ملا عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(محمد عمر سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملا
 محمد عمر مجاہد


در منصب
27 ستمبر 1996ء – 13 نومبر 2001ء
وزیرِ اعظم محمد ربانی
عبدالکبیر (قائم مقام)
پیشرو برہان الدین ربانی (صدر)
جانشین برہان الدین ربانی (صدر)

پیدائش عیسوی 1960
نودیہہ, افغانستان
وفات 23 Aprاپریلil 2013 (شام کے وقت)[1][2]>
Taizeni village[3], افغانستان[4] یاکراچی, سندھ, پاکستان[2]
سیاسی جماعت القاعدہ
طالبان
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ
مذہب دیوبندی سنی
فوجی خدمات
جنگیں جنگ افغانستان (1978ء - تا حال)
افغانستان میں سوویت جنگ
جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)

ملا محمد عمر افغانستان کی طالبان تحریک کے رہنماء ہیں ۔ وہ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان کے حکمران رہے۔ پھر امریکی و نیٹو افواج نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس وقت وہ امریکی و نیٹو افواج کے خلاف گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ملا محمد عمر 1959ءافغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں پیداہوۓ۔ دینی مدرسوں سے تعلیم پائی۔وہ دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک پشتون ہیں۔ پہلے وہ روسی فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ ایک معرکے میں وہ زخمی ہوۓ اور انکی ایک آنکھہ ختم ہو گئی۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

بحیثیت حکمران انھوں نے افغانستان میں امن ‍ قائم کیا۔ اور منشیات کا خاتمہ کیا۔ یہ وہ کام ہیں جو ان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکا۔ یاد رہے کہ طالبان کابل پر قبضے کے ایک سال بعد بامیان پر قبضہ کر پائے تھے۔

ملا عمر نے بہت کم انٹرویو دیۓ۔ اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔

ملا محمد عمر کی زندگی اور افغانستان کی سیاست میں 1979ء کا سن کافی اہمیت رکھتا ہے- اسی برس ایک طرف تو افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں خمینی انقلاب آتا ہےاور مغربی ذرائغ ابلاغ میں لفظ فنڈامینٹلزم یعنی قدامت پرستی پہلی دفعہ سنائی دیتا ہے- دوسری طرف روسی افواج افغانستان میں داخل ہوتی ہیں- یہ سرد جنگ کا دور تھا- مغربی ممالک بالخصوص امریکہ پاکستان کے سہارے کمیونسٹ افواج کے خلاف افغانستان میں جنگجوؤں کی امداد کرتے ہیں- یہ جنگجوؤں کو اس وقت مجاہدین کہا جانے لگا تھا- انہیں میں بیس برس کا ایک نوجوان شامل تھا جسکا نام محمد عمر تھا-

روس کی واپسی[ترمیم]

1989ء میں روسی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد ملامحمد عمر اپنے گا ؤں واپس چلے جاتے ہیں- جہاں وہ مدرسے میں تعلیم و تربیت میں مصروف ہو جاتے ہیں اور مقامی مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں- بظاہر وہ سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں-

روسی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں لاقانونیت کا دور شروع ہوجاتاہے- کل کے مجاہدین اب شرپسندی پر اتر آتے ہیں- جن کے ہاتھ میں طاقت ہے ان کی من مانی ہے- کہیں عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے تو کہیں مسافروں کو لوٹ لیا جاتا ہے- افغانستان کی سڑکوں پر ظلم و ستم کرنیوالوں نے چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں-


.

سوچ میں تبدیلی[ترمیم]

یہاں پر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ 1989ء میں روسی افواج کی واپسی سے 1994ء تک ملامحمد عمر کی زندگی اپنے گا ؤں تک محدود رہتی ہے- لیکن 1994 میں ہونے والا ایک واقعہ محمد عمر کو افغانستان کی سیاست میں جھونک دیتا ہے- ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ کچھ شر پسند عناصر نے گا ؤں کی لڑکیوں کو اغوا کر لیا ہے- انکی اجتماعی عصمت دری کی خبر سن کر ملامحمد عمر اپنے چند طالب علموں کو جمع کرتے ہوئے ان لڑکیوں کی جان بچاتے ہیں- ان کے یہی ساتھی بعد میں چل کر طالبان کہلااتے ہیں-

دوسرا واقعہ جس نے شاید ملا محمد عمر کو طالبان کی سربراہی کیلیۓ مجبور کر دیا وہ یہ ہے کہ دو سابق جنگجوؤں نے قندھار کے مرکز میں ایک خوبصورت لڑکے کیلۓ ٹینکوں سے جنگ لڑی- لاقانونیت کے اس ماحول کی وجہ سے ملا محمد عمر نے طالبان کو منظم کرنا شروع کیا- رفتہ رفتہ انکی اہمیت بھی بڑھتی گئی- اور پہلی دفعہ ان کی ضرورت پاکستان کو اس وقت پڑی جب پاکستانی ٹرکوں کےایک قافلے کو مقامی جنگجوؤں نے اپنے قبضے میں لے لیا- ٹرکوں کا یہ قافلہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا کیلیۓ ایک تجارتی راہ کی تلاش میں تھا- بعد میں ملا محمد عمر کی حمایت سے ان ٹرکوں کو چھڑایا گیا-

کابل پر قبضہ[ترمیم]

ملا محمد عمر کی قیادت میں پاکستان اور عربوں کی مدد سے طالبان نے 1996میں کابل پر قبضہ کر لیا- اور افغانستان کو اسلامی امارات قرار دیکر ملا محمد عمر کو امیرالمومنین کے خطاب سے نوازا گیا- جلد ہی طالبان نے افغانستان کے نوے فیصدی حصے پر قبضہ کرلیا- افغانستان پرگزشتہ بائیس برسوں میں سے پانچ برس طالبان کا قبضہ رہا - تقریبًا سات برس لاقانونیت کی نظر تھے اور دس برس روسی افواج قابض تھیں-

حلیہ اور شخصیت[ترمیم]

ملا محمد عمر آج بھی مقامی کسانوں کی بولی بولتے ہیں- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے ہیں- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کیلۓ اپنےدوست اسامہ بن لادن کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے- اطلاعات کے مطابق ان کی دو ایک بیوی اور آٹھ یا نو بچٌے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہوگیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گئے-افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران روسیون کیخلاف لڑتے ہوئے کہیں بار ملا عمر زخمی بھی ہوئے تھے جس میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ بھی کھودی تھی۔ معروف پاکستانی صحافی اوریا مقبول جان کا ملا عمر کی شخصیت کے متعلق کہنا ہے کہ میں 1988ء میں چمن میں ہوتا تھا وہاں اکثر قبائلی لڑائیاں ہوا کرتی تھی،ایک مرتبہ جب نورزئی اور اچکزئی قبیلے کے درمیان لڑائی ہورہی تھی تو میں نے ملا عمر کو دیکھا کہ بہت پریشان تھے،وہ ہمیشہ اس بات سے دکھی ہوتے تھے کہ میری قوم آپس میں کیوں ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ ملا عمر نے جب ابتدائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے صوبہ کندہار سے شروع کیا،پورے کندہار کاکنٹرول ملا عمر نے سنبھال لیا لیکن جس بات نےلوگوں کو حیران کردیا تھا وہ یہ کہ ملا عمر نے پورے کندہار صوبے کو بغیر خون خرابے کنٹرول لیا تھا،کسی ایک شخص کو بھی نقصان نہ پہنچا اور پورا صوبہ ان کے کنٹرول میں آگیا۔ ملا عمر کا پاکستان اور سعودی عرب سے ایک اچھا تعلق تھا ، اور بعد میں پاکستان اور سعودی عرب ہی وہ دو ممالک تھے جنہوں نے ملا عمر اور اسلامی امارت افغانستان کو کھل کر تسلیم کیا۔

اسامہ اور عمر[ترمیم]

اگرچہ مغربی میڈیا اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کی سیاست میں زیادہ تفریق نہیں کرتے لیکن یہ بات اہم ہے کہ اسامہ بن لادن ذاتی طور پر مغربی ممالک کےخلاف لڑرہےچاہتے تھے جبکہ ملا محمد عمر نے عالمی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے- انہوں نے اپنا پہلا غیرملکی ریڈیو انٹرویو بی بی سی کی پشتو سروس کو 25 فروری 1998 کو دیا- ملا محمد عمر صرف ایک دفعہ افغانستان سے باہر گۓ ہیں- اور یہ واقعہ تب پیش آیا جب روسی افواج کے خلاف لڑتے وقت انکی ایک آنکھ میں چوٹ لگی تھی- اور انہیں پاکستان آنا پڑا جہاں عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کا آپریشن کیا- وہ آج بھی صرف ایک آنکھ سے ہی دیکھ سکتے ہیں-

افغانستان پر امریکہ قبضے اور طالبان کے خاتمے کے بعد ملا عمر آج تک روپوش ہیں ان کے آڈیو بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے متعلق آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ وہ کہاں ہیں۔

امریکہ کا مطالبہ اور افغانستان پر جنگ[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضامین کے لئے ملاحظہ کریں: افغانستان میں سوویت جنگ، جنگ افغانستان 2002ء اور جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)
1979ء جب سوویت اتحاد یا عام طور پر جسے روس کہا جاتا تھا،روس نے افغانستان پر اپنا قبضہ چاہا جس کے لئے روس ایک اور خودمختار ملک افغانستان میں کھود پڑا، اسی بات نے پورے اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں روسیوں سے نمٹنے کیلئے مجاہدین کی تنظیم وجود میں آئی جس کو پاکستان،سعودی عرب،امریکہ سمیت بیشتر اسلامی ممالک نے امداد فراہم کی۔ایک طویل عرصے کے بعد مجاہدین کامیاب ہوگئے اور سوویت اتحاد کو ایک زبردست شکست دیا جس کی نتیجے میں نہ صرف سوویت اتحاد کو افغانستان سے بھاگنا پڑا بلکہ سویت اتحاد جو ایک عظیم ملک تک جو ایشیاء اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا تھا،شکست کے بعد سوویت اتحاد بھی نہ بچ سکا اور تکڑے تکڑے ہوگیا جس سے نئے ممالک وجود میں آئے جن میں روس،ازبکستان،ترکمنستان،تاجکستان،آرمینیا،یوکرین،جارجیا،وغیرہ شامل ہیں۔ ایک طویل لڑائی اور خون ریزی کے بعد افغان مجاہدین جب فتح یاب ہوئے تو افغانستان میں اسلامی امارت افغانستان قائم ہوا جس کو پاکستان اور سعودی عرب نے کھل کر تسلیم کیا۔

اس کے بعد سانحہ گیارہ ستمبر (نائن الیون) پیش آیا جس کا الزام امریکہ نے اسامہ بن لادن پر لگایا۔اسامہ نے جا کر افغانستان میں پناہ لی ، یاد رہے کہ اس وقت اسلامی امارت افغانستان کی حکومت مجاہدین یا افغان طالبان کے ہاتھوں میں تھی جس کی قیادت ملا محمد عمر کر رہے تھے۔ امریکہ نے ملا محمد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرے ورنہ انجام برا ہوگا۔اس کے جواب میں ملا عمر نے کہا کہ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر تمہارے گھر میں کوئی پناہ لے تو اس کی حفاظت کرو۔ ملا عمر نے اسلامی اور پشتون روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو حوالہ کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا۔کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا عمر نے ہزاروں علماء کو دعوت پر بلایا کہ کیا اسلام ہمیں اس بات کا اجازت دیتا ہے کہ ہم اسامہ جیسے افراد کو کسی اور کے حوالے کرے تو علماء نے ان کو کہا کہ اسلام کے مطابق اگر کوئی آپ کے گھر پناہ لے تو ہر گز اس کو دشمن کے ہاتھوں حوالے مت کرنا۔

اس کے بعد جب ملا عمر نے پھر واضح طور پر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو امریکہ نے افغانستان میں افواج اتارے اور ایک اور جنگ شروع ہوگئی۔امریکہ کے پاس وسائل تھے جبکہ دوسری طرف اسلامی امارت افغانستان کے پاس اتنے وسائل اسلئے نہیں تھے کیونکہ امریکہ کے بہ نسبت افغانستان ایک چھوٹا اور کمزور ملک تھا اور اس سے پہلے وہ سوویت اتحاد سے ایک عظیم جنگ کرچکا تھا جس سے افغانستان کمزور ہوا تھا۔ پاکستان بھی امریکہ کیخلاف اسلامی امارت افغانستان کی مدد کرتا رہا لیکن آخر کار اسلامی امارت ختم ہوگئی اور ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے افغانستان کی حکومت چلی گئی۔ امریکہ اور طالبان کے مابین جنگ 2001 میں شروع ہوئی تھی اور تاحال جاری ہے۔

وفات[ترمیم]

29 جولائی 2015 کو افغان مخابرات نے یہ خبر دی تھی کہ ملا محمد عمر کاکراچی میں انتقال ہوگیا ہے ، کچھ طالبان نے اس بات کی تردید کردی تھی کیونکہ مری میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہور رہے تھے،لیکن جب اس خبر نے زور پکڑ لیا تو افغان طالبان نے 30 جولائی 2015 کو اس بات کی تائید کردی کہ ملا عمر کا صوبہ ہلمند میں انتقال ہوا تھا طالبان کے مطابق اُن کی وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی۔وفات کے وقت اُن کے ساتھ ان کے اہم کمانڈر عبد الجبار تھے۔ کمانڈر عبد الجبار نے ہی طالبان کے پانچ اہم کمانڈروں کو ملا عمر کی موت کی اطلاع دی۔ طالبان نے یہ بھی بتایا کہ نائب امیر ملا اختر منصور افغان طالبان کے نئے امیر ہونگے[5]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام NYT_July کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ 2.0 2.1 Nikhil Kumar (29 July 2015). "Mullah Omar Taliban Death". Time. http://time.com/3976472/mullah-omar-taliban-death/۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 July 2015.
  3. ^ "#Taizeni". Twitter. https://twitter.com/hashtag/Taizeni?src=hash.سانچہ:RS
  4. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Dawn کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  5. ^ افضان طالبان کی ملا عمر کی وفات کی تصدیق