑا تو انہوں نے قسم کھا کر اپنی برات ظاہر کی کہ وہ قتل کے ارادے سے ضرور داخل ہوئے تھے ؛لیکن حضرت عثمان ؓ کے جملہ سے محجوب ہوکر پیچھے ہٹ آئے، البتہ ان دونوں نابکاروں نے بڑھ کر حملہ کیا جن کووہ بھی نہیں جانتے کہ کون تھے؟ حضرت نائلہ ؓ نے بھی اس بیان کی تصدیق کی کہ محمدبن ابی بکر ؓ شریک نہ تھے، غرض تحقیق وتفتیش کے باوجود قاتلوں کا پتہ نہ تھا، تاریخ کی کتابوں میں قاتلوں کے مختلف نام مذکور ہیں، لیکن شہادت کی قانونی حیثیت سے وہ مجرم ثابت نہیں ہوتے اس لیے مجرموں کا کوئی پتہ نہ چلا اورحضرت علی ؓ اس وقت کوئی کارروائی نہ کرسکے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا حضرت علی ؓ کے نزدیک اس انقلاب کا اصلی سبب عمال کی بے اعتدالیاں تھیں اور بڑی حد تک یہ صحیح بھی ہے اس لیے آپ نے تمام عثمانی عمال کو معزول کرکے عثمان بن حنیف کو بصرہ کا عامل مقرر کیا، عمارہ بن حسان کو کوفہ کی حکومت سپرد کی، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو یمن کی ولایت پر مامور کیا اورسہل کو حکومت شام کافرمان دے کر روانہ کیا، سہل تبوک کے قریب پہنچے تو امیر معاویہ ؓ کے سوار مزاحم ہوئے اوران کو مدینہ جانے پر مجبور کیا، اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو معلوم ہوا کہ ان کی خلافت جھگڑوں سے پاک نہیں ہے۔ حضرت علی ؓ نے امیر معاویہ ؓ کو لکھا کہ مہاجرین وانصار نے اتفاق عام کے ساتھ میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس لیے یا تو میر ی اطاعت کرویا جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ، امیر معاویہ ؓ نے اپنے خاص قاصد کی معرفت جواب بھیجا اورخط میں صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد مکتوب الیہ کا اوراپنا نام لکھا، قاصد نہایت طرار اور زبان آور تھا اس نے کھڑے ہوکر کہاصاحبو! میں نے شام میں پچاس ہزار شیوخ کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ عثمان ؓ کی خون آلود قمیص پر ان کی ڈاڑھیاں آنسوؤں سے تر ہیں اور انہوں نے عہد کر لیا ہے کہ جب تک اس خونِ ناحق کا قصاص نہیں لیں گے، اس وقت تک ان کی تلواریں بے نیام رہیں، قاصد یہ کہہ چکا توحضرت علی ؓ کی جماعت میں سے خالد بن زفر عبسی نے اس کے جواب میں کہا‘‘تمہارا برا ہو!کیا تم مہاجرین وانصار کو شامیوں سے ڈراتے ہو؟ خدا کی قسم نہ تو قمیص عثمان ؓ، قمیص یوسف علیہ السلام ہے اور نہ معاویہ ؓ کو یعقوب علیہ السلام کی طرح غم ہے، اگر شام میں اس قدر اس کو اہمیت دی گئی ہے تو تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اہل عراق اس کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ حضرت عائشہؓ کی قصاص پر آمادگی امیرمعاویہ ؓ کے مناقشات کا ابھی آغاز ہوا ہی تھا کہ دوسرا قضیۂ نامرضیہ پیدا ہوگیایعنی حضرت عائشہ ؓ مکہ سے مدینہ واپس ہورہی تھیں، راستہ میں ان کے ایک عزیز ملے ان سے حالات دریافت کیے تو معلوم ہوا کہ عثمان ؓ شہید کر دیے گئے اور علی ؓ خلیفہ منتخب ہوئے ؛لیکن ہنوز فتنہ کی گرم بازاری ہے، یہ خبر سن کر پھر مکہ واپس ہوگئیں، لوگوں نےواپسی کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ عثمان ؓ مظلوم شہید کر دیے گئے اورفتنہ دبتا ہوا نظر نہیں آتا، اس لیے تم لوگ خلیفہ مظلوم کا خون رائیگاں نہ جانے دو اور قاتلوں سے قصاص لیکر اسلام کی عزت بچاؤ۔ [61] حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد مدینہ میں فتنہ و فساد کے آثار دیکھ کر حضرت طلحہ ؓ اور زبیر بھی حضرت علی ؓ سے اجازت لے کر مکہ چلے گئے تھے، حضرت عائشہ ؓ نے ان سے بھی وہاں کے حالات دریافت کیے، انہوں نے بھی شوروغوغہ کی داستان سنائی، ان کے بیان سے حضرت عائشہ ؓکے ارادوں میں اور تقویت ہوئی اورانہوں نے خلیفہ مظلوم کے قصاص کی دعوت شروع کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعات کی ترتیب اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعض سیاسی تسامح نے عام طورپر ملک میں بدنظمی پیداکردی تھی، حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کا پتہ نہ چلنا ان کے اعداء کو اپنا معاون وانصار بنانا اورمسند خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ تمام عمال کو برطرف کردینا لوگوں کو بدظن کردینے کے لیے کافی تھا، انہی بدگمانیوں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کو بھی حضرت عثمان ؓ کے قصاص پر آمادہ کر دیا؛چنانچہ قصاص کی تیاریاں شروع ہوگئیں، عبد اللہ بن عامر حضرمی والی مکہ مروان بن حکم سعید بن العاص اور دوسرے بنی امیہ نے جو مدینہ سے مفرور ہوکر مکہ میں پناہ گزین تھے، نہایت جوش کے ساتھ اس تحریک کو پھیلایا اور ایک معتدبہ جمعیت فراہم کرکے روانہ ہوئے کہ پہلے بیت المال قبضہ کرکے مالی مشکلات میں سہولت پیداکریں، پھر بصرہ، کوفہ اور عراق کی دوسری نوآبادیوں میں اس تحریک کی اشاعت کرکے لوگوں کو اپنا ہم آہنگ بنائیں۔

سفر عراق

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مکہ کی تیاریوں کا حال معلوم ہوا تو آپ نے بھی اس خیال سے عراق کا قصد کیا وہاں مخالفین سے پہلے پہنچ کر بیت المال کی حفاظت کا انتظام کریں اوراہل عراق کو وفاداری کا سبق دیں، انصارکرام کو اس ارادہ کی خبر ہوئی تو وہ بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئے اورحضرت عقبہ بن عامر ؓ نے جو بڑے پایہ کے صحابی اورغزوہ بدر میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہ چکے تھے، انصار کی جانب سے گزارش کی کہ دار الخلافہ چھوڑ کر جانا کسی طرح مناسب نہیں ہے، عمر فاروق ؓ کے عہد میں بڑی بڑی جنگیں پیش آئیں ؛لیکن انہوں نے کبھی مدینہ سے باہر قدم نہیں نکالا، اگر اُس وقت خالد ؓ، ابوعبیدہ ؓ، سعدوقاص ؓ، ابو موسیٰ اشعری ؓ نے شام وایران کو تہ وبالا کر دیا تھا تو اِس وقت بھی ایسے جانبازوں کی کمی نہیں، حضرت علی ؓ نے فرمایا، یہ صحیح ہے ؛لیکن عراق پر مخالفین کے تسلط سے نہایت دشواری پیش آئے گی وہ اس وقت مسلمانوں کی بہت بڑی نوآبادی ہے وہاں کے بیت المال بھی مال وزر سے پر ہیں، اس لیے میرا وہاں موجود رہنا نہایت ضروری ہے اور مدینہ میں عام منادی کرادی کہ لوگ سفر عراق کے لیےتیار ہوجائیں، چند محتاط صحابہ کے سوا تقریباً ًاہل مدینہ ہمرکاب ہوئے، ذی قار پہنچ کر معلوم ہوا کہ حضرت طلحہ ؓ اورزبیر ؓ سبقت کرکے بصرہ پہنچ گئے ہیں اور بنو سعد کے علاوہ تقریباً تمام بصرہ والوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

حضرت امام حسن ؓ کا سفرِ کوفہ

یہ سن کر حضرت علی ؓ نے ذی قار میں قیام کیا اور حضرت امام حسن ؓ کو حضرت عماربن یاسر ؓ کے ساتھ کوفہ روانہ کیا کہ لوگوں کو مرکز خلافت کی اعانت پر آمادہ کریں، حضرت امام حسن ؓ جس وقت کوفہ پہنچے، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ والی کوفہ مسجد میں ایک عظیم الشان مجمع کے سامنے تقریر کر رہے تھے کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فتنہ کا خوف دلایا تھا وہ اب سرپر ہے، اس لیے ہتھیار بے کار کردو اوربالکل عزلت نشین ہوجاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فتنہ وفساد کے وقت سونے والا بیٹھنے والے سے اور بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہے، اس اثنا میں حضرت امام حسن ؓ مسجد میں داخل ہوئے اورحضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے کہا تم بھی ہماری مسجد سے نکلو اورجہا ں جی چاہے چلے جاؤ۔ اس کے بعد منبر پر کھڑے ہوکر لوگوں کو امیرالمؤمنین کی مساعدت پر آمادہ کیا، حجر بن عدی کندی نے جو کوفہ کے نہایت معزز اور ذی اثر بزرگ تھے حضرت امام حسنؓ کی تائید کی اور کہا صاحبو !امیرالمؤمنین نےخود اپنے صاحبزادہ کو بھیج کر تمہیں دعوت دی ہے اس دعوت کو قبول کرو اور علم حیدری کے نیچے مجتمع ہوکر فتنہ وفساد کی آگ کو سرد کردو میں خود سب سے پہلے چلنے کو تیار ہوں۔ غرض حضرت امام حسن ؓ اور حجر بن عدی کی تقریروں نے لوگوں کو حضرت علی ؓ کی اعانت پر آمادہ کر دیا اورہرطرف سے امیر المومنین کی اطاعت اورفرمانبرداری کی صدائیں بلند ہوئیں اور دوسرے ہی دن صبح کے وقت تقریباً ساڑھے نوہزار جانبازوں کی ایک جماعت مسلح ہوکر حضرت امام حسن ؓ کے ساتھ روانہ ہوئی اور مقام ذی قار میں امیر المومنین کی فوج سے مل گئی، جناب امیر ؓ نے اپنی فوج کونئے سرے سے ترتیب دے کر بصرہ کا رخ کیا، اس وقت بصرہ کا یہ حال تھا کہ وہ تین گروہوں میں منقسم تھا، ایک خاموش اورغیر جانبدار تھا، دوسراحضرت علی ؓ کا طرف دار تھا اور تیسرا حضرت عائشہ ؓ اورحضرت طلحہ ؓ وغیرہ کا حامی، خانہ جنگی کی یہ تیاریاں دیکھ کر پہلی جماعت نے مصالحت کی بڑی کوشش کی ؛بلکہ ہرفریق کے نیک نیک لوگ اس کی تائید میں تھے، حضرت علی ؓ اورحضرت عائشہ ؓ دونوں چاہتے تھے کہ جنگ کی نوبت نہ آنے پائے اورکسی طرح باہمی اختلافات دور ہوجائیں، صلح کی گفتگو ترقی پر تھی اور فریقین جنگ کے تمام احتمالات دلوں سے دور کرچکے تھے اور رات کے سناٹے میں ہر فریق آرام کی نیند سو رہا تھا، دونوں فریقوں میں کچھ ایسے عناصر شامل تھے جن کے نزدیک یہ مصالحت ان کے حق میں سم قاتل تھی، حضرت علی ؓ کی فوج میں سبائی انجمن کے ارکان اورحضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کا گروہ شامل تھا اور حضرت عائشہ ؓ کی طرف کچھ اموی تھے، حضرت عثمان ؓ کے قاتل اورسبائی سمجھے کہ اگر یہ مصالحت کامیاب ہو گئی تو ان کی خیر نہیں، اس لیے انہوں نے رات کی تاریکی میں حضرت عائشہ ؓ کی فوج پر شبخون مارا، گھبراہٹ میں فریقین نے یہ سمجھ کر کہ دوسرے فریق نے دھوکا دیا، ایک دوسرے پر حملہ شروع کر دیا، حضرت عائشہ ؓ اونٹ پر آہنی ہودہ رکھواکر سوار ہوئی کہ وہ اپنی فوج کو اس حملہ سے روک سکیں، حضرت علی ؓ نے بھی اپنے سپاہیوں کو روکا مگر جو فتنہ پھیل چکا تھا وہ کب رک سکتا تھا، ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کی وجہ سے ان کی فوج میں غیر معمولی جوش وخروش تھا، قلب فوج میں ان کا ہودج تھا، محمد بن طلحہ ؓ سواروں کے افسر تھے عبد اللہ بن زبیر ؓ پیادہ فوج کی سربراہی پر مامور تھے اورپوری فوج کی قیادت حضرت طلحہ وزبیر ؓ کے ہاتھوں میں تھی۔

جنگ جمل

دوران میں جنگ میں حضرت علی ؓ گھوڑا بڑھا کر میدان میں آئے اور حضرت زبیر ؓ کو بلا کر کہا‘‘ابو عبد اللہ! تمہیں وہ دن یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم علی ؓ کو دوست رکھتے ہو؟ تو تم نے عرض کیا تھاہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یاد کرو، اس وقت تم سے حضور صلی انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک دن تم اس سے ناحق لڑوگے’’ حضرت زبیر ؓ نے جواب دیا، ہاں اب مجھے بھی یاد آیا۔ [62] یہ پیشین گوئی یاد کرکے حضرت زبیر ؓ جنگ سے کنارہ کش ہو گئے اوراپنے بیٹے عبد اللہ ؓ سے فرمایا، جان پدر! علی ؓ نے ایسی بات یاد دلادی کہ تمام جنگ کا تمام جوش فرو ہو گیا، بے شک ہم حق پر نہیں ہیں، اب میں اس جنگ میں شرکت نہ کروں گا تم بھی میرا ساتھ دو؛لیکن حضرت عبد اللہ ؓ نے انکار کیا تو وہ تنہا بصرہ کی طرف چل کھڑے ہوئے کہ وہاں سے سامان لے کر کسی طرف نکل جائیں، حضرت طلحہ نے حضرت زبیر کو جاتے دیکھا تو ان کا ارادہ بھی متزلزل ہو گیا، مروان بن حکم کو معلوم ہوا تو انہوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک ایسا تاک کر تیر مارا کہ جو گھٹنے میں پیوست ہو گیا، یہ تیر زہر میں بجھا ہواتھا، زہر کے اثر سے ان کا کام تمام ہو گیا، اب میدان جنگ میں صرف ام المومنین حضرت عائشہ اوران کے جان نثار فرزند رہ گئے، جنگ کی ابتدا ہوچکی تھی، دیر تک گھمسان کی جنگ ہوتی رہی، ام المومنین ؓ زرہ پوش ہودج میں بیٹھی تھیں، نامرتبہ شناس سبائی آپ کے ساتھ گستاخیاں کر رہے تھے اورآپ کو گرفتارکرنا چاہتے تھے، حضرت عائشہ ؓ کے وفادار بیٹوں میں بنوضبہ اس اونٹ کی حفاظت میں اپنی لاشوں پہ لاشیں گرا رہے تھے، بکربن وائل، ازواوربنوضبہ اونٹ کو اپنے حلقہ میں لے کر اس جوش ثبات اوروارفتگی کے ساتھ لڑے کہ خود حیدرکرار ؓ کو حیرت تھی، عبد اللہ بن زبیر اونٹ کی نکیل پکڑے تھے وہ زخمی ہوکر گرے تو فوراً دوسرے نے بڑھ کر پکڑلی، ماراگیا تو تیسرے نے اس کی جگہ لے لی، اس طرح یکے بعد دیگرے سترآدمیوں نے اپنے آپ کو قربان کر دیا، [63]بصرہ کا شہسوارعمروبن بحرہ اس جوش سے لڑرہا تھا کہ حضرت علی ؓ کی فوج کا جوشخص اس کے سامنے پہنچ جاتا تھا، مارا جاتا تھا اورابن بحرہ کی زبان پر یہ رجز جاری تھا۔ یاامان یاخیر ام نعلم والام تغذ وولم ھاوترحم اے ہماری بہترین اور ماں بچوں کو کھلاتی ہے اوران پرحم کرتی ہے الا ترین کم جوادلک تختلی مامتہ والمعصم کیا تو نہیں دیکھتی کہ کتنے گھوڑے زخمی کیے جاتے ہیں اور ان کی کھوپڑی اورکلائی کاٹی جاتی ہے آخر کار حضرت علی ؓ کی فوج کے مشہو شہسوارحارث بن زبیرازدی نے بڑھ کر اس کا مقابلہ کیا اورتھوڑی دیر تک تیغ وسنان کے ردل وبدل کے بعد دونوں ایک دوسرے کے وار سے کٹ کر ڈھیر ہو گئے۔ اونٹ کے سامنے بنوضبہ حیرت انگیز شجاعت کے ساتھ سدِسکندری بنے دشمنوں کو روکے کھڑے تھے اورجب تک ایک شخص بھی زندہ رہا اس نے پشت نہیں پھیری اور یہ رجز ان کی زبان پرتھا: الموت احلی عندنا من العسل نحن بنوضبۃ اصحاب الجمل موت ہمارے نزدیک شہد سے زیادہ شیریں ہے ہم ضبہ کی اولاد اونٹ کے محافظ ہیں نحن بنوالموت الذالموت نزل ننعی ابن عفان باطراف الاسل ہم موت کے بیٹے ہیں، جب موت اترے ہم عثمان بن عفان کی موت کی خبر نیزوں سے پھیلا رہے ہیں ردواعلینا شیخنا ثم یجل ہمارے سردار کو ہم کوواپس کردو تو پھر کچھ نہیں حضرت علی ؓ نے دیکھا کہ جب تک اونٹ بٹھایا نہ جائے گا مسلمانوں کی خونریزی رک نہیں سکتی، اس لیے آپ کے اشارے سے ایک شخص نے پیچھے سے جاکر اونٹ کے پاؤں پر تلوار ماری، اونٹ بلبلا کر بیٹھ گیا، اونٹ بیٹھتے ہی حضرت عائشہ ؓ کی فوج کی ہمت چھوٹ گئی اورحضرت علی ؓ کے حق میں جنگ کا فیصلہ ہو گیا، آپ نے حضرت عائشہ ؓ کے بھائی محمد بن ابی بکر ؓ کو جو حضرت علی ؓ کے ساتھ تھے، حکم دیا کہ اپنی ہمشیرہ محترمہ کی خبر گیری کریں اورعام منادی کرادی کہ بھاگنے والوں کا تعاقب نہ کیا جائے، زخمیوں پر گھوڑے نہ دوڑائے جائیں مالِ غنیمت نہ لوٹا جائے، جو ہتھیار ڈال دیں وہ مامون ہیں، پھر خودام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس حاضر ہوکر مزاج پرسی کی اوربصرہ میں چند دن تک آرام وآسائش سے ٹھہرانے کے بعد محمد بن ابی بکر ؓ کے ہمراہ عزت واحترام کے ساتھ مدینہ بھیج دیا، بصرہ کی چالیس شریف ومعزز خواتین کو پہنچانے کے لیے ساتھ کیا اوررخصت کرنے کے لیے خود چند میل تک ساتھ گئے اورایک منزل تک اپنے صاحبزادوں کو مشائعت کے لیے بھیجا۔ حضرت عائشہ ؓ نے رخصت ہوتے وقت لوگوں سے فرمایا کہ میرے بچو!ہماری باہمی کشمکش محض غلط فہمی کا نتیجہ تھی، ورنہ مجھ میں علی ؓ میں پہلے کوئی جھگڑانہ تھا، حضرت علی ؓ نے بھی مناسب الفاظ میں تصدیق کی اورفرمایا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم محترم اورہماری ماں ہیں، ان کی تعظیم وتوقیر ضروری ہے، غرض پہلی رجب ؁ 36ھ سنیچر کے روز حضرت عائشہ ؓ مدینہ کی طرف روانہ ہوگئیں۔ بصرہ میں چند روز قیام کے بعد حضرت علی ؓ نے کوفہ کا عزم کیا اور 12/رجب ؁ 36ھ دوشنبہ کے روز داخل شہر ہوئے، اہل کوفہ نے قصرامارت میں مہمان نوازی کا سامان کیا؛لیکن زہد وقناعت کے شہنشاہ نے اس میں فروکش ہونے سے انکار کیا اورفرمایاکہ حضرت عمربن الخطاب ؓ نے ہمیشہ ان عالی شان محلات کو حقارت کی نظر سے دیکھا مجھے بھی اس کی حاجت نہیں، میدان میرے لیے بس ہے؛چنانچہ میدان میں قیام فرمایا اورمسجد اعظم میں داخل ہوکر دورکعت نماز ادا کی اورجمعہ کے روز خطبہ میں لوگوں کو اتقاوپرہیز گاری اوروفاشعاری کی ہدایت کی۔ جنگ جمل کے بعد حضرت علی ؓ نے مدینہ چھوڑ کر کوفہ میں مستقل اقامت اختیار کی اور دار الحکومت حجاز سے عراق منتقل ہو گیا۔ لوگوں نے اس تبدیلی کے مختلف وجوہ بیان کیے ہیں مگر ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت سے حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو توہین ہوئی اس نے علی مرتضی کو مجبور کیا کہ وہ آئندہ سلطنت کے سیاسی مرکز کو علمی اورمذہبی مرکز سے علاحدہ کر دیں، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کوفہ میں حضرت علی ؓ کے طرفداری اورحامیوں کی اس وقت سب سے بڑی تعداد تھی، گوحضرت علی ؓ مدینہ کو سیاسی شروفتن سے بچانے کے لیے عراق کو دار الحکومت بنایا تھا؛لیکن اس کا کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں ہوا اس سے مدینہ کی سیاسی اہمیت ختم ہو گئی اورخود حضرت علی ؓ مرکز اسلام سے دور ہو گئے جو سیاسی حیثیت سے آئندہ ان کے لیے مضر ثابت ہوا۔ بہرحال حضرت علی ؓ نے کوفہ میں قیام فرما کر ملک کا ازسرنونظم ونسق قائم کیا، حضرت عبد اللہ بن عباس کو بصرہ کی ولایت سپردکی، مدائن پر یزید بن قیس، اصفہان پر محمد بن سلیم، کسکر پرقدامہ بن عجلان ازدی، ہجستان پر ربعی بن کاس اور تمام خراسان پر خلیدبن کا س کو مامور کرکے بھیجا، خلید خراسان پہنچے تو ان کو خبر ملی کہ خاندان کسریٰ کی ایک لڑکی نے نیشا پور پہنچ کر بغاوت کرادی ہے؛چنانچہ انہوں نے نیشاپور پر فوج کشی کرکے بغاوت فرو کی اوراس کو بارگاہ خلافت میں بھیج دیا، جناب امیر نے اس کے ساتھ نہایت لطف وکرم کا برتاؤکیا اوراس سے فرمایا کہ اگر وہ پسند کرے تو اپنے فرزند امام حسن سے نکاح کر دیں، اس نے کہا کہ وہ ایسے شخص سے شادی کرنا نہیں چاہتی جو ابھی خود مختار نہ ہو، اگر خودجناب امیر اپنے عقد نکاح سے مشرف فرمائیں تو بطیب خاطر حاضر ہوں، حضرت علی ؓ نے انکار کیا اوراسے آزاد کر دیا کہ جہاں چاہے رہے اور جس سے چاہے بیاہ کرے۔ جزیرہ موصل اورشام کے متصلہ علاقوں پر اشترنخعی کو مامور کیا، اشترنے بڑھ کر شام کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا؛لیکن امیر معاویہ ؓ کے عامل ضحاک بن قیس نے حران اوررقہ کے درمیان مقابلہ کرکے اشترکو پھر موصل جانے پر مجبور کیا، اشتر نے موصل میں قیام کرکے شامی فوج سے مستقل چھیڑ چھاڑ کردی اور اس سیلاب کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔

صلح کی دعوت

اگرچہ حضرت علی ؓ کو یہ معلوم تھا کہ امیر معاویہ ؓ آپ کی خلافت تسلیم نہیں کریں گے تاہم اتمام حجت کے لیے ایک دفعہ پھر صلح کی دعوت دی اورجریر بن عبد اللہ کو قاصد بنا کر بھیجا، جریر ایسے وقت امیر معاویہ ؓ کے پاس پہنچے کہ ان کے دربار میں روسائے شام کا مجمع تھا، امیر معاویہ ؓ نے خط لے کر پہلے خود پڑھا، پھر ببانگ بلند حاضرین کوسنایا، بعد حمد ونعت کے خط کا مضمون یہ تھا: ‘‘تم اور تمہارے زیر اثر جس قدر مسلمان ہیں، سب پر میری بیعت لازم ہے کیونکہ مہاجرین وانصار نے اتفاق عام سے مجھے منصب خلافت کے لیے منتخب کیا ہے، ابوبکر، عمر اورعثمان ؓ کو بھی انہی لوگوں نے منتخب کیا تھا، اس لیے جو شخص اس بیعت کے بعد سرکشی اوراعراض کرے گا وہ جبرواطاعت پر مجبورکیا جائے گا، پس تم مہاجرین وانصار کی اتباع کرو یہی سب سے بہتر طریقہ ہے، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ، تم نے عثمان ؓ کی شہادت کو اپنی مقصد برآری کا وسیلہ بنایا ہے، اگر تم کو عثمان ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کا حقیقی جوش ہے تو پہلے میری اطاعت قبول کرو، اس کے بعد باضابطہ اس مقدمہ کو پیش کرو، میں کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا، ورنہ تم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ محض دھوکا اورفریب ہے۔" امیر معاویہ ؓ بائیس برس سے شام کے والی تھے، اس طویل حکومت نے ان کے دل میں استقلال وخود مختاری کی تمنا پیدا کردی تھی، جس کے حصول کے لیے اس سے بہتر موقع میسر نہیں آسکتا تھا، نیز حضرت عثمان ؓ کی شہادت، حضرت علی ؓ کی خلافت اوراموی عمال کی برطرفی سے بنوامیہ اوربنو ہاشم کی دیرینہ چشمک پھر تازہ ہو گئی تھی، حضرت علی ؓ کے معزول کردہ تمام اموی عمال امیر معاویہ ؓ کے گردوپیش جمع ہو گئے تھے، بہت سے قبائل عرب جو اگرچہ اموی نہ تھے ؛لیکن امیر معاویہ ؓ کی شاہانہ دادودہش نے ان کو بھی ان کا طرفدار بنادیا تھا، بعض صحابہ بھی اپنے مقاصد کے لیے ان کے دست وبازو بن گئے تھے، حضرت عمروبن العاص ؓ نے مصر کی حکومت کا عہدہ لے کر اعانت وساعدت کا وعدہ کرلیاتھا، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ جو عرب کے نامور مدبروں میں تھے اور پہلے حضرت علی ؓ کے طرفدار تھے آپ سے دل برداشتہ ہوکر امیرمعاویہ ؓ کے ساتھ ہو گئے تھے، عبید اللہ بن عمر ؓ جنھوں نے اپنے والد کے خون کے جوش انتقام میں ایک پارسی نومسلم ہر مزان کو بے وجہ قتل کر دیا تھا اورحضرت عثمان ؓ نے ان سے قصاص نہیں لیا تھا حضرت علی ؓ کی مسند نشینی کے بعد مقدمہ قائم ہونے کے خوف سے بھاگ کر امیر معاویہ کے دامن میں پناہ گزین ہو گئے تھے، امیر معاویہ ؓ نے ایک اورمامورمدبر زیاد بن امیہ کو جو حضرت علی ؓ کے حامیوں میں تھا، اپنے ساتھ ملا لیا تھا، اکابر شام کی پہلےہی سے ان کو تائید وحمایت حاصل تھی، ان کی مدد سے انہوں نے حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے واقعہ کو جس سے تمام مسلمان سخت متاثر تھے، سارے شام میں پھیلایا، ہر ہرگاؤں، قصبہ اورشہر میں اس کی اشاعت کے لیے خطیب مقرر کیے، دمشق کی جامع مسجد میں حضرت عثمان ؓ کے خون آلود پیراہن اورحضرت نائلہ ؓ کی کٹی ہوئی انگلیوں کی نمائش کی جاتی تھی۔ [64] ان تدبیروں سے لوگوں کو حضرت عثمان ؓ کے خون کے انتقام کا جوش پیدا کرنے کے بعد اپنے حاشیہ نشینوں کے مشورہ سے حضرت علی ؓ کے خط کا جواب لکھا اورحسب معمول قاتلین عثمان ؓ کو حوالہ کردینے پر اصرارکیا، ابو مسلم نے جو خط کا جواب لے کر گئے تھے، دربارخلافت میں خط پیش کرنے کے بعد رنج کے طورپر گزارش کی کہ اگر عثمان ؓ کے قاتلوں کو ہمارے حوالہ کر دیا جائے تو ہم اور تمام اہل شام خوشی کے ساتھ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار ہیں، فضل وکمال کے لحاظ سے آپ ہی خلافت کے حقیقی مستحق ہیں، جناب امیر ؓ نے دوسرے روز صبح کے وقت جواب دینے کا وعدہ فرمایا، ابو مسلم جب دوسرے روز حاضر ہوئے تو وہاں تقریباً دس ہزار مسلح آدمیوں کا مجمع تھا، ابو مسلم کو دیکھ کر سب نے ایک ساتھ ببانگ بلند کہا، ہم سب عثمان ؓ کے قاتل ہیں، ابو مسلم نے مستعجب ہوکر بارگاہ خلافت میں عرض کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سب نے باہم سازش کرلی ہے، حضرت علی ؓ نے فرمایا تم اس سے سمجھ سکتے ہو کہ عثمان ؓ کے قاتلوں پر میرا کہاں تک اختیار ہے؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پھر امیر معاویہ ؓ کو لکھا کہ وہ ناحق ضد سے باز آجائیں اور حضرت عثمان ؓ کے قتل میں ان کی کوئی شرکت نہ تھی، عمروبن العاص کو علاحدہ لکھا کہ دنیا طلبی چھوڑ کر حق کی حمایت کرو؛لیکن زمین مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھی، گوجنگ جمل میں دس ہزار مسلمانوں کا خون پی چکی تھی ؛لیکن ابھی اس کی پیاس نہ بجھی تھی، اس لیے مصالحت اورخانہ جنگی کے سدباب کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں اورحضرت علی ؓ کو مجبور ہوکر قبضۂ شمشر پر ہاتھ رکھنا پڑا، تمام عمال وحکام کو دوردراز حصص ملک سے جنگ میں شریک ہونے کے لیے بلایا، اورتقریباًاسی ہزار کی جمعیت کے ساتھ حدودشام کا رخ کیا۔

معرکۂ صفین

جب یہ فوج گراں فرات کو عبور کرکے سرحد شام میں داخل ہوئی تو امیر معاویہ ؓ کی طرف سے ابوالدعورسلمیٰ نے مقدمۃ الجیش کو آگے بڑھنے سے روکا، علوی فوج کے افسر زیاد بن النفرا اور شریح بن ہانی نے تمام دن نہایت جاں بازی کے ساتھ مقابلہ کیا، اسی اثنا میں اشترنخعی کمک لے کر پہنچ گئے، ابوالدعورنے دیکھا کہ اب مقابلہ دشوار ہے اس لیے رات کی تاریکی میں فوج کو ہٹالیا اورامیر معاویہ ؓ کو فوج مخالف کی آمد کی اطلاع دی، انہوں نے صفین کے میدان کو مدافعت کے لیے منتخب کیا اورپیش قدمی کرکے مناسب موقعوں پر مورچے جمادیئے، گھاٹ کو اپنے قبضہ میں لے کر سلمی کو ایک بڑی جمعیت کے ساتھ متعین کر دیا کہ علوی فوج کو دریا سے پانی نہ لینے دیں۔

پانی کے لیے کشمکش

ابوالدعورنے اس حکم کی تعمیل کی؛چنانچہ حضرت علی ؓ کی فوج صفین پہنچی تو اس کو پانی کی وجہ سے سخت دقت پیش آئی، حضرت علی ؓ نے حکم دیا کہ شامی فوج کا مقابلہ کرکے بزورگھاٹ پر قبضہ کر لیا جائے؛چنانچہ پہلے چند آدمی اتمام حجت کے لیے آشتی کے ساتھ دریا کی طرف بڑھے ؛لیکن جیسے ہی قریب پہنچے ہر طرف سے تیروں کی بارش شروع ہو گئی، حضرت علی ؓ کی فوج پیش دستی کی منتظر تھی، سب نے ایک ساتھ مل کر حملہ کر دیا، ابولدعورنے دیر تک ثبات واستقلال کے ساتھ مقابلہ کیا عمرو بن العاص ؓ نے بھی اپنی کمک سے تقویت دی؛لیکن پیاسوں کو پانی سے روکنا آسان نہ تھا، آخر کارشامی دستوں کے پاؤں اکھڑ گئے اورگھاٹ پر تشنہ کاموں کا قبضہ ہو گیا، اب جودقت امیر المومنین کی فوجوں کو ہوئی تھی وہی امیر معاویہ ؓ کو پیش آئی؛ لیکن جناب مرتضی کی حمیت انسانی نے کسی کو تشنہ کام رکھنا گوارانہ کیا اورشامی فوج کو دریاسے پانی لینے کی اجازت دیدی، [65] چنانچہ دونوں فوجیں ایک ساتھ دریا سے سیراب ہونے لگیں اور باہم اس قدر اختلاط پیدا ہو گیا کہ دونوں کیمپوں کے سپاہیوں میں دوستانہ آمدورفت شروع ہو گئی یہاں تک کہ بعضوں کو خیال ہوا کہ اب صلح ہو جائے گی۔ میدانِ جنگ میں مصالحت کی آخری کوشش حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جنگ شروع کرنے سے قبل ایک دفعہ پھر اتمام حجت کے لیے بشیربن عمروبن محصن انصاری، سعید بن قیس ہمدانی اورشبث بن ربعی کو امیر معاویہ ؓ کے پاس بھیج کر مصالحت کی آخری کوشش کی ؛لیکن کامیابی نہ ہوئی دونوں طرف علما، فضلا اورحفاظ قرآن کی ایک جماعت موجود تھی جو دل سے اس خونریزی کو ناپسند کرتی تھی، اس نے مسلسل تین ماہ تک جنگ کو روکے رکھا اوراس درمیان میں برابر مصالحت کی کوشش کرتی رہی، اس اثنا میں دونوں طرف سے تقریباً پچاسی دفعہ حملہ کا ارادہ کیا گیا؛ لیکن ان بزرگوں نے ہمیشہ درمیان میں پڑکر بیچ بچاؤ کرادیا، غرض ربیع الاول، ربیع الثانی اورجمادی الاولی تین مہینے صرف صلح کے انتظار میں گزرگئے؛لیکن اس کی کوئی صورت نہ نکل سکی اورجمادی الاآخر کے شروع میں جنگ چھڑگئی۔

آغاز جنگ

لڑائی کا یہ طریقہ تھا کہ دونوں طرف سے دن میں دو دفعہ یعنی صبح و شام تھوڑی تھوڑی فوج میدان جنگ میں اترتی تھی اور کشت وخون کے بعد اپنے فردوگاہ پر واپس جاتی تھی، فوج کی کمان حضرت علی ؓ کبھی خود کرتے تھے اور کبھی باری باری سے اشترنخعی، حجر بن عدی، شبث ربعی، خالدبن المعمرہ، زیاد بن النضر، زیاد بن حصفہ التیمی، سعید بن قیس، محمد بن حنفیہ، معقل بن قیس اورقیس بن سعد اس فرض کو انجام دیتے تھے، یہ سلسلہ جمادی الآخر کی آخر تاریخوں تک جاری رہا ؛لیکن جیسے ہی رجب کا ہلال طلوع ہوا، اشہر حرم کی عظمت کے خیال سے دفعۃً دونوں طرف سے جنگ رک گئی، اس التواء سے خیرخواہان امت کو پھر ایک مرتبہ مصالحت کی کوشش کا موقع مل گیا؛چنانچہ حضرت ابوالدرداء ؓ اورحضرت ابوامامہ باہلی ؓ نے امیر معاویہ کے پاس جاکر ان سے حسب ذیل گفتگوکی: حضرت ابولدرداء ؓ:تم علیؓ سے لڑتے ہوکیا وہ امامت کے تم سے زیادہ مستحق نہیں ہیں؟ امیرمعاویہ:میں عثمان ؓ کے خون ناحق کے لیے لڑتا ہوں حضرت ابوالدرداء: کیا عثمان ؓ کو علیؓ نے قتل کیا ہے؟ امیر معاویہؓ: قتل تو نہیں کیا ہے، قاتلوں کو پناہ دی ہے، اگر وہ ان کو میرے سپرد کر دیں تو سب سے پہلے بیعت کرنے کو تیارہوں۔ اس گفتگو کے بعد حضرت ابوالدردا ءؓ اورحضرت ابوامامہ ؓ حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور امیر معاویہ ؓ کی شرائط سے مطلع کیا، اسے سن کر تقریباً بیس ہزار سپاہیوں نے علوی فوج سے نکل کر کہا کہ‘‘ہم سب عثمان ؓ کے قاتل ہیں’’، حضرت ابوالدرداء اور حضرت ابو امامہ ؓ نے یہ رنگ دیکھا تو لشکر گاہ چھوڑکر ساحلی علاقہ کی طرف چلے گئے اور اس جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ غرض پہلی رجب سے اخیر محرم ؁ 37ھ تک طرفین سے سکوت رہا اورکوئی قابل ذکر معرکہ پیش نہ آیا، آغاز سفر سے پھر ازسرنوجنگ شروع ہو گئی اوراس قدر خونریزلڑائیاں پیش آئیں کہ ہزاروں عورتیں بیوہ اورہزاروں بچے یتیم ہو گئے، پھر بھی اس خانہ جنگی کا فیصلہ نہ ہوا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس طوالت سے تنگ آکر اپنی فوج کے سامنے نہایت پرجوش تقریر کی اور اس کو فیصلہ کن جنگ کے لیے ابھارا، تمام فوج نے نہایت جوش وخروش کے ساتھ اس تقریر کو لبیک کہا اوراپنے حریف پر اس زور سے حملہ کیا کہ شامی فوج کی صفیں درہم برہم ہوگئیں اور بڑے بڑے بہادروں کے پاؤں اکھڑ گئے، حیدرکرار خود فوج کے آگے تھے اور اس جانبازی سے لڑ رہے تھے کہ حریف کی صفیں چیرتے ہوئے امیر معاویہ ؓ کے مقصورہ تک پہنچ گئے، آپ کی زبان پر یہ رجز جاری تھا: اضربہم ولااری معاویۃ الجاحظ العین العظیم الحاویۃ قریب پہنچ کر پکارکر کہا‘‘معاویہ!خلق خدا کا خون گراتے ہو، آؤ ہم تم باہم اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کر لیں۔’’ اس مبارزت پر عمروبن العاص ؓ اورامیر معاویہ میں حسب ذیل مکالمہ ہوا: عمروبن العاص ؓ: بات انصاف کی ہے۔ امیر معاویہ ؓ: خوب کیا انصاف ہے؟تم جانتے ہو کہ جو اس شخص کے مقابلہ میں جاتا ہے پھر زندہ نہیں بچتا۔ عمروبن العاص:جو کچھ ہو، تاہم مقابلے کے لیے نکلنا چاہیے۔ امیر معاویہ ؓ:تم چاہتے ہو کہ مجھے قتل کراکے میرے منصب پر قبضہ کرو۔ امیر معاویہ ؓ کے اعراض پر عمروبن العاص ؓ خود شیرخدا کے مقابلے کے لیے نکلے، دیر تک دونوں میں تیغ سنان کا ردو بدل ہوتا رہا، ایک دفعہ حضرت علی ؓ نے ایسا وار کیا کہ اس سے سلامت بچنا ناممکن تھا، عمروبن العاص ؓ اس بدحواسی کے ساتھ گھوڑے سے گرے کہ بالکل برہنہ ہو گئے، فاتح خیبر نے اپنے حریف کو برہنہ دیکھ کر منہ پھیر لیا اورزندہ چھوڑ کر واپس چلے آئے۔ اس جنگ کے بعد تھوڑی تھوڑی فوج سے مقابلہ ہونے کی بجائے پوری فوج کے ساتھ جنگ ہونے لگی، چند دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جمعہ کے روز عظیم الشان جنگ پیش آئی جو شدت وخونریزی کے لحاظ سے تاریخ اسلام میں اپنی نظیر آپ ہے، صبح سے شام اورشام سے دوسری صبح تک اس زور کا رن پڑاکہ نعروں کی گرج، گھوڑوں کی ٹاپوں اورتلواروں کی جھنکاروں سے کرہ ارض تھرارہا تھا اسی مناسبت سے اس کو لیلۃ الہر یر کہتے ہیں۔ دوسری صبح کو مجروحین ومقتولین کے اٹھانے کے لیے جنگ ملتوی ہوئی، حضرت علی ؓ نے اپنے طرفداروں کو مخاطب کرکے نہایت جوش سے تقریر کی اورفرمایا‘‘جانبازو!ہماری کوششیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ انشاء اللہ کل اس کا آخری فیصلہ ہوجائیگا، پس آج کچھ آرام لینے کے بعد اپنے حریف کو آخری شکست دینے کے لیے تیار ہوجاؤ اوراس وقت تک میدان سے منہ نہ موڑوجب تک اس کا قطعی فیصلہ نہ ہوجائے۔ امیر معاویہ ؓ اورعمروبن العاص ؓ نے اس وقت تک نہایت جانبازی، شجاعت اورپامردی کے ساتھ اپنی فوجوں کو سرگرم کا رزاررکھا تھا؛لیکن لیلۃ الہریر کی جنگ سے انہیں بھی یقین ہو گیا تھا کہ اب لشکر حیدری کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے، قبیلوں کے سردار بھی ہمت ہار گئے، اشعث ابن قیس نے علانیہ دربار میں کھڑے ہوکر کہا اگر مسلمانوں کی باہمی لڑائی ایسی ہی قائم رہی تو تمام عرب ویران ہوجائے گا، رومی شام میں ہمارے اہل و عیال پر قبضہ کر لیں گے، اس طرح ایران دہقان اہل کوفہ کی عورتوں اوربچوں پر متصرف ہوجائیں گے، ،تمام درباریوں کی نظریں امیر معاویہ ؓ کے چہرہ پر گڑگئیں اورسب نے بالاتفاق اس خیال کی تائید کی۔ یہ رنگ دیکھ کر امیر معاویہ ؓ نے جناب مرتضیٰ کو لکھا کہ‘‘اگر ہم کو اورخودآپ کو معلوم ہوتاکہ یہ جنگ اس قدر طول کھینچے گی تو غالباً ہم دونوں اس کو چھیڑنا پسند نہ کرتے، بہر حال اب ہم کو اس تباہ کن جنگ کا خاتمہ کردینا چاہیے ہم لوگ بنی عبد مناف ہیں اورآپس میں ایک دوسرے پر کوئی فوقیت نہیں، اس لیے مصالحت ایسی ہو کہ طرفین کی عزت وآبرو برقرار رہے؛لیکن اب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مصالحت سے انکار کیا اوردوسرے روز علی الصباح زرہ بکتر سے آراستہ ہوکر اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ میدان میں صف آراء ہوئے؛لیکن حریف نے جنگ ختم کردینے کا تہیہ کر لیا تھا، عمروبن العاص نے کہا اب میں ایک ایسی چال چلوں گا کہ یا تو جنگ کا خاتمہ ہی ہوجائے گا یہ علی ؓ کی فوج میں پھوٹ پڑجائے گی؛چنانچہ دوسری صبح شامی فوج ایک عجیب منظر کے ساتھ میدان جنگ میں آئی، آگے آگے دمشق کا مصحفِ اعظم پانچ نیزوں پر بندھا ہوا تھا اوراس کو پانچ آدمی بلند کئےہوئے تھے، اس کے علاوہ جس جس کے پاس قرآن پاک تھا اس نے اس کو نیزے پر باندھ لیاتھا، حضرت علی ؓ کی طرف سے اشترنخعی نے ایک جمعیت عظیم کے ساتھ حملہ کیا توقلب سے فضل بن اوہم، میمنہ سے شریح الجذامی اورمیسرہ سے زرقاء بن معمربڑھے اورچلا کر کہا گروہِ عرب!خدارومیوں اورایرانیوں کے ہاتھ سے تمہاری عورتوں اوربچوں کو بچائے تم فنا ہو گئے، دیکھو یہ کتاب اللہ ہمارے اورتمہارے درمیان میں ہے، اسی طرح ابوالدعور سلمیٰ اپنے سرپر کلام مجید رکھے ہوئے لشکر حیدری کے قریب آئے اور ببانگ بلند کہا‘‘اے اہل عراق یہ کتاب اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان میں حکم ہے، اشترنخعی نے اپنے ساتھیوں کوسمجھایا کہ حریف کی چال ہے اورجوش دلا کر نہایت زوروشورسے حملہ کر دیا؛لیکن شامیوں کی چال کامیاب ہو گئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے لوگوں کو لاکھ سمجھایا کہ مصاحف کا بلند کرنا محض عیاری ہے ہم کو اس دام تزویر سے بچنا چاہیے، کردوس بن ہانی، سفیان بن ثور اورخالد بن العمر نے بھی امیر المومنین کی تائید کی اورکہا کہ پہلے ہم نے ان کو قرآن کی طرف دعوت دی تو انہوں نے کچھ پروا نہ کی، لیکن جب ناکامی و نامرادی کا خوف ہوا تو اس مکاری کے ساتھ ہمیں دھوکا دینا چاہتے ہیں؛لیکن شامیوں کا جادو چل چکا تھا، اس لیے باوجود سعی وکوشش ایک جماعت نے نہایت سختی کے ساتھ اصرار کیا کہ قرآن کی دعوت کو رد نہ کرنا چاہیے اوردھمکی دی کہ اگر قرآن کے درمیان میں آنے کے بعد بھی جنگ بند نہ ہوگی تو وہ نہ صرف فوج سے کنارہ کش ہوجائے گی؛ بلکہ خود جناب امیر ؓ کا مقابلہ کرےگی، معربن فد کی، زیدبن حصین، سنبی اورابن الکواء اس جماعت کے سرگروہ تھے، اسی طرح اشعث بن قیس نے عرض کیا امیر المومنین ! میں جس طرح کل آپ کا جان نثار تھا اسی طرح آج بھی ہوں؛لیکن میری بھی یہی رائے ہے کہ قرآن مجید کو حکم مان لینا چاہیے، غرض یہ چال ایسی کامیاب ہوئی کہ جناب مرتضیٰ کو مجبورا ًاپنی فوج کو بازگشت کا حکم دینا پڑا، اشترنخعی اس وقت نہایت کامیاب جنگ میں مصروف تھے، اس لیے واپسی کا حکم سن کر ان کو بڑا صدمہ ہوا اورفردوگاہ پر واپس جانے کے بعد ان میں اور مسعر بن مذکی اورابن الکواء وغیرہ میں جنھوں نے التوائے جنگ پر مجبور کیا تھا نہایت تلخ گفتگوہوئی اورقریب تھا کہ باہم کشت وخون کی نوبت پہنچ جائے ؛لیکن جناب امیر ؓ نے درمیان میں پڑکر معاملہ کورفت وگذشت کر دیا۔ التوائے جنگ کے بعد دونوں فریق میں خط کتابت شروع ہوئی اورطرفین کے علما، فضلا کا اجتماع ہوا اوربحث ومباحثہ کے بعد قرار پایا کہ خلافت کا مسئلہ دوحکم کے سپرد کر دیا جائے اور وہ جو کچھ فیصلہ کریں اس کو قطعی تصور کیا جائے، شامیوں نے اپنی طرف سے عمروبن العاص ؓ کا نام پیش کیا، اہل عراق کی طرف سے اشعث بن قیس نے ابوموسیٰ اشعری کا نام لیا، حضرت علی ؓ نے اس سے اختلاف کیا اورحضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی بجائے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو تجویز کیا، لوگوں نے کہا عبد اللہ بن عباس اورآپ تو ایک ہی ہیں، حکم کو غیر جانبدار ہونا چاہیے، اس لیے جناب امیر ؓ نے دوسرا نام اشترنخعی کا لیا، اشعث بن قیس نے برافروختہ ہوکر کہا‘‘جنگ کی آگ اشترہی نے بھڑکائی ہے اور ان کی رائے تھی کہ جب تک آخری نتیجہ نہ ظاہر ہو ہر فریق دوسرے سے لڑتا رہے، اس وقت تک ہم اس کی رائے پر عمل کرتے رہے، ظاہر ہے جس کی رائے یہ ہے اس کا فیصلہ بھی یہی ہوگا، حضرت علی ؓ نے جب دیکھا کہ لوگ ابوموسیٰ اشعری کے علاوہ اورکسی پر رضا مند نہیں تو تحمل وبردباری کے ساتھ فرمایا جس کو چاہو حکم بناؤ مجھے بحث نہیں۔ حضرت ابوموسیٰ اشعر ی ؓ جنگ سے کنارہ کش ہوکر ملک شام کے ایک گاؤں میں گوشہ نشین ہو گئے تھے، لوگوں نے قاصد بھیج کر ان کو بلایا اوردونوں فریق کے ارباب حل وعقد ایک عہد نامہ ترتیب دینے کے لیے مجتمع ہوئے، کاتب نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد لکھا ہذا ماقضی علیہ امیر المومنین، امیر معاویہ ؓ نے کہا اگر امیرالمؤمنین تسلیم کرلیتا توپھر جھگڑاہی کیا تھا، عمروبن العاص ؓ نے مشورہ دیا کہ صرف نام پر اکتفاکیا جائے، لیکن احنف ابن قیس اورحضرت علی ؓ کے دوسرے جاں نثاروں کو اس لقب کا محوہونا نہایت شاق تھا، فدائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا خدا کی قسم یہ سنت کبریٰ ہے، صلح حدیبیہ (ذوقعدہ 6ھ ) میں رسول اللہ کے فقرے پر ایسا ہی اعتراض ہواتھا اس لیے جس طرح حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے دست مبارک سے مٹایا تھا، اسی طرح میں بھی اپنے ہاتھ سے مٹاتا ہوں، غرض معاہدہ لکھا گیا اوردونوں طرف کے سربرآوردہ آدمیوں نے دستخط کرکے اس کو موثق کیا، معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے۔ ‘‘علی ؓ، معاویہ ؓ اوران دونوں کے طرفدار باہمی رضا مندی کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن قیس (ابوموسیٰ اشعری ؓ ) اورعمروبن العاص قرآن پاک اورسنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جو فیصلہ کریں گے اس کے تسلیم کرنے میں ان کو پس و پیش نہ ہوگا، اس لیے دونوں حکم کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ قرآن اورسنت نبوی کو نصب العین بنائیں اورکسی حالت میں اس سے انحراف نہ کریں، حکم کی جان اوران کا مال محفوظ رہے گا اوران کے حق فیصلہ کی تمام امت تائید کرے گی، ہاں اگر فیصلہ کتاب اللہ اورسنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہوگا تو تسلیم نہیں کیا جائے گا اورفریقین کو اختیار ہوگا کہ پھر ازسرنوجنگ کو اپنا حکم بنائیں۔

خارجی فرقہ کی بنیاد

معاہدہ تیرہویں صفر ؁ 37 ھ چہارشنبہ کے روز ترتیب پایا، اشعث بن قیس تمام قبائل کو اس معاہدہ سے مطلع کرنے پر مامور ہوئے، وہ سب کو سناتے ہوئے جب غزہ کے فرودگاہ پر پہنچے تو دو آدمیوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ خدا کے سوا اورکسی کو فیصلہ کا حق نہیں اورغضب ناک ہو کہ شامی فوج پر حملہ کر دیا اورلڑکر مارے گئے، اسی طرح قبیلہ مراد اوربنو راست اوربنو تمیم نے بھی اس کو ناپسند کیا، بنو تمیم کے ایک شخص غزوہ بن اُدیہ نے اشعث سے سوال کیا کہ کیا تم لوگ اللہ کے دین میں آدمیوں کا فیصلہ قبول کرتے ہو؟ اگر ایسا ہے تو بتاؤ کہ ہمارے مقتول کہاجائیں؟ اورغضب ناک ہو کر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اگر خالی نہ جاتا تو اشعث کا کام ہی تمام ہوجاتا، بہت سے آدمیوں نے خود حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس معاہدہ کی نسبت اپنی بیزاری ظاہرکی، محزربن خنیس نے عرض کیا، امیر المومنین اس معاہدہ سے رجوع کرلیجئے، واللہ میں ڈرتا ہوں کہ شاید آپ کا انجام برانہ ہو، غرض ایک معتدبہ جماعت نے اس کو ناپسند کیا اورانجام کار اسی ناپسندیدگی نے ایک مستقل فرقہ کی بنیاد قائم کردی جس کا ذکرآگے آئے گا۔

تحکیم کا نتیجہ

حضرت علی ؓ اورامیر معاویہ ؓ نے دومۃ الجندل کو جو عراق اورشام کے وسط میں تھا بالاتفاق حکمین کے لیے اجلاس کا مقام منتخب کیا اور ہر ایک نے اپنے اپنے حکم کے ساتھ چار چار سوآدمیوں کی جمعیت ساتھ کر دیا، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ جو فوج گئی تھی اس کے افسر شریح بن ہانی اورمذہبی نگران حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ تھے، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت سعد وقاص ؓ اورحضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ وغیرہ بھی جو اپنے ورع وتقویٰ کے باعث اس خانہ جنگی سے الگ رہے تھے، تحکیم کی خبر سن کر اس کا آخری فیصلہ معلوم کرنے کے لیے دومۃ الجندل میں آئے، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے جو نہایت نکتہ رس اورمعاملہ فہم بزرگ تھے پہنچنے کے ساتھ ابوموسیٰ اشعر ؓ اور عمروبن العاص ؓ سے علاحدہ علاحدہ گفتگو کرکے ان کی رائے کا اندازہ کیا تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان دونوں میں اتحاد رائے ممکن نہیں ہے؛چنانچہ انہوں نے اسی وقت علانیہ پیشن گوئی کی کہ اس تحکیم کا نتیجہ خوش آئند نہ ہوگا، بہرحال دونوں حکم حسب قرارداد گوشہ خلوت میں مجتمع ہوئے، عمروبن العاص ؓ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو اپنا ہم خیال بنانے کے لیے ان کی غیر معمولی تعظیم وتوقیر شروع کی تعریف وتوصیف کے پل باندھ دیے، اصل مسئلہ کے متعلق جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ یہ ہے: ابوموسیٰ ؓ :عمروؓ تم ایک ایسی رائے کے متعلق کیا خیال رکھتے ہو جس سے خدا کی خوشنودی اورقوم کی بہبودی دونوں میسر آئے؟ عمروبن العاصؓ :وہ کیا ہے؟ ابو موسیٰؓ، عبد اللہ بن عمرؓ نے ان خانہ جنگیوں میں کسی طرح حصہ نہیں لیا ہے، ان کو منصب خلافت پر کیوں نہ متمکن کیا جائے۔ عمروبن العاصؓ، معاویہؓ میں کیا خرابی ہے؟ ابوموسی ؓ، معاویہؓ نہ تو اس منصب جلیل کے لیے موزوں ہیں اور نہ ان کو کسی طرح کا استحقاق ہے، ہاں اگر تم مجھ سے اتفاق کرو تو فاروق اعظم ؓ کا عہد لوٹ آئے اور عبد اللہ اپنے باپ کی یاد پھر تازہ کر دیں۔ عمروبن العاصؓ، میرے لڑکے عبد اللہ پر آپ کی نظر انتخاب کیوں نہیں پڑتی فضل و منقبت میں تو وہ بھی کچھ کم نہیں۔ ابوموسیٰ ؓ، بے شک تمہارا لڑکا صاحب فضل ومنقبت ہے؛ لیکن ان خانہ جنگیوں میں شریک کرکے تم نے ان کے دامن کو بھی ایک حد تک داغدار کر دیا ہے، برخلاف اس کے طیب ابن طیب عبد اللہ بن عمر ؓ کا لباس تقویٰ ہر قسم کے دھبوں سے محفوظ ہے، بس آؤ انہی کو مسندخلافت پر بٹھادیں۔ عمروبن العاصؓ: ابوموسیؓ! اس منصب کی صلاحیت صرف اس میں ہوسکتی ہے جس کے دو داڑھ ہوں، ایک سے کھائے اور دوسرے سے کھلائے۔ ابوموسیؓ، عمروؓ! تمہارا براہو، کشت وخون کے بعد مسلمانوں نے ہمارا دامن پکڑا ہے اب ہم ان کو پھر فتنہ وفساد میں مبتلا نہیں کریں گے۔ عمروبن العاص ؓ، پھر آپ کی کیا رائے ہے؟ ابوموسیٰ ؓ، ہمارا خیال ہے کہ علی ؓ اورمعاویہ ؓ دونوں کو معزول کر دیں اور مسلمانوں کی مجلس شوریٰ کو پھر سے اختیاردیں جس کو چاہے منتخب کرے۔ عمروبن العاصؓ، مجھے بھی اس سے اتفاق ہے۔ مذکورہ بالاقرارداد کے بعد جب دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو عبد اللہ بن عباس ؓ نے ابو موسیٰ ؓ کے پاس جاکر کہا‘‘خدا کی قسم !مجھے یقین ہے کہ عمرونے آپ کو دھوکا دیا ہوگا، اگر کسی رائے پر اتفاق ہوا ہو توآپ ہر گز اعلان میں سبقت نہ کیجئے گا، وہ نہایت غدار ہے، کیاعجب ہے کہ آپ کے بیان کی مخالفت کربیٹھے، ابوموسی ؓ نے کہا کہ ہم لوگ ایسی رائے پر متحد ہوئے ہیں کہ اس میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں، غرض دوسرے روز مسجد میں مسلمانوں کا مجمع ہوا، حضرت ابوموسی اشعری ؓ نے عمروبن العاصؓ سے فرمایا کہ وہ منبر پر چڑھ کر فیصلہ سنائیں، انہوں نے عرض کیا میں آپ پر سبقت نہیں کرسکتا، آپ فضل ومنقبت میں، سن وسال میں، غرض ہر حیثیت سے ہم سے افضل اورہمارے بزرگ ہیں۔ حضرت ابوموسی ؓ پرعمروبن العاص ؓکا جادو چل گیا؛چنانچہ آپ بغیر پس وپیش کےکھڑے ہو گئے اورحمد وثنا کے بعد کہا‘‘صاحبو! ہم نے علی ؓ اور معاویہ ؓ دونوں کو معزول کیا اور پھر نئے سرے سے مجلس شوریٰ کو انتخاب کا حق دیا، وہ جس کو چاہے اپنا امیر بنائے، ابو موسی اپنا فیصلہ سنا کر منبر پر سے اترے عمرو بن العاص نے کھڑے ہوکر کہا‘‘صاحبو!علی ؓ کو جیسا کہ ابوموسیٰ ؓ نے معزول کیا میں بھی معزول کرتا ہوں ؛لیکن معاویہ ؓ کو اس منصب پر قائم رکھتا ہوں، کیونکہ وہ امیر المؤمنین عثمان ؓ کے ولی اورخلافت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ بہت نیک دل اور سادہ دل بزرگ تھے، اس خلاف بیانی سے ششد رہ گئے، چلا کر کہنے لگے یہ کیا غداری ہے، یہ کیا بے ایمانی ہے، سچ یہ ہے کہ تمہاری حالت بالکل اس کتے کی طرح ہے جس پر لادوجب بھی ہانپتا ہے اور چھوڑو تو بھی ہانپتا ہے، انما مثلک کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث اوتترکہ یلھث، عمرو بن العاص نے کہا اورآپ پر چارپائے بروکتا بے چند کی مثل صادق آتی ہے، مثلک کمثل الحمار یحمل اسفارا، عمروبن العاصؓ کے بیان سے مجمع میں سخت برہمی پیدا ہو گئی، شریح بن ہانی نے عمروبن العاصؓ کو کوڑے سے مارنا شروع کیا، اس طرف سے ان کے ایک لڑکے نے شریح پر حملہ کر دیا؛لیکن بات بڑھنے نہیں پائی اورلوگوں نے بیچ بچاؤ کر کے رفت وگذشت کر دیا، حضرت ابوموسیٰ ؓ کو اس قدر ندامت ہوئی کہ اس وقت مکہ روانہ ہو گئے اور تمام عمرگوشہ نشین رہے۔

خوارج کی سرکشی

پہلے گزرچکا ہے کہ تحکیم کو حضرت علی ؓ کے اعوان وانصار میں سے معتدبہ جماعت نے ناپسند کیا تھا؛چنانچہ جب آپ صفین سے کوفہ تشریف لائے تو اس نے اپنی ناپسندید گی کا ثبوت اس طرح دیا کہ تقریباً بارہ ہزار آدمیوں نے لشکر حیدری سے کنارہ کش ہوکر حردار میں اقامت اختیار کی، حضرت علی ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباس کو سمجھانے کے لیے بھیجا، انہیں ناکامی ہوئی توخود تشریف لے گئے اورمناظرہ ومباحثہ کے بعد راضی کرکے سب کو کوفہ لے آئے یہاں یہ افواہ پھیل گئی کہ جناب امیر ؓ نے ان کی خاطر داری کے لیے تحکیم کو کفر تسلیم کرکے اس سے توبہ کی ہے، حضرت علی ؓ کے کان میں اس کی بھنک پہنچی تو آپ نے خطبہ دے کر اس کی تکذیب کی اورفرمایا کہ پہلے ان ہی لوگوں نے جنگ ملتوی کرنے پر مجبور کیا، پھر تحکیم پر ناپسندیدگی ظاہر کی اوراب چاہتے ہیں کہ عہد شکنی کرکے قبل از فیصلہ پھر جنگ شروع کردوں، خدا کی قسم ! یہ نہیں ہوسکتا، حاضرین میں اُس جماعت کے لوگ بھی موجود تھے وہ سب ایک ساتھ چلا آٹھے‘‘ لاحکم الا اللہ’’ یعنی فیصلہ کا حق صرف اللہ کو ہے اور ایک شخص نے سامنے آکر نہایت بلند آہنگی سے کہا: وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَo لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ [66] "اے محمد تم اورتمہارے قبل انبیا پر یہ وحی بھیجی گئی کہ اگر تم نے خدا کی ذات میں دوسرے کو شریک بنایا تو تمہارے سب اعمال بیکارہوجائیں گے اور تم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوں گے۔" حضرت علی ؓ نے برجستہ جواب دیا: فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّلَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ توصبر کر، خداکا وعدہ حق ہے اورجولوگ یقین نہیں رکھتے وہ تیرا استخفاف نہ کریں۔ غرض رفتہ رفتہ اس جماعت نے ایک مستقل فرقہ کی صورت اختیار کرلی، دومۃ الجندل کی تحکیم کا افسوس ناک نتیجہ ملک میں شائع ہوا تو اس فرقہ نے جناب مرتضیٰ کی بیعت توڑکر عبد اللہ بن وہب الراسبی کے ہاتھ پر بیعت کی اور کوفہ، بصرہ، انبار اورمدائن وغیرہ میں جس قدر اس فرقہ کے لوگ موجود تھے وہ سب نہروان میں جمع ہوئے اور عام طورپر قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا۔ خارجیوں کا عقیدہ تھا کہ معاملات دین میں سرے سے حکم مقرر کرنا کفر ہے، پھر ان دونوں حکم نے جس طریقہ پراس کا فیصلہ کیا اس کے لحاظ سے خود وہ دونوں اوران کے انتخاب کرنے والے کافر ہیں اور اس عقیدہ سے جس کو اتفاق نہ ہو اس کا خون مباح ہے؛چنانچہ انہوں نے عبد اللہ بن خباب اوران کی اہلیہ کو نہایت بیددردی سے قتل کر دیا، اسی طرح ام سنان اورصید اویہ کو مشق ستم بنایا اورجو انہیں ملا اس کو یا تو اپنا ہم خیال بناکر چھوڑایا تلوار کے گھاٹ اتاردیا، حضرت علی ؓ کو ان جگر خراش واقعات کی اطلاع ہوئی توحارث بن مرہ کو دریافت حال کے لیے بھیجا، خارجیوں نے ان کا بھی کام تمام کر دیا۔ جناب مرتضیٰ ؓ اس وقت نئے سرے سے شام پر فوج کشی کی تیاری فرما رہے تھے ؛لیکن جب خارجیوں کی سرکشی اورقتل وغارت اس حد تک پہنچ گئی تو اس ارادہ کو ملتوی کرکے ان خارجیوں کی تنبیہ کے لیے نہروان کا قصد کرنا پڑا۔

معرکہ نہروان

نہروان پہنچ کر حضرت ابوایوب انصاری ؓ اورقیس بن سعد بن عبادہ ؓ کو خارجیوں کے پاس بھیجا کہ وہ بحث و مباحثہ کرکے ان کو ان کی غلطی پر متنبہ کریں، جب ان دونوں کو ناکامی ہوئی تو خارجیوں کے ایک سردار ابن الکواکوبلاکر خود ہر طرح سمجھا یا؛لیکن ان کے قلوب تاریک ہوچکے تھے، اس لئےارشاد وہدایت کے تمام مساعی ناکام رہے، اورجناب امیر ؓ نے مجبور ہوکر فوج کو تیاری کا حکم دیا، میمنہ پر حجربن عدی، میسرہ پر شیث بن ربعی، پیادہ پرحضرت ابوقتادہ انصاری ؓ اورسواروں پر حضرت ابوایوب ؓ کو متعین کرکے باقاعدہ صف آرائی کی۔ خارجیوں میں ایک جماعت ایسی تھی جس کو حیدر کرار ؓ سے جنگ آزمائی ہونے میں پس و پیش تھا، ایک بڑا گروہ کوفہ چلا گیا اورایک ہزار آدمیوں نے توبہ کرکے علم حیدری کے نیچے پناہ لی، اورعبداللہ بن وہب الراسبی کے ساتھ صرف چارہزارخارجی باقی رہ گئے؛لیکن یہ سب منتخب اورجانباز تھے اس لیے انہوں نے میمنہ اورمیسرہ پر اس زور کا حملہ کر دیا کہ اگر جاں نثاران علی ؓ میں غیر معمولی ثبات واستقلال نہ ہوتا توان کا روکنا سخت مشکل تھا، خارجیوں کی حالت یہ تھی کہ ان کے اعضاء کٹ کٹ کر جسم سے علاحدہ ہوجاتے تھے؛ لیکن ان کی حملہ آوری میں فرق نہیں آتا تھا، شریح بن ابی ادنیٰ کا ایک پاؤں کٹ گیا تو تنہا ایک ہی پاؤں پر کھڑا ہوکر لڑتا رہا، اسی طرح خارجی ایک ایک کرکے کٹ کر مر گئے، جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت علی ؓ نے خارجی مقتولین میں اس شخص کو تلاش کرنا شروع کیا جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی؛چنانچہ تمام علامات کے ساتھ ایک لاش برآمد ہوئی تو فرمایا اللہ اکبر! خداکی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر صحیح ارشاد فرمایا تھا۔" جنگ نہروان سے فارغ ہونے کے بعدحضرت علی ؓ نے شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا ؛لیکن اشعث بن قیس نے کہا‘‘امیر المومنین !ہمارے ترکش خالی ہو گئے ہیں، تلواروں کی دھاریں مڑ گئی ہیں، نیزوں کے پھل خراب ہو گئے ہیں، اس لیے ہم کو دشمن پر فوج کشی کرنے سے پہلے اسباب وسامان درست کرلینا چاہیے، جناب امیر ؓ نے اشعث کی رائے کے مطابق نخیلہ میں پڑاؤ کرکے لوگوں کو تیاری کا حکم دیا؛لیکن لوگ تیار ہونے کی بجائے آہستہ آہستہ دس دس بیس بیس کوفہ کھسکنے لگے، یہاں تک کہ آخر میں کل ایک ہزار کی جمعیت ساتھ رہ گئی۔حضرت علی ؓ نے یہ رنگ دیکھا تو سردست شام پر فوج کشی کا ارادہ ترک کر دیا اورکوفہ واپس جاکر اقامت اختیار کی۔

مصر کے لیے کش مکش

پہلے گزرچکا ہے کہ جناب مرتضیٰ ؓ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ عہدعثمانی کے تمام عمال کو معزول کرکے نئے عمال مقرر کیے تھے؛چنانچہ مصر کی ولایت حضرت قیس بن سعدانصاری ؓ کے سپرد ہوئی تھی، انہوں نے حکمت عملی سے تقریباً تمام اہل مصر کو جناب امیر ؓ کی خلافت پر راضی کرکے ان سے آپ کی بیعت لے لی صرف قصبہ خرتبا کے لوگوں کو تامل ہوا اورانہوں نے کہا جب تک معاملات یکسو نہ ہو جائیں اس وقت تک ان سے بیعت کے لیے اصرار نہ کیا جائے، البتہ والی مصر کی اطاعت وفرمانبرداری میں کوتاہی نہ کریں گے اورنہ ملک کے امن وسکون کو صدمہ پہنچائیں گے، قیس بن سعد نہایت پختہ کار اورصاحب تدبیر تھے، انہوں نے اس بھڑکے چھتے کو چھیڑنا خلافِ مصلحت سمجھا اورانہیں امن وسکون کی زندگی بسر کرنے کی اجازت دے دی، اس رواداری کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل خرتبا مطیع وفرماں بردار ہو گئے، اورخراج وغیرہ ادا کرنے میں انہوں نے کبھی کوئی جھگڑانہیں کیا۔ جنگ صفین کی تیاریاں شروع ہوئیں تو امیر معاویہ ؓ کو خوف ہوا کہ اگر وہ دوسری طرف سے قیس بن سعد اہل مصر کو لے کر شام پر چڑھ آئے تو بڑی دقت کا سامنا ہوگا، اس لیے انہوں نے قیس بن سعد کو خط لکھا کر اپنا طرفدار بنانا چاہا قیس بن سعد ؓ نے دنیا سازی کے طورپر نہایت گول جواب دے کر ٹال دیا، امیر معاویہ ؓ فورا اس کو تاڑگئے اوران کو لکھا کہ تم مجھے دھوکا دینا چاہتے ہو، مجھ جیسا شخص کبھی تمہارے دام فریب کا شکار نہیں ہوسکتا افسوس تم اس کو فریب دیتے ہو جس کا ادنٰی سا اشارہ مصر کو پامال کرسکتا ہے قیس بن سعد ؓ نے اس تحریر کا جواب نہایت سخت دیا اورلکھا کہ تمہاری دہمکی سے نہیں ڈرتا، خدانے چاہا تو خود تمہاری اپنی جان کے لالے پڑجائیں گے۔ حضرت قیس بن سعد نہایت بلند پایہ اور ذی اثر بزرگ تھے، رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکثر غزوات میں انصار کے علم بردار رہے تھے، امیر معاویہ ؓ نے جب دیکھا کہ ان کے مقابلہ میں کچھ پیش نہ جائے گی تو انہوں نے ان کے مصر سے ہٹانے کی تدبیر کی ان کے متعلق مشہور کر دیا کہ قیس بن سعد ؓ میرے طرفدار ہیں، رفتہ رفتہ یہ افواہ دربارِ خلافت پہنچی، محمد بن ابی بکر ؓ وغیرہ نے اس کو اور بھی بڑھا چڑھا کر بیان کیا اوراہل خرتبا کے بیعت نہ کرنے کا واقعہ ثبوت میں پیش کیا۔ جناب امیر ؓ نے اس افواہ سے متاثر ہوکر قیس بن سعد ؓ کو خرتباوالوں سے بیعت کے لیے لڑنے کا حکم دیا، انہوں نے جواب دیا کہ خرتبا تقریباً دس ہزار نفوس کی آبادی ہے اس میں بسربن ارطاۃ، مسلمہ بن مخلد اورمعاویہ بن خدیج جیسے جنگ آزما بہادر موجود ہیں، ان سے لڑائی خریدنا مصلحت نہیں ہے جب دربارِخلافت سے مکرراصرار ہوا تو انہوں نے استعفادے دیا، قیس کی جگہ محمد بن ابی بکر ؓ والی مصر مقرر ہوئے، یہ کمسن ناتجربہ کارتھے، ان کےطرزِ عمل نے مصر میں شورش وبے چینی کی آگ بھڑکادی اورانہوں نے خرتبا والوں سے چھیڑ کرکے ان کو آمادہ پر خاش کر دیا، حضرت علی ؓ کو ان حالات کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے معرکہ صفین کے بعد اشترنخعی کو مصر روانہ کیا کہ وہ محمد بن ابی بکر کو سبکدوش کرکے ملک کے حالات درست کریں؛لیکن امیر معاویہ ؓ نے راستے میں زہر دلا کر اشترنخعی کا کام تمام کرادیا اورعمرو بن العاص ؓ کے ماتحت ایک زبردست مہم مصر روانہ کی، محمد بن ابی بکر ؓ کے لیے اس فوج کا مقابلہ نہایت دشوار تھا، تاہم دوہزار کی جمعیت فراہم کرا کے وہ اس جانبازی سے لڑے کہ عمروبن العاص ؓ کو معاویہ بن خدیج رئیس خرتباکی مددطلب کرنی پڑی؛ لیکن اس دوران میں امیر معاویہ ؓ نے ایک بڑی جمعیت کے ساتھ آکر پیچھے سے گھیر لیا اورمحمد بن ابی بکر ؓ کے ساتھی یا تو مارے گئے یا جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے، محمد بن ابی بکر ؓ نے بھی ایک ویران کھنڈر میں پناہ لی؛ لیکن عمروبن العاص ؓکے جاسوسوں نے ڈھونڈ نکالا اور معاویہ بن خدیج نے نہایت بے رحمی کے ساتھ قتل کرکے لاش کو ایک مردہ گدھے کے پیٹ میں ڈال دیا، اس افسوسناک طریقہ پر 38ھ میں مصر کی قسمت کا فیصلہ ہوگیااورحضرت علی ؓ اپنی مجبوریوں کے باعث محمد بن ابی بکر کی کوئی مددنہ کرسکے۔ اسی سال یعنی ؁ 38ھ میں امیر معاویہ ؓ نے اہل بصرہ کو جناب مرتضٰی کی اطاعت سے برگشتہ کرکے اپنی حکومت کا طرفداربنانے کے لیے عبد اللہ بن حضرمی کو بصرہ بھیجا، عبد اللہ کو اس مہم میں بڑی کامیابی ہوئی، قبیلۂ بنو تمیم اورتقریباً ًتمام اہل بصرہ نے اس دعوت کو لبیک کہا اورحضرت علی ؓ کے عامل زیاد کو بصرہ چھوڑ کر حدان میں پناہ گزین ہونا پڑا، بارگاہ خلافت کو اس کی اطلاع ہوئی تو حضرت علی ؓ نے عین بن ضبیعہ کو ابن حضرمی کی ریشہ دوانیوں کے انسداد پر مامور کیا؛ لیکن قبل اس کے کہ انہیں کامیابی ہو، امیر معاویہ ؓ کے ہوا خواہوں نے ناگہانی طورپر قتل کر دیا، عین بن ضبعیہ کے بعد جناب امیر نے جاریہ بن قدامہ کو ابن حضرمی کی سرکوبی پر مامور کیا، انہوں نے نہایت حکمت عملی کے ساتھ بصرہ پہنچ کر ابن حضرمی اوراس کے ساتھیوں کو گھیرلیا اوران کی پناہ گاہ کو نذر آتش کرکے خاک سیاہ کر دیا اوراہل بصرہ نے دوبارہ اطاعت قبول کرلی، امیر المومنین کے ترحم نے عفوعام کا اعلان کیا۔

بغاوتوں کا استیصال

جنگ نہروان میں گوخارجیوں کا زور ٹوٹ چکا تھا تاہم ان کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں ملک میں موجود تھیں اوراپنی ریشہ دوانیوں سے روز ایک نہ ایک فتنہ برپا کرتی رہتی تھیں؛چنانچہ ایک خارجی خریت بن راشد کا صرف یہ کام تھا کہ وہ مجوسیوں، مرتدوں اورنومسلموں کو اپنے دام تزویر میں پھنساکر ملک میں ہر طرف لوٹ مارکرتا پھرتا تھا اورہر جگہ ذمیوں کو بھڑکا کر بغاوت کرادیتا تھا، حضرت علی ؓ نے زیاد بن حفصہ اورایک روایت کے مطابق معقل بن قیس کو جب رامہر مز سے روانہ ہوئے تو ان لوگوں نے دور تک مشایعیت کی، ایرانی مردوں اور عورتوں نے خدا حافظ کہا اوران کی جدائی پر بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

امیر معاویہ ؓ کا جارحانہ طریق عمل

جنگ صفین کے التواء اورمسئلہ تحکیم نے ایک طرف تو حضرت علی ؓ کی جماعت میں تفریق واختلاف ڈال کر خارجیوں کو پیدا کر دیا اوردوسری طرف اس سے بھی بڑھ کر یہ ہوا کہ آپ کےمخصوص ہمدموں اورجانثاروں کے عزم وارادے بھی پست ہو گئے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھر وہ جنگ سے پہلو تہی کرنے لگے، جناب امیر ؓ نے بارہا شام پر چڑھائی کا قصد کیا، پرجوش خطبوں سے اپنے ساتھیوں کو حمایت حق کی دعوت دی اورطعن آمیز جملوں سے ان کی رگِ غیرت کو جوش میں لانے کی کوشش کی؛ لیکن شیعان علی ؓ کے دل ایسے پثرمردہ ہو گئے تھے اوران کی ہمتیں ایسی پست ہوچکی تھیں کہ پھر وہ کسی طرح آمادہ نہ ہوئے، اس سلسلے کے جو خطبے حضرت علی ؓ کی طرف منسوب اورنہج البلاغۃ میں موجود ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضر ت علی ؓ کو اپنے حامیوں اورطرفداروں کی اس سرد مہری کا کتنا صدمہ تھا، امیر معاویہ ؓ اس حقیقت حال سے ناواقف نہ تھے، انہوں نے شیعان علی کی پست ہمتی سے فائدہ اٹھا کر مدافعت کی بجائے اب جارحانہ قدم اُٹھایا اور 39ھ میں فوج کے چھوٹے چھوٹے دستے حجاز، عراق اورجزیرہ میں پھیلادیئے کہ وہ بے امنی پھیلا کر جناب مرتضی ؓ کو پریشانیوں میں اضافہ کریں؛چنانچہ نعمان بن بشر نے دوہزار کی جمعیت سے عین التمر پر، سفیان بن عوف نے چھ ہزار کی فوج سے انبار اورمدائن وغیرہ پر، عبد اللہ بن مسعدہ فزاری نے ایک ہزار سات سو آدمیوں سے تیماء پر ضحاک بن قیس نے وافضۃ کے نشیبی حصہ پر اورامیر معاویہ ؓ نے دجلہ کے ساحلی علاقوں پر حملہ کرکے بیت المال لوٹ لیا اور شیعان علی ؓ کو تہ تیغ کرکے لوگوں کو اپنی حکومت کے سامنے گردن اطاعت خم کرنے پر مجبور کر دیا۔

کرمان وفارس کی بغاوتوں کو فرو کرنا

حیدرکرار کی ہمت مردانہ نے گو بہت جلد امیر معاویہ ؓ کے حملہ آور دستوں کو ممالک مقبوضہ سے نکال دیا، تاہم اس سے ایک عام بے امنی اوربے رعبی پیدا ہو گئی، کرمان وفارس کے عجمیوں نے بغاوت کرکے خراج دینے سے انکار کر دیا، اکثرصوبوں نے اپنے یہاں کے علوی نکال دیے اور ذمیوں نے خود سری اختیار کرلی، حضرت علی ؓ نے اس عام بغاوت کے فروکرنے کے متعلق مشورہ طلب کیا، لوگوں نے عرض کیا، زیاد بن ابیہ سے زیاہ اس کام کے لیے کوئی شخص موزوں نہیں ہوسکتا، اس لیے زیاد اس مہم پر مامور ہوئے، انہوں نے بہت جلد کرمان، فارس اورتمام ایران میں بغاوت کی آگ فرو کرکے امن وسکون پیدا کر دیا، بغاوت فرو ہونے کے بعدحضرت علی ؓ نے ایرانی باغیوں کے ساتھ اس لطف ومدارت کا سلوک کیا کہ ایران کا بچہ بچہ منت پذیری کے جذبات سے لبریز ہو گیا، ایرانیوں کا خیال تھا کہ امیر المومنین علی بن ابی طالب ؓ کے طریق جہانبا نی نے نو شیروانی طرز حکومت کی یاد بھلادی۔

فتوحات

گذشتہ حالات سے یہ معلوم ہو گیا ہوگا کہ حضرت علی ؓ کو اندرونی شورشوں اورخانگی جھگڑوں کے دبانے سے اتنی فرصت نہ مل سکی کہ وہ اسلام کے فتوحات کے دائرہ کو بڑھاسکتے، تاہم آپ بیرونی امور سے غافل نہ رہے؛چنانچہ سیستان اورکابل کی سمت میں بعض عرب خود مختار ہو گئے تھے، ان کو قابو میں کرکے آگے قدم بڑھایا، [67] اور38ھ میں بعض مسلمانوں کو بحری راستہ سے ہندوستان پر حملہ کرنے کی اجازت دی، اس وقت کوکن بمبئی کا علاقہ سندھ میں شامل تھا، مسلمان رضا کار سپاہیوں نے سب سے پہلے اسی عہد میں کوکن پر حملہ کیا۔ [68]

حجاز اورعرب کے قبضہ کے لیے کشمکش

امیر معاویہ ؓ نے ؁ 40ھ میں پھر ازسرنو چھیڑ چھاڑ شروع کی اوربسربن ارطاۃ کو تین ہزار کی جمعیت کے ساتھ حجاز روانہ کیا، اس نے بغیر کسی مزاحمت وجنگ کے مکہ اور مدینہ پر قبضہ کرکے یہاں کے باشندوں سے زبردستی امیر معاویہ ؓ کے لیے بیعت لی، پھر وہاں سےیمن کی طرف بڑھا، حضرت ابوموسی اشعر ی ضی اللہ عنہ نے پہلے سے پوشیدہ طور پر یمن کے عامل عبید اللہ بن عباس کو بسر بن ابی ارطاۃ کے حملہ کے اطلاع کردی اور یہ بھی لکھ دیا کہ جولوگ معاویہ ؓ کی حکومت تسلیم کرنے میں لیت و لعل کرتے ہیں وہ ان کو نہایت بے دردی سے تہ تیغ کردیتا ہے، عبیداللہ بن عباس نے اپنے کو اس مقابلہ ے عاجز دیکھ کر عبد اللہ بن عبدالمدان کو اپنا قائم مقام بنایا اور خود دربار خلافت سے مدد طلب کرنے کے لیے کوفہ کی راہ لی، بسر بن ابی ارطاۃ نے یمن پہنچ کر نہایت بے دردی کے ساتھ عبیداللہ بن عباس کے دو صغیر السن بچوں اور شیعان علی کی ایک بڑی جماعت کو قتل کر دیا۔ دوسری طرف شامی سواروں نے سرحد عراق پر ترکتاز شروع کردی اوریہاں کی محافظ سپاہ کو شکست دے کر انبار پر قبضہ کر لیا، حضرت علی ؓ کو بسربن ابی ارطاۃ کے مظالم کا حال معلوم ہوا تو آُ پ نے جاریہ بن قدامہ اوروہب بن مسعود کو چارہزار کی جمعیت کے ساتھ اس کی سرکوبی کے لیے یمن وحجاز کی مہم پر مامور کیا اورکوفہ کی جامع مسجد میں پرجوش خطبے دے کر لوگوں کو حدود عراق سے شامی فوج نکال دینے پر ابھارا، اوریہ تقریریں ایسی مؤثر تھیں کہ اہل کوفہ کے مردہ قلوب میں بھی فوری طورپر روح پیدا ہو گئی اورہر گوشہ سے صدائے لبیک بلند ہوئی؛لیکن جب کوچ کا وقت آیا تو صرف تین سو آدمی رہ گئے، جناب مرتضیٰ کو اہل کوفہ کی اس بے حسی پر نہایت صدمہ ہوا، حجر بن عدی اورسعید بن قیس ہمدانی نے عرض کیا، امیرالمومنین بغیر تشدد کے لوگ راہ پر نہ آئیں گے، عام منادی کرادیں کی بلا استثناء ہر شخص کو میدان جنگ کی طرف چلنا پڑے گا جو اس میں تساہل یا اعراض سے کام لے گا اس کو سخت سزادی جائے گی، اب صورتِ حال ایسی تھی کہ اس مشورہ پر عمل کرنے کے سواچارہ نہ تھا اس لیے حضرت علی ؓ نے اس کا اعلان عام کر دیا اور معقل کورساتیق بھیجا کہ وہاں سے جس قدر بھی سپاہی مل سکیں جمع کرکے اسےلے آئیں ؛لیکن یہ تیاریاں ابھی حد تکمیل کو نہیں پہنچی تھیں کہ ابن ملجم کی زہر آلود تلوار نے جان بحق پلادیا، اناللہ وانا الیہ راجعون

شہادت

اس جانگداز واقعہ اوراندوہناک سانحہ کی تفصیل یہ ہے کہ واقعہ نہروان کے بعد چند خارجیوں نے حج کے موقع پر مجمتع ہوکر مسائل حاضرہ پر گفتگو شروع کی اوربحث ومباحثہ کے بعد بالاتفاق یہ رائے قرار پائی کہ جب تک تین آدمی علی ؓ، معاویہ ؓ، اورعمروبن العاص ؓ صفحہ ہستی پر موجود ہیں دنیائے اسلام کو خانہ جنگیوں سے نجات نصیب نہیں ہوسکتی؛چنانچہ تین آدمی ان تینوں کے قتل کرنے کے لیے تیار ہو گئے، عبدالرحمن بن ملجم نے کہا کہ میں علی ؓ کے قتل کا ذمہ لیتا ہوں، اسی طرح نزال نے معاویہ ؓ اور عبد اللہ نے عمروبن العاص کے قتل کا بیڑا اٹھایا، اورتینوں اپنی اپنی مہم پر روانہ ہو گئے، کوفہ پہنچ کر ابن ملجم کے ارادہ کو قطام نامی ایک خوب صورت خارجی عورت نے اورزیادہ مستحکم کر دیا، اس مہم میں کامیاب ہونے کے بعد اس سے شادی کا وعدہ کیا اورجناب مرتضیٰ کے خون کا مہر قراردیا۔ 19 رمضان 40ھ ( 660ء ) میں تینوں نے ایک ہی روز صبح کے وقت تینوں بزرگوں پر حملہ کیا، امیر معاویہ ؓ اور عمروبن العاص ؓ اتفاقی طورپر بچ گئے، امیر معاویہ ؓ پر وار اوچھاپڑا، عمروبن العاص اس دن امامت کے لیے نہیں آئے تھے، ایک اورشخص ان کا قائم مقام ہوا تھا وہ عمروبن العاص کے دھوکا میں مارا گیا، جناب مرتضیٰ کا پیمانہ حیات لبریز ہوچکاتھا، آپ مسجدمیں تشریف لائے اور ابن ملجم کو جو مسجد میں آکر سو رہا تھا، جگایا، جب آپ نے نماز شروع کی اورسرسجدہ میں اور دل رازونیاز الہی میں مصروف تھا کہ اسی حالت میں شقی ابن ملجم نے تلوار کا نہایت کاری وارکیا، سرپر زخم آیا اورابن ملجم کو لوگوں نے گرفتار کر لیا، [69] حضرت علی ؓ اتنے سخت زخمی ہوئے تھے کہ زندگی کی کوئی امید نہ تھی اس لیے حضرت امام حسن ؓ اورامام حسین ؓ کو بلاکر نہایت مفید نصائح کیے اورمحمد بن حنفیہ کے ساتھ لطف ومدارت کی تائید کی، جندب بن عبد اللہ نے عرض کیا امیرالمومنین!آپ کے بعد ہم لوگ امام حسن کے ہاتھ پر بیعت کریں، فرمایا اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہنا چاہتا تم لوگ خود اس کو طئےکرو، اس کے بعد مختلف وصیتیں کیں، قاتل کے متعلق فرمایا کہ معمولی طورپر قصاص لینا، [70] تلوار زہر میں بجھی ہوئی تھی اس لیے نہایت تیزی کے ساتھ اس کا اثر تمام جسم میں سرایت کر گیا اور اسی روز یعنی 20/رمضان ؁ 40ھ جمعہ کی رات کو یہ فضل وکمال اوررشدوہدایت کا آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا، حضرت امام حسن ؓ نے خود اپنے ہاتھ سے تجہیز وتکفین کی، نماز جنازہ میں چار تکبیروں کی بجائے پانچ تکبیریں کیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔

خلافت مرتضوی پر ایک نظر

حضر ت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کا پورا زمانہ خانہ جنگی اورشورش کی نذر ہوا اوراس پنجسالہ مدت میں آپ کو ایک لمحہ بھی سکون واطمینان کا نصیب نہ ہوا، اس لیے آپ کے زمانہ میں فتوحات کا دروازہ تقریباً بند ہو گیا، ملکی انتظام کی طرف بھی توجہ کرنے کی فرصت ان کو نہ مل سکی؛لیکن ان گوناں گوں مشکلات کے باوجود جناب مرتضیٰ ؓ کی زندگی عظیم الشان کارناموں سے مملوہے ؛لیکن ان کارماموں پر نظر پڑنے سے پہلے یہ امر قابل غور ہے کہ خلافت مرتضوی میں اس قدر افتراق اختلاف اورشروفساد کے اسباب کیا تھے؟ حضرت علی ؓ نے کس تحمل، استقلال اورسلامت روی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد جناب مرتضیٰ نے جس وقت مسند خلافت پر قدم رکھا ہے اس وقت نہ صرف دار الخلافہ ؛بلکہ تمام دنیائے اسلام پر آشوب تھی، حضرت عثمان ؓ کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہ تھا، اس نے مسلمانوں کے جذبہ غیظ و غضب کو مشتعل کر دیا، یہاں تک کہ جو لوگ آپ کے طرز حکومت کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے بھی مفسدین کی اس جسارت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا؛چنانچہ حضرت زبیر ؓ، طلحہ ؓ اورخود ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے حضرت عثمان ؓ کی حکومت سے شاکی ہونے کے باوجود قصاص کا علم بلند کیا۔ دوسری طرف شام میں بنو امیہ امیر معاویہ ؓ کے زیر سیادت خلافت راشدہ کو اپنی سلطنت میں تبدیل کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے، ان کے لیے اس سے زیادہ بہتر موقع کیا ہوسکتا تھا؛چنانچہ امیر معاویہ ؓ نے بغیر کسی تامل کے ہر ممکن ذریعہ سے تمام شام میں خلیفہ ثالث کے انتقام کا جوش پیدا کرکے حضرت علی ؓ کے خلاف ایک عظیم الشان قوت پیدا کرلی اورحسب ذیل وجہ کو آڑ بنا کر میدان میں اتر ے۔ 1۔حضرت علی ؓ نے مفسدین کے مقابلہ میں حضرت عثمان ؓ کو مدد نہیں دی۔ 2۔اپنی خلافت میں قاتلین عثمان ؓ سے قصاص نہیں لیا۔ 3۔محاصرہ کرنے والوں کو قوتِ بازو بنایا اوران کو بڑے بڑے عہدے دیے۔ یہ وجوہ تمام جنگوں کی بنا قرارپائے، اس لیے غورکرنا چاہیے کہ اس میں کہا ں تک صداقت ہے اورجناب مرتضیٰ ؓ کس حد تک اس میں معذور تھے، پہلا سبب یعنی مفسدین کے مقابلہ میں مددنہ دینے کا الزام صرف حضرت علی ؓ ہی پر نہیں ؛بلکہ حضرت طلحہ ؓ، زبیر ؓ، سعدوقاص ؓ اور تمام اہل مدینہ پر عائد ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو یہ منظور ہی نہ تھا کہ ان کے عہد میں خانہ جنگی کی ابتداہو؛چنانچہ انصار کرام بنو امیہ اوردوسرے وابستگان خلافت نے جب اپنے کو جاں نثاری کے لیے پیش کیا تو حضرت عثمان ؓ نے نہایت سختی کے ساتھ کشت وخون سے منع کر دیا۔ جناب مرتضی ؓ نے اس باب میں جو کچھ کیا، ان کے لیے اس سے زیادہ ممکن نہ تھا؛چنانچہ پہلی مرتبہ آپ ہی نے مفسدین کو راضی کرکے واپس کیا تھا ؛لیکن جب دوسری مرتبہ وہ پھر لوٹے تو مروان کی غداری نے ان کی آتش غیظ و غضب کو اس قدر بھڑکا دیا تھا کہ کسی قسم کی سفارش کار گر نہیں ہوسکتی تھی، ام المومنین ام حبیبہ ؓ نے محاصرہ کی حالت میں عثمان ؓ کے پاس کھانے پینے کا کچھ سامان پہنچانا چاہا، تو مفسدین نے ان کا بھی پاس ولحاظ نہ کیا اور گستاخانہ مزاحمت کی اسی طرح حضرت علی ؓ نے سفارش کی کہ آب ودانہ کی بندش نہ کی جائے تو ان شوریدہ سروں نے نہایت سختی سے انکار کیا، حضرت علی ؓ کو اس کا اس قدر صدمہ ہوا کہ عمامہ پھینک کر اسی وقت واپس چلے آئے، [71] اورتمام معاملات سے قطع تعلق کرکے عزلت نشین ہو گئے، پھر یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اگر حضرت عثمان ؓ محصور تھے تو دوسرے بڑے بڑے صحابہ ؓ بھی آزاد نہ تھے اور مفسدین نے ان لوگوں کی نقل وحرکت پر نہایت سخت نگرانی قائم کردی تھی؛چنانچہ ایک دفعہ حضرت امام حسن نے اپنے پدر گرامی سے عرض کیا کہ اگر آپ میری گزارش پر عمل کرکے محاصرہ کے وقت مدینہ چھوڑدیتے تو مطالبہ قصاص کا جھگڑا آپ کے سر نہ پڑتا، اس وقت جناب امیرنے یہی جواب دیاتھا کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اس وقت آزاد تھا یا مقید۔ البتہ قاتلوں کو سزادینے کا الزام ایک حد تک لائق بحث ہے، اصل یہ ہے کہ اگر قاتل سے مرادوہ اشخاص ہیں جنھوں نے براہ راست قتل میں حصہ لیا تو بے شک انہیں کیفر کردار تک پہنچانا حضرت علی ؓ کا فرض تھا ؛لیکن جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے، پوری تفتیش وتحقیقات کے باوجود ان کا سراغ نہ ملا، اگر قاتل کا لفظ تمام محاصرہ کرنے والوں پر مشتمل ہے جیسا کہ امیر معاویہ ؓ وغیرہ کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص کے قصاص میں ہزاروں آدمیوں کا خون نہیں بہایا جاسکتا تھا اورنہ شریعت اس کی اجازت دیتی تھی، اس بڑی جماعت میں بعض صحابہ کرام اوربہت سے صلحائے روز گار بھی شامل تھے جن کا مطمح نظر صرف طلب اصلاح تھا، ان لوگوں کو قتل کردینا یا امیر معاویہ ؓ کے خنجر انتقام کے نیچے دے دینا صریحاً ظلم تھا۔ امر سوم یعنی محاصرہ کرنے والوں کو قوت بازو بنانے اوران کو بڑے بڑے عہدے دینے کا الزام ایک حد تک صحیح ہے ؛لیکن حضرت علی ؓ اس میں مجبور تھے، اس وقت دنیائے اسلام مین تین فرقے پیدا ہو گئے تھے، شیعۂ عثمان ؓ، یعنی عثمانی فرقہ جو علانیہ جناب امیر ؓ کا مخالف اور اپنی ایک مستقل سلطنت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا، دوسرا گروہ اکابر صحابہ ؓ کا تھا جو اگرچہ حضرت علی ؓ کو برحق سمجھتا تھا؛لیکن اپنے ورع وتقویٰ کے باعث خانہ جنگی میں حصہ لینا پسند نہیں کرتا تھا؛چنانچہ جب حضرت علی ؓ نے مدینہ سے کوفہ کا قصد کیا اور صحابہ کرام سے چلنے کے لیے کہا تو بہت سے محتاط صحابہ نے معذرت کی، حضرت سعد وقاص ؓ نے کہا‘‘مجھے ایسی تلوار دیجئے جو مسلم وکافر میں امتیاز رکھے، میں صرف اسی صورت میں جانبازی کے لیے حاضر ہوں’’ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے کہا، خدا کے لیے مجھے ایک ناپسندیدہ فعل کے لیےمجبورنہ کیجئے، حضرت محمدبن مسلمہ ؓ نے کہا کہ قبل اس کے کہ میری تلوار کسی مسلم کا خون گرائے اس زور سے اسے جبل احد پر پٹک ماروں گا وہ ٹکڑ ٹکڑے ہوجائے گی، حضرت اسامہ بن زید ؓ نے عرض کیا امیر المومنین !مجھے معاف کیجئے میں نے عہد کیا کہ کسی کلمہ گوکے خون سے اپنی تلوار رنگین نہ کروں گا، غرض یہ گروہ عملی اعانت سے قطعی کنارہ کش تھا، تیسرا گروہ شیعان علی ؓ کا تھا جس میں ایک بڑی جماعت ان لوگوں کی تھی جو یا تو خود محاصرہ میں شریک تھے یا وہ ان کے زیر اثر تھے، اس لیے جناب امیر خواہ مخواہ بے رخی کرکے اس بڑی جماعت کو قصداً اپنا دشمن نہیں بنا سکتے تھے، تاہم آپ نے ان لوگوں کو مقرب خاص بنایا جو درحقیقت اس کے اہل تھے، حضرت عماربن یاسر ؓ ایک بلندپایہ صحابی اورمقبول بارگاہ نبوت تھے، محمد بن ابی بکر ؓ خلیفہ اول کے بیٹے اورآغوش حیدر ؓ کے تربیت یافتہ تھے، اسی طرح اشترنخعی ایک صالح نیک سیرت اورجاں نثار تابعی تھے۔ غرض اسباب و علل جو بھی رہے ہوں اور ان کی حقیقت کچھ بھی ہو ؛لیکن یہ واقعہ کہ جناب مرتضیٰ کی مسند نشینی کے ساتھ ہی یکایک دنیائے اسلام میں افتراق واختلاف کی آگ بھڑک اُٹھی اورشیرازہ ملی اس طرح بکھر گیا کہ جناب مرتضی ؓ کی سعی اورجدوجہد کے باوجود پھر اوراق پریشاں کی شیرازہ بندی نہ ہو سکی اورروز بروز مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا، اوراسلام کے سررشتہ نظام میں فرقہ آرائی اورجماعت بندی کی ایسی گرہ پڑ گئی جو قیامت تک کسی کے ناخن تدبیر سے حل نہیں ہوسکتی۔ اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب عنان خلافت ہاتھ میں لی تھی تو اس وقت دنیائے اسلام نہایت پر آشوب تھی ؛لیکن دونوں حالتوں میں بین فرق ہے، صدیق اکبرؓ کے سامنے گو مصائب کا طوفان امنڈ رہا تھا؛لیکن یہ کفر وارتدااوراسلام کا مقابلہ تھا، اس لیے سارے مسلمان اس کے مقابلہ میں متحد تھے، کل صحابہ ان کے معین ومددگار تھے، پھر خود حریف طاقتوں میں ہوا وہوس اورباطل پرستی کی وجہ سے کوئی استقلال نہ تھا اس لیے ان کو زیر کرلینا نسبتاً آسان تھا، اس کے برخلاف جناب امیر کے مقابلہ میں جو لوگ تھے وہ نہ صرف مسلمان تھے ؛بلکہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب حرم حضرت عائشہ صدیقہ ؓ، آپ کے پھوبھی زاد اورہم زلف وحواری رسول حضرت زبیر بن العوام ؓ مبشر بالجنۃ صحابی اورغزوہ احد کے سپاہی جن کاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں سارابدن چھلنی ہو گیا تھا اور اس صلہ میں انہیں بارگاہ نبوت سے خیر کا لقب ملا تھا، جیسے اکابر امت تھے ان کے علاوہ امیر معاویہ والی ٔشام جیسے مدبر تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت داری کا بھی شرف حاصل تھا اور عمروبن العاص فاتح مصر جیسے سیاست دان تھے جن کی اسلام میں بڑی خدمات تھیں اوران میں سے ہر ایک اپنے کو برسرحق سمجھتاتھا، ساتھ ہی ان کو ایسے جاں نثار ووفاشعار ملے تھے جن کی مثالیں شیعان علی ؓ میں کم تھیں اس لیے ان کے مقابلہ میں حضرت علی ؓ کا عہد برآہونا بہت دشوار تھا۔ حضرت علی ؓ کی سیاسی ناکامی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھاکہ وہ جس زہد واتقاء دینداری امانت، عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کرنا چاہتے تھے اورلوگوں کو جس راستہ پر لے جانا چاہتے تھے زمانہ کے تغیر اورحالات کے انقلاب سے لوگوں کے قلوب میں اس کی صلاحیت باقی نہیں رہ گئی تھی، ایک طرف امیر معاویہ ؓ اپنے طرفداروں کے لیے بیت المال کا خزانہ لٹا رہے تھے، دوسری طرف حضرت علی ؓ ایک ایک خر مہرہ کا حساب لیتے تھے، یہی سبب تھا کہ حضرت علی ؓ کے طرفدار اوران کے بعض اعزہ تک دل برداشتہ ہو کر ان سے جدا ہو گئے تھے؛ لیکن بہر حال حق حق ہے اور باطل باطل، باطل کے مقابلہ میں حق کی شکست سے اس کی عظمت میں فرق نہیں آتا، اگر حضرت علی ؓ ایسا نہ کرتے اور سیاسی حیثیت سے وہ کامیاب بھی ہوجاتے تو زہد تقویٰ اوردیانت وامانت کی حیثیت میں وہ ناکام ہی ٹھہرتے، ان کی سیاسی ناکامی کا دوسرا سبب یہ بھی تھا کہ ان کے طرفداروں اورحامیوں میں پورا اتحاد خیال اورکامل خلوص نہ تھا، اس جماعت میں ایک بڑا طبقہ عبد اللہ بن سبا کے پیروؤں کا تھا جس کا عقیدہ تھا کہ جناب مرتضٰی ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں پھر اس خیال نے یہاں تک ترقی کی کہ سبائی فرقہ کے لوگ حضرت علی ؓ کو انسان سے بالاترہستی ؛بلکہ بعض خدا تک کہنے لگے، حضرت علی ؓ نے ان لوگوں کو عبرت انگیز سزائیں دیں ؛لیکن جو وباء پھیل چکی تھی اس کا دورکرنا آسان نہ تھا، اس فرقہ نے مذہب کے علاوہ سیاسی حیثیت سے بھی مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچایا، واقعہ جمل میں ممکن تھا کہ صلح ہوجاتی ؛لیکن اسی جماعت نے پیش دستی کرکے جنگ شروع کردی۔ دوسری جماعت قراء اورحفاظ قرآن کی تھی جو ہرمعاملہ میں قرآن پاک کی لفظی پابندی چاہتی تھی، معنی اورمفہوم سے اس کو چنداں سروکار نہ تھا؛چنانچہ واقعہ تحکیم کے بعد یہی جماعت خارجی فرقہ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ حضرت علی ؓ کے حاشیہ نشینوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو درحقیقت جاں نثارووفا شعار تھے ؛لیکن معرکہ صفین میں کامل جدوجہد کے بعد درمقصود تک پہنچ کر غنیم کی چال سے محروم واپس آنا نہایت ہمت شکن واقعہ تھا، اس نے تمام جاں نثاروں کے حوصلے اورارادے پست کردئے تھے، غرض ان تمام مشکلات اورمجبوریوں کے باوجود جناب مرتضیٰ ؓ نے غیر معمولی ہمت واستقلال اورعدیم النظیر عزم وثبات کے ساتھ آخری لمحہ حیات تک ان مشکلات ومصائب کا مقابلہ کرکے دنیا کے سامنے بے نظیر تحمل وسلامت روی کا نمونہ پیش کیا اوراپنی ناکامی کے اسباب کا مشاہدہ کرنے کے باوجود دیانت داری اورشریعت سے سرموتجاوز کرنا پسند نہ فرمایا، اگر آپ تھوڑی سی دنیا داری سے کام لیتے تو کامیاب ہوجاتے ؛لیکن دین ضائع ہوجاتا جس کا بچانا ایک خلیفہ راشد اورجانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا معرکہ اصلی فرض تھا۔

ملکی نظم ونسق

حضرت علی رضی کرم اللہ وجہہ انتظام مملکت میں حضرت عمر ؓ کے نقش قدم پر چلنا چاہتے تھے اور اس زمانہ کے انتظامات میں کسی قسم کا تغیر کرنا پسند نہیں فرماتے تھے، ایک دفعہ نجران کے یہودیوں نے(جن کو فاروق اعظم ؓ نے حجاز سے جلاوطن کرکے نجران میں آبادکرایا تھا) نہایت لجاجت کے ساتھ درخواست کی کہ ان کو پھر اپنے قدیم وطن میں واپس آنے کی اجازت دی جائے، حضرت علی ؓ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ عمر ؓ سے زیادہ کون صحیح الرائے ہوسکتا ہے۔ [72]

عمال کی نگرانی

ملکی نظم ونسق کے سلسلہ میں سب سے اہم کام عمال کی نگرانی ہے، حضرت علی ؓ نے اس کاخاص اہتمام مدنظر رکھا، وہ جب کسی عامل کو مقرر کرتے تھے تو اس کو نہایت مفیداورگراں بہانصائح کرتے تھے، [73] وقتا فوقتا عمال وحکام کے طرز عمل کی تحقیقات کرتے تھے، چنانچہ ایک مرتبہ جب حضرت کعب بن مالک ؓ کو اس خدمت پر مامور کیا تو یہ ہدایت فرمائی: اخرت فی طائفۃ من اصحابک حتی تمر بارض السواد کورۃ فتسالہم عن عمالہم وتنظر فی سیرتہم تم اپنے ساتھیوں کا ایک گروہ لے کر روانہ ہوجاؤ اور عراق کے ہر ضلع میں پھر و، عمال کی تحقیقات کرو اور ان کی روش پر غائر نظر ڈالو۔’’ عمال کے اسراف اورمالیات میں ان کی بدعنوانیوں کی سختی سے باز پرس فرماتے تھے، ایک دفعہ اردشیر کے عامل مصقلہ نے بیت المال سے قرض لے کر پانچسو لونڈی اورغلام خرید کر آزاد کیے، کچھ دنوں کے بعد حضرت علی ؓ نے سختی کےساتھ اس رقم کا مطالبہ کیا، مصقلہ نے کہا خدا کی قسم عثمان ؓ کے نزدیک اتنی رقم کا چھوڑدینا کوئی بات نہ تھی؛ لیکن یہ تو ایک ایک حبہ کا تقاضا کرتےہیں اورناداری کے باعث مجبور ہوکر امیر معاویہ ؓ کی پناہ میں چلے گئے، جناب امیر کو معلوم ہوا تو فرمایا: برحہ اللہ فعل فعل السید وفرفرار العبد وخان خیانۃ الفاجرا ماواللہ لوانہ اقام فعجز ماز دنا علی حبس فان وجدنا لہ شیئا اخذناہ وات لم نقتہ علی مال ترکناہ خدا اس کا برا کرے اس نے کام تو سید کا کیا ؛لیکن غلام کی طرح بھاگا اورفاجر کی طرح خیانت کی خدا کی قسم اگر وہ مقیم ہوتا تو قید سے زیادہ اس کو سزادیتا اوراگر اس کے پاس کچھ ہوتا تو لیتا ورنہ معاف کردیتا۔’’ اس باز پرس سے آپ کے مخصوص اعزہ واقارب بھی مستثنیٰ نہ تھے، ایک مرتبہ آپ کے چچیرے بھائی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ عامل بصرہ نے بیت المال سے ایک بیش قرار رقم لی، حضرت علی ؓ نے چشم نمائی فرمائی تو جواب دیا کہ میں نے ابھی اپنا پورا حق نہیں لیا ہے؛ لیکن اس عذر کے باوجود وہ خائف ہوکر بصرہ سے مکہ چلے گئے۔ [74]

صیغۂ محاصل

حضرت علی ؓ نے محاصل کے صیغہ میں خاص اصلاحات جاری کیں، آپ سے پہلے جنگل سے کسی قسم کا مالی فائدہ نہیں لیا جاتا تھا، آپ کے عہد میں جنگلات کو بھی محاصل ملکی کے ضمن میں داخل کیا گیا؛چنانچہ برص کے جنگل پر چار ہزار درہم مالگذاری تشخیص کی گئی۔[75] عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گھوڑے زکوٰۃ سے مستثنیٰ تھے؛لیکن عہد فاروقی میں جب عام طورسے اس کی تجارت ہونے لگی تو اس پر بھی زکوٰۃ مقرر کردی، حضرت علی ؓ کے نزدیک تمدنی اورجنگی فوائد کے لحاظ سے گھوڑوں کی افزائش نسل میں سہولت بہم پہنچانا ضروری تھا اس لیے آپ نے اپنے زمانہ میں زکوٰۃ موقوف کردی، [76] گو آپ محاصل ملکی وصول کرنے میں نہایت سخت تھے ؛لیکن اسی کےساتھ رعایا کی فلاح وبہبود کا بھی خاص خیال رکھا تھا؛چنانچہ معذور اورنادار آدمیوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جاتی تھی۔ [77]

رعایا کی ساتھ شفقت

حضرت علی ؓ کا وجود رعایا کے لیے سایۂ رحمت تھا، بیت المال کے دروازے غرباء اورمساکین کے لیے کھلے ہوئے تھے اور اس میں جو رقم جمع ہوتی تھی نہایت فیاضی کے ساتھ مستحقین میں تقسیم کردی جاتی تھی، ذمیوں کے ساتھ بھی نہایت شفقت آمیز برتاؤ تھا، ایران میں مخفی سازشوں کے باعث بارہا بغاوتیں ہوئیں؛ لیکن حضرت علی ؓ نے ہمیشہ نہایت ترحم سےکام لیا، یہاں تک کہ ایرانی اس لطف وشفقت سے متاثر ہوکر کہتے تھے، خدا کی قسم! اس عربی نے نوشیرواں کی یاد تازہ کردی۔

فوجی انتظامات

حضرت علی ؓ خود ایک بڑے تجربہ کار جنگ آزما تھے اورجنگی امور میں آپ کو پوری بصیرت حاصل تھی، اس لیے اس سلسلہ میں آپ نے بہت سے انتظامات کیے؛چنانچہ شام کی سرحد پر نہایت کثرت کے ساتھ فوجی چوکیاں قائم کیں، 40ھ میں جب امیر معاویہ ؓ نے عراق پر عام یورش کی تو پہلے انہی سرحدی فوجوں نے ان کو آگے بڑھنے سے روکا، اسی طرح ایران میں مسلسل شورش اوربغاوت کے باعث بیت المال، عورتوں اوربچوں کی حفاظت کے لیے نہایت مستحکم قلعے بنوائے، اصطخر کا قلعہ حصن زیاد اسی سلسلہ میں بنا تھا، [78] جنگی تعمیر کے سلسلہ میں دریائے فرات کا پل بھی جو معرکہ صفین میں فوجی ضروریات کے خیال سے تعمیرکیاتھا لائق ذکر ہے۔

مذہبی خدمات

امام وقت کا سب سے اہم فرض مذہب کی اشاعت، تبلیغ اورخود مسلمانوں کی مذہبی تعلیم وتلقین ہے، حضرت علی ؓ عہد نبوت ہی سے ان خدمات میں ممتاز تھے؛چنانچہ یمن میں اسلام کی روشنی ان ہی کی کوشش سے پھیلی تھی، سورہ ٔبرأۃ نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ واشاعت کی خدمت بھی ان ہی کے سپرد ہوئی۔ مسند خلافت پر قدم رکھنے کے بعد سے آخروقت تک گوخانہ جنگیوں نے فرصت نہ دی تاہم اس فرض سے بالکل غافل نہ تھے، ایران اورآرمینیہ میں بعض نو مسلم عیسائی مرتد ہو گئے تھے حضرت علی ؓ نے نہایت سختی کے ساتھ ان کی سرکوبی کی اور ان میں سے اکثر تائب ہو کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ خارجیوں کی سرکوبی اوران سبائیوں کو جو شدت غلو میں جناب مرتضیٰ ؓ کو خدا کہنے لگے تھے، سزادینے میں بھی دراصل مذہب کی ایک بڑی خدمت تھی۔ حضرت علی ؓ نے مسلمانوں کی اخلاقی نگرانی کا بھی نہایت سختی کے ساتھ خیال رکھا، مجرموں کو عبرت انگیز سزائیں دیں، جرم کی نوعیت کے لحاظ سے نئی سزائیں تجویز کیں جو ان سے پہلے اسلام میں رائج نہ تھیں، مثلاً زندہ جلانا، مکان مسمارکرادینا، چوری کے علاوہ دوسرے جرم میں بھی ہاتھ کاٹنا وغیرہ؛لیکن اس سے قیاس نہیں کرنا چا ہئے کہ حضر ت علی ؓ حدود کے اجر ا ءمیں کسی اصول کے پابند نہ تھے، زندہ جلادینے کی سزا صرف چند زندیقوں کو دی تھی؛ مگر جب حضرت ابن عباس ؓ نے آپ کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سزا کی ممانعت فرمائی ہے تو آپ نے اس فعل پر ندامت ظاہر کی، (ترمذی حدود مرتد) شراب نوشی کی سزا میں کوڑوں کی تعداد متعین نہ تھی، حضرت علی ؓ نے اس کے لیے اسی کوڑے تجویز کیے۔ [79] درے مارنے والوں کو ہدایت تھی کہ چہرہ اورشرمگاہ کے علاوہ تمام جسم پر کوڑا مارسکتے ہیں، عورتوں کے لیے حکم تھا کہ ان کو بٹھا کر سزادیں اورکپڑے سے تمام جسم کو اس طرح چھپادیں کہ کوئی عضو بے ستر نہ ہونے پائے، اسی طرح رجم کی صورت میں ناف تک زمین میں گاڑ دینا چاہیے۔ [80] اقرار جرم کی حالت میں صرف ایک دفعہ کا اقرار کافی نہ سمجھتے تھے؛چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا امیر المومنین! میں نے چوری کی ہے، حضرت علی ؓ نے غضب آلود نگاہ ڈال کراس کو واپس کر دیا؛لیکن جب اس نے پھر مکرر حاضر ہوکر اقرار جرم کیا تو فرمایا اب تم نے اپنا جرم آپ ثابت کر دیا اوراس وقت اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ [81] تنہا جرم کا ارادہ اوراس کے لیے اقدام بغیر جرم کیے ہوئے مجرم بنانے کے لیے کافی نہیں ہے؛چنانچہ ایک شخص نے ایک مکان میں نقب لگائی اورچوری کرنے سے قبل پکڑلیا گیا، حضرت علی ؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس پر کسی قسم کی حدجاری نہیں کی، [82] جو عورتیں ناجائز حمل سے حاملہ ہوتی تھیں، ان پر حد جاری کرنے کے لیے وضع حمل کا انتظار کیا جاتا تھا تاکہ بچہ کی جان کو نقصان نہ پہنچے، جس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ عام قیدیوں کو بیت المال سے کھانا دیا جاتا تھا ؛لیکن جو لوگ محض اپنے فسق وفجور کے باعث نظر بند کیے جاتے تھے، وہ اگر مالدار ہوتے تھے تو خود ان کے مال سے ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا تھا، ورنہ بیت المال سے مقرر کر دیا جاتا تھا۔ [83]

تعزیزی سزا

حضرت علی ؓ نے جو بعض غیر معمولی سزائیں تجویز کیں وہ دراصل تعزیزی سزائیں تھیں، حضرت عمرؓ نے بھی اس قسم کی سزائیں جاری کی تھیں؛چنانچہ ان کے عہد میں ایک شخص نے رمضان میں شراب پی تو اسی کوڑوں کی بجائے سوکوڑے لگوائے، کیونکہ اس نے بادہ نوشی کے ساتھ رمضان کی بھی بےحرمتی کی تھی۔

فضل وکمال

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بچپن ہی سے درسگاہ نبوت میں تعلیم وتربیت حاصل کرنے کا موقع ملا جس کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہا، مسند میں خود ان سے روایت ہے کہ میں روزانہ صبح کو معمولاً آپ کی خدمت میں حاضر ہواکرتا تھا، [84] اورتقرب کا درجہ میرے سوا کسی اور کو خاص نہ تھا، [85]ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ رات دن میں دوبار اس قسم کا موقع ملتا تھا، (مسند جلد اول : 146)اکثر سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا شرف حاصل ہوتا تھا اوراس سلسلہ میں سفر سے متعلق شرعی احکام سے واقف ہونے کا موقع ملتا تھا، ایک مرتبہ شریح بن ہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے "مسح علی الخفین”کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کے لیے حضرت علی ؓ کا نام بتایا اوراس کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے، [86] شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخلفاء میں بارگاہ رسالت میں جناب امیر کے اس تقرب وتربیت کو ان کے فضائل کی اصلی بنیاد قراردیا ہے؛چنانچہ امام احمد بن حنبل ؒکی ایک روایت نقل کرکے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت علی ؓ کے جس قدر فضائل مذکور ہیں، کسی صحابی کے نہیں ہیں، اس کی تشریح یہ کی ہے: "عبد ضعیف گوید سبب ایں معنی اجتماع دوجہت است، درمرتضی ؓ یکے رسوخ اودرسوابق اسلامیہ، دوم قرب قرابت اوبآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وآں جناب علیہ الصلوٰۃ والسلام اوصل ناس بارحام واعرف ناس بحقوق قرابت بودندباز چوں عنایت الہی مساعدت نمود، حضرت مرتضیٰ رادرکنارِ تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انداخت مرتبہ قرابت دربالاشدوکرامت دیگر درکار اوکردند ؓ بازچوں حضرت فاطمہ زہرا ؓ عقدااودادند مزید فضیلت بادیارشد"۔ [87] آپ کے تقرب واختصاص کی بنا پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے، [88] بعض موقعوں پر قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر بھی فرماتے تھے، [89] چند مخصوص حدیثیں بھی قلمبند کرلی تھیں، [90] غرض حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابتداہی سے علم و فضل کے گہوارہ میں تربیت پائی تھی اس لیے صحابہ کرام میں آپ غیر معمولی تجربہ اورفضل وکمال کے مالک اور”انامدینۃ العلم وعلی بابھا"( میں علم کا گھر اور علی اس کا دروازہ ہیں) کے طغرائے خاص سے ممتاز ہوئے۔ ( جامع ترمذی مناقب علی مرتضی ؓ میں ہے”انا دارالحکمۃ وعلی بابھا”لیکن امام ترمذی نے اس کو منکر کہا ہے، حاکم نے [91] اس روایت کے متعلق متعدد راویوں کو جمع کیا ہے اور اس کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ؛لیکن امام ذہبی نے ان کے صحیح کہنے کو تسلیم نہیں کیا ہے) نوشت وخواند کی تعلیم آپ نے بچپن ہی میں حاصل کی تھی؛چنانچہ ظہور اسلام کے وقت جبکہ آپ کی عمر بہت کم تھی آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، [92] اسی لیے ابتدا ہی سے بعض دوسرے صحابہ کی طرح آپ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحریری کام انجام دیتے تھے؛چنانچہ کاتبان وحی میں آپ کا بھی نام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو مکاتیب وفرامین لکھے جاتے تھے ان میں بعض آپ کے دست مبارک کے لکھے ہوئے تھے؛چنانچہ حدیبیہ کا صلح نامہ آپ ہی نے لکھا تھا۔

تفسیر اور علوم القرآن

اسلام کے علوم ومعارف کا اصل سرچشمہ قرآن پاک ہے، حضرت علی مرتضیٰ ؓ اس سرچشمہ سے پوری طرح سیراب اوران صحابہ میں تھے جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نہ صرف پورا قرآن زبانی یاد کر لیا تھا ؛بلکہ اس کی ایک ایک آیت کے معنی اورشان نزول سے واقف تھے، ابن سعد میں ہے کہ ایک موقع پر خود آپ نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں ہر آیت کے متعلق بتاسکتا ہوں کہ یہ کہاں اورکیوں اورکس کے حق میں نازل ہوئی، [93]چنانچہ حضرت علی ؓ کا شمار مفسرین کے اعلیٰ طبقہ میں ہے اور صحابہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے سوا اس کمال میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے؛چنانچہ ان تمام تفسیروں میں فن کا مدار روایتوں پر ہے، مثلاً ابن جریر طبری، ابن ابی حاتم، ابن کثیروغیرہ میں بکثرت آپ کی روایت سے آیات کی تفسریں منقول ہیں، ابن سعد میں ہے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ مہینے تک جو گوشہ نشینی اختیار کی اس میں آپ نے قرآن مجید کی تمام سورتوں کو نزول کی ترتیب سے مرتب کیا تھا، ابن ندیم نےکتاب الفہر ست میں سورتوں کی اس ترتیب کو نقل کیا ہے۔ قرآن پاک سے اجتہاد اورمسائل کے استنباط میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا چنانچہ تحکیم کے مسئلہ میں خوارج نے اعتراض کیا کہ فیصلہ کا حق خدا کے سوا اورکسی کو حاصل نہیں ان الحکم الا للہ، تو آپ نے قرآن کے تمام حفاظ اوراس کے عالموں کو جمع کرکے فرمایا کہ میاں بیوی میں جب اختلاف رائے ہو تو اللہ تعالی حکم بنانے کی اجازت دے وان خفتم شقاق بینھما فابعثواحکما من اھلہ وحکما من اھلھا[94]، اورامت محمدیہ میں جب اختلاف رائے ہوجائے تو حکم بنانا ناجائز ہو؟ کیا تمام امت محمدیہ کی حیثیت ایک مرد اور ایک عورت سے بھی خدا کی نگاہ میں کم ہے۔ [95] علم ناسخ اورمنسوخ میں آپ کو کمال حاصل تھا اوراس کو آپ بڑی اہمیت دیتے تھے اورجن لوگوں کو اس میں درک نہ ہوتا، ان کو درس وعظ سے روک دیتے تھے؛چنانچہ کوفہ میں جامع مسجد میں جو شخص وعظ وتذکیر کرنا چاہتا تھا، اس سے پہلے آپ دریافت فرماتے تھے کہ تم کو ناسخ و منسوخ کا بھی علم ہے، اگر وہ نفی میں جواب دیتا تو اس کو زجر وتوبیخ فرماتے تھے اور درس ووعظ کی اجازت نہ دیتے۔ آیات کی تفسیر و تاویل کے متعلق آپ سے اس کثرت سے روایتیں ہیں کہ اگر ان کا استقصا کیا جائے توایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے اسی لیے یہاں ان کو نقل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو ان ظاہری علوم کے علاوہ کچھ خاص باتیں اوربھی بتائی ہیں، ان کے شاگردوں نے ان سے پوچھا کہ کیا قرآن کے سوا کچھ اوربھی آپ کے پاس ہے؟فرمایا قسم ہے اس کی جو دانہ کو پھاڑ کر درخت اُگاتا ہے اورجو جان کو (جسم کے اندر)پیداکرتا ہے، قرآن کے سوا میرے پاس کچھ اورنہیں ؛لیکن قرآن کے سمجھنے کی قوت(فہم) یہ دولت خدا جس کو چاہے دے، [96]ان کے علاوہ چند حدیثیں میرے پاس ہیں، اس موقع میں حضرت علی ؓ نے جو قسم کھائی ہے اس میں بھی ایک خاص نکتہ ہے یعنی قرآن کی آیتوں کی مثال تخم اورجسم کی ہے اور اس کے معنی ومقصود کی مثال درخت کی ہے جو اس تخم سے پیدا ہوتا ہے اورجان کی ہے جو جسم میں پوشیدہ رہتی ہے، یعنی جس طرح ایک چھوٹے سے تخم نے اتنا بڑا عظیم الشان درخت پیدا ہوجاتا ہے جو درحقیقت اس کے اندر مخفی تھا اور روح سے جو جسم میں چھپی رہتی ہے، تمام اعمال انسانی کا ظہور ہوتا ہے، اسی طرح قرآن پاک کے الفاظ سے جو بمنزلہ جسم کے ہیں، معنی ومطالب نکلتے ہیں۔

علم حدیث

جناب مرتضیٰ ؓ بچپن سے لے کر وفاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک تیس سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ورفاقت میں بسر کیے، اس لیے حضرت ابوبکر ؓ کو چھوڑ کر اسلام کے احکام وفرائض اورارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے عالم آپ ہی تھے، پھر تمام اکابر صحابہ ؓ میں وفاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ آپ نے عمر پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تقریباً تیس برس تک ارشادات وافادات کی مسند پر جلوہ گر رہے، خلفائے ثلاثہ کے عہد میں بھی یہ خدمت آپ ہی کے سپرد رہی، ان کے بعد خود آپ کے زمانہ خلافت میں بھی یہ فیض بدستور جاری رہا اس لیے تمام خلفاء میں احادیث کی روایت کا زمانہ آپ کو سب سے زیادہ ملا، اسی لیے خلفائے سابقین کے مقابلہ میں آپ کی روایتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے؛لیکن احادیث کی روایت میں آپ بھی اپنے پیشتر خلفاء اوراکابر صحابہ کی طرح محتاط اور متشدد تھے، اس لیے دوسرے کثیر الروایۃ صحابہ کے مقابلہ میں آپ کی روایتیں بہت کم ہیں؛چنانچہ آپ سے کل 586 حدیثیں مروی ہیں جن میں سے بیس حدیثوں پر بخاری ومسلم دونوں کا اتفاق ہے اور 9 حدیثیں صرف بخاری میں ہیں مسلم میں نہیں ہیں اوردس حدیثیں مسلم میں ہیں بخاری میں نہیں ہیں، غرض صحیحین میں آپ کی کل 39 حدیثیں ہیں۔ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اپنے رفقا اورہمعصروں میں حضرت ابوبکر ؓ، حضرت عمر ؓ، حضرت مقداد بن الاسود ؓ اپنی حرم محترم حضرت فاطمہ زہرا ؓ سے روایتیں کی ہیں، آپ کی عترت مطہرہ اوراولاد امجاد میں حضرت حسن ؓ، حضرت حسین ؓ، محمد بن حنفیہ، عمر، فاطمہ (بیٹے اورصاحبزادیاں)محمد بن عمر بن علی، علی بن حسین بن علی ؓ(پوتے) عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب(بھتیجے) جعدہ بن ہبیرہ مخزوی(بھانجے)عام اصحاب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ، براء بن عازب ؓ، ابوہریرہ ؓ، ابو سعید خدری ؓ، بشیر بن شحیم غفاری ؓ، زید بن ارقم ؓ، سفینہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صہیب رومی ؓ، ابن عباس ؓ، ابن عمر ؓ، ابن زبیر ؓ، عمرو بن حریث ؓ، نزال بن سبرہ ؓ، ہلال ؓ، جابر بن سمرہ ؓ، جابر بن عبد اللہ ؓ، ابو حجیفہ ؓ، ابوامامہ ؓ، ابولیلیٰ انصاری ؓ، ابوموسی رسی ؓ، مسعود بن حکم زرقی ؓ، ابوالطفیل ؓ، عامرین واثلہ، عبید اللہ بن ابی رافع(کاتب) اورام موسیٰ ؓ(جاریہ)۔ تابعین میں زربن جیش، زید بن وہب، ابوالاسود وئلی، حارث بن سوید التمیمی، حارث بن عبد اللہ الاعور، حرملہ مولیٰ بن زید ؓ، ابوساسان حفین بن منذرالرقاشی، جحیہ بن عبد اللہ الکندی، ربعی بن حرابش، شریح بن ہانی، شریح بن النعمان الصائدی، ابووائل شقیق بن سلمہ، شیث بن ربیعی، سوید بن غفلہ، عاصم بن ضمرہ، عامر بن شراحیل الشعبی، عبد اللہ بن سلمہ مرادی، عبد اللہ بن شداد بن الہاد، عبد اللہ بن شقیق، عبد اللہ بن معقل بن مقرن، عبد خیر بن یزید المرانی، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، عبیدہ سلیمانی، علقمہ بن قیس النخعی، عمیر بن سعید النخعی، قیس بن عباد البصری، مالک بن اوس بن حدثان، مروان بن حکم اموی، مطرف بن عبد اللہ ابن شخیر، نافع بن جبیربن مطعم، ہانی بن ہانی، یزید بن شریک التمیمی، ابوبردہ بن ابی الموسیٰ الاشعری، ابوحیہ وادعی، ابوالخلیل الحضرمی، ابو صالح الحضرمی، ابو الصالح الحنفی، ابوعبدالرحمن السلمی، ابو عبیدہ مولی ابن ازہرا، ابوالہیاج الاسدی وغیرہ(یہ فہرست تہذیب التہذیب سے منقول ہے) نے آپ سے فیض پایا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی تمام حدیثوں پر ایک اجمالی نظر ڈالی ہے اس میں وہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حلیہ اقدس، آپ کی نماز ومناجات ودعاونوافل کے متعلق سب سے زیادہ روایتیں حضرت علی ؓ ہی سے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت رفاقت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہتے تھے اور ان کو عبادتوں سے خاص شغف تھا۔ [97] احادیث کو قلمبند کرنے کا شرف جن چند صحابہ کو حاصل ہے ان میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ بھی داخل ہیں، فہم قرآن کےسلسلہ میں جو روایت اوپرگزری ہے اس میں چند حدیثوں کا ذکر ہے، یہ وہی ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر آپ نے ایک لمبے کاغذ پر لکھ لیا تھا، یہ تحریر لپٹی ہوئی آپ کی تلوار کی نیام میں لٹکی رہتی تھی، اس کا نام آپ نے صحیفہ رکھا تھا، اس صحیفہ کا ذکر حدیث کی کتابوں میں آتا ہے، یہ حدیثیں چند فقہی احکام سے متعلق تھیں۔ [98]

فقہہ واجتہاد

حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو فقہ واجتہاد میں بھی کامل دستگاہ حاصل تھی، ؛بلکہ علم واطلاع کی وسعت سے دیکھا جائے تو آپ کی مستحضرانہ قوت سب سے اعلیٰ ماننی پڑے گی، بڑے بڑے صحابہ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ اورحضرت عائشہ ؓ کو بھی کبھی کبھی حضرت علی ؓ کے فضل وکمال کا ممنون ہونا پڑتا تھا۔ فقہ واجتہاد کے لیے کتاب وسنت کے علم کے ساتھ سرعت فہم، دقیقہ سنجی، انتقال ذہنی کی بڑی ضرورت ہے اورحضر ت علی مرتضیٰ ؓ کو یہ کمالات خداداد حاصل تھے، مشکل سے مشکل اورپیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کی تہ تک آپ کی نکتہ رس نگاہ آسانی سے پہنچ جاتی تھی، شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں آپ کی طباعی اورانتقال ذہنی کے بہت سے واقعات نقل کیے ہیں ؛لیکن ہم طوالت کے خوف سے ان کو نظر انداز کرتے ہیں، مثلاً ایک واقعہ یہ ہے: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ کے سامنے ایک مجنون زانیہ عورت پیش کی گئی، حضرت عمر ؓ نے اس پر حدجاری کرنے کا ارادہ کیا، حضرت علی ؓ نے فرمایا یہ ممکن نہیں کہ مجنون حدود شرعی سے مستثنیٰ ہیں، یہ سن کر حضر عمر ؓ اپنے ارادہ سے باز آگئے۔ [99] ایک دفعہ حج کے موسم میں حضرت عثمان ؓ کے سامنے کسی نے شکار کا گوشت پکا کر پیش کیا، لوگوں نے احرام کی حالت میں اس کے کھانے کے جواز اورعدم جواز میں اختلاف کیا، حضرت عثمان ؓ اس کے جواز کے قائل تھے، انہوں نے کہا حالت احرام میں خود شکار کرکے کھانا منع ہے؛لیکن جب کسی دوسرے غیر محرم نے شکار کیاہے تو اس کے کھانے میں کیا حرج ہے؟دوسروں نے اس سے اختلاف کیا، حضرت عثمان ؓ نے دریافت کیا کہ اس مسئلہ میں قطعی فیصلہ کس سے معلوم ہوگا؟ لوگوں نے حضرت علی ؓ کا نام لیا؛چنانچہ انہوں نے ان سے جاکر دریافت کیا، حضرت علی ؓ نے فرمایا جن لوگوں کو یہ واقعہ یاد ہو وہ شہادت دیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، ایک گورخرشکار کرکے پیش کیا گیا تھا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم لوگ تو احرام کی حالت میں ہیں یہ ان کو کھلادو جواحرام میں نہیں ہیں، حاضرین میں سے بارہ آدمیوں نے شہادت دی، اسی طرح آپ نے ایک دوسرے واقعہ کا ذکر کیا جس میں کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حالت احرام میں شتر مرغ کے انڈے پیش کیے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کھانے سے بھی احتراز فرمایا تھا، اس کی بھی کچھ لوگوں نے گواہی دی، یہ سن کر حضرت عثمان ؓ اور ان کے رفقا نے اس کے کھانے سے پرہیز کیا۔[100] فقہا میں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، بہت سے لوگ حضرت عثمان ؓ کے استدلال کو صحیح سمجھتے ہیں اوردیگراحادیث سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے، بہرحال حضرت علی ؓ کا فتویٰ زیادہ محتاطا نہ ہے اس لیے حضرت عثمان ؓ نے اس کو قبول کر لیا) ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے کسی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بار پاؤں دھونے کے بعد، کتنے دن تک موزوں پر مسح کرسکتے ہیں؟ فرمایا علی ؓ سے جاکردریافت کرو، ان کو معلوم ہوگا کیونکہ وہ سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے؛چنانچہ وہ سائل حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے پاس گیا، انہوں نے بتایا کہ مسافر تین دن تین رات تک اور مقیم ایک دن ایک رات تک [101] حضرت علی ؓ کے علم اوران کے اجتہادی قوت اوردقت نظر کا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان کے حریف بھی دقیق اور مشکل مسائل میں ان کی طرف رجوع کرنے کے لیے مجبور ہوتے تھے؛چنانچہ ایک دفعہ امیر معاویہ ؓ نے لکھ کر دریافت کیا کہ خنثی مشکل کی وراثت کی کیا صورت ہے؟ یعنی وہ مرد قرار دیا جائے یا عورت؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا خدا کا شکر ہے کہ ہمارے دشمن بھی علم دین میں ہمارے محتاج ہیں، پھر جواب دیا کہ پیشاب گاہ سے اندازہ کرنا چاہیے کہ وہ مرد ہے یا عورت؟ (تاریخ الخلفاء بحوالہ سنن سعد بن منصور مسند ہشیم) فقہی مسائل میں حضرت علی ؓ کی وسعتِ نظر کی ایک وجہ یہ تھی ہے کہ آپ جو بات نہیں جانتے تھے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے تھے بعض ایسے مسائل جو شرم وحیا اوراپنے رشتہ کی نزاکت کے باعث خود براہ راست نہیں پوچھ سکتے تھے اس کو کسی دوسرے کے ذریعہ سے پوچھوالیتے تھے؛چنانچہ مذی کا ناقص وضو ہونا آپ نے اسی طرح بالواسطہ دریافت کرایا تھا۔ حضرت علی ؓ اپنے علم وکمال کی بنا پر متعدد مسائل میں عام صحابہ سے مختلف رائے رکھتے تھے، خصوصا ًحضرت عثمان ؓ سے بعض خاص مسائل میں زیادہ اختلاف تھا مثلاً حضرت عثمان حج تمتع کو جائز نہیں سمجھتے تھے اورفرماتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ صرف لڑائی اوربے امنی کی وجہ سے جائز تھا، اب وہ حالت نہیں ہے اس لیے اب جائز نہیں ہے، حضرت علی رضی اللہ اوردوسرے صحابہ ہر حال میں جائز سمجھتے تھے، اسی طرح حالت احرام میں نکاح اورحالت عدت میں عورت کی وراثت وغیرہ کے مسائل میں بھی اختلاف تھا۔ حضرت علی رضی مرتضیٰ ؓ گوتمام عمر مدینہ منورہ میں رہے ؛لیکن آپ کی خلافت کا زمانہ تمام تر کوفہ میں گذرا اوراحکام اورمقدمات کے فیصلے کا زیادہ موقع نہیں پیش آیا اس لیے آپ کے مسائل واجتہادات کی زیادہ تراشاعت عراق میں ہوئی، اسی بنا پر حنفی فقہ کی بنیاد حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے بعد حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے ہی فیصلوں پر ہے۔

قضااورفیصلے

حضرت مرتضیٰ ان ہی خصوصیات کی بنا پر مقدمات کے فیصلوں اورقضا کے لیے نہایت موزوں تھے اور اس کو صحابہ عام طورسے تسلیم کرتے تھے، حضرت عمرؓ فرمایاکرتے تھے کہ"اقضانا علی واقرأنا ابی"یعنی ہم میں مقدمات کے فیصلے کے لیے سب سے موزوں علی ہیں اور سب سے بڑے قاری ابی ہیں" [102] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہرشناس نگاہ نے حضرت علی ؓ کی اس استعداد وقابلیت کا پہلے ہی اندازہ کر لیا تھا اورآپ کی زبان فیض ترجمان سے حضرت علی ؓ کو”اقضاہم علی”کی سند مل چکی تھی اورضرورت کے اوقات میں قضا کی خدمت آپ کے سپرد فرماتے تھے؛چنانچہ جب اہل یمن نے اسلام قبول کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے عہدہ قضاء کے لیے آپ کو منتخب فرمایا، حضرت علی ؓ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نئے نئے مقدمات پیش ہوں گے اورمجھے قضا کا تجربہ اورعلم نہیں، فرمایا کہ اللہ تعالی تمہاری زبان کو راہِ راست اور تمہارے دل کو ثبات واستقلال بخشے گا، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مقدمات کے فیصلہ میں تذبذب نہ ہوا۔ [103] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قضاء اورفصل مقدمات کے بعض اصول بھی تعلیم فرمائے؛چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا”علی !جب تم دو آدمیوں کا جھگڑا چکا نے لگو تو صرف ایک آدمی کا بیان سن کا فیصلہ نہ کرو، اس وقت تک اپنے فیصلے کو روکو جب تک دوسرے کا بیان بھی نہ سن لو۔ [104] مقدمات میں علم یقین کے لیے اہل مقدمہ اورگواہوں سے جرح اوران سے سوالات کرنا بھی آپ کے اصول قضا میں داخل تھا، ایک مرتبہ ایک عورت نے آپ کی عدالت میں اپنی نسبت جرم زنا کا اعتراف کیا، آپ نے اس سےپے درپے متعدد سوالات کیے، جب وہ آخر تک اپنے بیان پر قائم رہی تو اس وقت سزا کا حکم دیا، [105]اسی طرح لوگوں نے ایک شخص کو چوری کے الزام میں پکڑ کر پیش کیا اور دو گواہ بھی پیش کر دیے آپ نے گواہوں کو دہمکی دی کہ اگر تمہاری گواہی جھوٹی نکلی تو میں یہ سزادوں گا اوریہ کروں گا اوروہ کروں گا، اس کے بعد کسی دوسرے کام میں مصروف ہو گئے، اس سے فراغت کے بعد دیکھا کہ دونوں گواہ موقع پاکر چل دیے، آپ نے ملزم کو بے قصور پاکر چھوڑدیا۔ [106] یمن میں آپ نے دو عجیب وغریب مقدمات کا فیصلہ کیا، یمن نیا نیا مسلمان ہوا تھا پرانی باتیں بھی تازہ تھیں، ایک عورت کا مقدمہ پیش ہوا، جس سے ایک ماہ کے اندر تین مرد خلوت کرچکے، نوماہ بعد اس کے لڑکا ہوا، اب یہ نزاع ہوئی کہ وہ لڑکا کس کا قراردیاجائے، ہر ایک نے اس کے باپ ہونے کا دعویٰ کیا، حضرت علی ؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس لڑکے کی دیت کے تین حصے کیے، پھر قرعہ ڈالا جس کے نام قرعہ نکلا، اس کے حوالہ کیا اوربقیہ دونوں کو دیت کے تین حصوں میں سے دوحصے اس سے لیکر دلوادیئے، گویا غلام کے مسئلہ پر اس کو قیاس کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت علی ؓ کا یہ فیصلہ سنا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔ [107] دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ چند لوگوں نے شیر پھنسانے کے لیے کنواں کھودا تھا شیر اس میں گرگیا، چند اشخاس ہنسی مذاق میں ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے کہ اتفاق سے ایک کا پیر پھسلا اور وہ اس کنوئیں میں گرا، اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بدحواسی میں دوسرے کی کمر پکڑلی وہ بھی سنبھل نہ سکا اورگرتے گرتے اس نے تیسرے کی کمر تھام لی، تیسرے نے چوتھے کو پکڑلیا، غرض چاروں اس میں گرپڑے اورشیرنے چاروں کو مارڈالا، ان مقتولین کے ورثاء باہم آمادہ جنگ ہوئے، حضرت علی ؓ نے ان کو اس ہنگامہ و فساد سے روکا اورفرمایا کہ ایک رسول کی موجودگی میں یہ فتنہ وفساد مناسب نہیں، میں فیصلہ کرتا ہوں، اگر وہ پسند نہ ہو تو دربارِ رسالت میں جا کر تم اپنا مقدمہ پیش کرسکتے ہو، لوگوں نے رضا مندی ظاہرکی، آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ جن لوگوں نے یہ کنواں کھودا، ان کے قبیلوں سے ان مقتولین کے خون بہا کی رقم اس طرح وصول کی جائے کہ ایک پوری، ایک ایک تہائی، ،ایک ایک چوتھائی اورایک آدھی، پہلے مقتول کے ورثاء کو ایک چوتھائی خوں بہا، دوسرے کو ثلث تیسرے کو نصف اورچوتھے کو پوراخوں بہادلایا۔ لوگ اس بظاہر عجیب وغریب فیصلہ سے راضی نہ ہوئے اورحجۃ الوداع کے موقع پر حاضر ہوکر اس فیصلہ کا مرافعہ(اپیل) عدالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلہ کو برقراررکھا۔ [108] روایت میں مذکور نہیں کہ یہ فیصلہ کس اصول پر کیا گیا تھا، صرف پہلے شخص کے متعلق اتنا ہے کہ اس کو چوتھائی اس لیے ملا کہ فورا ًاوپر سے گراتھا، ہمارا خیال ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ اس فیصلہ میں اس اصول کو پیش نظر رکھا ہے کہ یہ حادثے بالقصد قتل اوراتفاقی قتل کے درمیان میں ہیں، غرض قصد اورعدم قصد کے بیچ کی شکل ہے، اس لیے عدم قصد واتفاق اورقصد وارادہ ان دونوں میں اس کا حصہ جس مقتول میں زیادہ ہے اتنا ہی اس کو کم وبیش دلایا گیا، اس کے بعد وراثت کا اصول پیش نظر رہا، چونکہ یہ معاملہ چار آدمیوں کا تھا اس لیے کم سے کم رقم ایک چوتھائی مقرر کی، اس کے نکل جانے کے بعد تین آدمی رہ گئے تو اس کو تہائیوں پر تقسیم کرکے تیسرا حصہ یعنی ایک تہائی اس کو دلادیا، باقی دو بچے تو دوحصے کرکے نصف تیسرے کا مقرر کیا۔ اب غور کیجئے کہ اصل جرم ان لوگوں کا تھا جنھوں نے آبادی کے قریب کنواں کھود کر شیر پھنسانے کی غلطی کی تھی، اس لئےکسی متعین قاتل نہ ہونے کے سبب سے قسامت کے اصول سے خوں بہا کو ان کے کھودنے والوں اوران کے ہم قبیلوں پر عائد کیا، پہلا شخص گو اتفاقاً گرا مگر ایک دوسرے کو دکھیلنے کے نتیجہ کو بھی اس میں دخل تھا اس لیے پہلے شخص کے گرنے میں اتفاق کا زیادہ اورقصد کا بہت کم دخل تھا اس لئےوہ خوں بہا کاکم سے کم مستحق ٹھہرا، یعنی ایک چوتھائی پہلے نے دوسرے کو گویا بالقصد کھینچا، مگر غایت بدحواسی میں اس کو اپنے فعل کے نتیجہ کے سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں ملا، اس لیے پہلے کے مقابلہ میں اس میں اتفاق کا عنصر کم اورقصد کا کچھ زیادہ ہے، اس لیے وہ تہائی کا مستحق ہوا، دوسرے کو پہلے نتائج کو دیکھ کر اپنے فعل کے نتیجہ کے سوچنے سمجھنے کا موقع زیادہ ملا اس لیے اس میں اتفاق کے مقابلہ میں قصد کا عنصر زیادہ تھا اس لیے اس کو نصف دلایا گیا، تیسرے نے چوتھے کو کھینچا حالانکہ وہ سب سے دور تھا اورگذشتہ نتائج کو تیسرے نے خوب غور سے دیکھ لیا تھا، اس لیے وہ تمام تر قصد وارادہ سے گرایا گیا، نیز یہ کہ اس نے اپنے اپنے رفقا کی طرح کسی اورکے گرانے کا جرم بھی نہیں کیا اس لیے وہ پوری دیت کا مستحق تھا۔ (واللہ اعلم) ایک اور مقدمہ کا اس سے بھی زیادہ دلچسپ فیصلہ آپ نے فرمایا، دو شخص (غالباًمسافر) تھے، ایک کے پاس تین روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس پانچ روٹیاں تھیں، دونوں مل کر ایک ساتھ کھانے کو بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک تیسرا مسافر بھی آگیا، وہ بھی کھانے میں شریک ہوا، کھانے سے جب فراغت ہوئی تو اس نے آٹھ درہم اپنے حصہ کی روٹیوں کی قیمت دے دی اور آگے بڑھ گیا، جس شخص کی پانچ روٹیاں تھیں اس نے سیدھا حساب یہ کیا کہ اپنی پانچ روٹیوں کی قیمت پانچ درہم لی اور دوسرے کو ان کی تین روٹیوں کی قیمت تین درہم دینے چاہے، مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا اورنصف کا مطالبہ کیا، یہ معاملہ عدالت مرتضوی میں پیش ہوا، آپ نے دوسرے کو نصیحت فرمائی کہ تمہارا رفیق جو فیصلہ کررہا ہے اس کو قبول کرلو اس میں زیادہ تمہارا نفع ہے؛لیکن اس نے کہا کہ حق تو یہ ہے کہ تم کو صرف ایک درہم اورتمہارے رفیق کو سات درہم ملنے چاہیے، اس عجیب فیصلہ سے وہ متحیر ہو گیا، آپ نے فرمایا کہ تم تین آدمی تھے، تمہاری تین روٹیاں تھیں اور تمہارے رفیق کی پانچ، تم دونوں نے برابر کھائیں اور ایک تیسرے کو بھی برابر کا حصہ دیا، تمہاری تین روٹیوں کے حصے تین جگہ کیے جائیں تو 9 ٹکڑے ہوتے ہیں، تم اپنے 9 ٹکڑوں اوراس کے پندرہ ٹکڑوں کو جمع کرو تو 24 ٹکڑے ہوتےہیں، تینوں میں سے ہر ایک نے برابرٹکڑے کھائے اورایک تیسرے مسافر کو دیا اورتمہارے رفیق نے اپنےپندرہ ٹکڑوں میں سے آٹھ خود کھائے اور سات تیسرے کو دیے، اس لیے آٹھ درہم میں سے ایک کے تم اورسات کا تمہارا رفیق مستحق ہے۔ [109] کبھی کبھی کوئی لغو مقدمہ پیش ہوتا تو آپ زندہ دلی کا ثبوت بھی دیتے تھے، ایک شخص نے ایک شخص کو یہ کہہ کر پیش کیا کہ اس نے خواب میں دیکھا ہے کہ اس نے میری ماں کی آبروریزی کی ہے، فرمایا ملزم کو دھوپ میں لے جاکر کھڑا کرو، اس کے سایہ کو سوکوڑے مارو۔ [110] حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے فیصلے قانون کے نظائر کی حیثیت رکھتے تھے، اس لیے اہل علم نے ان کو تحریری صورت میں مدون کر لیا تھا مگر اس عہد میں اختلاف آراء اورفرقہ آرائی کا زمانہ شروع ہوچکا تھا اس لیے ان میں تحریف بھی ہونے لگی؛چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے سامنے جب ان کے فیصلوں کا تحریری مجموعہ پیش ہوا تواس میں کے ایک حصہ کو انہوں نے نقلی بتلایا اورفرمایا کہ عقل وہوش کی سلامتی کے ساتھ علی ؓ کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرسکتے تھے۔ [111]

علم اسرار وحکم

دنیا میں اہل حکمت اورمتکلمین کے دو گروہ ہیں ایک وہ جو اپنی عقل و فہم اور علم کی بنا پر ہر شرعی حکم کی جزئی مصلحتوں پر نگاہ رکھتا ہے اوراس کے اسرار وحکم کی تلاش میں رہتا ہے، دوسرا گروہ وہ ہے جو ایک ایک حکم کے جزئی مصالح سے دلچسپی نہیں رکھتا ؛بلکہ وہ کلی طورپر پوری شریعت پر ایک مبصرانہ نگاہ ڈال کر ایک کلی اصول طے کرلیتا ہے اور اللہ تعالی نے ان احکام میں جزئی مصلحتیں رکھی ہیں، ان کی تلاش اورجستجو کی ضرورت نہیں سمجھتا، صحابہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا مذاق ِعلم پہلی قسم کا اورحضرت علی مرتضیٰ ؓ کا ذوق فکر دوسری قسم کا معلوم ہوتا ہے، ان کی نظر احکام کی نظری کیفیت پر اتنی نہیں پڑتی جتنی ان کی عملی کیفیت پر، اسی لیے کسی حکم کا انسان کی ظاہری عقل کے خلاف ہونا ان کے نزدیک چنداں اہم نہیں کہ انسانی عقل خود ناقص ہے، وہ کسی حکم شرعی کے لیے صحت اورصواب کا معیار نہیں بن سکتی۔ صحیح بخاری کی تعلیقات میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت علی مرتضی ؓ نے فرمایا: حدثو الناس بمایعرفون اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ [112] لوگوں سے وہی کہو جو سمجھ سکتے ہو، کیا تم یہ پسند کرتے ہوکہ خدایاخداکا رسول جھٹلایاجائے۔ مقصود یہ ہے کہ اگران سے ایسی باتیں کی جائیں جو ان کے فہم سے بالاترہوں تو لامحالہ اپنی کوتاہ عقل سے وہ ان باتوں کو غلط سمجھیں گے اوراس طرح سے وہ نادانستگی میں خدااوررسول کی تکذیب کے جرم کے مرتکب ہوں گے، اس لیے لوگوں سے ان کی عقل کے موافق گفتگو کرنی چاہیے کہ ہر مصالح الہی ہر شخص کی سمجھ میں یکساں نہیں آسکتے ہیں۔ احکام اورروایات کے الفاظ اگر متعدد معنوں کے متحمل ہوں تو آپ کا یہ فیصلہ ہے کہ ان میں سے وہی معنی صحیح ہوں گے جو رسالت اورنبوت کی شان کے شایان ہوں، مسندابن حنبل کے مطابق اس روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں، آپ نے فرمایا: اذااحدثتم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحدیث فطنوابہ الذی ھوا ھدیٰ والذی ھواتقی والذی ھواھتا۔ (: 130) "جب تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے معنی وہ سمجھو جو زیادہ قرین ھدایت، زیادہ پرہیز گارانہ اورزیادہ بہتر ہوں" موزوں پر مسح کرنا سنت ہے؛لیکن یہ مسح نیچے تلوؤں پر نہیں ؛بلکہ اوپر پاؤں پر کیا جاتا ہے، حضرت علی ؓ فرماتےہیں جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے: لوکان الدین باالرای لکان باطن المقدین احق بالمسح من ظاھر ھما وقد مسح النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی اظھر خفیہ۔ (باب کیف المسح) "اگر دینی مسائل کا انحصار محض رائے پرہوتا تو تلوے اوپر کے پاؤں سے زیادہ مسح کے مستحق ہوتے ؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کی پشت پاپر مسح فرمایا۔" حضرت علی مرتضی کا مقصود یہ ہے کہ چلنے کی وجہ سے اگر گردوغبار کے دورکرنے اورصفائی کی غرض سے یہ مسح ہوتا تو نیچے کے تلوؤں پر مسح ہوتا ؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے نہیں اوپر مسح فرمایا، اس لیے احکام الہی کے مصالح کی تعیین میں محض ظاہری عقل و رائے کو دخل نہیں ہے۔ یہی روایت مسند ابن حنبل [113] میں اس طرح ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے ہوئے نہ دیکھتا تو سمجھتا کہ نیچے مسح کرنا اوپر کرنے سے زیادہ بہتر ہے، یعنی ظاہر قیاس کا مقتضیٰ یہی تھا، مگر حکم الہی محض ظاہری قیاس پر مبنی نہیں۔

تصوف

اس بیان سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ حضرت علی مرتضی ؓ کو اسرارِ شریعت پر عبورنہ تھا ؛بلکہ ان کا مسلک یہ تھا کہ عوام کے لیے یہ موزوں نہیں ہیں اور یہ بالکل سچ ہے کہ اس سے عوام کے طبائع میں احکام الہی کی اتباع اورپیروی کی بجائے عدم عمل کے لیے حیلہ سازی اورفلسفیانہ بہانہ جوئی پیدا ہوتی ہے، خواص اس فرق کو سمجھتے ہیں اس لیے ان ہی کے لیے یہ علم موزوں ہے؛چنانچہ تصوف جو مذہب کی جان، شریعت کی روح اورجو خاصانِ امت کا حصہ ہے حضرت علی ؓ نے اس کے حقائق و معارف بہت خوبی سے بیان کیے ہیں۔ تصوف کے اکثر سلسلے سینۂ مرتضی ؓ پر جاکر ختم ہوتے ہیں، حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "اصول اورآزمائش وامتحان میں ہمارے شیخ الشیوخ علی مرتضی ہیں، شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں لکھا ہے کہ خلافت سے پہلے حضرت ممدوح کو اس میں بے حد انہماک تھا، مگر خلافت کے بعد اس کی مصروفیت نے ان کو اس فن کی تفصیل بیان کرنے کی فرصت نہ دی۔ [114] محدثین کے اصولِ روایت کے مطابق حضرت علی مرتضی ؓ کے یہ صوفیانہ اقوال پایۂ صحت کو نہیں پہنچتے اورنہ سلسلہ صحبت کی کڑیاں ثابت ہوتی ہیں کہ یہ اکثر سلسلے حضرت حسن بصری ؓ پر جاکر تمام ہوتے ہیں، ان کو حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا فیض اورصحبت یافتہ سمجھا جاتا ہے، مگر حضرت حسن بصری ؓ کی صحبت اورتعلیم محدثین کی روایتوں سے ثابت نہیں ہوتی ؛بلکہ امام ترمذی نے تو اس سے بھی انکار کیا ہے کہ انہوں نے بلاواسطہ حضرت علی ؓ سے کچھ سنا بھی ہے، بہرحال اتنا بالاتفاق ثابت ہے کہ انہوں نے حضرت علی مرتضی ٰ ؓ کو خلافت سے پہلے مدینہ میں دیکھا تھا اوران کے دیدار سے مشرف تھے، اوراس وقت ان کی عمر غالبا 14،15 برس کی تھی۔

تقریر وخطابت

تقریر وخطابت میں حضرت علی مرتضی ؓ کو خداداد ملکہ حاصل تھا اور مشکل سے مشکل مسائل پر بڑے بڑے مجمعوں میں فی البدیہہ تقریر فرماتے تھے، تقریریں نہایت خطیبانہ مدلل اورمؤثر ہوتی تھیں، ؁ 339ھ میں جب امیر معاویہ ؓ نے مدافعت کی بجائے جارحانہ طریق عمل اختیار کیا تو جمعہ کے روز اپنی جماعت کو ابھارنے کے لیے جو خطبہ دیا تھا، اس سے زورتقریر اورحسن خطابی کا اندازہ ہوگا۔ أما بعد، فإن الجهاد باب من أبواب الجنة، من تركہ ألبسہ اللہ الذلة وشملہ بالصغار، وسيم الخسف وسيل الضيم، وإني قد دعوتكم إلى جهاد هؤلا القوم ليلا ونهارا وسرا وجهارا، وقلت لكم، اغزوهم قبل أن يغزوكم، فما غزي قوم في عقر دارهم إلا ذلوا واجترأ عليهم عدوهم، هذا أخو بني عامر قد ورد الأنبار، وقتل ابن حسان البكري، وأزال مسالحكم عن مواضعها، وقتل منكم رجالا صالحين، وقد بلغني انهم كانوا يدخلون بيت المرأة المسلمة والأخرى المعاهدة فينزع حجلها من رجلها، وقلائدها من عنقها، وقد انصرفوا موفورين، ما كلم رجل منهم كلما، فلو أن أحدا مات من هذا أسفا ما كان عندي ملوما، بل كان جديرا، يا عجبا من أمر يميت القلوب، ويجتلب الهم ويسعر الأحزان من اجتماع القوم على باطلهم، وتفرقكم عن حقكم، فبعدا لكم وسحقا، قد صرتم غرضا، ترمون ولا ترمون، ويغار عليكم ولا تغيرون، ويعصى اللہ فترضون، إذا قلت لكم سيروا في الشتاء قلتمكيف نغزو في هذا القر والصر وإن قلت لكم سيروا في الصيف قلتم حتى ينصرم عنا حمارة القيظ، وكل هذا فرار من الموت، فإذا كنتم من الحر والقر تفرون فأنتم واللہ من السيف أفر، والذي نفسي بيدہ، ما من ذلك تهربون، ولكن من السيف تحيدون، يا أشباہ الرجال ولا رجال، ويا أحلام الأطفال وعقول ربات الحجال، أما واللہ لوددت أن اللہ أخرجني من بين أظهركم وقبضني إلى رحمتہ من بينكم، ووددت أن لم أركم ولم أعرفكم، فقد واللہ ملأتم صدري غيظا، وجرعتموني الأمرين أنفاسا، وأفسدتم على رأيي بالعصيان والخذلان "حمدونعت کے بعد، جہادجنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس نے اس کو چھوڑا، خدااس کو ذلت کا لباس پہناتاہے، اوررسوائی کو شاملِ حال کرتا ہے اورذلت کا مزہ چکھایا جاتا ہے اوردشمنوں کی دست درازی میں گرفتار ہوتا ہے، میں نے تم کو شب وروز علانیہ اورپوشیدہ، ان لوگوں سے لڑنے کی دعوت دی اورمیں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ وہ حملہ کریں میں حملہ کروں، کوئی قوم جس پر اس کے گھر میں آخر حملہ کیا جائے وہ ذلیل ورسوا ہوتی ہے اس کا دشمن اس پر جری ہوتا ہے، دیکھو کہ عامری نے انبار میں آکر ابن حسان بکری کو قتل کر دیا، تمہارے مورچوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا، تمہاری فوج کے چند نیکوکار بہادروں کو قتل کرڈالا اورمجھے یہ خبر معلوم ہوئی ہے کہ وہ مسلمان اورذمی عورتوں کے گھروں میں گھسنے اوران کے پاؤں سے ان کے پازیب، ان کے گلے سے ان کے ہار اتارلیے، ایک قوم کا باطل پر اجتماع اورتمہارا امرحق سے برگشتہ ہونا کس قدر تعجب انگیز ہے جو دلوں کو مردہ کرتا ہے اورغم ورنج کو بڑھاتا ہے، تمہارے لیے دوری وہلاکت ہو تم نشانہ بن گئے ہو اور تم پر تیر برسایا جاتا ہے ؛لیکن تم خود تیر نہیں چلا سکتے تم پر غارت گری کی جاتی ہے؛لیکن تم غارت گری نہیں کرتے، خداکی نافرمانی کی جاتی ہے اورتم اس کو پسند کرتے ہو، جب تم سے کہتا ہوں کہ موسم سرما میں فوج کشی کرو تم کہتے ہوکہ اس قدر سردی اورپالے میں کس طرح لڑسکتے ہیں اور اگر کہتا ہوں کہ موسم گرما میں چلو تو کہتے ہوکہ گرمی کی شدت کم ہوجائے تب، حالانکہ یہ سب موت سے بھاگنے کا حیلہ ہے، پس تم گرمی سردی سے بھاگتے ہو تو خدا کی قسم! تلوار سے اوربھی بھاگو گے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس سے نہیں بھاگتے ؛بلکہ تلوار سے جان چراتے ہو، اے مرد نہیں؛بلکہ مرد کی تصویرو! اوراے بچوں اورعورتوں کی سی عقل اورسمجھ رکھنے والو، خداکی قسم میں پسند کرتا ہوں کہ خدا تمہاری جماعت سے مجھے نکال لے جائے اور (موت دے کر) اپنے رحمت نصیب کرے، میری تمنا تھی کہ تم سے جان پہچان نہ ہوتی، خدا کی قسم! تم نے میرا سینہ غیظ وغضب سے بھردیا ہے، تم نے مجھے وہ تلخیوں کے گھونٹ پلائے ہیں اورعصیان ونافرمانی کرکے میری رائے کو برباد کر دیا ہے۔" آپ کے طرفداروں کے دل اگرچہ پثر مردہ ہوچکے تھے اورقوائے عمل نے جواب دیدیا تھا تاہم اس پر جوش اورولولہ انگیز تقریرنے تھوڑی دیر کے لیے ہلچل پیداکردی اورہرطرف سے پرجوش صداؤں نے لبیک کہا۔ شریف رضی نے حضرت علی ؓ کے تمام خطبوں کو”نہج البلاغۃ”کے نام سے چار جلدوں میں جمع کر دیا ہے اوران پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے صحیح لکھا ہے کہ ان خطبوں نے ہزاروں اورلاکھوں آدمیوں کو فصیح و بلیغ مقرر بنادیا؛لیکن نہج البلاغۃ کے تمام خطبوں کا صحیح ہونا ایک مشتبہ امر ہے، کیونکہ ان میں ایسے اصلاحات وخیالات بھی ہیں جو تیسری صدی میں یونانی فلسفہ کے ترجمہ کے بعد سے عربی رائج ہوئے ہیں اور ان میں حضرت علی ؓ کی زبان سے ایسی باتیں بھی ہیں جن کو کوئی صاحب ایمان ان کی طرف منسوب نہیں کرسکتا۔

شاعری

جناب مرتضیٰ ؓ کی طرف بہت سے اشعار بھی منسوب ہیں جن میں سے دو، چار احادیث صحیحہ میں بھی مذکور ہیں، مثلاً آپ کا وہ رجز یہ شعر جو معرکۂ خیبر میں آپ نے پڑھا تھا: انا الذی سمتنی امی حیدرۃ کلیث غابات کریہ المنظرۃ لیکن بہت سے جعلی اشعار بناکر آپ کی طرف منسوب کردیے گئے ہیں؛بلکہ ایک پورا دیوان دیوانِ علی ؓ کے نام سے موجود ہے جس کو افسوس ہے کہ طلبہ اورعلماء نہایت شوق سے پڑھتے پڑھاتے ہیں، حالانکہ اس کی زبان اس لائق بھی نہیں کہ کسی عربی شاعر کی طرف منسوب کی جائے، چہ جائیکہ الفصح الفصحاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ الشریف کی طرف، حاکم نے مستدرک میں حضرت فاطمۃ زہرا ؓ کے مرثیہ میں آپ کی زبان مبارک سے دوشعر نقل کیے ہیں۔

علم نحو کی ایجاد

علم نحو کی بنیاد خاص حضرت علی ؓ کے دست مبارک سے رکھی گئی ہے، ایک دفعہ ایک شخص کو قرآن شریف غلط پڑھتے سنا، اس سے خیال پیدا ہوا کہ کوئی ایسا قاعدہ بنادیا جائے جس سے اعراب میں غلطی واقع نہ ہو سکے؛چنانچہ ابوالاسودوئلی کو چند قواعد کلیہ بتاکر اس فن کی تدوین پر مامور کیا، (فہرست ابن ندیم) اس طرح علم نحو کے ابتدائی اصول بھی آپ ہی کی طرف منسوب ہیں۔

تالیفات اور احادیث

1۔ کتاب جامعہ کہ بنا بر روایت ابوبصیر، علی بن ابی طالب نے اس میں اسلامی احکام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے لکھے اور اس میں متعدد موضوعات کے حلال اور حرام کے مسائل جمع فرمائے۔ یہ ایک ضخیم کتاب تھی اسے کتاب علی بھی کہا جاتا ہے۔

2۔ صحیفہ امام علی جس میں جامعہ مذکورہ کے علاوہ خاص احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو سے سنے تھے لکھے گئے ہیں۔

3۔ الملاحم یا صحیفةالدولة ایک اور کتاب ہے جوعلی بن ابی طالب نے زبان مبارک رسول اکرم سے سن کر ان کے لکھوانے پر تحریر فرمایا جو آنحضرت کی وفات کے بعد کے واقعات کی پیشگوئی نیز ان کی وصیتوں اور نصیحتوں پر مشتمل ہے۔

4۔ مصحف امام علی، علی بن ابی طالب نے قرآن مجید کو شأن نزول کی ترتیب سے آیات کی جمع آوری فرمائی و علما اہل سنت بھی اعتراف کرتے ہیں کہ یہ بہت قابل قدر کام ہے۔

5۔ کتاب جفر واشعار کا دیوان شعر بھی حضرت علی سے منسوب ہے۔

6۔ آثار امام علی علیہ السلام میں سے ایک بہت بڑا ذخیرہ ان کی بارگاہ ربوبیت میں کی گئی دعائیں ہیں جو معارف الہی کا بہت قیمتی خزانہ ہے۔

7۔ اہم ترین اور مشہور دعائیں جیسے: دعای کمیل، دعای توسّل، دعای ابوحمزہ ثمالی، صباح، جوشن وغیرہ

8۔ ان کے خطبوں کا ایک وسیع سلسلہ تھا جو اسلامی، ادبی، علمی، تاریخی، اخلاقی، سیاسی، الہی مضامین پر مشتمل ہے ایسا کلام کسی دیگر بشر سے نہیں سنا گیا۔ ان میں سے کچھ خطبے نہج البلاغۃ نامی کتاب میں چوتھی صدی کے ایک عظیم شیعہ عالم دین سید رضی (395ھ وفات 406ھ) میں جمع کیے ہیں۔

9۔ ان کے نجی یا سرکاری خطوط جو تاریخی، ادبی اور اسلامی معارف اور اقدار کے لحاظ سے بے نظیر اور نمونہ عمل ہیں۔ کچھ خطوط نہج البلاغہ میں نقل ہوئے ہیں۔

10۔ ان کے حکیمانہ جملے اور کلمات قصار جو سمندر کو کوزے میں سموئے ہوئے ہیں۔ ان ہزاروں جملوں میں سے چند سو نہج البلاغۃ میں موجود ہیں۔

نہج البلاغہ کی بہت سی شرحیں سنی اور شیعہ علما نے لکھی ہیں جن میں سے مشہور یہ ہیں۔ شرح محمد عبدہ، شرح ابن ابی الحدید، شرح قطب راوندی، شرح محمدتقی جعفری، شرح محمد دشتی وغیرہ۔

احادیث

بے شمار نبوی احادیث علی بن ابی طالب نے نقل فرمائی ہیں چونکہ آپ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریب اور ساتھ ہوتے تھے تو سب سے زیادہ ان کے فرامین سنتے تھے۔ علامہ ابن حزم اندلسی نے اپنی کتاب أسماء الصحابہ و ما لكل واحد منهم من العدد میں آپ کی مرویات کی تعداد پانچ سو سینتیس لکھی ہے اہل سنّت کے علما کے بقول ان احادیث کی تعداد مختلف ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنیاد پر صرف پچاس حدیثیں ہی اہل سنت کی کتب حدیث میں نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق حضرت علی کی مرویات کی تعداد بارہ ہزار ہے

1۔ مسند الامام علی دو جلدوں میں جو احادیث آج کل جمع کی گئی ہیں وہ 1450 احادیث ہیں۔

امام علی علیه‌السلام نے بہت سے راویوں کی تربیت فرمائی اور اسلامی معاشرے کی بہبود کے لیے ان شاگرد ہمیشہ احادیث بیان کرتے رہے جن میں سے اہم ترین حسن بن علی، حسین بن علی، محمد بن حنفیہ، عمرو بن علی، فاطمہ بنت علی، جعفر بن ہبیرہ مخزومی، عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ انصاری، ابورافع، و اسامہ بن زید کے نام ہیں۔ کتب رجال، میں علی بن ابی طالب کے شاگرد راویوں میں اصحاب میں سے 66 راوی اور تابعین میں سے 180 کا تذکرہ ملتا ہے۔

ان کے شاگردوں نے جو آپ کی زبان سے جاری کلمات کو لکھا ہے ان میں سے چند کتب یہ ہیں۔

1۔ القضایا و الاحکام، تألیف بریربن خضیر همدانی شرقی (شهید عاشورہ)؛

2۔ السنن و الاحکام والقضایا، تألیف ابورافع ابراہیم بن مالک انصاری (م 40)؛

3۔ قضایا امیرالمؤمنین، تألیف عبد اللہ بن ابی رافع؛ (امام علی کے فیصلے)

4۔ کتاب فقہ، تألیف علی بن ابی رافع؛

5۔ جانوروں کے بارے کتاب، تألیف ربیعہ بن سمیع؛

6۔ کتاب میثم بن یحیی تمّار کوفی (م 60)؛

7۔ کتاب الدیات، تألیف ظریف بن ناصح وغیرہ

حدیث میں ذکر

ان 10 صحابہ کرام کا ذکر عبد الرحمن بن عوف کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہيں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبد الرحمن جنتی ہیں، سعد جنتی ہيں، سعید جنتی ہیں، ابو عبیدہ جنتی ہیں۔[115]

اخلاق

حضرت علی مرتضی ؓ نے ایام طفولیت ہی سے سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن عاطفت میں تربیت پائی تھی اس لیے وہ قدرتاًمحاسن اخلاق اورحسنِ تربیت کا نمونہ تھے، آپ کی زبان کبھی کلمہ شرک وکفر سے آلودہ نہ ہوئی اورنہ آپ کی پیشانی غیر خدا کے آگے جھکی، جاہلیت کے ہر قسم کے گناہ سے مبرا اورپاک رہے، شراب کے ذائقہ سے جو عرب کی گھٹی میں تھی، اسلام سے پہلے بھی آپ کی زبان آشنانہ ہوئی اور اسلام کے بعد تو اس کا کوئی خیال ہی نہیں کیا جاسکتا۔

امانت ودیانت

آپ ایک امین کے تربیت یافتہ تھے، اس لیے ابتدا ہی سے امین تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی امانتیں جمع رہتی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو ان امانتوں کی واپسی کی خدمت حضرت علی ؓ کے سپرد فرمائی، [116] اپنے عہد خلافت میں آپ نے مسلمانوں کی امانت بیت المال کی جیسی امانت داری فرمائی، اس کا اندازہ حضرت ام کلثوم ؓ کے اس بیان سے ہوسکتا ہے کہ ایک دفعہ نارنگیاں آئیں، امام حسن ؓ، امام حسین ؓ نے ایک نارنگی اٹھالی، جناب امیر ؓ نے دیکھا تو چھین کر لوگوں میں تقسیم کردی۔[117] مال غنیمت تقسیم فرماتے تھے تو برابر حصے لگاکر غایت احتیاط میں قرعہ ڈالتے تھے کہ اگر کچھ کمی بیشی رہ گئی ہو تو آپ اس سے بری ہوجائیں، ایک دفعہ اصفہان سے مال آیا، اس میں ایک روٹی بھی تھی، حضرت علی ؓ نے تمام مال کے ساتھ اس روٹی کے بھی سات ٹکڑے کیے اورقرعہ ڈال کر تقسیم فرمایا، ایک دفعہ بیت المال کا تمام اندوختہ تقسیم کرکے اس میں جھاڑودی اوردورکعت نماز ادا فرمائی کہ وہ قیامت میں ان کی امانت ودیانت کی شاہد رہے۔ [118]

زہد

آپ کی ذات گرامی زہد فی الدنیا کا نمونہ تھی ؛بلکہ حق یہ ہے کہ آپ کی ذات پر زہد کا خاتمہ ہو گیا، آپ کےکا شانۂ فقر میں دنیاوی شان وشکوہ کا درگزرنہ تھا، کوفہ تشریف لائے تو دارالامارت کی بجائے ایک میدان میں فروکش ہوئے اور فرمایا کہ عمر بن الخطاب ؓ نے ہمیشہ ہی ان عالی شان محلات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا، مجھے بھی اس کی حاجت نہیں، میدان ہی میرے لیے بس ہے۔ بچپن سے پچیس چھبیس برس کی عمر تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور شہنشاہ اقلیم زہد وقناعت کے یہاں دنیاوی عیش کا کیا ذکرتھا، حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ شادی ہوئی تو علاحدہ مکان میں رہنے لگے، اسی نئی زندگی کے سازو سامان کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ سیدہ جنت جو سازوسامان اپنے میکہ سے لائی تھیں اس میں ایک چیز کا بھی اضافہ نہ ہو سکا، چکی پیستے پیستے حضرت فاطمہ ؓ کے ہاتھوں میں گھٹے پڑ گئے تھے، گھر میں اوڑھنے کی صرف ایک چادر تھی، وہ بھی اس قدر مختصر کہ پاؤں چھپاتے تو سربرہنہ ہوجاتا اور سرچھپاتے تو پاؤں کھل جاتا، معاش کی یہ حالت تھی کہ ہفتوں گھر سے دہواں نہیں اٹھتا تھا، بھوک کی شدت ہوتی تو پیٹ سے پتھر باندھ لیتے، ایک دفعہ شدت گرسنگی میں کاشانۂ اقدس سے باہر نکلے کہ مزدوری کرکے کچھ کمالائیں، عوالی (مدینہ کے قرب وجوار کی آبادی کا نام عوالی تھا)مدینہ میں دیکھا کہ ایک ضعیفہ کچھ اینٹ پتھر جمع کررہی ہے، خیال ہوا کہ شاید اپنا باغ سیراب کرنا چاہتی ہے، اس کے پاس پہنچ کر اجرت طے کی اورپانی سینچنے لگے، یہاں تک کہ ہاتھوں میں آبلے پڑ گئے، غرض اس محنت ومشقت کے بعد ایک مٹھی کھجوریں اجرت میں ملیں؛لیکن تنہا خوری کی عادت نہ تھی بجنسہٖ لیے ہوئے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کیفیت سن کر نہایت شوق کے ساتھ کھانے میں ساتھ دیا۔ [119] ایامِ خلافت میں بھی زہد کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا اورآپ کی زندگی میں کوئی فرق نہ آیا، موٹا چھوٹا لباس اورروکھا پھیکا کھانا ان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھی، ایک دفعہ عبد اللہ بن زریرنامی ایک صاحب شریک طعام تھے، دسترخوان پر کھانا نہایت معمولی اورسادہ تھا، انہوں نے کہا، امیر المومنین! آپ کو پرند کے گوشت سے شوق نہیں ہے، فرمایا ابن زریر!خلیفہ وقت کو مسلمانوں کے مال میں سے صرف دوپیالوں کا حق ہے، ایک خود کھائے اور اہل کو کھلائے اوردوسرا خلق خدا کے سامنے پیش کرے [120] دردولت پر کوئی حاجب نہ تھا نہ دربان، نہ امیرنہ کروفرنہ شاہانہ تزک واحتشام اورعین اس وقت جب قیصر وکسریٰ کی شہنشاہی مسلمانوں کے لیے زروجواہر اگل رہی تھی، اسلام کاخلیفہ ایک معمولی غریب کی طرح زندگی بسر کرتا تھا اوراس پر فیاضی کا یہ حال تھا کہ دادودہش کی بدولت کبھی فقروفاقہ کی نوبت بھی آجاتی تھی، ایک دفعہ منبر پرخطبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ:میری تلوار کا کون خریدار ہے؟خدا کی قسم! اگر میرے پاس ایک تہ بند کی قیمت ہوتی تواس کو فروخت نہ کرتا، ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا ‘‘امیر المومنین! میں تہ بند کی قیمت قرض دیتا ہوں۔ گھر میں کوئی خادمہ نہ تھی، شہنشاہ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی گھر کا سارا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی تھی، ایک مرتبہ شفیق باپ کےپاس اپنی مصیبت بیان کرنے گئیں، حضرت سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہ تھے اس لیے واپس آکر سو رہی، تھوڑی دیرکے بعد حضرت عائشہؓ کی اطلاع پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور فرمایا کیا تم کو ایک ایسی بات نہ بتادوں جو ایک خادم سے کہیں زیادہ تمہارے لیے مفید ہو، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح کی تعلیم دی۔ [121]

عبادات

حضرت علی کرم اللہ وجہہ خدا کے نہایت عبادت گزار بندے تھے، عبادات ان کا مشغلہ حیات تھا جس کا شاہد خود قرآن ہے، کلام پاک کی اس آیت : "مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِo وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرٰئہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًاْ" [122] ‘‘محمد رسول اللہ اوروہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں باہم رحمدل ہیں، تم ان کو دیکھتے ہو کہ بہت رکوع اوربہت سجدہ کرکے خدا کا فضل اوراس کی رضا مندی کی جستجو کرتے ہیں۔’’ کی تفسیر میں مفسرین نے نکتہ لکھا ہےکہ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ سے ابوبکر صدیق ؓ، اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ سے عمر بن الخطاب ؓ، رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْسے عثمان بن عفان ؓ، رُکَّعًا سُجَّدًسے حضرت علی ابن ابی طالب ؓ اور یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًاْسے بقیہ صحابہ ؓ مراد ہیں، (تفسیر فتح البیان ج9 :)اس سے عبادت میں تمام صحابہ پر حضرت علی ؓ کی فضیلت ثابت ہوئی ہے کیونکہ رکوع وسجودجو تمام صحابہ ؓ کا مشترک وصف تھا، پھر اس اشتراک میں تخصیص سے معلوم ہوا کہ اس اشتراک کے باوجود ان کو اس باب میں کچھ مزید امتیاز بھی حاصل تھا۔ قرآن مجید کے اس اشارہ کے علاوہ خود صحابہ ؓ کی زبان سے ان کے اس امتیازی وصف کی شہادت مذکور ہے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: کان ماعلمت صواما قواما، [123] جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ بڑے روزہ دار اور عبادت گزار تھے۔’’ زبیر بن سعید قریشی کہتے ہیں: لم ارھا شمیا قط کان اعبد اللہ منہ [124] "میں نے کسی ہاشم کو نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ خداکا عبادت گزار ہو۔" ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عبادات میں جس چیز کا التزام کرلیتے تھے اس پر ہمیشہ قائم رہتے تھے، ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اورحضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کہ تم دنوں ہر نماز کے بعد دس بار تسبیح، دس بار تحمید اوردس بار تکبیر پڑھ لیا کرو اورجب سوؤ تو 33 بار تسبیح، 33 بار تحمید اور34 بار تکبیر پڑھ لیا کرو، حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اس کی تلقین کی میں نے اس کو چھوڑا نہیں، ابن کواء نے کہاکہ"صفین کی شب میں بھی نہیں؟فرمایا‘صفین کی شب میں بھی نہیں۔" [125]

انفاق فی سبیل اللہ

حضرت علی ؓ گودنیاوی دولت سے تہی دامن تھے؛لیکن دل غنی تھا کبھی کوئی سائل آپ کے درسے ناکام واپس نہیں ہوا حتی کہ قوت لایموت تک دے دیتے، ایک دفعہ رات بھر باغ سینچ کر تھوڑے سے جو مزدوری میں حاصل کیے صبح کے وقت گھر تشریف لائے تو ایک ایک ثلث پسواکر حریرہ پکوانے کا انتظام کیا، اب پک کر تیار ہی ہوا تھا کہ ایک مسکین نے صدادی، حضرت علی ؓ نے سب اٹھاکر اس کو دے دیا اورپھر بقیہ میں دوسرے ثلث کے پکنے کا انتظار کیا؛لیکن تیارہوا کہ ایک مسکین یتیم نے دست سوال بڑھایا، اسے بھی اٹھا کر اس کی نذر کیا، غرض اسی طرح تیسرا حصہ بھی جو بچ رہا تھا پکنے کے بعد ایک مشرک قیدی کی نذر ہو گیا اوریہ مردخدارات بھر کی مشقت کے باوجود دن کوفاقہ مست رہا، خدائے پاک کو یہ ایثار کچھ ایسا بھایا کہ بطور ستائش اس کے صلہ میں، وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَـتِـیْمًا وَّاَسِیْرًا(دھر:8)کی آیت نازل ہوئی۔ [126]

تواضع

سادگی اورتواضع حضرت علی ؓ کی دستارِ فضیلت کا سب سے خوشنما طرہ ہے، اپنے ہاتھ سے محنت ومزدوری کرنے میں کوئی عارنہ تھا، لوگ مسائل پوچھنے آتے تو آپ کبھی جوتا ٹانکتے، کبھی اونٹ چراتے اورکبھی زمین کھودتے ہوئے پائے جاتے، مزاج میں بے تکلفی اتنی تھی کہ فرش خاک پر بے تکلف سوجاتے، ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ڈھونڈتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے، دیکھا کہ بے تکلفی کے ساتھ زمین پر سو رہے ہیں، چادرپیٹھ کے نیچے سے سرک گئی ہے اورجسم ِانور گردوغبار کے اندر کندن کی طرح دمک رہا ہے، سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سادگی نہایت پسند آئی، خوددست مبارک سے ان کا بدن صاف کرکے محبت آمیز لہجہ میں فرمایا: اجلس یاابا تراب[127]مٹی والے اب اٹھ بیٹھ، زبان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کی ہوئی یہ کنیت حضرت علی ؓ کو اس قدر محبوب تھی کہ جب کوئی اس سے مخاطب کرتا تو خوشی سے ہونٹوں پر تبسم کی لہر دوڑجاتی۔ ایام خلافت میں بھی یہ سادگی قائم رہی، عموماً چھوٹی آستین اوراونچے دامن کا کرتا پہنتے اورمعمولی کپڑے کی تہ بند باندھتے، بازار میں گشت کرتے پھرتے، اگر کوئی تعظیماً پیچھے ہولیتا تو منع فرماتے کہ اس میں ولی کے لیے فتنہ اورمومن کے لیے ذلت ہے۔ شجاعت وبسالت حضرت علی ؓ کا مخصوص وصف تھا جس میں کوئی معاصر آپ کا حریف نہ تھا، آپ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور سب میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے، اسلام میں سب سے پہلا غزوہ ٔبدر پیش آیا، اس وقت حضرت علی ؓ کاعنفوان شباب تھا؛لیکن اس عمر میں آپ نے جنگ آزما بہادروں کے دوش بدوش ایسی دادِ شجاعت دی کہ آپ اس کے ہیرو قرارپائے۔ آغازِ جنگ میں آپ کا مقابلہ ولید سے ہوا، ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا، پھر شیبہ کے مقابلہ میں حضرت عبیدہ بن حارث ؓ آئے اوراس نے ان کو زخمی کیا تو حضرت حمزہ اورحضرت علی ؓ نے حملہ کرکے اس کا کام بھی تمام کر دیا، غزوہ ٔاحد میں کفار کا جھنڈا طلحہ بن ابی طلحہ کے ہاتھ میں تھا، اس نے مبازرت طلب کی تو حضرت علی مرتضیٰ ؓ ہی اس کے مقابلہ میں آئے اورسرپر ایسی تلوار ماری کہ سر کے دوٹکڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو فرطِ مسرت میں تکبیر کا نعرہ بلند کیا اور مسلمانوں نے بھی تکبیر کے نعرے لگائے۔ غزوۂ خندق میں بھی پیش پیش رہے؛چنانچہ عرب کے مشہور پہلوان عمروبن عبدونے جب مبازرت طلب کی توحضرت علی مرتضی ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میدان میں جانے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی تلوار عنایت فرمائی، خود اپنے دستِ مبارک سے ان کے سرپر عمامہ باندھا اوردعا کی خداوندا!تو اس کے مقابلہ مین ان کا مددگار ہو، اس اہتمام سے آپ ابن عبدودکے مقابلہ میں تشریف لے گئے اور اس کو زیر کرکے تکبیر کا نعرہ مارا جس سے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے حریف پر کامیابی حاصل کرلی۔ غزوہ ٔخیبر کا معرکہ حضرت علی ؓ ہی کی شجاعت سے سرہوا، جب خیبر کا قلعہ کئی دن تک فتح نہ ہو سکا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو خدا اورخدا کے رسول کو محبوب رکھتا ہے اورخدا اورخدا کے رسول اس کو محبوب رکھتے ہیں؛چنانچہ دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو جھنڈا عنایت فرمایا اورخیبر کا رئیس مرحب تلوار ہلاتاہوااوررجز پڑھتا ہوامقابلے میں آیا، اس کے جواب میں حضرت علی مرتضی رجز خواں آگے بڑھے اورمرحب کے سرپر ایسی تلوار ماری کہ سرپھٹ گیا اورخیبر فتح ہو گیا، خیبر کی فتح کو آپ کے جنگی کارناموں میں خاص امتیاز حاصل ہے۔ غزوات میں غزوہ ہوازن خاص اہمیت رکھتا ہے اس میں تمام قبائلِ عرب کی متحدہ طاقت مسلمانوں کے خلاف امنڈ آئی تھی؛لیکن اس غزوہ میں بھی حضرت علی ؓ ہر موقع پر ممتاز رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اکابر کو جھنڈے عنایت فرمائے، ان میں حضرت علی مرتضیٰ بھی شامل تھے، آغاز جنگ میں جب کفارنے دفعۃتیروں کا مینہ برسانا شروع کیا تو مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور صر ف چند ممتاز صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثبات قدم رہے، ان میں ایک حضرت علی مرتضیٰ ؓ بھی تھے، عہد نبوت کے بعد خود ان کے زمانہ میں جو معرکے پیش آئے ان میں کبھی ان کے پائے ثبات کو لغزش نہیں ہوئی۔

دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک

حدیث میں آیا ہے کہ‘‘بہادروہ نہیں ہے جو دشمن کو پچھاڑدے ؛بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کرے، حضرت علی مرتضی ؓ اس میدان کے مرد تھے، ان کی زندگی کا اکثر حصہ مخالفین کی معرکہ آرائی میں گذرا؛لیکن بایں ہمہ انہوں نے ہمیشہ دشمنوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، ایک دفعہ ایک لڑائی میں جب ان کا حریف گرکر برہنہ ہو گیا تو اس کو چھوڑکر الگ کھڑے ہو گئے کہ اس کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے، جنگ جمل میں حضرت عائشہ ؓ ان کی حریف تھیں؛لیکن جب ایک ضبی نے ان کے اونٹ کو زخمی کرکے گرایا تو خود حضرت علی ؓ نے آگے بڑھ کر ان کی خیرت دریافت کی اوران کو ان کے طرفدار بصرہ کے رئیس کے گھر میں اتارا، حضرت عائشہ ؓ کی فوج کے تمام زخمیوں نے بھی اسی گھر کے ایک گوشے میں پناہ لی تھی، حضرت علی ؓ حضرت عائشہ ؓ سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے؛ لیکن ان پناہ گزین دشمنوں سے کچھ تعرض نہیں کیا۔ جنگ جمل میں جو لوگ شریک جنگ تھے، ان کی نسبت بھی عام منادی کرادی کہ بھاگنے والوں کا تعاقب نہ کیا جائے، زخمیوں کے اوپر گھوڑے نہ دوڑائے جائیں، مالِ غنیمت نہ لوٹا جائے، جوہتیارڈال دے اس کو امان ہے۔ حضرت زبیر ؓ نے ایک حریف کی حیثیت سے ان کا مقابلہ کیا تھا اورجنگ جمل کے سپہ سالاروں میں تھے، مگر جب ان کا قاتل ابن جرموز ان کا مقتول سراورتلوار لے کر حضرت علی ؓ کے پاس آیا تو وہ آبدیدہ ہو گئے اورفرمایا‘‘فرزند صفیہ ؓ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو، پھر حضرت زبیر ؓ کی تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا، یہ وہی تلوار ہے جس نے کئی دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے مشکلات کا بادل ہٹایا ہے۔ مستدرک میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس ان کا سرآیا تو فرمایا کہ ‘فرزندِ صفیہ ؓ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر نبی کے حواری ہوتےہیں اور میرا حواری زبیر ہے۔ [128] جنگ جمل کے میدان میں جب آپ فریق مخالف کی لاشوں کا معائنہ کر رہے تھے، تو ایک ایک لاش کو دیکھ کر افسوس کرتے تھے، جب حضرت طلحہ ؓ کے بیٹے محمد کی لاش پر نظر پڑی تو آہ سرد بھر کر فرمایا:اے قریش کا شکرہ! ان کا سب سے بڑا دشمن ان کا قاتل ابن ملجم ہوسکتا تھا؛لیکن انہوں نے اس کے متعلق جو آخری وصیت کی تھی وہ یہ تھی کہ اس سےمعمولی طورپر قصاص لینا، مثلہ نہ کرنا، یعنی اس کے ہاتھ پاؤں اورناک نہ کاٹنا، ابن سعد میں ہے کہ جب وہ آپ کے سامنے لایا گیا تو فرمایا کہ اس کواچھا کھانا کھلاؤ اور اس کو نرم بستر پر سلاؤ اگرمیں زندہ بچ گیا تو اس کے معاف کرنے یا قصاص لینے کا مجھے اختیار حاصل ہوگا اوراگر میں مرگیا تو اس کو مجھ سے ملادینا، میں خدا کے سامنے اس سے جھگڑوں گا، دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کی اس سے اعلیٰ مثال کیا ہوسکتی ہے؟

اصابت رائے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ صائب الرائے بھی تھے اورآپ کی ا صابت رائے پر عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے اعتماد کیا جاتا تھا؛چنانچہ آپ تمام مہماتِ امور میں شریک مشورہ کیے جاتے تھے، واقعہ افک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے راز داروں میں جن لوگوں سے مشورہ کیا، ان میں سے ایک حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی تھے، غزوہ طائف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اتنی دیر تک سرگوشی فرمائی کہ لوگوں کو اس پر رشک ہونے لگا۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں وہ حضرت ابوبکر وعمرؓ دونوں کے مشیر تھے؛چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مہاجرین وانصار کی جو مجلس شوریٰ قائم کی تھی، اس کے رکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی تھے، حضرت عمر فاروق ؓ نے اس مجلس کے ساتھ مہاجرین کی جو مخصوص مجلس شوریٰ قائم کی تھی اس کے اراکین کے نام اگرچہ ہم کو معلوم نہیں ہیں؛لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ لازمی طورپر اس کے ایک رکن رہے ہوں گے، کیونکہ حضرت عمرؓ کو ان کی رائے پر اتنا اعتماد تھا کہ جب کوئی مشکل معاملہ پیش آجاتا توحضرت علی ؓ سے مشورہ کرتے تھے، ایک موقع پر انہوں نےفرمایا تھا۔ لولا علی لھلک عمر اگر علی نہ ہوتے عمر ہلاک ہوجاتا۔ اس اعتماد کی بنا پر بعض امور میں حضرت عمر ؓ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رائے کو اپنی رائے پر ترجیح دی ہے، معرکہ نہادند میں جب ایرانیوں کی کثرت نے حضرت عمرؓ کو بے حد مشوش کر دیا، تو انہوں نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام صحابہ کو جمع کرکے رائے طلب کی، حضرت طلحہ ؓ نے کہا امیرالمومنین آپ خود ہم سے زیادہ سمجھ سکتے ہیں، البتہ ہم لوگ تعمیل حکم کے لیے تیار ہیں، حضرت عثمان ؓ نے مشورہ دیا کہ شام ویمن وغیرہ سے فوجیں جمع کرکے آپ خود سپہ سالار ہوکر میدانِ جنگ تشریف لے جائیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ خاموش تھے، حضرت عمؓ نے ان کی طرف دیکھا تو بولے کہ شام سے اگر فوجیں ہٹیں تو مفتوحہ مقامات پر دشمنوں کا تسلط ہوجائے گا اور آپ نے مدینہ چھوڑا تو عرب میں ہر طرف قیامت برپا ہوجائے گی، اس لیے میری رائے یہ ہے کہ آپ یہاں سے نہ ہلیں اورشام ویمن وغیرہ میں فرمان بھیج دیے جائیں کہ جہاں جہاں جس قدر فوجیں ہوں ایک ایک ثلث ادھر روانہ کردی جائیں، حضرت عمر ؓ نے اس رائے کو پسند کیا اورکہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔ حضرت عثمان ؓ نے بھی ان سے اہم معاملات میں مشورے لیے اور اگر ان کے مشورہ پر عمل کیا جاتا تو ان کا عہد نہ صرف فتنہ وفساد سے محفوظ رہتا ؛بلکہ قبائل عرب میں ایک ایسا توازن قائم ہوجاتا کہ آئندہ جھگڑے کی کوئی صورت ہی نہ پیدا ہوتی۔ آپ کی اصابت رائے کا سب سے بڑا ثبوت آپ کے فیصلوں میں ملتا ہےاحادیث کی کتابوں میں بہت سے ایسے پیچیدہ مقامات مذکورہیں جن کا فیصلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کیا اورجب وہ فیصلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے تو آپ نے فرمایا: مااجد فیھا الاماقال علی میرے نزدیک بھی اس کا فیصلہ وہی ہے جو علی نے کیا۔ ان کے ایک اورفیصلہ کا ذکر کیا گیاتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا: الحمد للہ الذی جعل فینا الحکمۃ اھل البیت [129] اس خدا کا شکر ہے جس نے ہم اہل بیت کو حکمت سکھائی۔" شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے محاسن اخلاق پر ایک نہایت جامع بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہاں مناسب ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں: ‘‘بڑے بڑے لوگوں کی سرشت میں جو عظیم الشان اخلاق داخل ہوتے ہیں، مثلاً شجاعت، قوت، حمیت اوروفاوہ سب ان میں موجود تھے اور فیض ربانی نے ان سب کو اپنی مرضی میں صرف کیا اوران کے ایک ایک خلق کے ساتھ اس فیضِ ربانی کی آمیزش سے ایک ایک مقام پیدا ہوا، ریاض النضرہ میں ہے کہ جب وہ راہ چلتے تھے تو ادھر ادھر جھکے ہوئے چلتے تھے، اورجب کسی کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے تو وہ سانس تک نہیں لےسکتا تھا، وہ تقریباً فربہ اندام تھے، ان کی کلائیاں اور ان کے ہاتھ مضبوط تھے اور دل کے مضبوط تھے، جس شخص سے کشتی لڑتے اس کو پچھاڑ دیتے تھے، بہادر تھے اور جس سے جنگ میں مقابلہ کرتے اس پر غالب آتے تھے۔ ان کے تمام محاسن اخلاق میں ایک وفا تھی اورجب فیض ربانی نے اس کو موہبت کیا تو مقام محبت ان کے لیے ایک مسلمہ چیز بن گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ متواتر طورپر ثابت ہے، فرمایاکہ میں کل ایسے شخص کو جھنڈادوں گا جو اللہ اوراس کے رسول سے محبت کرتا ہے اوراللہ اوراس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دیا۔ ان کے محاسن اخلاق میں ایک خلق، دشمنوں کی مدافعت ومبارزت تھی جسے فیض ربانی نے ان کے سوابق اسلامیہ میں صرف کیا اورآخرت میں اس سےعجیب نتیجہ پیداہوا اوریہ آیت: ھذان خمصان اختصموا ان دونوں فریق نے باہم مخاصمت کی۔ ان کی اوران کے رفقا کی شان میں نازل ہوئی، امام بخاری نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں پہلا شخص ہوں گا جو قیامت کے دن خدا کے سامنے خصوصیت کے لیے دوزانوبیٹھے گا، قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت: ھذان خصمان اختصموا فی ربہم ان دونوں فریق نے اپنے رب کے بارے میں باہم مخاصمت کی۔ ان ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی اوریہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے بدر کے دن باہم مبارزت کی، یعنی حمزہ ؓ، علی ؓ اورعبیدہ بن الحارث ؓ، شیبہ بن ربیعہ ؓ، عتبہ اورولید بن عتبہ۔ ان کے محاسن اخلاق میں ایک خلق ان کی غیر معمولی دلیری تھی، وہ کسی کی بھی پروا نہیں کرتے تھے، لوگوں کی خاطر مدارت میں اپنی خواہش سے باز نہیں آتے تھے، فیض ربانی نے ان کے ان اخلاق سے نہی المنکر اوربیت المال کی حفاظت کا کام لیا، حاکم نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی ہے، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شکایت کی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اورفرمایا‘‘لوگو! علی کی شکایت نہ کرو، خداکی قسم!خداکی ذات اور اس کی راہ کے معاملہ میں وہ کسی قدرسخت ہے"حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کی ذات کے معاملہ میں علی ؓ سخت ہیں۔" ان کے محاسن اخلاق میں ایک خلق اپنی قوم اوراپنے چچازاد بھائی (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی حمیت تھی، وہ ان کے کام کی تکمیل میں نہایت اہتمام کرتے تھے اوران کی مدد میں نہایت ہمت سے کام لیتے تھے، یہ وہ وصف ہے جو اکثر شریفوں میں پیدا ہوتا ہے، جب فیض ربانی نے اعلائے کلمۃ اللہ کا جذبہ ان کے دل میں پیدا کیا تو اس خلق سے کام لیا اوراس عقلی معنی کی شرح و تفسیر جس سے ایک ایسا عجیب مقام پیدا ہوا جس کی تعبیر اخوت رسول، وصی اوروارث وغیرہ متعدد الفاظ سے کی جاتی ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچیرے بھائیوں میں سے ہر ایک سے فرمایا کہ دنیا وآخرت میں تم میں سے کون میرا ولی ہوگا؛لیکن ان سب نے اس بار کے تحمل سے انکار کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ تم دنیاوآخرت میں میرے ولی ہوئے، حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فرماتے تھے کہ خداوند تعالی فرماتا ہے: افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم اگروہ مرگیے یا مارے گئے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ خداکی قسم!جب ہم کو خدانے ہدایت دے دی تو اس کے بعد ہم پیٹھ نہ پھیریں گے خداکی قسم اگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے تو جس چیز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرتے تھے، ہم بھی اس کے لیے لڑیں گے، یہاں تک کہ مرجائیں، خداکی قسم ! میں آپ کا بھائی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا لڑکا ہوں، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کا وارث ہوں، ایسی صورت میں مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق دار کون ہے۔ [130] اسی سے ان دونوں فریق کی جوافراط وتفریط کرتے ہیں غلطی بھی ظاہر ہو گئی، ایک کہتا ہے کہ قوم کی حمایت کے لیے غلبہ کا خواستگار ہونا خلوص نہیں، دوسراکہتا ہے کہ استحقاق خلافت کے لیے اخوت نسبتی شرط ہے۔ ان کے محاسنِ اخلاق میں ایک زہداورشہوت نفسانی سے اجتناب ہے، حضرت امیر معاویہ ؓ نے ضراراسدی سے کہا کہ مجھ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اوصاف بیان کرو، انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین اس سے مجھے معاف فرمائیے، معاویہ ؓ نے اصرار کیا ضراربولے، اگر اصرار ہے تو سنیے وہ بلند حوصلہ اورنہایت قوی تھے، فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلہ کرتے تھے، ان کے ہرجانب سے علم کا سرچشمہ پھوٹتا تھا، ان کے تمام اطراف سے حکمت ٹپکتی تھی، دنیا کی دلفریبی اورشادابی سے وحشت کرتے اوررات کی وحشت ناکی سے انس رکھتے تھے، بڑے رونے والے اوربہت زیادہ غور و فکر کرنے والے تھے، چھوٹالباس اورموٹاجھوٹاکھانا پسندتھا، ہم میں بالکل ہماری طرح رہتے تھے، جب ہم ان سے سوال کرتے تھے تو وہ ہمارا جواب دیتے تھے اورجب ہم ان سے انتظار کی درخواست کرتے تھے تو وہ ہمارا انتظار کرتے تھے، باوجود یکہ اپنی خوش خلقی سے ہم کو اپنے قریب کرلیتے تھے اور وہ خود ہم سے قریب ہوجاتے تھے؛لیکن اس کے باوجود خدا کی قسم ان کی ہیبت سے ہم ان سے گفتگو نہیں کرسکتے تھے، وہ اہل دین کی عزت کرتے تھے، غریبوں کو مقرب بناتے تھے، قوی کو اس کے باطل میں حرص وطمع کا موقع نہیں دیتے تھے، ان کے انصاف سے ضعیف ناامید نہیں ہوتا تھا، میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے ان کو بعض معرکوں میں دیکھا کہ رات گزرچکی ہے، ستارے ڈوب چکے ہیں اور وہ اپنی داڑھی پکڑے ہوئے ایسے مضطرب ہیں جیسے مارگزیدہ مضطرب ہوتا ہے اوراس حالت میں وہ غمژدہ آدمی کی طرح رو رہے ہیں اورکہتے ہیں کہ اے دنیا مجھ کو فریب نہ دے تو مجھ سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہے، یا میری مشتاق ہوتی ہے، افسوس افسوس! میں نے تجھ کو تین طلاقیں دے دی ہیں جس سے رجعت نہیں ہوسکتی، تیری عمر کم اورتیرا مقصدحقیر ہے، آہ!زادراہ کم اورسفر دوردرازکا ہے، راستہ وحشت خیز ہے’’ یہ سن کر امیر معاویہ ؓ روپڑے اورفرمایا خدا ابوالحسن پر رحم کرے، خدا کی قسم!وہ ایسے ہی تھے۔ ان کے محاسن اخلاق میں ایک چیز شبہات سے اجتناب ہے، ان کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم ؓ سے روایت ہے کہ اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس لیموں آجاتے تھے اورحسن ؓ وحسین ؓ ان میں سے کوئی لیموں لے کر کھانے لگتا تو وہ اس کو ان کے ہاتھ سے چھین لیتے اوراس کو تقسیم کرنے کا حکم دیتے تھے، ابوعمروسے روایت ہے کہ وہ فے کی تقسیم میں حضرت ابوبکر ؓ کا طریقہ اختیار کرتے تھے، یعنی جب ان کے پاس آتا تھا تو سب تقسیم کردیتے تھے اور فرماتے اے دنیا میرے سوا کسی اورکو دھوکا دے اورخود اس سے اپنے لیے کوئی چیز انتخاب نہ کرتے تھے اور نہ تقسیم میں اپنے کسی رشتہ دار یا اورعزیز کی تخصیص کرتے تھے، حکومت اورامانت صرف متدین لوگوں کے سپرد کرتے تھے، اورجب یہ معلوم ہوتا کہ کسی نے اس میں خیانت کی ہے تو اس کو لکھتے: قدجاءتکم موعظۃ من ربکم فاو فواالکیل والمیزان بالقسط ولاتدخسوا الناس اشیاء ہم ولا تعثوافی الارض مفسدین بقیۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین وماانا علیکم بحفیظ "تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت آچکی ہے تو ناپ جو کھ کر انصاف کے ساتھ پورا کرو اورلوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اورزمین میں فساد نہ پھیلاؤ، خداکا ثواب تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم ایماندار ہو اورمیں تمہارا نگران نہیں ہوں۔" جب تمہارے پاس میراخط پہنچے تو تمہارے ہاتھ میں جو کام ہے اس وقت تک تم اس کی پوری حفاظت کرو جب تک کہ ہم تمہارے پاس دوسرے شخص کو نہ بھیجیں جو تمہارے ہاتھوں سے لے لے، پھر اپنی نگاہ کو آسمان کی طرف اٹھاتے اورکہتے کہ خداوندتوجانتا ہے کہ میں نے ان کو تیری مخلوق پر ظلم کرنے اورتیرے حق کو چھوڑنے کا حکم نہیں دیاہے۔ مجع التمیمی سے روایت ہے کہ بیت المال میں جو کچھ تھا اس کو حضرت علی ؓ نے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا، پھر حکم دیا کہ اس میں جھاڑودے دی جائے اوراس میں نماز پڑھی تاکہ قیامت کے دن ان کی گواہ رہے۔ حضرت کلیب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس اصفہان سے مال آیا تو انہوں نے اس کے ساتھ حصے کیے، اس میں ایک روٹی بھی تھی اس کے بھی سات ٹکڑے کیے اورہر حصے پر ایک ایک ٹکڑاتقسیم کیا، پھر قرعہ ڈالاکہ ان میں کس کوکون ساحصہ دیا جائے۔ ان کے محاسنِ اخلاق میں ایک چیز یہ ہے کہ وہ معاش کی تنگی پر صبر کرتے تھے اوراس کو اپنے لیے گوارا کرلیتے تھے، خود ان سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ ہمارے گھر میں آئیں تو ہمارے بچھانے کے لیے صرف مینڈھے کی ایک کھال تھی، ضمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کا کام اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کے متعلق کیا تھا اوربیرونی انتظامات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد کیے تھے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح کیا تو جہیز میں ایک چادر، چمڑے کا ایک گدا جس میں کھجور کی پتیاں بھری ہوئی تھیں، ایک چکی، ایک مشک اوردو گھڑے دیے، ایک دن حضرت علی ؓ نے حضرت فاطمہ ؓ سے کہا کہ پانی بھرتے بھرتے میرا سینہ درد کرنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لونڈی غلام آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادم کی درخواست کرو، انہوں نے کہا کہ آٹا پیستے پیستے میرے ہاتھوں میں بھی آبلے پڑ گئے؛چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، بیٹی کس غرض سے آئی ہو؟ بولیں سلام کرنے؛لیکن سوال کرنے سے ان کو شرم آئی اور واپس چلی گئیں، حضرت علی ؓ نے پوچھا، تم نے کیا کیا؟ بولیں سوال کرنے میں مجھے شرم آئی، دوبارہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ پانی بھرتے بھرتے میرا سینہ درد کرنے لگا اورحضرت فاطمہ ؓ نے کہا کہ آٹا پیستے پیستے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، خدانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لونڈی غلام اورمال بھیجا ہے، ہم کو بھی ایک خادم عنایت ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ میں تم کو دوں اوراہل صفہ کو فاقہ مستی کی حالت میں چھوڑدوں میں ان لونڈی غلاموں کو فروخت کرکے ان کی قیمت ان پر صرف کروں گا، یہ جواب پاکر دونوں لوٹ آئے، ان کی واپسی کے بعدخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اورحضرت فاطمہ ؓ چادر اوڑھ کر سوچکی تھیں، یہ چادر اتنی چھوٹی تھی کہ جب سرڈھکتے تھے تو پاؤں اورجب پاؤں ڈھکتے تھے تو سرکھل جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے پر دونوں اُٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم کو میں ایسی چیز نہ بتلادوں جو اس چیز سے بہتر ہے جس چیز کو تم مجھ سے مانگ سکتے ہو، دونوں نے کہا، ہاں!فرمایا، مجھ کو جبرئیل نے چند کلمے سکھائے اورکہا کہ دونوں ہر نماز کےبعد دس بار تسبیح اور دس بار تحمید اوردس بار تکبیر کہہ لیا کرو، اس طرح تم دونوں سوتے وقت 33 بار تحمید اور34 بار تکبیر کہہ لیا کرو، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بیان ہے کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یہ کلمے سکھائے، اس وقت سے میں نے ان کو نہیں چھوڑا، ابن کواء نے کہا کہ صفین کی رات میں بھی نہیں؟فرمایا، نہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بیان ہے کہ مدینہ میں ایک مرتبہ مجھے سخت بھوک لگی، کھانے کو کچھ نہ تھا اس لیے عوالی میں مزدوری کی تلاش میں نکلا، ایک عورت ملی، جس نے ڈھیلے اکھٹے کیے تھے، میں نے خیال کیا کہ غالبا ان کو وہ بھگوانا چاہتی ہے؛چنانچہ میں نے ہر ڈول پر ایک کھجور اجرت طے کی اور 16 ڈول پانی بھرے جس سے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، اس نے مجھے سولہ کھجوریں گن کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ ہوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو میرے ساتھ کھایا۔ [131]

خانگی زندگی

حضرت علی ؓ کی مستقل خانہ داری کی زندگی اس وقت سے شروع ہوئی؛ جبکہ سیدہ جنت حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ ایک علاحدہ مکان میں رہنے لگے، اس سے پہلے آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے کسب معاش کے لیے آپ کو کسی جدوجہد کی ضرورت نہ پڑتی تھی، ہجرت کے بعد جب حضرت فاطمہ ؓ سے شادی قرارپائی تو ولیمہ کی فکر دامن گیر ہوئی؛چنانچہ قرب وجوار کے جنگل سے اونٹ پر گھاس لاکر بیچنے کا ارادہ کیا، حضرت حمزہ ؓ نے ایک روز ان کی اجازت کے بغیر اونٹ کو ذبح کرکے لوگوں کو کھلادیا، حضرت علی ؓ نے دیکھا تو نہایت صدمہ ہوا، کیونکہ آپ کے پاس صرف دواونٹ تھے، [132]آخر زرہ بیچ کر سامان کیا، اس زرہ کی قیمت بھی روپیہ سواروپیہ سے زیادہ نہ تھی۔ شادی کے بعد جب علاحدہ مکان میں رہنے لگے تو حصول معاش کی فکر لاحق ہوئی، چونکہ شروع سے اس وقت تک آپ کی زندگی سپاہیانہ کاموں میں بسر ہوئی تھی اس لیے کسی قسم کا سرمایہ پاس نہ تھا، محنت مزدوری اورجہاد کے مالِ غنیمت پر گزراوقات تھی، خیبر فتح ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک قطعہ زمین جاگیر کے طورپر عنایت فرمایا، حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت میں باغ فدک کا انتظام بھی ان کے حوالہ کر دیا اور دوسرے صحابہ ؓ کی طرح ان کے لیے بھی پانچ ہزار درہم (ایک ہزارروپیہ) سالانہ کا وظیفہ مقرر فرمایا، خلیفہ ثالث کے بعد جب مسند نشین خلافت ہوئے تو بیت المال سے بقدر کفاف روزینہ مقرر ہو گیا جس پر آخری لمحہ حیات تک قانع رہے۔ مسند کی ایک روایت میں ہے حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا اور آج میرا یہ حال ہے کہ چالیس ہزار سالانہ میری زکوٰۃ کی رقم ہوتی ہے۔[133] اس واقعہ میں اورآپ کی عسرت اورفقروفاقہ کی روایتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، اس لیے کہ آپ کی اس آمدنی کا بڑا حصہ خدا کی راہ میں صرف ہوتا تھا اورتمول کے دور میں بھی ذاتی اورخانگی فقروفاقہ کا وہی عالم رہتا تھا۔ کبھی کبھی خانہ داری کے معاملات میں حضرت فاطمہ ؓ سے رنجش بھی ہوجاتی تھی؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ درمیان میں پڑ کر صفائی کرادیتے تھے، ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے ان پر کچھ سختی کی، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر چلیں، پیچھے پیچھے حضرت علی ؓ بھی آئے، حضرت فاطمہ ؓ نے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابیٹی!تم کو خود سمجھنا چاہیے کہ کون شوہر اپنی بی بی کے پاس خاموش چلا آتا ہے؟ حضرت علی ؓ نہایت متاثر ہوئے اور انہوں نے حضرت فاطمہ ؓ سے کہا اب میں تمہارے خلافِ مزاج کوئی بات نہ کروں گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی تو حضرت فاطمہ ؓ کو اس قدر غم ہواکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد صرف چھہ مہینے زندہ رہیں اوراس عرصہ میں ایک لمحہ کے لیے بھی ان کا دل پثر مردہ شگفتہ نہ ہوا، حضرت علی ؓ بھی ان کی دلدہی اور تسلی کے خیال سے خانہ نشین رہے اورجب تک وہ زندہ رہیں گھر سے باہر قدم نہ رکھا، حضرت فاطمہ ؓ کے بعد متعدد شادیاں کیں اوران بیویوں سے بھی لطف ومحبت کے ساتھ پیش آئے، دوسری بیویوں سے جو اولادیں تھیں ان میں حضرت محمد بن حنیفہ ؓ سے بھی نہایت محبت تھی؛چنانچہ وفات کے وقت حضرت امام حسن ؓ سے ان کے ساتھ لطف ومحبت سے پیش آنے کی خاص طورپر وصیت فرمائی تھی۔

غذا ولباس

حضرت علی ؓ کے غیر معمولی زہد وورع نے ان کی معاشرت کو نہایت سادہ بنادیا تھا، کھانا عموماًروکھا پھیکا کھاتے تھے، عمدہ لباس اور قیمتی لباس سے بھی شو ق نہ تھا، عمامہ بہت پسند کرتے تھے؛چنانچہ فرمایا کرتے تھے‘‘ العمامۃ یتجان العرب’’ یعنی عمامے عربوں کے تاج ہیں کبھی کبھی سپیدٹوپی بھی پہنتے تھے، کرتے کی آستین اس قدر چھوٹی ہوتی کہ اکثر ہاتھ آدھے کھلے رہتے تھے، تہبند بھی نصف ساق تک ہوتی تھی کبھی صرف ایک تہبند اورایک چادر ہی پر قناعت کرتے اوراسی حالت میں فرائض خلافت ادا کرنے کے لیے کوڑا لے کر بازار میں گشت کرتے نظر آتے تھے، غرض آپ کو ظاہری طمطراق کا مطلق شوق نہ تھا، پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے، لوگوں نے اس کے متعلق عرض کیا تو فرمایا یہ دل میں خشوع پیدا کرتا ہےاور مسلمانوں کے لیے ایک اچھا نمونہ ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں، بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے اوراس پر‘‘اللہ الملک’’ نقش تھا۔ حضرت علی ؓ پر سردی گرمی کا کچھ اثر نہ ہوتا تھا کیونکہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ٔخیبر میں ان کے لیے دعافرمائی تھی، اللہم اذھب عنہ الحر والبرد یعنی اس سے گرمی وسردی دورکر، اس کا یہ اثر تھا کہ وہ جاڑے کا کپڑا گرمی میں اور گرمی کا کپڑا جاڑے میں زیب تن فرماتے اوراس سےکوئی تکلیف نہ ہوتی۔ [134]

حلیہ

قدمیانہ، رنگ گندم گوں، آنکھیں بڑی بڑی، چہرہ پررونق وخوبصورت، سینہ چوڑا اس پر بال، بازو اورتمام بدن گٹھا ہوا، پیٹ بڑا اورنکلاہوا، سر میں بال نہ تھے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ سر کے بال کے نیچے نجاست ہوتی ہے اسی لیے میں بالوں کا دشمن ہوں، ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آپ کے دوگیسو پڑے دیکھے، مگرزیادہ مشہور یہی ہے کہ آپ کے سر میں بال نہ تھے، ریش مبارک بڑی اور اتنی چوڑی تھی کہ ایک مونڈے سے دوسرے مونڈھے تک پھیلی تھی، آخر میں بال بالکل سپید ہو گئے تھے اورشاید تمام عمر میں ایک مرتبہ بالوں میں مہندی کا خضاب کیا تھا۔

ازواج واولاد

سیدہ جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ کے بعد جناب مرتضیٰ ؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور ان سے نہایت کثرت کے ساتھ اولاد ہوئیں، تفصیل حسب ذیل ہے:

حضرت فاطمہ ؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، ان سے ذکور میں حسن، حسین، محسن اور لڑکیوں میں زینب کبریٰ اورام کلثوم کبری ٰپیدا ہوئیں، محسن ؓ نےبچپن ہی میں وفات پائی۔

ام النبین بن حزام

ان سے عباس، جعفر، عبد اللہ اورعثمان پیدا ہوئے، ان میں سے عباس کے علاوہ سب حضرت امام حسین کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے۔ لیلیٰ بن مسعود: انہوں نے عبید اللہ اورابوبکر کو یادگارچھوڑا؛لیکن ایک روایت کے مطابق یہ دونوں بھی حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ شہید ہوئے۔

اسماء بنت عمیس

ان سے یحییٰ اورمحمد اصغر پیدا ہوئے

صہبا یاام حبیب بنت ربیعہ

یہ ام ولد تھیں، ان سے عمر اوررقیہ پیداہوئیں، عمر نے نہایت طویل عمر پائی اور تقریباً پچاس برس کے سن میں ینبوع میں وفات پائی۔ امامہ بنت ابی العاص:یہ حضرت زینب ؓ کی صاحبزادی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، ان سے محمد اوسط تولد ہوئے۔

خولہ بنت جعفر

محمد بن علی، جو محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں، ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔

ام سعید بنت عروہ

ان سے ام الحسن اوررملۂ کبریٰ پیدا ہوئیں۔

محیاۃ بنت امرء القیس

ان سے ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی، مگر بچپن ہی میں قضا کر گئی۔

لونڈیوں سے دیگر اولاد

متذکرہ بالابیویوں کے علاوہ متعدد لونڈیاں بھی تھیں اوران سے حسب ذیل لڑکیاں تولد ہوئیں: ام ہانی، میمونہ، زینب صغریٰ، رملہ صغریٰ، ام کلثوم صغریٰ، فاطمہ، امامہ، خدیجہ ام الکرام، ام سلمہ، ام جعفر، جمانہ، نفیسہ۔ غرض حضرت علی ؓ کے سترہ لڑکیاں اورچودہ لڑکے تھے، جن سے سلسلہ نسل جاری رہا، ان کے نام یہ ہیں: امام حسن، امام حسین، محمد بن حنفیہ، عمر (رضی اللہ عنہم)۔

حوالہ جات

  1. مجموع الفتاوى، ابن تيمية، (27 / 446)
  2. وفيات الأعيان، ابن خلكان، (4 / 55)
  3. تاريخ بغداد، الخطيب البغدادي، (1 / 136)
  4. ^ ا ب "Alī ibn Abu Talib". Encyclopædia Iranica. 29 اپریل 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2010. 
  5. Al-Islam. "The Life of the Commander of the Faithful Ali Ibn Abu Talib (as)". اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2015. 
  6. Biographies of the Prophet's companions and their successors, Ṭabarī، translated by Ella Landau-Tasseron, pp. 37–40, Vol:XXXIX.
  7. ^ ا ب پ ت Nasr، Seyyed Hossein. "Ali". Encyclopædia Britannica Online. Encyclopædia Britannica, Inc. 18 اکتوبر 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 اکتوبر 2007. 
  8. Sallabi، Dr Ali M (2011). Ali ibn Abi Talib (volume 1). صفحات 52–53. 
  9. Sahih Muslim, Book 21, Hadith 57.
  10. Kelen 2001, p. 29۔
  11. Watt 1953, p. xii۔
  12. The First Muslims www.al-islam.org اخذکردہ بتاریخ 23 نومبر 2017
  13. Razwy، Sayed Ali Asgher. A Restatement of the History of Islam & Muslims. صفحہ 72. 
  14. Ashraf 2005, p. 119 and 120
  15. Madelung 1997, pp. 141–145
  16. Lapidus 2002, p. 47۔
  17. Holt, Lambton & Lewis 1970, pp. 70–72۔
  18. Tabatabaei 1979, pp. 50–75 and 192۔
  19. ^ ا ب Gleave، Robert M. "Ali ibn Abi Talib". Encyclopaedia of Islam, THREE. Brill Online. 2 اپریل 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 29 مارچ 2013. 
  20. Dakake 2008, pp. 34–39۔
  21. Veccia Vaglieri، Laura. "G̲h̲adīr K̲h̲umm". Encyclopædia of Islam, Second Edition. Brill Online. مارچ 31, 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2013. 
  22. "'ONLY AS RIGHTS EQUALLY APPLIED CAN THEY BE RIGHTS UNIVERSALLY ACCEPTED'، SECRETARY-GENERAL SAYS IN STATEMENT AT UNIVERSITY OF TEHRAN". United Nations. United Nations. 
  23. "World Philosophy Day 2014 – Contribution of Ali ibn Abi Talib's thought to a culture of peace and intercultural dialogue". UNESCO. 
  24. "Kofi Annan, former Secretary-General of the United Nations, says the caliph Ali ibn Abi Talib is the fairest governor appeared in human history after the Prophet Muhammad". International Council Supporting Fair Trial and Human Rights. ICSFT.  Archived at the Wayback Machine
  25. Rizvi، Rizwan. "Faith Matters: Ali ibn Abi Talib: A Leader and a Noble Example for Humanity!". Franklin Reporter & Advocate. The Franklin Reporter & Advocate, L.L.C. اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2019. 
  26. (صحیح مسلم کتاب الجہاد باب غزوہ ذی قردوغیرہا)
  27. (سیرت ابن ہشام ج1 : 228)
  28. ( ترجمہ اسدالغابہ ج 5 : 517)
  29. (زرقافی جلد 1 : 280)
  30. (اسد الغابہ تذکرہ حضرت علی ؓ)
  31. (طبری : 1272)
  32. (ابن سعد تذکرہ علی ؓ : 13)
  33. (ایضاً)
  34. (زرقابی ج1 : 426)
  35. (دیکھو سیرت ابن ہشام غزوہ بدر)
  36. (زرقانی ج 2 : 4)
  37. ( اصابہ ج 8 : 158)
  38. (زرقانی ج2 : 8)
  39. (بخاری باب غزوہ احد)
  40. ( سیرت ابن ہشام، 2/98)
  41. (ایضاً کتاب المغازی غزوہ خیبر)
  42. (ایضاً)
  43. (صحیح بخاری جلد 2 : 103 مطبوعہ مصر باب غزوہ ذی قرو)
  44. ( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ فتح)
  45. ( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ فتح)
  46. (بنی اسرائیل:81)
  47. (ایضاً)
  48. (فتح الباری ج8 : 46)
  49. ( سیرت ابن ہشام ج2 : 267 ومستدرک حاکم ج 3 : 109)
  50. ( بخاری کتاب المناقب مناقب علی ؓ)
  51. ( سیرت ابن ہشام ج 2 : 342)
  52. ( زرقانی، 3 / 122)
  53. ( فتح الباری ج8 : 152)
  54. (صحیح بخاری باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
  55. ( مستدرک حاکم ج 3 : 111)
  56. (بخاری غزوہ خیبر)
  57. (تاریخ ابن خلدون ج2 : 102 وطبری فتح المقدس)
  58. ( تاریخ طبری : 2938)
  59. ( ابن ثیر جلد 3 : 129)
  60. (طبری : 3010)
  61. ( طبری : 3098)
  62. ( مستدرک حاکم ج 3 : 1366)
  63. (طبری 3186 ومستدرک حاکم ج 3 : 366)
  64. (طبری : 3255)
  65. (ابن اثیر جلد 3 : 335)
  66. (زمر:65 )
  67. (فتوح البلدان بلاذری باب سیستان وکابل)
  68. ( ایضاً ذکر فتوح السند)
  69. (طبری : 2457، 2458)
  70. (ایضاًص 2461)
  71. (طبری : 380)
  72. ( کتاب الخراج قاضی ابو یوسف ومصنف ابن ابی شیبہ کتاب الغزوات)
  73. (کتاب الخراج : 79)
  74. (ایضاً :3453)
  75. ( کتاب الخراج ص 50)
  76. (کتاب الخراج : 50)
  77. ( ایضاً : 44)
  78. (طبری : 345)
  79. (کتاب الخراج : 99 اور سنن ابی داؤد کتاب الحدود)
  80. (کتاب الخراج : 98)
  81. (ایضاً : 103)
  82. (کتاب الخراج : 104)
  83. (ایضاً : 100)
  84. (کتاب الخراج : 85)
  85. (ایضاً : 85)
  86. ( ازالۃ الخفاء ج اول : 83)
  87. ( ایضاً ج2 : 220)
  88. (مسند ج ا : 83)
  89. (ایضاً : 85)
  90. (ایضاً : 79)
  91. مستدرک ج 3 : 492،
  92. (فتوح البلدان بلاذری : 477)
  93. ( ابن سعد جرثانی قسم ثانی : 101)
  94. (النساء:35)
  95. (مسند ابن حنبل ج اول : 86)
  96. (صحیح بخاری کتاب الدیات حنبل ج اول : 79، 100)
  97. (ازالۃ الخفاء : 255)
  98. (صحیح بخاری کتاب العلم باب کتاتہ العلم ج 2 وکتاب الاعتصام ومسند ابن حنبل ج 1 : 709)
  99. ( مسند ابن حنبل ج 1 : 140)
  100. (مسند امام ابی عبد اللہ احمد بن حنبل ج 1 : 100
  101. ( مسند ابن حنبل ج1 : 96 وج 6 : 55)
  102. (طبقات ابن سعد ج 2 قسم 2 : 102)
  103. (مسند ابن حنبل ج اول : 83 وحاکم ج 3 : 135)
  104. (مسند ابن حنبل ج اول : 96،143)
  105. ( ایضاً : 140)
  106. (تاریخ الخلفاء بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ)
  107. ( مستدرک حاکم ج 3 : 135)
  108. (مسند ابن حنبل ج اول : 77)
  109. (تاریخ الخلفاء سیوطی بروایت زربن حیش)
  110. (ایضاً بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ)
  111. ( مقدمہ صحیح مسلم)
  112. (کتاب العلم)
  113. (جلداول ص 114)
  114. (ازالۃ الخفاء : 274)
  115. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر1713
  116. (اسدالغابہ ج4 : 19)
  117. (ازالۃ الخفاء بحوالہ ابن ابی شیبہ)
  118. ( ایضاً ابوعمر : 266)
  119. (مسند ابن حنبل ص 135 )
  120. ( مسند احمد ج1 : 78)
  121. (بخاری، بَاب التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ الْمَنَامِ، حدیث نبمر:5843)
  122. (الفتح:29)
  123. (ترمذی کتاب المناقب فضل فاطمہ)
  124. (مستدرک حاکم ج3 : 108)
  125. (مسند ابن حنبل ج1 : 107)
  126. (بخاری کتاب المناقب، مناقب علی ؓ)
  127. (بخاری کتاب المناقب باب مناقب علی ؓ)
  128. (مستدرک ج3 : 367)
  129. (ازالۃ الخفاء : 269)
  130. (مستدرک کی روایت اور ازالۃ الخفاکی روایت میں تھوڑا سافرق ہے، اس ترجمہ میں اصل مستدرک کی روایت کا لحاظ رکھا گیا ہے)
  131. (ازالۃ الخفاء کا خلاصہ ختم ہوا)
  132. (ابوداؤد کتاب الخراج والامارۃ باب فی بیان مواضع قسم الخمس)
  133. (مسند ابن حنبل ج1 : 159)
  134. (مسند احمد ج 1 :99)

بیرونی روابط

حضرت علی کے کچھ خصوصی خطوط
شیعہ مکتب فکر
اہلسنت مکتب فکر
علی ابن ابی طالب
سردار بنو ہاشم 653ء سے
چھوٹی شاخ بنو قریش
پیدائش: 23 اکتوبر 598ء وفات: 28 فروری 661ء
مناصب اہل تشیع
ماقبل 
محمد
مہر نبوت — آخری نبی
شیعہ مکتبہ فکر کے پہلے امام
632ء661ء
مابعد 
حسن بن علی
مناصب سنت
ماقبل 
عثمان بن عفان
اہلسنت مکتبہ فکر کے چوتھے خلیفہ راشد
565ء661ء
مابعد 
حسن بن علی