محمد عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملا
 محمد عمر


در منصب
27 ستمبر 1996 – 13 نومبر 2001
وزیرِ اعظم محمد ربانی
عبدالکبیر (قائم مقام)
پیشرو برہان الدین ربانی (صدر)
جانشین برہان الدین ربانی (صدر)

پیدائش 1959 (عمر 55–56)
نودیہہ, افغانستان
سیاسی جماعت القاعدہ
طالبان
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ
مذہب دیوبندی سنی
فوجی خدمات
جنگیں جنگ افغانستان (1978ء - تا حال)
افغانستان میں سوویت جنگ
جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)

ملا محمد عمر افغانستان کی طالبان تحریک کے رہنماء ہیں ۔ وہ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان کے حکمران رہے۔ پھر امریکی و نیٹو افواج نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس وقت وہ امریکی و نیٹو افواج کے خلاف گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ملا محمد عمر 1959ءافغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں پیداہوۓ۔ دینی مدرسوں سے تعلیم پائی۔وہ دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک پشتون ہیں۔ پہلے وہ روسی فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ ایک معرکے میں وہ زخمی ہوۓ اور انکی ایک آنکھہ ختم ہو گئی۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

بحیثیت حکمران انھوں نے افغانستان میں امن ‍قائم کیا۔ اور منشیات کا خاتمہ کیا۔ یہ وہ کام ہیں جو ان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکا۔۔ یاد رہے کہ طالبان کابل پر قبضے کے ایک سال بعد بامیان پر قبضہ کر پائے تھے۔

ملا عمر نے بہت کم انٹرویو دیۓ۔ اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔

ملا محمد عمر کی زندگی اور افغانستان کی سیاست میں 1979 کا سن کافی اہمیت رکھتا ہے- اسی برس ایک طرف تو افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں خمینی انقلاب آتا ہےاور مغربی ذرائغ ابلاغ میں لفظ فنڈامینٹلزم یعنی قدامت پرستی پہلی دفعہ سنائی دیتا ہے- دوسری طرف روسی افواج افغانستان میں داخل ہوتی ہیں- یہ سرد جنگ کا دور تھا- مغربی ممالک بالخصوص امریکہ پاکستان کے سہارے کمیونسٹ افواج کے خلاف افغانستان میں جنگجوؤں کی امداد کرتے ہیں- یہ جنگجوؤں کو اس وقت مجاہدین کہا جانے لگا تھا- انہیں میں بیس برس کا ایک نوجوان شامل تھا جسکا نام محمد عمر تھا-

روس کی واپسی[ترمیم]

1989 میں روسی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد محمد عمر اپنے گا ؤں واپس چلا جاتا ہے- جہاں وہ مدرسے میں تعلیم و تربیت میں مصروف ہو جاتا ہے اور مقامی مسجد میں نماز پڑھاتا ہے- بظاہر وہ سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے-

روسی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں لاقانونیت کا دور شروع ہوجاتاہے- کل کے مجاہدین اب شرپسندی پر اتر آتے ہیں- جن کے ہاتھ میں طاقت ہے ان کی من مانی ہے- کہیں عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے تو کہیں مسافروں کو لوٹ لیا جاتا ہے- افغانستان کی سڑکوں پر ظلم و ستم کرنیوالوں نے چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں-


.

سوچ میں تبدیلی[ترمیم]

یہاں پر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ 1989 میں روسی افواج کی واپسی سے 1994 تک محمد عمر کی زندگی اپنے گا ؤں تک محدود رہتی ہے- لیکن 1994 میں ہونے والا ایک واقعہ محمد عمر کو افغانستان کی سیاست میں جھونک دیتا ہے- ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ کچھ شر پسند عناصر نے گا ؤں کی لڑکیوں کو اغوا کر لیا ہے- انکی اجتماعی عصمت دری کی خبر سن کر ملامحمد عمر اپنے چند طالب علموں کو جمع کرتے ہوئے ان لڑکیوں کی جان بچاتے ہیں- ان کے یہی ساتھی بعد میں چل کر طالبان کہلااتے ہیں-

دوسرا واقعہ جس نے شاید ملا محمد عمر کو طالبان کی سربراہی کیلیۓ مجبور کر دیا وہ یہ ہے کہ دو سابق جنگجوؤں نے قندھار کے مرکز میں ایک خوبصورت لڑکے کیلۓ ٹینکوں سے جنگ لڑی- لاقانونیت کے اس ماحول کی وجہ سے ملا محمد عمر نے طالبان کو منظم کرنا شروع کیا- رفتہ رفتہ انکی اہمیت بھی بڑھتی گئی- اور پہلی دفعہ ان کی ضرورت پاکستان کو اس وقت پڑی جب پاکستانی ٹرکوں کےایک قافلے کو مقامی جنگجوؤں نے اپنے قبضے میں لے لیا- ٹرکوں کا یہ قافلہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا کیلیۓ ایک تجارتی راہ کی تلاش میں تھا- بعد میں ملا محمد عمر کی حمایت سے ان ٹرکوں کو چھڑایا گیا-

کابل پر قبضہ[ترمیم]

ملا محمد عمر کی قیادت میں پاکستان اور عربوں کی مدد سے طالبان نے 1996میں کابل پر قبضہ کر لیا- اور افغانستان کو اسلامی امارات قرار دیکر ملا محمد عمر کو امیرالمومنین کے خطاب سے نوازا گیا- جلد ہی طالبان نے افغانستان کے نوے فیصدی حصے پر قبضہ کرلیا- افغانستان پرگزشتہ بائیس برسوں میں سے پانچ برس طالبان کا قبضہ رہا - تقریبًا سات برس لاقانونیت کی نظر تھے اور دس برس روسی افواج قابض تھیں-

حلیہ اور شخصیت[ترمیم]

ملا محمد عمر آج بھی مقامی کسانوں کی بولی بولتے ہیں- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے ہیں- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کیلۓ اپنےدوست اسامہ بن لادن کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے- اطلاعات کے مطابق ان کی دو ایک بیوی اور آٹھ یا نو بچٌے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہوگیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گۓ-

اسامہ اور عمر[ترمیم]

اگرچہ مغربی میڈیا اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کی سیاست میں زیادہ تفریق نہیں کرتے لیکن یہ بات اہم ہے کہ اسامہ بن لادن ذاتی طور پر مغربی ممالک کےخلاف لڑرہےچاہتے تھے جبکہ ملا محمد عمر نے عالمی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے- انہوں نے اپنا پہلا غیرملکی ریڈیو انٹرویو بی بی سی کی پشتو سروس کو 25 فروری 1998 کو دیا- ملا محمد عمر صرف ایک دفعہ افغانستان سے باہر گۓ ہیں- اور یہ واقعہ تب پیش آیا جب روسی افواج کے خلاف لڑتے وقت انکی ایک آنکھ میں چوٹ لگی تھی- اور انہیں پاکستان آنا پڑا جہاں عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کا آپریشن کیا- وہ آج بھی صرف ایک آنکھ سے ہی دیکھ سکتے ہیں-

افغانستان پر امریکہ قبضے اور طالبان کے خاتمے کے بعد ملا عمر آج تک روپوش ہیں ان کے آڈیو بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے متعلق آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ وہ کہاں ہیں۔