منبر رسول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

منبر ایک اونچا اسٹیج سا یا وہ مقام ہوتا ہے جس پہ اسلامی تعلیمات بیان کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا منبر کا ذکر بھی بکثرت کتب میں ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپﷺ کوئی معذبی خطبہ دیتے تو آپﷺ کا منبر مبارک لرز پڑتا اور اللہ کے ڈر سے ہلتا ۔

مقالات بسلسلۂ
محمد ﷺ
محمد
Mohammad SAV.svg
باب محمد


{{محمد2}

سانچہ:منبر رسول نبی کریم ﷺاپنی مسجد میں خطبہ ارشاد فرماتے وقت کھجور کے تنے کے سہارے کھڑے ہوتے تھے۔کبھی کبھی خطبہ لمبا ہو جاتا تھا ۔اس لیے 8ہجری میں ایک انصاری صحابیہ عورتؓ نے آپ ﷺکی سہولت کے لیے گزارش کی ”اے اللہ رسول ﷺ!کیا ہم آپ ﷺکے لیے ایک منبر نہ بنا دیں،،؟ رسول اللہ ﷺنے اس تجویز سے اتفاق فرمایا،توآپ ﷺکے لیے جھاؤ کی لکڑی سے تین سیڑھیوں والا منبر تیارتیار کیا گیا ۔ یہ منبرمصلیٰ نبوی کے دائیں جانب رکھا گیا،اور اس کی لمبائی تین ہاتھ ایک بالشت تین انگلی تھی۔(عمدۃ القاری،زادالمعاد نبی کریم ﷺتیسری سیڑھی پرتشریف فرماتے تھے اور پاؤں مبارک دوسری سیڑھی پر رکھتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓکا جب زمانہ آیا تو حضرت ابوبکرؓ دوسری سیڑھی پر بیٹھتے اور پاؤں پہلی سیڑھی پر رکھتے تھے (ادباً آپ ﷺ کے مقام پر نہیں بیٹھتے تھے)حضرت عمر فاروق ؓ کا جب زمانہ آیا تو حضرت عمر ؓ پہلی سیڑھی پر بیٹھتے تھے اور پاؤں زمین پر رکھتے،اور خطبہ کے وقت پہلی سیڑھی پر کھڑے ہوتے تھے(دوسری سیڑھی کو ادباًچھوڑ دیتے تھے)۔ پھر حضرت عثمان غنی ؓ کازمانہ آیا تو کچھ عرصہ حضرت عثمان ؓ حضرت عمر ؓ کی طرح پہلی سیڑھی پر بیٹھتے اور خطبہ کے وقت اسی سیڑھی پر کھڑے ہوتے رہے،پھر انہوں نے منبر کے نیچے ایک سیڑھی کا اضافہ کیا اور اسی پر بیٹھتے تھے اور تینوں سیڑھیوں کو ادباً چھوڑ دیتے تھے۔(کشف الغمہ) جب حضرت امیر معاویہ ؓ اپنے زمانہ میں حج کو آئے تو انہوں نے منبر کی سیڑھیوں میں اضافہ کر دیا۔لیکن اصل منبر نبوی کو اضافہ کے اوپر ہی رکھا گیا اس طرح بیٹھنے والی جگہ سمیت منبر کی نو سیڑھیاں بن گئیں۔ خلفاء ساتویں سیڑھی پر بیٹھتے تھے جو اصل منبر نبوی کی پہلی سیڑھی تھی۔ (جہاں سیدنا عمر ؓ بیٹھتے تھے)پھر منبر اسی حالت میں رہا حتیٰ کہ654ھ(1256ء)میں مسجد نبوی میں آگ لگنے کے واقعہ میں منبر جل گیا، اور امت اس کی برکات سے محروم ہوگئی۔ اس کی جگہ یمن کے بادشاہ ملک مظفر کا بنا منبر رکھا گیا۔ منبر کی تبدیلی کئی دفعہ ہوئی۔آخری منبر سلطان مراد ثالث عثمانی 998ھ میں بطور تحفہ بھیجا جو انتہائی خوبصورت اور کاریگری کا بہترین نمونہ ہے۔یہ منبر اب بھی مسجد نبوی میں موجود ہے۔(تاریخ مسجد نبوی شریف، محمد الیاس عبد الغنی) سانچہ:منبرکے بارے میں نبی کریم ﷺ کے فرمودت اس کے بلند مرتبے کو واضح کرتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے گھر اور منبر کا درمیانی ٹکڑا جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور (قیامت کے دن)میرا منبر حوض (کوثر) پر ہوگا۔(بخاری، مسلم)) سیدنا جابر ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ: ”جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا،خواہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے بارے میں ہو،وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنائے گا (یافرمایا)اس کے لیے جہنم میں جانا لازم ہو جائے گا۔“(سنن ابو داود) حافظ اکرام الحق چوہدری