افغانستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
  
افغانستان
افغانستان
پرچم افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پرچم (P163) ویکی ڈیٹا پر
افغانستان
نشان

Afghanistan on the globe (Afghanistan centered).svg 

ترانہ:سرود ملی افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ترانہ (P85) ویکی ڈیٹا پر
زمین و آبادی
متناسقات 34°N 66°E / 34°N 66°E / 34; 66  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
بلند مقام نوشاخ (7492 میٹر)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بلند ترین سطح (P610) ویکی ڈیٹا پر
پست مقام دریائے جیحوں (258 میٹر)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 652230 مربع کلومیٹر[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان پشتو[4]،  دری فارسی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 34940837 (2018)[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
54.959 سال (1999)[6]
55.482 سال (2000)[6]
56.044 سال (2001)[6]
56.637 سال (2002)[6]
57.25 سال (2003)[6]
57.875 سال (2004)[6]
58.5 سال (2005)[6]
59.11 سال (2006)[6]
59.694 سال (2007)[6]
60.243 سال (2008)[6]
60.754 سال (2009)[6]
61.226 سال (2010)[6]
61.666 سال (2011)[6]
62.086 سال (2012)[6]
62.494 سال (2013)[6]
62.895 سال (2014)[6]
63.288 سال (2015)[6]
63.673 سال (2016)[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
طرز حکمرانی اسلامی جمہوریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں basic form of government (P122) ویکی ڈیٹا پر
صدر افغانستان  اشرف غنی احمد زئی (29 ستمبر 2014–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
چیف ایگزیکٹیو افغانستان  عبداللہ عبداللہ (سیاستدان) (29 ستمبر 2014–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ حکومت (P6) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1709،  1747،  1823،  1926،  1973،  1978،  1992،  2002  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال،  16 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (19 نومبر 1946–)
Flag of OIC.svg تنظیم تعاون اسلامی
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (14 جولا‎ئی 1995–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (2 فروری 1961–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (23 ستمبر 1957–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (16 جون 2003–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (25 جولا‎ئی 1968–)
ایشیائی ترقیاتی بینک (1966–)
انٹرپول[7]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[8]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (4 مئی 1948–)[9]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[10]
عالمی بعید ابلاغیاتی اتحاد (12 اپریل 1928–)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
پاکستان (Afghanistan–Pakistan border)
ایران (افغانستان ایران سرحد)
ترکمانستان (Afghanistan–Turkmenistan border)
ازبکستان (Afghanistan–Uzbekistan border)
تاجکستان (Afghanistan–Tajikistan border)
عوامی جمہوریہ چین (Afghanistan–China border)
سوویت اتحاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
سفارتی تعلقات
البانیا
ریاستہائے متحدہ امریکا (Afghanistan–United States relations)
اطالیہ
آسٹریلیا
جرمنی (Afghanistan–Germany relations)
کینیڈا (Afghanistan–Canada relations)
ایران (Afghanistan–Iran relations)
سعودی عرب
یوکرین (Afghanistan–Ukraine relations)
سربیا
عوامی جمہوریہ چین (Afghanistan–China relations)
ناروے (Afghanistan–Norway relations)
ڈنمارک (Afghanistan–Denmark relations)
ترکی (Afghanistan–Turkey relations)
پاکستان (پاک-افغان تعلقات)
تاجکستان (Afghanistan–Tajikistan relations)
تائیوان (Afghanistan–Taiwan relations)
متحدہ عرب امارات (Afghanistan–United Arab Emirates relations)
جنوبی کوریا (Afghanistan–South Korea relations)
میکسیکو (Afghanistan–Mexico relations)
روس (Afghanistan–Russia relations)
جاپان (Afghanistan–Japan relations)
بھارت (افغانستان بھارت تعلقات)
بنگلہ دیش (Afghanistan–Bangladesh relations)
جارجیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سفارتی تعلقات (P530) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
20815300220.0428 امریکی ڈالر (2017)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 859.933 بین الاقوامی ڈالر (2002)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 59 امریکی ڈالر (1960)[14]
59 امریکی ڈالر (1961)[14]
58 امریکی ڈالر (1962)[14]
78 امریکی ڈالر (1963)[14]
82 امریکی ڈالر (1964)[14]
101 امریکی ڈالر (1965)[14]
137 امریکی ڈالر (1966)[14]
161 امریکی ڈالر (1967)[14]
129 امریکی ڈالر (1968)[14]
129 امریکی ڈالر (1969)[14]
157 امریکی ڈالر (1970)[14]
160 امریکی ڈالر (1971)[14]
136 امریکی ڈالر (1972)[14]
144 امریکی ڈالر (1973)[14]
174 امریکی ڈالر (1974)[14]
187 امریکی ڈالر (1975)[14]
199 امریکی ڈالر (1976)[14]
226 امریکی ڈالر (1977)[14]
249 امریکی ڈالر (1978)[14]
277 امریکی ڈالر (1979)[14]
274 امریکی ڈالر (1980)[14]
266 امریکی ڈالر (1981)[14]
184 امریکی ڈالر (2002)[14]
195 امریکی ڈالر (2003)[14]
216 امریکی ڈالر (2004)[14]
247 امریکی ڈالر (2005)[14]
269 امریکی ڈالر (2006)[14]
366 امریکی ڈالر (2007)[14]
370 امریکی ڈالر (2008)[14]
444 امریکی ڈالر (2009)[14]
550 امریکی ڈالر (2010)[14]
599 امریکی ڈالر (2011)[14]
648 امریکی ڈالر (2012)[14]
647 امریکی ڈالر (2013)[14]
625 امریکی ڈالر (2014)[14]
590 امریکی ڈالر (2015)[14]
549 امریکی ڈالر (2016)[14]
550 امریکی ڈالر (2017)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 45547800 امریکی ڈالر (1963)[15]
44619680 امریکی ڈالر (1964)[15]
45434560 امریکی ڈالر (1965)[15]
47114050 امریکی ڈالر (1966)[15]
38528800 امریکی ڈالر (1967)[15]
45589800 امریکی ڈالر (1968)[15]
41373600 امریکی ڈالر (1969)[15]
49488930 امریکی ڈالر (1970)[15]
67614026 امریکی ڈالر (1971)[15]
81289660 امریکی ڈالر (1972)[15]
126230158 امریکی ڈالر (1973)[15]
201456356 امریکی ڈالر (1974)[15]
217260903 امریکی ڈالر (1975)[15]
256505577 امریکی ڈالر (1976)[15]
431038896 امریکی ڈالر (1977)[15]
605029119 امریکی ڈالر (1978)[15]
934779039 امریکی ڈالر (1979)[15]
940035968 امریکی ڈالر (1980)[15]
657880757 امریکی ڈالر (1981)[15]
698660805 امریکی ڈالر (1982)[15]
582311039 امریکی ڈالر (1983)[15]
526217137 امریکی ڈالر (1984)[15]
610761731 امریکی ڈالر (1985)[15]
635742142 امریکی ڈالر (1986)[15]
746832947 امریکی ڈالر (1987)[15]
657015441 امریکی ڈالر (1988)[15]
630659707 امریکی ڈالر (1989)[15]
637925667 امریکی ڈالر (1990)[15]
576118920 امریکی ڈالر (1991)[15]
3042274495 امریکی ڈالر (2008)[15]
4265888672 امریکی ڈالر (2009)[15]
5162440197 امریکی ڈالر (2010)[15]
6344642495 امریکی ڈالر (2011)[15]
7152304411 امریکی ڈالر (2012)[15]
7288702808 امریکی ڈالر (2013)[15]
7528550402 امریکی ڈالر (2014)[15]
6976966101 امریکی ڈالر (2015)[15]
7281910391 امریکی ڈالر (2016)[15]
8097280955 امریکی ڈالر (2017)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.295 (1990)[16]
0.300 (1991)
0.309 (1992)
0.305 (1993)
0.300 (1994)
0.324 (1995)
0.328 (1996)
0.332 (1997)
0.335 (1998)
0.338 (1999)
0.340 (2000)[16]
0.341 (2001)
0.373 (2002)[17]
0.396 (2004)
0.405 (2005)
0.415 (2006)
0.433 (2007)
0.434 (2008)
0.448 (2009)
0.454 (2010)
0.463 (2011)
0.470 (2012)
0.476 (2013)
0.479 (2014)
0.479 (2015)
0.383 (2003)[17]
0.398 (2004)[17]
0.408 (2005)[17]
0.417 (2006)[17]
0.429 (2007)[17]
0.437 (2008)[17]
0.453 (2009)[17]
0.463 (2010)[17]
0.471 (2011)[17]
0.482 (2012)[17]
0.487 (2013)[17]
0.491 (2014)[17]
0.493 (2015)[17]
0.494 (2016)[17]
0.498 (2017)[17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 9 فیصد (2014)[18]
8.5 فیصد (2017)[19]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
کرنسی افغانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رائج سکہ (P38) ویکی ڈیٹا پر
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+04:30  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم af.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 AF  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +93  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

افغانستان وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں واقع ایک زمین بند ملک ہے۔[20] Dari: Afġānestān [avɣɒnesˈtɒn][21][22][23] جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ افغانستان ہے۔ اس کے جنوب اور مشرق میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال مشرق میں چین، شمال میں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان ہیں۔ اردگرد کے تمام ممالک سے افغانستان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلق بہت گہرا ہے۔ اس کے بیشتر لوگ مسلمان ہیں۔ یہ ملک بالترتیب ایرانیوں، یونانیوں، عربوں، ترکوں، منگولوں، برطانیوں، روسیوں اور اب امریکہ کے قبضے میں رہا ہے۔ مگر اس کے لوگ بیرونی قبضہ کے خلاف ہمیشہ مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ ایک ملک کے طور پر اٹھارویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی کے دور میں یہ ابھرا اگرچہ بعد میں درانی کی سلطنت کے کافی حصے اردگرد کے ممالک کے حصے بن گئے۔
1919ء میں شاہ امان اللہ خان کی قیادت میں انگریزوں سے افغانستان کی آزادی حاصل کی۔ جس کے بعد افغانستان صحیح معنوں میں ایک ملک بن گیا۔ مگر انگریزوں کے دور میں اس کے بیشتر علاقے حقیقت میں آزاد ہی تھے اور برطانیہ کبھی اس پر مکمل قبضہ نہیں رکھ سکا۔ آج افغانستان امریکی قبضہ میں ہے اور بظاہر ایک آزاد ملک اور حکومت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ افغانستان پچھلے پینتیس سال سے مسلسل جنگ کی سی حالت میں ہے جس نے اس کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی کئی نسلوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ یہ تباہی کبھی غیروں کے ہاتھوں ہوئی اور کبھی خانہ جنگی سے یہ صورت حال پیدا ہوئی۔ اگرچہ افغانستان کے پاس تیل یا دوسرے وسائل کی کمی ہے مگر اس کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ وہ وسطی ایشیاء، جنوبی ایشیاء اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان میں ہے اور تینوں خطوں سے ہمیشہ اس کے نسلی، مذہبی اور ثقافتی تعلق رہا ہے اور جنگی لحاظ سے اور علاقے میں اپنا دباؤ رکھنے کے لیے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری طاقتوں نے ہمیشہ اس پر اپنا قبضہ یا اثر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ افغانستان کا زیادہ رقبہ پتھریلا پہاڑی علاقہ ہے اس وجہ سے کسی بھی بیرونی طاقت کا یہاں قبضہ رکھنا مشکل ہے اور لوگ زیادہ تر قبائلی ہیں اس لیے کبھی بیرونی طاقتوں کو تسلیم نہیں کرتے، نتیجہ یہ کہ اس ملک کو کبھی بھی لمبے عرصے کے لیے امن نصیب نہیں ہو سکا۔

تاریخ[ترمیم]

قبل اسلام[ترمیم]

فارس کے بادشاہ شاپور اول کا سکہ ۔ زمانہ: تیسری صدی عیسوی

افغانستان میں پچاس ہزار سال پہلے بھی انسانی آبادی موجود تھی اور اس کی زراعت بھی دنیا کی اولین زراعت میں شامل ہے۔[24] سن 2000 قبل مسیح میں آریاؤں نے افغانستان کو تاراج کیا۔ پھر ایرانیوں نے ان سے چھین لیا۔ اس کے بعد یہ عرصہ تک سلطنت فارس کا حصہ رہا۔ 329 قبل مسیح میں اس کے کئی حصے ایرانیوں سے سکندر اعظم نے چھین لیے جس میں بلخ شامل ہے مگر یونانیوں کا یہ قبضہ زیادہ دیر نہ رہا۔ 642 عیسوی تک یہ علاقہ وقتاً فوقتاً ہنوں، منگولوں، ساسانیوں اور ایرانیوں کے پاس رہا۔ جس کے بعد اس علاقے کو مسلمانوں نے فتح کر لیا۔ مسلمانوں کی اس فتح کو تاریخ میں عربوں کی فتح سمجھا جاتا ہے جو غلط ہے کیونکہ مسلمانوں میں کئی اقوام کے لوگ شامل تھے۔ اسلام سے پہلے یہاں کے لوگ بدھ مت اور کچھ قبائلی مذاہب کے پیروکار تھے۔

اسلامی دور احمد شاہ درانی (ابدالی) تک (642ء سے 1747ء)[ترمیم]

شہنشاہ بابر جس نے کابل کو دار الحکومت بنایا

642ء میں مسلمانوں نے اس علاقے کو فتح کیا مگر یہاں کے حکمران علاقائی لوگوں ہی کو بنایا۔ پہلے یہ حکمرانی خراسانی عربوں کے پاس رہی۔ 998ء میں محمود غزنوی نے ان سے اقتدار چھین لیا۔ غوریوں نے 1146ء میں غزنویوں کو شکست دی۔ اور انہیں غزنی کے علاقے تک محدود کر دیا۔ یہ سب مسلمان تھے مگر 1219ء میں چنگیز خانی منگولوں نے افغانستان کو تاراج کر دیا۔ ھرات، غزنی اور بلخ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ منگول بعد میں خود مسلمان ہو گئے حتیٰ کہ تیمور نے چودھویں صدی میں ایک عظیم سلطنت قائم کر لی۔ اسی کی اولاد سے شہنشاہ بابر نے کابل کو سولہویں صدی کے شروع میں پہلی دفعہ اپنا دار الحکومت قرار دیا۔ سولہویں صدی سے اٹھارویں صدی تک افغانستان کئی حصوں میں تقسیم رہا۔ شمالی حصہ پر ازبک، مغربی حصے (ھرات سمیت) پر ایرانی صفویوں اور مشرقی حصہ پر مغل اور پشتون قابض رہے۔ 1709ء میں پشتونوں نے میرویس خان هوتک کی قیادت میں صفویوں کے خلاف جنگ لڑی اور 1719ء سے 1729ء تک افغانستان بلکہ ایرانی شہر اصفہان پر قبضہ رکھا۔ 1729ء میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ نے انھیں واپس دھکیلا اور ان کے قبضے سے تمام علاقے چھڑائے حتیٰ کہ 1738ء میں قندھار اور غزنی پر بھی قبضہ کر لیا۔ جو 1747ء تک جاری رہا۔ پشتونوں اور فارسی بولنے والوں کی یہ کشمکش آج بھی جاری ہے حالانکہ دونوں مسلمان ہیں۔

درانی سلطنت ( 1747ء سے 1823ء)[ترمیم]

قندھار کی ایک پینٹنگ (1848ء) جس میں احمد شاہ کا مقبرہ بھی ہے اوراحمد شاہ کا تعمیر کردہ قندھار کا قلعہ بھی

احمد شاہ درانی کو بجا طور پر افغانستان کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ احمد شاہ درانی کو احمد شاہ ابدالی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جون 1747ء میں نادر شاہ قتل ہو گیا جس کے بعد لویہ جرگہ نے ابدالی قبیلہ کے احمد شاہ درانی کو سربراہ چن لیا۔ پہلے قندھار میں اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد احمد شاہ درانی نے تمام تر قوت افغانستان کو ایک ملک بنانے پر صرف کی۔ درانی سلطنت میں موجودہ ایران، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے کچھ علاقے شامل تھے۔ اس کی سلطنت میں ایران کے شہر مشہد سے لے کر کشمیر اور موجودہ بھارت کے شہر دہلی تک کے علاقے شامل تھے۔ احمد شاہ درانی کا ایک اہم کارنامہ جنوری 1761ء میں پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست دینا تھا۔ لیکن اس جنگ کے بعد سکھوں نے پنجاب میں اثر بڑھانا شروع کیا اور آہستہ آہستہ پنجاب کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ لیکن اس وقت تک افغانستان کو ایک مضبوط ملک کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ 1772ء تک احمد شاہ درانی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی حکومت رہی۔ اس کی اولاد میں ایوب شاہ کو 1823ء میں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں کابل کی حکومت محمد شاہ اور پھر 1826ء میں دوست محمد خان کے پاس چلی گئی۔

یورپی اثر (1823ء۔ 1919ء)[ترمیم]

امیر حبیب اللہ خان

امیر دوست محمد خان، جس نے کابل کی حکومت 1826ء میں سنبھال لی تھی، نے روس اور ایران سے تعلقات پڑھانا شروع کیے کیونکہ سکھوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تھا اور انگریزوں نے اپنی روایتی چالاکی کا ثبوت دیتے ہوئے سکھوں اور دھلی کے شاہ شجاع کے ساتھ مل کر افغانستان میں اپنا اثر پڑھانا شروع کیا۔ حالانکہ دونوں انگریزوں کے بظاہر دشمن تھے۔ شاہ شجاع کو انگریزوں نے کابل کے تخت کے سبز باغ دکھائے۔ اس زمانے میں روس اور برطانوی ھند میں کئی ہزار میل کا فاصلہ تھا اور وسطی ایشیاء کے شہروں مرو، خیوا، بخارا اور تاشقند کو مغرب میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے مگر انگریز یہ جانتے تھے کہ روسی ان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو روکنے اور افغانستان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے انگریزوں کی مکارانہ جدوجہد کو 'عظیم چالبازیوں' (The Great Game) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[25] اس سلسلے میں انگریزوں نے دو جنگیں لڑیں۔ پہلی جنگ ( 1839ء-1842ء) اس وقت ہوئی جب ایرانیوں نے ھرات کے لوگوں کے ساتھ مل کر انگریزوں اور روسیوں کو افغانستان سے بے دخل کرنے کے لیے افواج پورے ملک میں روانہ کیں۔ انگریزوں نے کابل پر قبضہ کر کے دوست محمد خان کو گرفتار کر لیا۔ افغانیوں نے برطانوی فوج کے ایک حصے کو مکمل طور پر قتل کر دیا جو سولہ ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ صرف ایک شخص زندہ بچا۔ انگریز مدتوں اپنے زخم چاٹتے رہے۔ اسی وجہ سے مجبوراً انگریزوں نے دوست محمد خان کو رہا کر دیا۔ بعد میں دوست محمد خان نے ھرات کو بھی فتح کر لیا۔ دوسری جنگ (1878ء-1880ء) اس وقت ہوئی جب امیر شیر علی نے برطانوی سفارت کاروں کو کابل میں رہنے کی اجازت نہ دی۔ اس جنگ کے بعد انگریزوں کے ایما پر 1880ء میں امیر عبدالرحمٰن نے افغانستان کا اقتدار حاصل کیا مگر عملاً کابل کے خارجی معاملات انگریزوں کے ہاتھ میں چلے گئے۔

اسی اثر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کے تعین کا معاہدہ بھی کیا۔ امیر عبدالرحمٰن کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان بعد میں افغانستان کے بادشاہ ہوئے۔ ان کے دور میں افغانستان میں مغربی مدرسے کھلے اور انگریزوں کا اثر مزید بڑھ گیا۔ اگرچہ بظاہر انگریزوں نے افغانستان کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا۔ 1907ء میں امیر حبیب اللہ خان نے انگریزوں کی دعوت پر برطانوی ھند کا دورہ بھی کیا۔ اسی مغربی دوستی اور اثر کی وجہ سے امیر حبیب اللہ خان کو اس کے رشتہ داروں نے 20 فروری 1919ء کو قتل کر دیا۔ اس کے قتل کے بعد اس کا بیٹا امان اللہ خان بادشاہ بن گیا اور انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی مگر 19 اگست 1919ء کو اس کے اور انگریزوں کے درمیان میں راولپنڈی میں ایک معاہدہ ہوا جس میں انگریزوں نے افغانستان پر اپنا کنٹرول ختم کیا اور افغانستان میں ان کا اثر تقریباً ختم ہو گیا۔ 19 اگست 1919ء کو اسی وجہ سے افغانستان کی یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔

آزادی کے بعد (1919ء-1978ء)[ترمیم]

امان اللہ خان

امان اللہ خان (دورِ اقتدار: 1919ء-1929ء) نے افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد اصلاحات کیں اور مغربی دنیا سے تعلقات قائم کیے۔ اصلاحات میں بنیادی تعلیم کا لازمی قرار دینا اور مغربی طرز کی دیگر اصلاحات شامل تھیں۔ اس نے 1921ء میں افغانستان میں ہوائی فوج بھی بنائی جس کے جہاز روس سے آئے لیکن افواج کی تربیت ترکی اور فرانس سے کروائی گئی۔ 1927ء میں امان اللہ خان نے یورپ اور ترکی کا دورہ بھی کیا جس میں اس نے مغربی مادی ترقی کا جائزہ لیا اور افغانستان میں ویسی ترقی کی خواہش کی مگر جب اس نے کمال اتاترک کی طرز پر پردہ پر پابندی لگانے کی کوشش کی تو قبائل میں بغاوت پھوٹ پڑی اور افغان اس کے سخت خلاف ہو گئے۔ شنواری قبائل نے نومبر 1928ء میں جلال آباد سے بغاوت شروع کی اور دوسرے لوگوں کو ساتھ ملا کر کابل کی طرف بڑھنے لگے۔ شمال سے تاجک کابل کی طرف بڑھنے لگے۔ امان اللہ خان پہلے قندھار بھاگا اور فوج تیار کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوا جس کے بعد وہ بھارت فرار ہو گیا۔ وہاں سے پہلے اطالیہ اور بعد میں سوئٹزرلینڈ میں پناہ لی جہاں 1960ء میں وفات پائی۔ اس بغاوت کے دوران میں جنوری 1929ء میں حبیب اللہ کلاکانی عرف بچہ سقا نے کابل پر قبضہ کیا اور حبیب اللہ شاہ غازی کے نام سے حکومت قائم کی مگر اکتوبر 1929ء میں جنرل نادر خان کی فوج نے کابل کو گھیر لیا جس پر بچہ سقا فرار ہو کر اپنے گاؤں چلا گیا۔ جنرل نادر خان کو انگریزوں کی مکمل حمایت حاصل تھی جنہوں نے اسے ہتھیار اور پیسہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ انگریزوں نے جنرل نادر خان کو ایک ہزار افراد کی فوج بھی تیار کر کے دی تھی جو وزیرستانی قبائلیوں پر مشتمل تھی۔ نادر خان نے قرآن کو ضامن بنا کر اس کو پناہ اور معافی دی مگر جب وہ کابل آیا تو اسے قتل کروا دیا۔[26]
نادر خان (دورِ اقتدار: 1929ء۔ 1933ء ) جو امان اللہ خان کا رشتہ دار تھا اس نے نادر شاہ کے نام سے 1929ء میں افغانستان کا تخت سنبھالا۔ مگر 1933ء میں کابل کے ایک طالب علم نے اسے قتل کر دیا جس کے بعد اس کے انیس سالہ بیٹے ظاہر شاہ بادشاہ بن گیا۔ ظاہر شاہ (دورِ اقتدار: 1933ء۔ 1973ء ) نے چالیس سال تک افغانستان پر حکومت کی۔ وہ افغانستان کا آخری بادشاہ تھا۔ اس نے کئی وزیر اعظم بدلے جن کی مدد سے اس نے حکومت کی۔ جن میں سے ایک سردار محمد داؤد خان (المعروف سردار داؤد) تھا جو اس کا کزن تھا۔ سردار داؤد نے روس اور بھارت سے تعلقات بڑھائے۔ اسے پاکستان سے نفرت تھی۔ پاکستان سے تعلقات کی خرابی کی وجہ سے افغانستان کو اقتصادی مشکلات ہوئیں تو سردار داؤد کو 1963ء میں استعفی دینا پڑا۔ مگر سردار داؤد (دورِصدارت: 1973ء-1978ء) اس نے دس سال بعد 17 جولائی 1973ء کو ایک فوجی بغاوت میں افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ اس بغاوت کو روس (اس وقت سوویت یونین) کی مدد حاصل تھی۔ ظاہر شاہ فرار ہو کر اطالیہ چلا گیا۔ 27 اپریل 1978ء کو سردار داؤد کو ایک اور بغاوت میں قتل کر دیا گیا۔ اور نور محمد ترہ کئی صدر بن گیا۔ اس بغاوت کو بھی روس کی مدد سے ممکن بنایا گیا۔ اس حکومت نے کمیونزم کو رائج کرنے کی کوشش کی اور روس کی ہر میدان میں مدد لی جن میں سڑکوں کی تعمیر سے لے کر فوجی مدد تک سب کچھ شامل تھا۔ روس کی یہ کامیابی امریکہ کو کبھی پسند نہیں آئی چنانچہ سی آئی اے (CIA) نے اسلامی قوتوں کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ جس سے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے۔ نتیجتاً 1979ء میں روس نے افغانستان کی حکومت کی دعوت پر افغانستان میں اپنی فوج اتار دی اور عملاً افغانستان پر اسی طرح روس کا قبضہ ہو گیا جس طرح آج کل امریکہ کا قبضہ ہے۔

روسی قبضہ اور جہاد[ترمیم]

کابل میں صدارتی محل اپریل 1978ء مارکسی انقلاب کے بعد ایک دن

روس کی کمیونسٹ پارٹی نے کمال اتا ترک کی طرز پر غیر اسلامی نظریات کی ترویج کی مثلاً پردہ پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔ یہ تبدیلیاں افغانی معاشرہ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ افغانستان میں حالات جب بہت خراب ہو گئے تو افغانی کمیونسٹ حکومت کی دعوت پر روس نے اپنی فوج افغانستان میں اتار دی۔ 25 دسمبر، 1979ء کو روسی فوج کابل میں داخل ہو گئی۔ افغانستان میں مجاہدین نے ان کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ امریکہ نے ان مجاہدین کو خوب مدد فراہم کی مگر امریکا کا مقصد اسلام کی خدمت نہیں بلکہ روس کے خلاف ایک قوت کو مضبوط کرنا تھا۔ امریکہ کو پاکستان کو بھی ساتھ ملانا پڑا۔ پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو بھی امریکا نے روس کے خلاف استعمال کیا۔ افغان مجاہدین اسلام سے مخلص تھے مگر امریکا انھیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا رہا۔ مگر جب امریکا کو ان کی ضرورت نہ رہی تو وہی مجاہدین امریکی اور پاکستانی زبان میں دہشت گرد کہلانے لگے۔ امریکی سی آئی اے، پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب نے اس دوران میں اپنا اپنا کردار ادا کیا جس میں ان ممالک کے کچھ مفادات مشترک تھے اور کچھ ذاتی۔ اس جہاد کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس کو 1989ء میں مکمل طور پر افغانستان سے نکلنا پڑا بلکہ بعض دانشوروں کے خیال میں روس کے ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ یہی تھی۔ اس سلسلے میں روس، افغانستان اور پاکستان کے درمیان میں 1988ء میں جنیوا معاہدہ ہوا تھا۔

روسیوں کے بعد[ترمیم]

1993ء کی خانہ جنگی کے دوران میں کابل

روس نے افغانستان سے فوج نکالنے کے بعد بھی اس وقت کی نجیب اللہ حکومت کی مدد جاری رکھی مگر 18 اپریل، 1992ء کو مجاہدین کے ایک گروہ نے جنرل عبدالرشید دوستم اور احمد شاہ مسعود کی قیادت میں کابل پر قبضہ کر لیا اور افغانستان کو اسلامی جمہوریہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ مگر امریکا اسلحہ کی مدد سے مجاہدین کے مختلف گروہوں کے درمیان میں اقتدار کے حصول کے لیے خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اس وقت ایک اسلامی جہادی کونسل بنائی گئی جس کی قیادت پہلے صبغت اللہ مجددی اور بعد میں برہان الدین ربانی نے کی مگر مجاہدین کی آپس کی لڑائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بیرونی طاقتوں نے پشتو اور فارسی بولنے والوں کی باہمی منافرت کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اس وقت کی حکومت میں پشتونوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی جس سے ان میں شدید احساسِ محرومی پیدا ہوا۔ پاکستان اور افغانستان کے کچھ علما نے مدرسوں کے طلبہ کو منظم کرنا شروع کیا جن کو بعد میں طالبان کہا جانے لگا۔ پاکستانی فوج کے جنرل نصیر اللہ بابر طلبہ کو استعمال کرنے کے خیال کے بانی تھے۔ 1996ء میں طالبان کے رہنما ملا محمد عمر نے کابل پر قبضہ کیا۔ انھوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور طالبان نے انھیں امیر المومنین تسلیم کر لیا۔ طالبان نے 2000ء تک افغانستان کے پچانوے فی صد علاقے پر قبضہ کر کے ایک اسلامی حکومت قائم کی۔ اس زمانے میں افغانستان میں نسبتاً امن قائم رہا اور پوست کی کاشت بھی نہ ہوئی۔ طالبان کو بجز پاکستان اور سعودی عرب کے کسی نے تسلیم نہ کیا اور مغربی دنیا نے شمالی اتحاد کی مدد جاری رکھی جو افغانستان کے شمال میں کچھ اختیار رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک خالص اسلامی حکومت مغربی دنیا اور بھارت کو ہرگز قبول نہ تھی۔ یاد رہے کہ طالبان سے پہلے بھارت کو افغانستان میں خاصا عمل دخل تھا۔ طالبان کے دور میں پاکستان کا اثر افغانستان میں بڑھ گیا اور پچاس سال میں پہلی دفعہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایک طرح سے دوستانہ امن قائم رہا۔ مگر پاکستان نے طالبان کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے نہ صرف طالبان کا اعتماد کھویا بلکہ ایک پاکستان دشمن اور بھارت دوست حکومت افغانستان میں قائم ہو گئی۔

امریکی قبضہ اور حالاتِ حاضرہ[ترمیم]

طالبان کے دور میں کچھ ایسے لوگوں نے افغانستان میں اپنے اڈے بنائے جو پہلے امریکا کے منظورِ نظر تھے مگر جب امریکا کو ان کی ضرورت نہ رہی تو وہ یکایک امریکا کی نظر میں دہشت گردوں میں تبدیل ہو گئے۔ ان میں اسامہ بن لادن اور اس کے حواری شامل تھے۔ جو افغان میں روس کے خلاف جہاد میں سرگرم تھے۔ 11 ستمبر 2001ء کے عالمی تجارتی مرکز ( ورلڈ ٹریڈ سنٹر) کے حادثے کا الزام اسامہ بن لادن اور القاعدہ پر لگایا گیا۔ ان لوگوں کو طالبان نے پناہ دے رکھی تھی اور افغانی روایات کے مطابق انھیں دشمن کے حوالے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس بہانے 7 اکتوبر، 2001ء کو امریکا نے افغانستان پر پاکستان کی مدد سے حملہ کر دیا اور افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ امریکا نے بعد میں عراق پر بھی قبضہ کیا جس سے سوچا جا سکتا ہے کہ ایک تو اس نے عراق پر حملہ سے پہلے افغانستان میں ایسی حکومت کو ختم کیا جہاں سے ممکنہ مدد عراق کو جہاد کے نام پر مل سکتی تھی۔ دوسرے افغانستان اور عراق پر قبضہ کر کے اور پاکستان کو دباؤ میں رکھ کر امریکا نے ایران اور کسی حد تک اسلام کے مرکز سعودی عرب کو گھیرے میں لے لیا۔ خلیج فارس میں اتنی زیادہ امریکی بحری طاقت قائم ہو گئی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ امریکی ایما پر جرمنی کے شہر بون میں ایک افغانی حکومت کا قیام عمل میں آیا جس کے سربراہ حامد کرزئی تھے۔ 9 اکتوبر، 2004ء کو حامد کرزئی کو افغانستان کا صدر چن لیا گیا۔ موجودہ حالات یہ ہیں کہ حامد کرزئی کی کٹھ پتلی حکومت قائم ہے۔ افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوج تاحال موجود ہے جو افغانستان کی اصل حاکم ہے۔ بھارت کا اثرو رسوخ افغانستان میں بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت اور امریکا پاکستان کے صوبے بلوچستان جیسے علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں اور دہشت گردی کو خوب فروغ دے رہے ہیں۔ 13 اور 14مئی، 2007ء کو افغانی و امریکی فوج اور پاکستانی افواج میں آپس میں پہلی باقاعدہ جھڑپ ہوچکی ہے جس میں کچھ پاکستانی اور کچھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ امریکہ وقتاً فوقتاً پاکستانی علاقے میں متعدد بار میزائیل پھینک چکا ہے جس سے سو سے زائد پاکستانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ کارروائیاں بعینہ اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسے اسرائیل جنوبی لبنان میں کرتا ہے۔ 16 مئی کو ایک مزید جھڑپ میں افغانی قومی فوج کے چار افراد ہلاک اور ایک پاکستانی زخمی ہوا۔

جغرافیہ اور موسم[ترمیم]

جغرافیائی نقشہ

افغانستان چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے جس کا کوئی ساحلِ سمندر نہیں۔ اس کی سمندری تجارت اسی لیے پاکستان کے ذریعے ہوتی ہے۔ زیادہ علاقہ پہاڑی ہے جو زیادہ تر کوہ ہندوکش پر مشتمل ہے۔ افغانستان میں پانی کی شدید کمی ہے اگرچہ چار دریا ہیں جن کے نام دریائے آمو، دریائے کابل، دریائے ہلمند اور ھریرود ہیں۔ اونچا ترین مقام نوشک ہے جو 24,557 فٹ بلند ہے اور ترچ میر کے بعد کوہ ہندوکش کا دوسرا اونچا پہاڑ ہے۔ سطح سمندر سے سب سے کم بلند علاقہ (پست ترین مقام) دریائے آمو ہے جو صرف 846 فٹ بلند ہے۔[27]
افغانستان کی جغرافیائی سرحد 5529 کلومیٹر لمبی ہے جس میں سب سے زیادہ علاقہ (2,640 کلومیٹر) پاکستان کے ساتھ لگتا ہے۔ %12 علاقہ زراعت کے قابل ہے مگر صرف %0.22 علاقہ زیرِ کاشت ہے۔ چونکہ زیادہ علاقہ پہاڑی ہے اس لیے زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔ افغانستان کے علاقے میں سونا، چاندی، کوئلہ، تانبا، کانسی، کرومائیٹ، زنک، سلفر، لوہا، قیمتی پتھر اور نمک پائے جاتے ہیں۔ تیل کے بھی وسیع ذخائر ہیں۔ یہ تمام قدرتی وسائل مسلسل جنگ کی وجہ سے کبھی استعمال نہیں ہو سکے۔ افغانستان کا موسم شدید ہے یعنی گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے مگر سردیاں زیادہ شدید ہیں۔ کابل میں دو سے تین ماہ برف پڑی رہتی ہے۔ جلال آباد اور اس سے نیچے کا موسم نسبتاً گرم ہے۔ زیادہ بارشیں گرمیوں میں ہوتی ہیں جب برصغیر میں مون سون ہوتا ہے۔[27]

معیشت[ترمیم]

انار کی ترسیل

افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ روس اور امریکا کی کشمکش اور اس علاقے میں ان کے مزموم مقاصد ہیں۔ افغانستان مسلسل جنگ کا شکار رہا ہے اور اسے معاشی ترقی کی مہلت ہی نہیں ملی۔ افغانستان کی خاصی آبادی ایران اور پاکستان کو ہجرت کر گئی تھی جن میں سے کچھ اب واپس آنا شروع ہوئے ہیں مگر ہجرت نے ان کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور نئی پود کو پڑھنے لکھنے اور کوئی ہنر سیکھنے کے مواقع بھی کم ہی ملے ہیں۔ افغانستان میں جن لوگوں نے ہجرت نہیں بھی کی انھیں جنگ نے مصروف رکھا۔ مجبوراً اسلحہ کی تجارت، جنگ بطور سلسلہ روزگار اور افیم و پوست کی تجارت ہی ان کا مقدر بنی۔ ایک بڑی تعداد سمگلنگ سے بھی وابستہ ہوئی۔ بہت معمولی تعداد پوست کے علاوہ دوسری اجناس بھی کاشت کرتی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق 2001ء کے بعد معیشت نے خاصی ترقی کی ہے مگر اس سلسلے میں کوئی قابلِ اعتماد اعدادوشمار نہیں ملتے۔ البتہ افغانستان سے باہر رہنے والے افغانیوں نے اب کچھ سرمایہ کاری شروع کی ہے مثلاً 2005ء میں دبئی کے ایک افغانی خاندان نے ڈھائی کروڑ ڈالر سے کوکا کولا کا ایک پلانٹ افغانستان میں لگایا ہے۔ افغانستان کو ابھی غیر ملکی امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور2006ء میں زرِ مبادلہ کے بیرونی ذخائر صرف پچاس کروڑ امریکی ڈالر کے لگ بھگ تھے۔ افراطِ زر افغانستان کا ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے اور افغانی روپیہ کی قیمت بھی مسلسل گرتی رہی ہے مگر اب حالات کچھ بہتر ہیں۔ 2003ء کے بعد 14 نئے بنک بھی کھلے ہیں جن میں کئی غیر ملکی بنک بھی شامل ہیں۔ کابل کی ترقی کے لیے بھی نو ارب امریکا ڈالر مہیا کیے گئے ہیں۔ افغانستان کئی بین الاقوامی اداروں کا رکن ہے اور حال ہی میں سارک (SAARC) کا رکن بھی بنا ہے۔ ایک اہم پیش رفت قدرتی گیس کی دریافت ہے جس کا استعمال اور فروخت بڑے پیمانے پر شروع ہونے کی امید ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

افغانستان میں صوبے کو ولایت کہتے ہیں مثلاً ولایت بدخشان۔ افغانستان کو کل چونتیس ولایات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن کے نام نیچے دیے گئے ہیں۔

  1. بدخشاں
  2. بادغیس
  3. بغلان
  4. بلخ
  5. بامیان
  6. دایکندی
  7. فراہ
  8. فاریاب
  9. غزنی
  10. غور
  11. ہلمند
  12. ہرات
  13. جوزجان
  14. کابل
  15. قندھار
  16. کاپیسا
  17. خوست

  1. کنڑ
  2. قندوز
  3. لغمان
  4. لوگر
  5. ننگرہار
  6. نیمروز
  7. نورستان
  8. اروزگان
  9. پکتیا
  10. پکتیکا
  11. پنجشیر
  12. پروان
  13. سمنگان
  14. سرپل
  15. تخار
  16. وردک
  17. زابل

افغانستان کا نقشہ

مشہور شہر[ترمیم]

افغانستان کے مرکزی ادارہ برائے شماریات کے مطابق آبادی کے حساب سے 2006ء میں افغانستان کے بارہ بڑے شہر درج ذیل ہیں۔ آبادی بھی ان کے ساتھ دی گئی ہے۔

ثقافت[ترمیم]

افغان اپنے روایتی لباس میں

افغانی ثقافت کی تین اہم بنیادیں ہیں۔ ایرانی ثقافت، پشتون ثقافت اور اسلام۔ اس میں اسلام کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ افغانیوں کے لیے ان کا ملک، قبیلہ سے وفاداری، مذہب، اپنا شجرہ نسب اور سب سے بڑھ کر آزادی بہت اہم ہیں۔ مذہب کے ساتھ ساتھ شاعری اور موسیقی بھی ان کی زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ افغانستان ایک تاریخ رکھتا ہے جس کے نشان جابجا آثارِ قدیمہ کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ بز کشی ان کا قومی کھیل ہے جو پولو سے ملتا جلتا ہے۔ اگرچہ تعلیم کی شرح کم ہے مگر قرآن و مذہب کی تعلیم اور شاعری خصوصاً قدیم فارسی شاعری ان کی زندگی اور خیالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو قدیم زمانے میں خراسان بھی کہا جاتا تھا۔ اب خراسان ایران کے ایک حصے کو کہا جاتا ہے مگر یہ دونوں علاقے (ایرانی اور افغانی خراسان) تاریخی طور پر ہمیشہ متعلق رہے ہیں۔ افغانی خراسان نے بڑے اہم لوگوں کو جنم دیا ہے جن کو عام لوگ عرب سمجھتے ہیں۔ مثلاً امام ابو حنیفہ کے قریبی اجداد کا تعلق افغانستان سے تھا۔ اسی طرح بو علی سینا جسے اسلامی اور مغربی دنیاؤوں میں اپنے وقت کا سب سے بڑا طبیب اور حکیم گردانا جاتا ہے، کا تعلق بلخ سے تھا۔ بو علی سینا کے والد نے عرب کو ہجرت کی تھی۔ مولانا رومی کی پیدائش اور تعلیم بھی بلخ ہی میں ہوئی تھی۔ مشہور فلسفی ابو الحسن الفارابی کا تعلق افغانستان کے صوبہ فاریاب سے تھا۔ پندرہویں صدی کے مشہور فارسی صوفی شاعر نور الدین عبد الرحمٰن جامی کا تعلق افغانستان کے صوبہ غور کے گاؤں جام سے تھا۔
افغانستان کے کھانے بھی لاجواب ہوتے ہیں جن میں سے افغانی یا کابلی پلاؤ، خمیری روٹی اور تکے کباب شاید دنیا میں اپنی قسم کے مزیدار ترین کھانوں میں شامل ہیں جو دیگر علاقوں میں بھی مقبول ہیں۔ مذہب کو افغانستان میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ان کی چار اہم چھٹیاں عیدالفطر، عیدالاضحیٰ، عاشورہ اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مذہبی نوعیت کی ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کا یومِ آزادی ( 19اگست) اور نوروز (21 مارچ) بھی چھٹیوں میں شامل ہیں۔

اعداد و شمار[ترمیم]

نسلیں[ترمیم]

نسلاً لوگ پشتون، تاجک، ھزارہ، ایمک، ازبک، ترکی، بلوچی،کھوار زبان بولنے والی قوم کھو اور دیگر لوگ بھی آباد ہیں۔ دیگر لوگوں میں نورستانی، پشائی، براھوی وغیرہ شامل ہیں۔

افغانستان کے نسلی گروہ
نسلی گروہ تصویر کتاب حقائق عالم / کانگریس لائبریری ملکی مطالعہ تخمینہ (2004–تاحال)[28][29][30][31][32][33] کتاب حقائق عالم / کانگریس لائبریری ملکی مطالعہ تخمینہ (قبل-2004)[34][35][36][37]
پشتون Pashtun children in Khost align=center11% 45-50%
تاجک Tajik children in Khowahan district of Badakhshan 20% 25% (اس میں ایک فیصد قزلباش ہیں)
ہزارہ Hazaras in Daykundi Province 20% 10–19%
ازبک Uzbek looking boy in northern Afghanistan 9% 6–8%
ایماق 4% 500000 تا 800000
ترکمان 3% 2.5%
بلوچ Camera focusing on Baloch 2% 100,000
دیگر (پاشایی، نورستانی، عرب، براہوی، پامیری، گرجر، وغیرہ) Young Pashai man 4% 6.9%

زبانیں[ترمیم]

افغانستان میں %64 لوگوں کی پشتو اور %14 لوگوں کی دري مادري زبان ہے اور باقی %20 فیصد لوگ ازبک، ترکمن، نورستانی، بلوچی وغیرہ بولتے ہیں۔[27] نورستانی اور بلوچی سمیت تیس کے قریب علاقائی زبانیں ہیں جو چار فی صد کے قریب لوگ بولتے ہیں۔ جنگ اور ہجرت کی وجہ سے افغانی اب اردو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں دو یا زیادہ زبانیں جاننا ایک عام بات ہے۔ پشتو بولنے والے لوگوں کے علاقے زیادہ تر پاکستانی سرحد سے قریب ہیں۔ یعنی ملک کے جنوب مشرق اور جنوب میں ہیں۔

مذاہب[ترمیم]

افغانستان میں مذہب[38]
اہل سنت
  
84.7–89.7%
امامیہ
  
7–15%
اسماعیلیہ
  
4.5%
دیگر مذہب
  
0.5%

افغانستان کے %99 لوگ مسلمان ہیں جن میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ایک لاکھ کے قریب ہندو اور سکھ بھی ہیں جو کابل، قندھار اور جلال آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔[39]

افغانستان تصویروں میں[ترمیم]

تصویر کو بڑا کرنے کے لیے اس پر کلک کریں۔

فہرست متعلقہ مضامین افغانستان[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ افغانستان في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جون 2019۔
  2. ^ ا ب https://www.cia.gov/library/publications/the-world-factbook/geos/af.html
  3. The World Factbook — مصنف: سی آئی اے — ناشر: سی آئی اے
  4. ^ ا ب مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://mjp.univ-perp.fr/constit/af2004.htm — باب: 16
  5. مصنف: سی آئی اے — عنوان : The World Factbook — ناشر: سی آئی اے
  6. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  7. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  8. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  9. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  10. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  11. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  12. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=AF — اخذ شدہ بتاریخ: 21 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  13. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  14. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  15. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  16. ^ ا ب http://hdr.undp.org/en/countries/profiles/AFG
  17. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  18. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  19. https://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  20. /f/ ف /p/ پ۔ [b] /p/; [v] /f/ ۔
  21. "Afghanistan | history – geography"۔ Encyclopedia Britannica (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2018۔
  22. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Factbook نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  23. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ South Asia نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  24. افغانستان، مائکروسوفٹ انکارٹا انسائیکلوپیڈیا 2006ء بزبان انگریزی
  25. انگریزوں کی عظیم چالبازیاں۔
  26. حبیب اللہ کلاکانی۔ انگریزی کتاب
  27. ^ ا ب پ سی۔ آئی۔ اے ورلڈ فیکٹ بک۔ 2000
  28. "Article Sixteen of the 2004 Constitution of Afghanistan"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2018۔ Pashtuns strength in Afghan parliament diminished
  29. "Pashto"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2018۔ Pashto
  30. "Languages and Ethnic Groups of Afghanistan"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2018۔
  31. "Information about people from Afghanistan"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2018۔
  32. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ LoC-pdf نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  33. "Ethnic groups"۔ The World Factbook۔ CIA۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2010۔
  34. "Afghanistan"۔ The World Factbook/Central Intelligence Agency۔ یونیورسٹی آف مسوری۔ مورخہ 27 اپریل 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2011۔
  35. "Ethnic divisions"۔ The World Factbook/CIA۔ یونیورسٹی آف مسوری۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر 2010۔
  36. "Ethnic Groups"۔ Library of Congress Country Studies۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اکتوبر 2010۔
  37. "Ethnic groups:"۔ The World Factbook/CIA۔ University of Missouri۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2010۔
  38. http://gulf2000.columbia.edu/images/maps/Afghanistan_Religion_lg.png
  39. انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا۔ انگریزی میں پی ڈی ایف فائل کی شکل میں

بیرونی روابط[ترمیم]