عبداللہ بن عتیک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت عبداللہ بن عتیک ؓ
معلومات شخصیت

نام ونسب[ترمیم]

عبد اللہ نام، خاندان سلمہ سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے، عبد اللہ بن عتیک بن قیس بن اسود ابن مری بن کعب بن غنم بن سلمہ

ہجرت[ترمیم]

ہجرت سے قبل مسلمان ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

غزوۂ بدر کی شرکت میں اختلاف ہے،احد اور باقی غزوات میں شریک تھے۔ رمضان 6ھ میں آنحضرتﷺ نے ان کو چار آدمیوں پر امیر بنا کر ابو رافع کے قتل کرنے کے لیے خیبر بھیجا تھا،ابو رافع نے آنحضرتﷺ کے خلاف غطفان وغیرہ کو بھڑ کا کر بڑا جتھا اکٹھا کر لیا تھا، یہ لوگ شام کے قریب قلعہ کے پاس پہنچے، عبد اللہؓ نے کہا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو، میں اندر جاکر دیکھتا ہوں، پھاٹک کے قریب پہونچ کر چادر اوڑھ لی اور حاجتمندوں کی طرح دبک کر بیٹھ گئے ،دربان نے کہا میں دروازہ بند کرتا ہوں، اندر آنا ہو تو آجاؤ، اندر جاکر اصطبل نظر پڑا، اسی میں چھپ رہے، ارباب قلعہ کچھ رات تک ابو رافع سے باتیں کرتے رہے، اس کے بعد سب اپنے اپنے گھروں میں جا جا کر سو رہے، سناٹا ہوا تو حضرت عبد اللہ ؓ نے دربان کو غافل پاکر پھاٹک کھولا، اورابو رافع کی طرف چلے وہ بالاخانہ پر رہتا تھااور بیچ میں بہت سے دروازے پڑتے تھے، یہ جس دروازے سے جاتے اس کو اندر سے بند کرلیتے ، تاکہ شور ہونے پر کوئی ابو رافع تک نہ پہنچ سکے ان مراحل کے طے کرنے کے بعد ابو رافع کا بالاخانہ نظر آیا وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایک اندھیرے کمرے میں سو رہا تھا،انہوں نے پکارا ابورافع !بولا کون ؟ جس طرف سے آواز آئی تھی بڑھ کر اسی سمت تلوار ماری لیکن کچھ نتیجہ نہ نکلا، وہ چلایا، یہ فوراً باہر نکل آے تھوڑی دیر کے بعد پھر اندر گئے اور آواز بدل کر کہا، ابو رافع کیا ہوا بولا ابھی ایک شخص نے تلوار ماری انہوں نے دوسرا وار کیا، لیکن وہ بھی خالی گیا اس مرتبہ اس کے شور سے تمام گھر جاگ اٹھا انہوں نے باہر نکل کر پھر آواز بدلی اورایک فریاد رس کی طرح اندر جاکر کہا میں آگیا گھبرانے کی کوئی بات نہیں، وہ چت لیٹا ہوا تھا، انہوں نے دیکھ لیا اور اس کے پیٹ میں اس زور سے تلوار کونچی کہ گوشت کو چیرتی ہوئی ہڈیوں تک جا پہونچی،اس کا فیصلہ کرکے جلدی سے باہر بھاگے عورت نے آواز دی کہ لینا جانے نہ پائے، چاندنی رات تھی اورآنکھوں سے نظر کم آتا تھا، زرینہ کے پاس پہنچ کر پیر پھسلا اور لڑھکتے ہوئے نیچے آ رہے ،پیر میں زیادہ چوٹ لگی تھی تاہم اٹھ کر عمامہ سے پنڈلی باندھی اوراپنے ساتھیوں کو لے کر کوڑے کے ڈھیر میں چھپ رہے۔ ادھر تمام قلعہ میں ہلچل پڑی ہوئی تھی، ہر طرف روشنی کی گئی اور حارث 3 ہزار آدمی لیکر ڈھونڈنے کے لیے نکلا،لیکن ناکام واپس گیا، حضرت عبد اللہؓ نے ساتھیوں سے کہا کہ اب تم جاکر رسول اللہ ﷺ کو بشارت سناؤ میں اپنے کانوں سے اس کے مرنے کی خبر سن کر آتا ہوں۔ صبح کے وقت ایک شخص نے قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر بآواز بلند پکارا کہ ابو رافع تاجر اہل حجاز کا انتقال ہو گیا،عبد اللہ ؓ یہ سن کر نکلے اوربڑھ کر ساتھیوں سے جاملے اور مدینہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری سنائی، آپ نے ان کا پیر دست مبارک سے مس فرمایا اور وہ بالکل اچھے ہو گئے۔ [1] حضرت عبد اللہؓ کے ساتھ چار آدمی اور بھی تھے ان کے نام یہ ہیں عبد اللہ ابن انیس ،ابو قتادہ، اسود بن خزاعی ،مسعود بن سنان۔ [2] 9ھ میں آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کو 150 انصار پر افسر مقرر کرکے بنو طے کا بت توڑنے کے لیے بھیجا تھا، اس میں جو کچھ پرانا اسباب اور گائیں ہاتھ لگی تھیں، ان کے نگران حضرت عبد اللہ ؓ تھے۔ [3]

وفات[ترمیم]

جنگ یمامہ 12 ھ میں شہید ہوئے،یہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا زمانہ تھا۔

اولاد[ترمیم]

ایک بیٹے تھے،جن کا نام محمد تھا، مسند میں ان کی ایک حدیث موجود ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (بخاری:2/577،578)
  2. (طبقات :66)
  3. (طبقات :118)