ابو عبد اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو عبد اللہ
El rey chico de Granada.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1459  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
غرناطہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1532 (72–73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
فاس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
زوجہ مریمہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو الحسن علی، سلطان غرناطہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ عائشہ الحرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
خاندان بنو نصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
بادشاہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1482  – 1492 
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ابو عبد اللہ مسیحیوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے

ابو عبد اللہ (مکمل نام: ابو عبد اللہ محمد الثانی عشر) (1460ء-1533ء) امارت غرناطہ یعنی بنو نصر کا آخری فرمانروا تھا جو اندلس میں مسلمانوں کی آخری حکومت تھی۔ وہ طائفہ غرناطہ کے حکمران مولائے ابو الحسن کا بیٹا تھا۔

ابو عبداللہ ایک غدار تھا، اس كا استاد ابو داؤد ایک منافق تھا وہ غیر مسلموں كى مدد كرتا تھا ابو عبداللہ اس وقت ولى عهد تها ابو الحسن بادشاہ تها اور وہ بدر بن مغيرہ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ لوشہ فتح كيا اور ادهر ابو عبداللہ نےابو داؤد كى کہنے بر بادشاہت كا اعلان كر ديا اور ابو موسى جو بدر بن مغيرہ اور اس کے ساتھیوں کی طرح بہترين انسان تھا اس كو قيد كرديا اور ساري باغيوں اور فساديوں كو آزاد كرديا بعد ازاں اس کے ضميرنے اس كو اٹھایا وہ در اصل ايك كمزور انسان تھا۔ 1483ء میں ابو عبداللہ گرفتار ہوکر لوسینا میں قید ہو گیا اور اسے اس شرط پر رہائی نصیب ہوئی کہ امارت غرناطہ عیسائیوں کی باجگزار ہوگی۔ سقوط غرناطہ سے قبل اس نے چند سال اپنے والد مولائے ابو الحسن اور عزیز عبد اللہ الزغال کے خلاف جدوجہد میں گذارے۔

1489ء میں قشتالہ و ارغون کے شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ آئزابیلا نے ابو عبد اللہ کو غرناطہ خالی کرنے کا حکم دیا اور انکار پر شہر کا محاصرہ کر دیا۔ 2 جنوری 1492ء کو ابو عبد اللہ نے ہتھیار ڈال دئیے اور اسپین سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

بعد ازاں وہ آبنائے جبل الطارق عبور کر کے مراکش آگیا جہاں فاس شہر میں اس کا انتقال ہو گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]