عتبہ بن غزوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عتبہ بن غزوان صحابی تھے جن کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔

نام ونسب[ترمیم]

عتبہ نام، ابوعبداللہ کنیت، غزوان بن جابر المازنی کے لختِ جگر تھے، پورا سلسلہ نسب یہ ہے: عتبہ بن غزوان بن جابر بن وہب بن نسیب بن زید بن مالک بن الحارث بن مازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر،ایامِ جاہلیت میں ان کا خاندان بنی نوفل بن عبد مناف کا حلیف تھا۔ نسب نامہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اٹھارہویں پشت میں مضر بن نزار سے جا ملتا ہے۔

اسلام[ترمیم]

عتبہ ان بزرگوں میں ہیں جنہوں نے ابتدا ہی میں داعیِ توحید کو لبیک کہا تھا، [1] چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے اثنائے تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ سابقین اسلام میں ان کا ساتواں نمبر ہے۔

ہجرت[ترمیم]

کفار مکہ کی ستم آرائیوں سے تنگ آکر ملک حبش کی دوسری ہجرت میں شریک ہوئے ؛لیکن کچھ عرصہ کے بعد پھر واپس چلے آئے، آنحضرت ﷺ اس وقت تک مکہ میں موجود تھے۔ ہجرت حبشہ اور بعد میں مقداد بن عمرو کی رفاقت میں ہجرت مدینہ کی۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ احد اور دیگر غزوات میں آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمرکاب رہے۔ حضرت عمر کے عہد میں حیرہ فتح کیا۔ تیراندازی کے لحاظ سے ان کا شمار کاملین فن میں تھا، بدر، اُحد اوران تمام معرکوں میں جن میں رسول اللہ ﷺ نے خود بنفسِ نفیس حصہ لیا، شجاعت وپامردی کے ساتھ سرگرمِ کارزارتھے۔ 14ھ میں خلیفہ دوم نے ان کو بندرگاہ ابلہ بیسان اوراس کے ملحقہ مقامات کی فتح پر مامور فرمایا،فرمان کے الفاظ یہ تھے: "خدا کی نوازش وبرکت پر اعتماد کرکے عرب کے انتہائی حدود اورمملکتِ عجم کے قریب ترین حصہ کی طرف اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوجاؤ، جہاں تک ممکن ہو تقویٰ کو اپنا شعار بناؤ اورخیال رکھو کہ تم دشمن کی سرزمین میں جا رہے ہو، مجھے امید ہے کہ خدا تمہاری مدد فرمائے گا۔ میں نے علا ابن الحضرمی کو لکھا ہے کہ عرفجہ بن ہرثمہ کو بھیج کر تمہاری مدد کریں وہ دشمن کے مقابلہ میں ایک نہایت سرگرم مجاہد اورصاحب تدبیر شخص ہیں تم ان کو اپنا مشیر بناؤ اور اہل عجم کو خدا کی دعوت دو، جو قبول کرے اس کو پناہ دو جو اس سے انکار کرے وہ محکومانہ عاجزی کے ساتھ جزیہ دے ورنہ تلوار سے فیصلہ کرو، راہ میں جن عربی قبائل سے گذرو ان کو جہاد اوردشمن سے لڑنے پر برانگیختہ کرو، اورہرحال میں خدا سے ڈرتے رہو۔[2] عتبہ نے حسبِ فرمان اس مہم کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا، یعنی دریائے دجلہ کا تمام ساحلی علاقہ جوابلہ،ابرقباذ اورمیسان وغیرہ جیسے اہم مقامات پر مشتمل تھا،اسلام کے زیر نگیں کر دیا۔[3]

وفات[ترمیم]

57 برس کی عمر میں انتقال کیا۔( متوفی 17ھ638ء )

خطبہ[ترمیم]

آپ کا ایک خطبہ محدثین کے پاس محفوظ ہے۔ "صاحبو!دنیا رفتنی وگذشتنی ہے ،اس کا بڑا حصہ گذرچکا ہے اوراب صرف ریزش باقی ہے، جس طرح کسی ظرف کا پانی پھینک دینے کے بعدآخر میں کچھ دیر تک قطروں کا سلسلہ قائم رہتا ہے، ہاں تم یقیناً اس دنیا سے ایک جگہ منتقل ہونے والے ہو جس کو کبھی زوال نہیں تو پھر کیوں نہیں بہتر سے بہتر تحائف اپنے ساتھ لے جاتے ہو؟ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر پتھر کا کوئی ٹکڑا جہنم کے کنارہ سے لڑھکایا جائے تو ستر برس میں بھی وہ اس کی گہرائی کو طے نہیں کر سکتا، لیکن خدا کی قسم تم اس کو بھردو گے، کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو؟ خدا کی قسم مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہوں گے کہ چالیس سال میں اس کی مسافت طے ہوسکتی ہے، لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب کہ ان پر سخت ازدحام ہوگا، میں جب ایمان لایا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف چھ آدمی تھے عسرت و ناداری کی یہ حالت تھی کہ درخت کے پتوں پر گزارہ تھا، جس سے آنتوں میں زخم پڑجاتے تھے، مجھے ایک دفعہ ایک چادر مل گئی جس کو چاک کرکے میں نے اورسعد نے تہ بند بنایا لیکن ایک دن وہ بھی آیا جب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا امیر ہے، میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ خدا کے نزدیک حقیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بڑا سمجھوں ،نبوت ختم ہوچکی ہے، انجام کار بادشاہت قائم ہو گی، اورتم عنقریب ہمارے بعد امیروں کو آزماؤ گے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مستدرک حاکم جلد3 :260
  2. اسد الغابہ :3/364
  3. یعقوبی :2/163
  4. مسند ابن حنبل:4/174