ابو طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


حضرت ابو طالب بن عبد المطلب ( عربی: أبو طالب بن عبد المطلب‎ 549ء تا 619ء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا اور حضرت علی علیہ السلام کے والد تھے۔ ان کا نام عمران اور کنیت ابوطالب تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی والدہ حضرت آمنہ بنت وھب علیہا السلام اور دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے آپ کے زیر کفالت رہے۔ آپ نے ایک بار شام اور بصرہ کا تجارتی سفر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ بحیرا راہب کا مشہور واقعہ، جس میں راہب نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبوت کی نشانیاں دیکھ کر پہچان لیا تھا، اسی سفر کے دوران میں پیش آیا تھا۔

خاندان[ترمیم]

آپ کے والد کا نام عبدالمطلب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب کے واحد سگے بھائی تھے چونکہ دیگر کی والدہ مختلف تھیں۔[1]

قبولیتِ اسلام و ایمان[ترمیم]

آپ نے اسلام قبول کیا یا نہیں، ایک متنازع موضوع ہے۔ آپ نے تاحیات اشاعت اسلام میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا اور ان کی بت پرستی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی جبکہ سیرت ابن ھشام میں ان کے کلمہ پڑھنے کا ذکر ہے . حضرت عبدالمطلب کی وفات (578ء) کے بعد انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش کی۔ آپ کی تقلید میں ابولہب کے سوا باقی تمام بنو ہاشم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پشت پناہ بنے رہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاطر بڑی سختیاں جھیلیں۔ حضرت خدیجہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح انہوں نے ہی پڑھایا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا ۔[2] سیرت ابن ہشام کے مطابق وفات کے قریب آپ نے کلمہ اسلام زبان پر جاری کیا تھا۔[3] تاہم کئی مؤرخین ان کے قبول اسلام کو مستند نہیں سمجھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح پڑھانے کو قبولیت اسلام کی دلیل نہیں سمجھتے۔ [حوالہ درکار] ایمان حضرت ابو طالب علیہ السلام پر علامہ صائم چشتی اور ڈاکٹر طاہر القادری نے بڑے سکہ بند حوالوں کے ساتھ کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان اعتراضات کا جواب دیا ہے جو ایمان ابوطالب پر کیے جاتے ہیں۔ دونوں علماء مسلک اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کتب کے مطابق حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کےدس بیٹے تھے جن میں حضرت عبداللہ علیہ السلام آخری نمبر پر تھے اور سب بھائیوں میں بہت زیادہ خوبصورت اور خوب سیرت تھے۔ ان کو انتقال حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ جب ہاشمی خاندان میں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کفالت کا معاملہ اٹھا تو حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے سامنے بٹھایا اور ان سب کے دلوں پر روحانی نظر دوڑائی اور حضرت ابو طالب علیہ السلام کو اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے میرے بیٹے میں نے تیرے دل میں اپنے پوتے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کو دیکھا ہے اس لیے اس کی کفالت تمہارے ذمے ہے اس دن سے حضرت ابوطالب علیہ السلام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی کفالت میں لے لیا اور آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش شروع کردی ۔ آپ علیہ السلام کسی بھی وقت اپنے بھتیجے کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا بھی آقا درود سے والہانہ محبت کرتی تھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ان انقال ہوا توآقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو دفن کرنے سے پہلے ان کی قبر مبارک میں لیٹے اور اپنی نورانی چادر ان کے کفن کیساتھ لگا کر انکو دفن کیا گیا۔ جب آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس دنیا میں ظہور ہو تو آقا درود کا نام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) حضرت عبدالمطلب اور حضرت ابو طالب علیہ السلام نے تجویز فرمایا جبکہ آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ میرا نام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) عرش معلیٰ پر نور کے ستر ہزار حجابات میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔

ایمان ابوطالب پر اثباتی دلیلیں[ترمیم]

  • اسلام سے پہلے آپ دین ابراہیم علیہ السلام پر تھے چنانچہ ان کی بت پرستی کی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی۔
  • آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح پڑھایا تھا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا تھا۔ اللہ کا نام وہ لوگ استعمال کرتے تھے جو دینِ ابراہیمی پر عمل کرتے تھے۔
  • ان کی زوجہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تو ان کا نکاح فسخ نہ ہوا جبکہ اگر کسی مشرک یا کافر کی زوجہ اسلام قبول کرتی تو اس کی شادی فسخ ہو جاتی۔
  • آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مسلمان ہونے پر کچھ نہ کہا حالانکہ وہ سن و سال میں چھوٹے تھے۔
  • آپ کے اشعار جو سیرت ابن اسحاق، سیرت ابن ہشام، تاریخ طبری وغیرہ کے علاوہ عربی ادب میں عموماً ملتے ہیں، آپ کے ایمان پر سند ہیں۔
  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلام کے عمومی اعلان کے بعد بھی حضرت ابو طالب کے دسترخوان پر کھانا کھاتے جبکہ کسی مشرک و کافر کے ساتھ نہ کھاتے۔
  • جس سال حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید دکھ ہوا اور انہوں نے اس سال کا نام عام الحزن رکھا یعنی غم کا سال
  • حضرت ابوطالب نے ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کی یہاں تک کہ ان کے بستر پر بدل بدل کر اپنے بیٹوں خصوصاً حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سلاتے تاکہ قریش حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ یہ بھتیجے کی محبت کے علاوہ اسلام سے بھی محبت کا ثبوت ہے کیونکہ بھتیجے کی محبت بیٹوں سے فوقیت نہیں رکھتی
  • سیرت ابن ہشام و سیرت ابن اسحاق کے مطابق وفات کے وقت ایک صحابی نے کان لگا کر سنا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہا کہ خدا کی قسم یہ وہی کلمات کہہ رہے ہیں جو اس سے قبل آپ ان کو کہنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کلمہ پڑھنے کو کہا تھا۔

ایمان ابوطالب پر نفی کی دلیلیں[ترمیم]

ایمان ابوطالب پر یقین نہ کرنے والے درج ذیل عمومی دلیلیں دیتے ہیں۔

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح بے شک آپ ہی نے پڑھایا۔ تا ہم یہ خطبہ نکاح آج کل کے خطبہ نکاح کی طرح نہ تھا اس میں نہ تو لاالہ الا اللہ کا اقرار ہوتا تھا اور نہ ہی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہوتا تھا لہزا اس نکاح پڑھانا آپ کے ایمان لانے کی دلیل نہیں بن سکتا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوت ِ اسلام نہیں دی تھی۔ اس لئے اس وقت تک کوئی کافر نہیں کہلایا جاسکتا تھا۔ دعوت ِ اسلام کے بعد ہی اسلام اور کفر کا فرق واضح ہوا جس نے کلم کا اقرار کیا صرف وہ ہی مسلمان کہلائے جانے کا حقدار ہوا۔
  • دوسری وجہ جو ان کی قبول اسلام کی نفی کرتی ہے وہ یہ کہ و کفار مکہ نے اس وقت مسلمانوں کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا تھا مگر انہوں نے کبھی آپ کو مسلمان سمجھ کر کوئی تکلیف نہ پحنچائی۔ بت پرستی کا مخالف نہیں سمجھا حالانکہ آپ کے صاحبزادے حضرت جعفر طیار کو ان ہی کفار نے ہجرت پر مجبور کر دیا تھا۔
  • آپ کے دو صاحبزادے حضرت جعفر اور اور حضرت علی جو کی حضرت عباس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیر کفالت تھے [حوالہ درکار] ابتدا ہی میں دولت اسلام سے سرفراز ہوئے اور بقیہ دو صاحبزادے جو آپ کے ہمراہ رہا کرتے تھے ان میں حضرت عقیل فتح مکہ پر مسلمان ہوئے اور چوتھا بیٹا طالب (جس کے نام پر آپ کی کنیت ابو طالب تھی) ‏غزوہ بدر میں کفر کی طرف سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ [حوالہ درکار] اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کے گھر کا ماحول کس حد تک مومنانہ تھا۔a

ابوطالب بن عبدالمطلب کے اشعار[ترمیم]

حضرت ابوطالب شاعر تھے اور ان کے بے شمار اشعار تاریخ میں ملتے ہیں۔ ان کا ایک قصیدہ بہت مشہور ہے جس کا ابن کثیر نے تذکرہ و تعریف کی ہے۔ یہ سو سے زیادہ اشعار پر مشتمل ہے اور تمام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح و ثنا میں ہے۔ ایک شعر کا ترجمہ کچھ یوں ہے : میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا سچا جانثار ہوں۔اور انہیں اللہ کا سچا رسول مانتا ہوں۔ خدا نے انہیں دنیا کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ کوئی ان کا مثل نہیں ہے۔ ان کا معبود ایسا ہے جو ایک لمحہ کے لیے بھی ان سے غافل نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ممتاز ہے کہ ہر بلندی اس کے آگے پست ہے۔ اور اس کی حفاظت کے لیے ہم نے اپنے سینوں کو سپر بنا لیا ہے۔ خدا اس کو اپنی حمایت و حفاظت میں رکھے اور اس کے نہ مٹنے والے دین کو دنیا پر غالب کر دے۔

تاریخ ابوالفداء میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ ابوالفداء کے دیے ہوئے اشعار میں سے ایک کا ترجمہ یہ ہے: بخدا کفارِ قریش اپنی جماعت سمیت تم (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں زمین میں دفن نہ ہوجاؤں۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم کو جو خدا کا حکم ہے اس کا بے خوف اعلان کرو۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم نے مجھ کو اللہ کی طرف دعوت دی ہے۔ مجھے تمہاری صداقت و امامت کا محکم یقین ہے اور تمہارا دین تمام مذاہبِ عالم سے بہتر اور ان کے مقابلے میں کامل تر ہے۔[4] سیرت ابن ہشام میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ سیرت ابن ہشام میں کچھ شعر ایسے ہیں جس میں حضرت ابوطالب نے ابولہب کو متنبہ کیا ہے کہ اسے عرب کے میلوں اور محفلوں میں برا کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی کئی اشعار سیرت ابن ہشام نے نقل کیے ہیں۔[5]abcdef

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مظالم کی انتہا کر دی۔ آپ کی وفات 619ء میں ہوئی۔ اسی سال حضرت خدیجہ علیھا السلام کی وفات بھی ہوئی۔ ان دو واقعات کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی "دکھ کا سال" قرار دیا۔


اولاد[ترمیم]

ان کے سب سے بڑے بیٹے کا نام طالب ابن ابی طالب تھا۔ باقی بیٹوں میں حضرت جعفر الطیار، حضرت عقیل ابن ابی طالب، اور حضرت علی ابن ابی طالب شامل تھے۔

طالب بن ابی طالب[ترمیم]


ان کے بڑے بیٹے طالب کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ملتیں۔ کچھ روایات کے مطابق ان کی وفات شرک کی حالت میں جنگِ بدر میں ہوئی۔[حوالہ درکار]۔ علامہ دیار بکری نے لکھا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ نے زبردستی طالب کو جنگ کے لیے گھسیٹا جبکہ وہ جانا نہیں چاہتے تھے۔[6]۔ علامہ مسعودی نے لکھا ہے کہ کفارِ قریش نے طالب کو زبردستی جنگ کے میدان کی طرف لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ دوران سفر غائب ہو گئے پھر ان کی کوئی خبر نہ ملی مگر ان کے اس موقع پر اشعار علامہ مسعودی نے نقل کیے ہیں جن کا ترجمہ ہے: اے پروردگار یہ لوگ زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ تو ان کو شکست دے اور اس درجہ کمزور کر دے کہ یہ خود لوٹے جائیں اور کسی کو لوٹ نہ سکیں۔[7]

عقیل ابن ابی طالب[ترمیم]

آپ کربلا کے واقعے سے پہلے کوفہ میں شہید ہونے والے حضرت مسلم ابن عقیل کے والد تھے۔

جعفر ابن ابی طالب (جعفر طیار)[ترمیم]

اصل مضمون: جعفر طیار


آپ صحابیٔ رسول تھے اور ایک حدیث کے مطابق انہیں جنت میں پر ملیں گے کیونکہ ان کے ہاتھ ایک جنگ میں کاٹے گئے تھے اسی لیے آپ جعفر طیار کے نام سے مشہور ہیں۔

علی ابن ابی طالب[ترمیم]


حضرت علی ابن ابی طالب اولین مسلمانوں میں شامل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے داماد، دینی بھائی اور خلیفہ تھے۔ اہل سنت و اہل حدیث کے مطابق چوتھے خلیفہ اور اہل تشیع کے مطابق پہلے امام تھے۔ تمام غزوات میں حضرت علی نے سب سے زیادہ کفار و مشرکین کو تہہ تیغ کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ سیرت ابن ہشام
  2. ^ سیرت ابن ھشام
  3. ^ سیرت ابن ھشام
  4. ^ تاریخ ابوالفداء جلد اول
  5. ^ سیرت ابن ہشام
  6. ^ تاریخ خمیس از علامہ دیار بکری
  7. ^ مروج الذہب از علامہ مسعودی بر حاشیہ کامل ابن اثیر جلد ۵ صفحہ ۱۷۶