سریہ عیینہ بن حصن فزاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سریہ عیینہ بن حصن فزاری
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ محرم 9 ہجری
مقام بستی بنو تمیم
محل وقوع
نتیجہ * سارے جنگی قیدیوں کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معاف کر کہ چھوڑ دیا۔
خطۂ اراضی مدینہ منورہ
متحارب
مسلمان بنو تمیم
قائدین
عینیہ بن حصن فزاری نامعلوم
قوت
50 نامعلوم
نقصانات
11 مرد، 11 عورتیں اور 30 قیدی بنے
تمام قیدیوں کو بلا کسی شرط و معاوضہ کے آزاد کر دیا گیا۔

محرم 9 ہجری میں عیینہ بن حصن فزاری 50 سواروں کے ساتھ بنو تمیم کی طرف گئے، جن میں کوئی بھی انصار یا مہاجر نہ تھا وہ اس وقت سقیا اور بنوی تمیم کے علاقے کے درمیان ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ رات بھر چلتے رہے دن کو ایک جگہ پر چھپ گئے پھر ایک جنگل پر اچانک مشرکین پر حملہ کر دیا مشرکین اپنے مویشی چرا رہے تھے انہیں دیکھ کر بھاگے لیکن بنو تمیم کے 11 افراد قید ہوئے بعد میں آبادی سے 11 عورتیں اور 30 بچے بھی قید کر کے مدینہ لے آئے رسول اللہ ﷺنے انہیں رملہ بنت الحارث کے مکان میں قید رکھنے کا حکم دیا اس کے بعد ان کے قبیلے کے متعددسردار آئے جن میں عطارد بن حاجب ،زبرقان بن بدر،قس بن عاصم ،اقرع بن حابس، قيس بن الحارث ،نعيم بن سعد ،عمرو بن الأہتم اوررباح بن الحارث بن مجاشع تھے ان قیدیوں نے انہیں دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا یہ ذرا جلدی سے رسول اللہ ﷺکے حجرات کے باہر آکر آوازیں لگانے لگے لیکن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احسان فرماتے ہوئے ان سب کو چھوڑ دیا۔[1][2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بعد از:
سريہ طفيل بن عمرو دوسي
سرايا نبوی
سریہ عیینہ بن حصن فزاری
قبل از:
سريہ قطبہ ابن عامر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اطلس سیرت النبی، شوقی ابوالخلیل، صفحہ 416، دارالسلام، لاہور
  2. طبقات ابن سعد حصہ اول صفحہ 374محمد بن سعد نفیس اکیڈمی کراچی