ابو سفیان بن حارث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو سفیان بن حارث
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 565  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 652 (86–87 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد حارث بن عبدالمطلب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں فتح مکہ،  غزوہ حنین،  غزوہ طائف  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حضرت ابو سفیانؓ بن حارث صحابی رسول تھے۔فتح مکہ، غزوہ حنین اور دوسرے تمام غزوات میں شرہک رہے۔

نام ونسب[ترمیم]

مغیرہ نام، ابو سفیان کنیت، نسب نامہ یہ ہے، ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن ہاشم ہاشمی، ماں کا نام غزنہ تھا، نانہالی شجرہ یہ ہے، غزنہ بنت قیس ابن طریف بن عبدلعزیٰ بن عامرہ بن عمیرہ بن دویعہ بن حارث بن فہر، ابو سفیان کے والد حارث آنحضرتﷺ کے حقیقی چچا تھے اورابو سفیان نے حضرت حلیمہ سعدیہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے وہ نسبی اور رضاعی دونوں رشتوں سے آنحضرتﷺ کے بھائی تھے، سن میں بھی آپ کے برابر تھے، اس لیے دونوں میں غایت درجہ الفت و محبت تھی۔ [1]

آنحضرتﷺ اوراسلام کی مخالفت[ترمیم]

لیکن الفت ومحبت کا یہ رشتہ ظہور اسلام کے بعد ٹوٹ گیا، دوسرے عمائد قریش کی طرح ابو سفیان بھی رسول اللہ ﷺ کے اتنے خلاف ہو گئے کہ ان کی مخالفت دشمنی اور عناد کے درجہ تک پہنچ گئی تھی، آنحضرتﷺ کی مخالفت اوراسلام کے استیصال کو انہوں نے اپنا مقصدِ حیات بنالیا تھا؛چنانچہ فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان میں جس قدر معرکے ہوئے، ابو سفیان ان سب میں پیش پیش تھے، ان کی ساری قوتیں آنحضرتﷺ اوراسلام کے خلاف صرف ہوتی تھیں [2] شاعر تھے، اس لیے آنحضرتﷺ کی ہجو کہہ کر کوچہ وبازار میں سناتے پھرتے تھے طوطی اسلام حضرت حسان بن ثابتؓ نے ان اشعار الا بلغ ایا سفیان عنی مغلغلۃ فقد برح الخفاء ھجوت محمدا فاجبت عنہ وعنداللہ فی ذالک الجزاء ترجمہ:"ابو سفیان کو میری جانب سے یہ پیام پہنچادو کہ پردہ اٹھ گیا تم نے محمد کی ہجو کی، میں نے اس کا جواب دیا اوراس جواب میں خدا کے پاس میرے لیے جزا ہے۔ میں انہیں کی ہجو کا ذکر کیاہے۔ [3]

اسلام[ترمیم]

کامل بیس برس تک یہ معاندانہ روش قائم رہی، فتح مکہ سے کچھ دنوں پہلے جب آنحضرتﷺ فتح مکہ کی تیاریوں میں مصروف تھے اورمکہ میں آپ کی آمد آمد کی خبر پھیل رہی تھی، ابو سفیان نے ایک دن بیوی سے کہا محمدﷺ آنا چاہتے ہیں، تم لوگ یہاں سے نکل چلو نیک خاتون نے جواب دیا عرب و عجم محمدﷺ کے مطیع و منقاد ہوتے ہیں، لیکن تم اب تک اسی بغض و عداوت پر قائم ہو، حالانکہ تم پر ان کی امدادواعانت کا زیادہ حق ہے، بیوی کی بات دل میں اثر کر گئی، اسی وقت سواری کا انتظام کیا اوراپنے لڑکے جعفر کو ساتھ لیکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چل کھڑے ہوئے اس وقت مسلمان کا مقدمۃ الجیش مقام ابواء تک پہنچ چکا تھا، ابو سفیان اشتہاری مجرم تھے، ہر آن جان کا خطرہ لگا ہوا تھا ڈرتے ڈرتے چھپتے چھپاتے کسی طرح مسلمانوں کے لشکر گاہ تک پہنچے اوردفعۃ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آگئے آپ کا دل ان کے گذشتہ اعمال کی وجہ سے سخت متنفر تھا، اس لیے نظر پڑتے ہی منہ پھیر لیا، ابو سفیان اس رخ پر گئے، تو آپ نے دوسری طرف منہ پھیر لیا یہ دیکھ کر مسلمان انہیں پکڑنے کے لیے بڑھے، ابو سفیان سمجھے کہ اب کام تمام ہوا؛چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے رحم و کرم، عفو و درگزر اورآپ کے ساتھ اپنی گونا گوں قرابتوں کا واسطہ دلاکر مسلمانوں کو روکا۔ [4]ابو سفیان کی پوری زندگی آنحضرتﷺ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں گذری تھی، انہوں نے آپ کی تحقیر وتذلیل، مسلمانون کی ایذارسانی اوراسلام کے استیصال کا کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ کے دل میں ان کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہ گئی تھی اور آپ کسی طرح در گزر فرمانے پر آمادہ نہ تھے، آخر میں ابو سفیان نے امِ المومنین حضرت ام سلمہؓ کو درمیان میں ڈالا انہوں نے سفارش کی کہ، اپنے ابن عم کو مایوس نہ کیجئے، فرمایا مجھے ایسے ابن عم کی ضرورت نہیں ہے، ابو سفیان سے کچھ بن نہ پڑتا تھا، گذشتہ زندگی پر سخت نادم اورشرمسار تھے، لیکن بارگاہِ نبویﷺ میں کوئی شنوائی نہ ہوئی، جب بالکل مایوس ہو گئے تو کہا خیرا گر عفووکرم کا دروازہ بالکل بند ہوچکا ہے تو جان سے ہم بھی گزر جائیں گے سوچا ہے یہی اوراس کمسن بچہ کو ساتھ لیکر در بدر مارے مارے پھریں گے اوربھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر جان دیدینگے، ابو سفیان لاکھ مجرم سہی پھر بھی چچرے بھائی تھے، آنحضرتﷺ کے کانوں تک اس عزم کی خبر پہنچی تو دل بھر آیا اورنفرت وحقارت کے سارے جذبات مہر ومحبت سے بدل گئے۔ ابو سفیان کو سامنے آنے کی اجازت ملی، دونوں باپ بیٹے عمامہ باندھے ہوئے سامنے لائے گئے اورالسلام علیک یا رسول اللہ کہہ کر آگے بڑھے، آپ نے فرمایا ان کے چہروں سے ڈھاٹا ہٹاؤ، صورت تودکھائی دے، لوگوں نے ڈھاٹا ہٹا دیا، اوررسول اللہ ﷺ کو اثر پزیر کرنے کے لیے ان کا نسب بیان کیا، اس کے بعد باپ بیٹے دونوں کلمہ پڑھ کر مشرف باسلام ہو گئے، آنحضرتﷺ نے ان کی ایک ہجو کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ابو سفیان تم نے مجھ کو کب نکالا تھا، عرض کی یا رسول اللہ اب زیادہ ملامت کرکے شرمندہ نہ کیجئے فرمایا اب کوئی ملامت نہیں اور حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ اپنے ابن عم کو لیجاؤ اوروضو اور سنت کی تعلیم دیکر میرے پاس لاؤ، حضرت علیؓ ساتھ لے گئے اورنہلا کر واپس لائے، آنحضرتﷺ نے نماز پڑھائی، پھر مسلمانوں کو حکم دیا کہ اعلان کردو کہ "ابو سفیان سے خدا اور رسول راضی ہو گیا اس لیے تم لوگ بھی راضی ہوجاؤ۔ [5]

غزوات[ترمیم]

اسلام کے بعد تلافی مافات کی فکر ہوئی، ابھی غزوۂ فتح نہیں ہوا تھا سب سے پہلے اس میں شریک ہوئے، پھر غزوہ حنین میں شمشیر ہاشمی کے جوہر دکھائے اس غزوہ میں جب مشرکین کے ریلے کی وجہ سے مسلمان آنحضرتﷺ کے چاروں طرف سے منتشر ہو گئے اورایک عام بے ترتیبی پھیل گئی، اس وقت بھی ابو سفیان اپنی جگہ پر جمے رہے اور شمشیر برہنہ گھوڑے کی پیٹھ سے موت کے منہ میں کود پڑے، حضرت عباسؓ نے یہ جانبازی دیکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اپنے ابن عم اور بھائی کی خطاؤں کو معاف کردو، فرمایا میں نے معاف کر دیا، خدا ان کی تمام عداوتوں کو جو انہوں نے میرے ساتھ کی ہیں، معاف فرمائے اور شفقت برادرانہ میں ابو سفیان سے فرمایا میری عمر کی قسم تم میرے بھائی ہو، اس برادرانہ اور شفقت آمیز خطاب پر ابو سفیان نے قدم مبارک چوم لیے اور رہوار نبویﷺ کی لگام تھام کر مشرکین کے سامنے سینہ سپر ہو گئے [6]آنحضرتﷺ نے اس فدویت وجان نثاری پر "اسد اللہ" اور "اسد الرسول" کا معزز لقب عطا کیا [7] طائف میں بھی ہمرکاب تھے، غرض اسلام کے بعد کسی غزوہ میں ان کا قدم پیچھے نہیں رہا۔

وفات[ترمیم]

آنحضرتﷺ کی وفات تمام مسلمانوں کے لیے ایک مصیبت عظمیٰ تھی، ابو سفیان پر ایک کوہِ الم ٹوٹ پڑا، وہ اس حادثہ سے سخت متاثر ہوئے، ابھی یہ زخم مندمل نہ ہونے پایا تھا کہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد ان کے بھائی نوفل چل بسے، ان حوادث نے انہیں دنیا سے بالکل برداشتہ خاطر کر دیا خدا سے دعا مانگتے تھے کہ خدایا رسول اللہ ﷺ اوربھائی کے بعد زندگی بے مزہ اور دنیا بے لطف ہو گئی، اس لیے جلد دنیا سے اٹھالے، خدا نے یہ دعا قبول کی اوراس دعا کے چند ہی دنوں کے بعد ایک معمولی اور اتفاقی واقعہ موت کا سبب بن گیا، حج کے موقع پر منیٰ میں سرمنڈایا، سر میں ایک پھنسی تھی وہ اچھل گئی اس سے خون جاری ہو گیا اور ایسا جاری ہوا کہ کسی طرح نہ رکا، مدینہ واپس آکر خود ہی اپنی قبر کھود کر اپنی پہلی منزل تیار کی، جب حالت زیادہ نازک ہوئی تو خویش واقارب نے رونا دھونا شروع کیا ان کا گریۂ وبکا سنکر فرمایا اسلام کے بعد سے آج تک کوئی لغزش نہیں ہوئی، اس لیے رونا دھونا بند کرو، قبر کھود نے کے تیسرے دن وفات پاگئے حضرت عمرؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ابو سفیان جنت البقیع رکن ابی طالب میں سپرد خاک کیے گئے۔ [8]

حلیہ[ترمیم]

صورۃ آنحضرتﷺ کے ہم شبیہ تھے۔

اولاد[ترمیم]

ابو سفیان نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اوران سے بہت سی اولادیں ہوئیں، بیویوں میں جمانہ، نغمہ، ام عمر اوردوام ولد تھیں، ان سے جعفر، عبد اللہ، جمانہ، حفصہ، عاتکہ، امیہ اورکلثوم بہت سی اولادیں تھیں لیکن ان میں سے آیندہ کوئی اولاد باقی نہ رہی اور ابو سفیان کی نسل منقطع ہو گئی۔

فضائل اخلاق[ترمیم]

قبول اسلام کے بعد تلافیِ مافات کے لیے ابو سفیان اسلامی تعلیم کا ایک پیکر مجسم بن گئے تھے، جہاد فی سبیل اللہ کے ولولے اورجوش کا اندازہ اوپر ہوچکا یہی جہاد مذہب کے ہر شعبہ میں تھا، شبانہ یوم کا بڑا حصہ نماز میں گذرتا تھا، گرمیوں کے طولانی دنوں میں صبح سے لیکر نصف النہار تک نمازیں پڑہتے تھےنصف النہار کے وقت رک جاتے اور ظہر کے وقت سے لیکر پھر عصر تک یہ سلسلہ جاری رہتا، اس عبادت وریاضت کو دیکھ کر آنحضرتﷺ نے ان کو "نوجوانانِ جنت کے سردار" کا لقب عطا فرمایا۔ [9] آنحضرتﷺ کے ساتھ بچپن میں دلی تعلق تھا، ظہور اسلام کے بعد درمیان میں یہ تعلق منقطع ہو گیا تھا اسلام قبول کرنے کے بعد پھر وہی لطف قائم ہو گیا، آنحضرتﷺ انہیں بہت محبوب رکھتے تھے، کان حب قریش الی رسول اللہ ﷺ وکان شدیدا علیہ فلما وسلم کان احب الناس الیہ، یعنی قریش میں آنحضرتﷺ کو زیادہ محبوب ابو سفیان تھے، اس کے بعد وہ آپ کے سخت دشمن ہو گئے اس کے بعد جب اسلام لائے، تو پھر سب سے زیادہ محبوب ہو گئے، آنحضرتﷺ انہیں فرطِ محبت میں "خیر اہلی" فرماتے تھے، [10] ابو سفیان کو بھی آنحضرتﷺ کے ساتھ غایت درجہ الفت تھی، آپ کی وفات سے ابو سفیان پر کوہِ الم ٹوٹ پڑا تھا، اکثر رویا کرتے تھے اورموت کی دعا مانگا کرتے تھے، اسی تاثر کی حالت میں ایک نہایت رقت انگیز مرثیہ کہا یہ مرثیہ حافظ ابن عبد البر نے نقل کیا ہے۔ [11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابن سعد:1/34)
  2. (مستدرک حاکم :3/254)
  3. (اسد الغابہ:5/213)
  4. (ابن سعد، جلد4،ق1،صفحہ:34)
  5. (ابن سعد، جلد4،ق1،صفحہ26)
  6. (مستدرک حاکم، جلد2،صفحہ254،255)
  7. (ابن سعد، جلد4،ق1،صفحہ:36)
  8. (ابن سعد)
  9. (مستدرک حاکم حاکم :3/355)
  10. (مستدرک حاکم:3/255)
  11. (استیعاب:2/708)