قیس عبدالرشید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قیس عبدالرشید کا مزار، تخت سلیمان، درازندہ،قبائلی علاقہ ملحقہ ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان
شجرہ نسب

پٹھانوں کی روایات میں قیس عبد الرشید عرف پٹھان کو ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس کی وجہ ان کو پٹھانوں کا مورث اعلیٰ قرار دینا ہے۔ انیسویں صدی تک افغان مورخین ان کے حقیقی شخص ہونے پر زور دیتے رہے لیکن اس کے بعد افغان سرکاری مورخین اور انگریز مورخین قیس کو ایک خیالی موجود قرار دینے لگے۔ بعض روایات کے مطابق قیس عبد الرشید، نبی محمد ﷺ کے ایک پشتون صحابی تھے۔ عبد الرشید وہ پہلے پشتون تھے جنہوں نے مدینہ حاضر ہو کر وہاں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسے ملاقات کی، اسلام قبول کیا اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا کی (بعض روایات میں عصا عطا کرنے کا بھی ذکر ہے)۔[1]

تاریخی نقطہ نظر[ترمیم]

قیس (کش) قبائلی روایات کے متعلق اہم ماخذ نعمت اللہ ہراتی کی ’مخزن افغانی‘ ہے۔ اس کتاب میں جو نسب نامے دیے گئے ہیں، وہ بعد کی تصانیف مثلاً حیات افغانی میں نقل کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ تاریخی ماخذ کے طور پر قابل اعتماد نہیں ہے۔ تاہم ان روایات کے سلسلے میں جو سترویں صدی عیسوی میں افغانوں میں مشہور تھیں قابل قدر ہیں۔ ان روایات کے مطابق مشتر افغانوں کا مورث اعلیٰ قیس عبد الرشید تھا۔ جو حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا تھا اور جو طالوت یا ساول کی نسل میں سے تھا۔[2] بعد میں اس میں اضافہ کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ قیس نے حضرت خالدؓ کی لڑکی سے نکاح کیا تھا۔ جس سے سڑبن، بٹن اور غور غشت پیدا ہوئے اور ان کی اولاد پٹھان کے نام سے مشہور ہوئی۔[3] لوگر کے ارمڑ افغانوں کو کاش کہتے ہیں۔ کافی گرام کے اڑمر وزیریوں کو کسی (جمع کے صعیفے میں) کہتے ہیں۔ افغانوں کا ایک قبیلہ جو کوئٹہ کے قریب آباد ہے کاسی ہے۔ اور تخت سلیمان کا نام قیس غر ہے جہاں شیرانی قوم آباد ہے ۔[2] افغان روائیتوں میں بتایا گیا ہے کہ قیس کا مسکن کوہ سلیمان کے قریب مغربی سمت میں واقع تھا۔ قیس غر کوہ سلیمان سلسلہ کی بلند ترین چوٹیوں میں ہے۔[4] بیلیو کا کہنا ہے کہ قیس کو پٹھان اپنی زبان میں کش کہتے ہیں۔[5] قیس کا اصل تلفظ یقینا کش ہے جسے معرب کرکے قیس بنا لیا ہے۔ اس طرح کلمات کاش، کسی، کس، کاسی اور کیسا سب کش کے مختلف لہجے ہیں اور ان کی اصل ایک ہی ہے۔ رام چندر کا چھوٹا لڑکا کش یا کس تھا، جو بہت سے سورج بنسی قبائل کا مورث اعلیٰ ہے اور جیمز ٹاڈ کشن کو بھی اسی کلمہ کا تلفظ بتلاتا ہے۔[6] کشن جو وشنو کا اوتار ہے اور اس کا ایک تلفظ کرشن ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ کس، کش، کشن، کرشن، کشنا، کشان اور کنشک کی اصل ایک ہے اور یہ الفاظ اگرچہ باہم مختلف تلفظ ہیں اور ان کے معنی ایک ہی ہیں۔ غالباً اس کی حقیقت یہی ہے اور یہ تمام تلفظ وسط ایشیا کی آریائی اقوام نے بطور نام کے فرد اور قبائیل کے لیے استعمال کیے ہیں۔ کشن یا کشان یا کوشان جو اپنے عروج میں سطہ ایشیا سے ایران و افغانستان سے شمالی اور سطہ ہند تک پھیلی ہوئی تھی اور بعد میں سمٹ کر افغانستان تک سمٹ گئی تھی۔ کشن سلطنت جو پہلی قبل مسیح سے پانچویں صدی قبل مسیح تک قائم رہی تھی۔ اس طرح یہ سلطنت پانچ سو سال سے بھی زیادہ طویل عرصہ تک افغانستان میں قائم رہی۔ یہ ایک طویل عرصہ ہوتا ہے اس لیے لامحال اس سلطنت کے یہاں کے باشندوں پر اثرات پڑے اور انہیں اس سے ایک قدرتی لگاؤ ہو گیا اور وہ خود کو اس کی نسبت سے کش، کس اور کاسی کہنے لگے۔ اس طرح یہ کلمہ ان کی روائیتوں میں محفوظ رہا۔ اگرچہ وہ اس کی حقیقت کو بھول گئے اور وقت کی گرد کی وجہ سے اس کے متعلق فسانے گھڑے گئے اور اسے شخصیت جان کر اپنے مورث اعلیٰ کے طور ہر پیش کیا۔ بعد میں جب شجرہ نسب ترتیب دیا گیا تو اس کی اہمیت بدستور قائم رہی۔ مسلمان ہونے کے بعد اس کو معرب کرکے قیس بنا لیا گیا اور اس کو صحابی رسول کی حیثیت سے پیش کیا۔

وفات[ترمیم]

کہاجاتا ہے کہ جب عبد لرشیدؓ کو یہ محسوس ہوا کہ ان کے وفات قریب ہے تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ وہ انہیں غور کے علاقے سے کوہ سلیمان (جو اب پاکستان کے علاقه درازندہ میں موجود ہے) لے کر دفنائے جہاں پر ان کی جد او تمام پشتون قوم کا جد افغانہ مدفن تھے،یہ پہاڑ ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب درازندہ کے مقام پر موقوع ہے۔ اور ان کو وہاں دفن کیا گیا۔ آج کل اکثر پشتون قبائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر قبائل ان کے اولاد ہیں۔ آپ ہی کی وجہ سے کوہ سلیمان کو قیس غر یا کوہ قیس بھی کہا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر، سعودالحسن خان روہیلہ، قیس پٹھان:ایک تحقیقی مطالعہ، 2007ء، افغان ریسرچ سینٹر، لاہور۔ صفحہ9
  2. ^ ا ب افغان، معارف اسلامیہ
  3. شیر محمد گنڈا پور۔ تاریخ پشتون۔ 405۔ 406
  4. بلوچستان گزیتیر۔ 84، 150
  5. مرزا غلام احمد قادیانی۔ مسیح ہندوستان میں۔ 59
  6. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 100۔ 101