تحریک طالبان پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تحریک اسلامی طالبان سے مغالطہ نہ کھائیں۔
تحریک طالبان پاکستان
شمال مغرب پاکستان میں جنگ، جنگ افغانستان اور عالمی دہشت کے خلاف جنگ میں شریک
Flag of Tehrik-i-Taliban.svg
تحریک کا پرچم
متحرک دسمبر 2007 – تاحال
نظریات
رہنماہان
  • بیت اللہ محسود  (دسمبر 2007 – اگست 2009)
  • حکیم اللہ محسود  (22 اگست 2009 – 1 نومبر 2013)
  • ملا فضل اللہ (7 نومبر 2013 – تاحال)
  • صدر دفتر شمالی وزیرستان
    کاروائیوں کے علاقے
    قوت 25,000[5]
    اتحادی
    مخالفین

    ریاست کے مخالفین

    لڑائیاں اور جنگیں

    افغانستان میں جنگ
    شمال مغرب پاکستان میں جنگ

    تحریک طالبان پاکستان یا کالعدم تحریک طالبان مسلح گروہوں کا اکٹھ ہے جنہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کے بعد مفتی نظام الدین شامزئی صاحب کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے[6] ۔ان گروہوں کوہمیشہ دیوبندی مکتب فکر کے جید مفتیان کرام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے - چنانچہ 2004 میں ان کے خلاف جب پاکستانی فوج نے آپریشن شروع کیا تو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، جامعہ اشرافیہ لاہور ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اوردیگر دیوبندی مکتب فکر کے مراکز کی طرف سے اس آپریشن کے خلاف شدید نوعیت کا فتویٰ جاری ہوا[7]- ان میں اختلافات بھی موجود ہیں تاہم تحریک طالبان پاکستان کے راہنماوں نے افغان طالبان کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے اور متعدد حلقوں کی اپیل کے باوجود ملا عمر نے انکی مذمت یا ان سے لاتعلقی کرنے سے انکار کر دیاہے- ان کی کاروائیوں کا دائرہ کار پاکستان سے لے کر افعانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستانی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کو 34 تنظیموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان، جن میں افغانی طالبان بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔[8]۔ اگرچہ بظاہر امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کر دیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔[9]

    طالبان کا تاریخی پس منظر

    وادئ سندھ میں مذہبی شدت پسندی کے اسباب کو اس کے ماضی سے کاٹ کر نہیں سمجھا جا سکتا -وادئ سندھ میں دہشت گردی کے ارتقا کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے-

    سید احمد بریلوی سے دار العلوم دیوبند تک

    وادئ سندھ میں مذہب کی شدت پسندانہ تفسیر کی بنیاد پر ریاست کے قیام کی سب سے پہلی کوشش سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی نے کی [10]۔ یہ دونوں  حج کے  دوران محمد بن عبدالوہاب کی تحریک توحید والعدل ،جو وہابیت کے نام سے معروف تھی ، سے متاثر ہوئے  اور حجاز کے سفر سے واپس آتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالوہاب کے دروس کی کتاب،  ''کتاب التوحید'' ،ساتھ لیکر آئے ۔اس کتاب کے تصور خدا کو ان صاحبان  نے اپنی کتابوں  ''تقویۃ الایمان  '' اور''صراط مستقیم''   میں پیش کیا ۔  1818ء سے 1821ء کے دوران سید احمد بریلوی نے شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کے عقائد کی تبدیلی کی مہم چلائی، وہاں زیادہ کامیابی نہ ملی تو 1826ء میں وہ سخت گیر مذہبی حکومت بنانے کے لیے پختون علاقوں میں آ گئے۔ان دو حضرات کا کردار اس خطے کی مذہبی تاریخ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کا اثر آج بھی بھارت کے صوبوں اترپردیش،اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پختون اور مہاجر اکثریت والے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں پائی جانے والی محرومیوں کو سکھوں کے خلاف استعمال کر نے کے لیے سید احمد بریلوی اورشاہ اسماعیل دہلوی کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں لشکر سازی کی مکمل آزادی دی [11]۔ 1831 ء میں سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کی طالبانی  حکومت سے اکتائے ہوئے مسلمانوں اور سکھوں کے اشتراک عمل کے نتیجے میں بالاکوٹ کے مقام پر ان کے قتل[12] کے بعد ان حضرات کی تحریک کا دوبارہ ظہور 30 مئی 1867ء میں دار العلوم دیوبند کے قیام کی شکل میں ہوا۔دیوبندی مکتب فکر میں شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کے خیالات کو اپنانے اور ان کی طرفداری کرنے کا رجحان شروع سے موجود تھا ۔ ان  حضرات کے نظریات کے ساتھ وابستگی  دار العلوم دیوبند کے بانی مولانا  رشید احمد گنگوہی اور مولانا قاسم نانوتوی کی تحریروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔بعد میں دار العلوم دیوبند میں مولانا عبید الله سندھی ،مفتی محمود حسن اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے نسبتا اعتدال پسند علما پیدا ہوئے مگر انکا برداشت اور صلح آمیز رویہ صرف دیگر مذاہب کے لیے تھا اور مسلمانوں کے باقی فرقوں کے لیے انکا رویہ اس مکتب فکر کے بانیوں جیسا ہی رہا-

    امیر عبد الرحمن خان کی ریاست

    دیوبند مکتب کی اس سوچ کاپہلا نتیجہ افغانستان کے شاہ امیر عبد الرحمن کی طرف سے 1891ء سے 1893ء تک کی جانے والی ہزارہ قبائل کی نسل کشی اور انکی جائداد کی پشتونوں میں تقسیم اورانکو غلام اورلونڈیاں بناکر فروخت کرنے کا عمل تھا جس  کے نتیجے میں افغانستان کے ہزارہ قبیلے کی آبادی میں 60فیصد تک کمی آ گئی [13]۔ امیر عبد الرحمن خان نے اپنی  حکومت کا نظام چلانے کے لیے ہندوستان سے دیوبندی علما منگوائے تھے جنہوں نے شیعوں کے کافر ہونے اور ان کی جان و مال کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا۔  یہ جدید انسانی تاریخ کی پہلی نسل کشی تھی جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ انسان لقمۂ اجل بنے۔ اسی دوران میں کچھ ہزارہ خاندان ہجرت کر کے   کوئٹہ میں آ گئے جو انگریزوں کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے ان کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوا۔ امیر عبد الرحمن خان کے زمانے میں پختون قبائل کو دیوبندی مسلک کا پابند بنایاگیا۔ کرم ایجنسی کے شیعہ قبائل  افغان شاہ کی ایسی فرقہ وارانہ کاروائیوں کے خوف سے ہندوستان کی انگریز حکومت سے ملحق ہو گئے اور یوں فاٹا کا بندوبست عمل میں آیا۔ ہندوستان میں انگریزوں کے قانون کی مساوات  اور بہتر انتظامی  اقدامات کی بدولت  اس سوچ کو قتل عام کا دائرہ وادی سندھ تک پھیلانے کا موقع نہ مل سکا۔ کرم ایجنسی کے بعد باقی قبائل نے بھی انگریز حکومت کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ اس تاریخی عمل جس کاآغاز شیعہ دشمنی سے ہوا، نے مستقبل میں بننے والے ملک پاکستان کی شمال مغربی سرحد کو متعین کیا۔ اس تاریخ کا ہی نتیجہ ہے کہ ریاض بسرا سے لیکر ملک اسحاق اور داود بادینی تک جیسے تربیت یافتہ قاتلوں کو قندھار کے دیوبندی علاقوں میں پناہ ملتی رہی ہے۔

    تحریک ریشمی رومال

    یہاں سن  1915 سے 1920 تک چلنے والی تحریک ریشمی رومال کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ یہ تحریک دیوبندی مکتب فکرکے کام کرنے کے طریقے کی بخوبی عکاسی کرتی ہے۔ سید احمد اور شاہ اسماعیل دہلوی کی طرز پر ایک پسماندہ ریاست کے قیام کی یہ تحریک اس وقت شروع کی گئی جب جنگ عظیم اول میں انگریز کمزور پڑتے دکھائی دیے۔ دیوبندی علما نے عوام سے رابطہ کرنے اور سیاسی عمل کی بجائے افغانستان میں امیر عبد الرحمن کے بیٹے امیر حبیب الله خان کو ساتھ ملا کر دیوبندی قبائل کے ایک لشکر کے ذریعے  حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔  مولانا محمود حسن نے ایک نو مسلم  مولانا عبید الله سندھی کو افغانستان بھیجا۔ آپس میں رابطہ رکھنے کے لیے ریشمی رومال پر کڑھائی کر کے پیغامات لکھے جاتے اور قاصد وہ ریشمی رومال منزل مقصود تک لے جاتے۔  دیوبندی علما کی توقعات کے برعکس امیر حبیب الله خان اپنے باپ سے بہت مختلف تھا۔ وہ فسطائی سوچ کو حقیقت کے منافی اور  معاشرے کے لیے تباہ کن  سمجھتا تھا۔ اس نے ہزارہ قبائل کی نسل کشی کا سلسلہ بھی روک دیا تھا۔  وہ جانتا تھا کہ یہ علما مکڑی کی طرح خیالی جالے تو بن سکتے ہیں مگر انگریزوں کی سائنسی علوم اورقانون کی نظر میں شہریوں کی  برابری کے اصول پر قائم جدید ریاست کا سامنا نہیں کر سکتے۔  اس تحریک کو پہلی ناکامی تو اس وقت ہوئی جب امیر حبیب الله خان نے مولانا سندھی سے مطالبہ کیا  کہ وہ ہندوؤں اور سکھوں  کے ساتھ مل  کر چلیں، چنانچہ مولانا سندھی ،  راجا مہندر سنگھ   کی تحریک میں شامل ہو گئے  اور ہندوستان میں کانگریس سے بھی  رابطہ قائم کیا۔  افغانستان میں قیام اور دوسرے مذاھب کے سیاسی کارکنوں  سے ارتباط اور  بعد میں روس کے سفر اور کمیونزم کے مطالعے کی وجہ سے مولانا عبید الله سندھی کی سوچ میں بہت تبدیلی آئ اور وہ علما دیوبند کے روایتی فرقہ پرستانہ اور تنگ نظر طرز فکر سے دور ہو گئے۔ ادھر پختون عوام  میں ابھی سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی ریاست کی یاد تازہ تھی۔ انہوں نے دوبارہ اسلام کے نام پر بیوقوف بننے سے انکار کر دیا اور ان علما کو افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہونے لگا۔  پختون عوام تحریک ریشمی رومال کی بجائے خان عبد الغفار خان کی تحریک خدائی خدمتگار میں شامل ہو رہے تھے۔ شیخ چلی کی داستان سے شباہت رکھنے والی تحریک  ریشمی رومال کا خاتمہ جلد ہی انگریزوں کے ہاتھوں مولانا محمود حسن اور دیگر کی گرفتاری کی شکل میں ہو گیا۔

    پاکستان کا رخ بدلنے کی کوشش

    جنگ عظیم دوم  کی وجہ سے کمزور ہونے والے انگریزوں کے ہندوستان سے جانے  اور   مسلم لیگ کی تحریک کے نتیجے میں  ہندوستان کے شمال مغرب  میں ایک مسلمان ریاست کے ممکنہ قیام کی آہٹ پا کر علما دیوبند میں سے کچھ نے اس وجہ سے قیام پاکستان کی مخالفت کی کہ اس تحریک کی اعلی تعلیم یافتہ قیادت اور جدید ریاست کے قیام سے اختلاف رکھتے تھے۔ البتہ کچھ دیگر سخت گیر علما نے قیام پاکستان کو ناگزیر سمجھتے ہوئے وادی سندھ  کی طرف ہجرت  شروع کی اور دوبارہ سے   سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی  پسماندہ   ریاست کے قیام کی کوششیں شروع کر دیں[14]۔ 26  اگست 1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا۔مولانا مودودی اگرچہ روایتی فرقہ پرست عالم  نہیں تھے مگر اپنی جماعت اسلامی کے پیغام کو قبول نہ کرنے والوں کو نام نہاد مسلمان سمجھتے تھے۔ اس طرح جماعت اسلامی بھی ایک قسم کا فرقہ بن گئی۔  البتہ  جماعت اسلامی محدود تعداد مگر  منظم  ارکان  کا حامل   فرقہ ہے، جس کو انگریزی زبان میں کلٹ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ 1944ء میں لاہور کے نواحی قصبے امرتسر میں تنظیم اہل سنت  کے نام سے ایک شیعہ مخالف دیوبندی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 26اکتوبر 1946ءکو مولانا شبیر احمد عثمانی نے جمعیت علمائے اسلام کے نام سے تیسری دیوبندی جماعت قائم کی جو مسلم لیگ کے متوازی سیاسی جماعت تھی۔ جب قائد اعظم نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں ریاست کی نظر میں سب شہریوں کوبلا تفریق مذہب مساوی قرار دیا تو 1 ستمبر 1947ء کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے اخبارات میں ایک بیان جاری کیا جس کا ایک ایک لفظ قائد اعظم کی اس تقریر کی مخالفت پر مبنی تھا[15]، یوں ایک سرد جنگ شروع ہو گئی۔ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی دیوبندی علما نے شیعوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو حرام قرار دے رکھا تھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی بھی شیعوں کے لیے یہی سوچ رکھتے تھے[16]- لہٰذا قائد اعظم کی پہلی نماز جنازہ گورنر ہاؤس میں ان کے اپنے مسلک کے مطابق پڑھی گئی[17] مگر جب عوام میں نماز جنازہ پڑھانے کی باری آئ تو حکومت نے مولانا شبیر احمد عثمانی کو طلب کیا[18]۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی تو انہوں نے اپنے فتووں سے رجوع کرنے کی بجائے ایک خواب سنا کر سوال کو ٹال دیا[19]۔ دوسری طرف دیوبندی جماعت " تنظیم اہلسنت" سے تعلق رکھنے والے علما مولانا نور الحسن بخاری، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبد الستارتونسوی دیوبندی وغیرہ نے پاکستان بھر میں شیعہ مخالف جلسے کیے اور لوگوں کو فسادات کے لیے اکسایا[20]۔ لہٰذا قیام پاکستان سے بعد  ہی شیعوں پر حملے شروع ہو گئے[21]۔

    جہاد کشمیر

    سیداحمد بریلوی کے فکری ورثاء یعنی دیوبندی تنظیموں کو پاکستانی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنے اور پاکستان کے ریاستی ڈھانچے میں ایک غیر سرکاری مسلح قوت کے طور پر جگہ بنانے کا موقع 1948ءکے کشمیر جہاد کے دوران ملا - البتہ پاکستان کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی کیونکہ جن دیوبندی قبائل کے لشکر پر انحصار کر کے کشمیر پر حملہ کیا گیا انہوں نے پیشہ وارانہ فوج کی طرح پیش قدمی کی بجائے بارہ مولہ کے مقام پر ہندوؤں کی لڑکیوں کو لونڈی بنانا اور ان کے گھر کے سامان کو لوٹنا شروع کیا -اس دوران ہندوستان کو سرینگر میں پیراشوٹ کی مدد سے فوج اتارنے اور ائیرپورٹ پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا جس نے ان قبائل کو پیچھے دھکیل کر وادئ سندھ کے دریاؤں کی شہ رگ پرقبضہ کر لیا - دیوبندی قبائل کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فطری نتیجہ پاکستان میں شیعہ کشی کی پہلی واردات، یعنی 1950 ء میں وادئ کرم پر دیوبندی قبائل کے حملے کی صورت میں نکلا ، جو 1948ء میں جہاد کشمیر کے نام پر اسلحہ اور مال غنیمت سمیٹ کر طاقتور ہو گئے تھے۔ 1956ء میں وادئ کرم دوبارہ انہی قبائل کے حملوں کا نشانہ بنی[21]۔اس کے بعد پاکستان میں فرقہ وارنہ قتل و غارت کا سلسلہ چل نکلا-پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں 1963ء کا سال سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا۔3 جون 1963ء کو بھاٹی دروازہ لاہور میں عزاداری کے جلوس پر  پتھروں اور چاقوؤں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو عزادار قتل اور سو کے قریب زخمی ہوئے۔ نارووال، چنیوٹ اور کوئٹہ میں بھی عزاداروں پر حملے ہوئے ۔  اس سال دہشت گردی کی بدترین واردات سندھ کے ضلعے خیر پور کے گاؤں ٹھیری میں پیش آئ جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 120 عزاداروں کو کلہاڑیوں اور تلواروں کی مدد سے ذبح کیا گیا[22]۔

    پشتونستان تحریک

    افغانستان نے 1973ء میں پشتونستان کے نام پر پاکستان  کے پختونون کو استعمال کر کے ملک توڑنے کی سازش بنائی  جس کے جواب میں پاکستان نے افغان حکومت کے مخالف اخوان کو مدد دینا شروع کی تھی۔ اس طرح "افغان  مجاہدین"  کے ساتھ پاکستانی حکومت کے تعلقات 1974 ء میں ہی استوار ہو گئے۔ پاکستان کے پختونوں نے انگریزوں کے دور میں ہی وادئ سندھ کو سنگلاخ افغانستان پر ترجیح دی تھی اور پنجاب ،سندھ اور بلوچستان  کے ساتھ اپنے معاشی اور تاریخی تعلق کی وجہ سے ہی قیام پاکستان کے بعد ہونے والے ریفرنڈم میں پاکستان سے الحاق کیا تھا۔اسی گہرے تعلق کی بدولت پاکستان کے پختون عوام میں افغانستان  کی حمایت سے چلنے والی اس تحریک کو خاطر خواہ حمایت نہ مل سکی ۔جمعہ خان صوفی نے اپنی کتاب "فریب ناتمام" میں ان سب واقعات  اور افغانستان کی پسماندگی کی تفصیل لکھی ہے۔

    افغانستان میں عدم استحکام اورپاکستان میں دہشت گردی میں شدت

    یوں تو قیام پاکستان کے بعد ہی دیوبندی مسلک کی تنظیموں نے پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز کر دیا تھا[21] لیکن ان واقعات میں شدت اس وقت آئ جب27 اپریل 1978ء کو افغانستان میں انقلاب ثور آیا اور اس سے اگلے سال  کمیونسٹ حکومت نے روس کو مداخلت کی دعوت دی۔ اس اقدام کے نتیجے میں افغانستان غیر مستحکم ہو گیا۔ جب کوئی ریاست ٹوٹتی ہے تو وہ ڈاکووں اور دہشت گردوں کے لیے جنت بن جاتی ہے۔ پختون قبائل میں پہلے ہی امیر عبد الرحمن خان کے زمانے سے شیعہ اور بریلوی مخالف جذبات پائے جاتے تھے۔  اگلے سال فروری 1979ء میں ایران میں انقلاب آیا جس نے شیعہ مسلک کو ایک مسلمان مسلک کے طور پر متعارف کرایا۔ ایران کی مذہبی قیادت نےانقلاب کی کامیابی کے بعد سب سے پہلے ایران سے باہر جس شخصیت سے رابطہ کیا وہ جماعت اسلامی کے علیل رہنما مولانا مودودی تھے [23]۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد پاکستان کا انقلابی حکومت کو سب سے پہلے تسلیم کرنا بھی مولانا مودودی کی کوشش سےممکن ہوا- پاکستان میں جماعت اسلامی کی طرف سے کھلے عام آیت الله خمینی کی حمایت نے بعض دیوبندی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کی۔ افغانستان میں جاری جنگ کے ضمن میں جنگی تربیت، مالی وسائل اور پناہ گاہیں ملنے کے نتیجے میں پاکستان میں شیعہ ثقافت کو ختم کرنے کی سوچ رکھنے والی  تنظیم اہل سنت اب سپاہ صحابہ کی شکل میں زیادہ متحرک ہو گئی۔ گزشتہ سو سال میں اردو زبان میں لکھا گیا نفرت انگیز لٹریچر کافی مقدار میں پھیل چکا تھا۔ تحریر و تقریر کے ذریعے شیعہ مسلک کو کافر قرار دینے کی مہم اب جہاد افغانستان کے ضمن میں ملنے والے فنڈز کی بدولت زیادہ تیز ہو گئی اور اس کے ساتھ ساتھ شیعہ کشی بھی بڑھنے لگی۔ پاکستان کے کونے کونے میں دیوبندی مدارس کھلنے لگے۔ ایک اندازے کے مطابق  آج کل ان مدارس میں طلبہ کی تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی زمانے میں پاکستان کے در و دیوار پر کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے درج ہو گئے۔جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں کوئٹہ، کراچی، پاراچنار اور گلگت  میں شیعوں پر بڑے    حملے ہوئے۔1981 ء  میں کرم ایجنسی کے سارے  دیوبندی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر  پاراچنار کے راستے پر موجود قصبہ "صدہ "میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا  اور شیعوں کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز وں کے زمانے  میں تشکیل دی گئی  کرم ملیشیا وادئ کرم میں موجودتھی  لہذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک پھیلنے  نہ دی گئی۔1983 ء   میں کراچی میں شیعہ آبادیوں پر حملے ہوئے جن میں ساٹھ افراد شہید کر دیے گئے۔5 جولائی 1985ء کو کوئٹہ میں تکفیری دہشت گردوں نے اپنے دو پولیس والے سہولت کاروں کے ہمراہ پولیس کی وردیاں پہن کر  شیعوں کے احتجاجی جلوس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 25 شیعہ قتل ہو ئے۔ البتہ چونکہ یہ دو بدو مقابلے کی کوشش تھی، لہذا  11 دہشت گرد جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ہلاک شدگان میں سے دو کی شناخت پولیس اہلکاروں کے طور پر ہوئی ، باقی 9 جعلی وردیاں پہن کر آ ئے تھے۔ 24 جولائی 1987 ء کوپاراچنار میں شیعہ آبادیوں پر افغان مجاہدین کا حملہ شیعوں کی بھرپور تیاری کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔ اسی کی دہائی میں پاکستان بھر میں سات سو کے لگ بھگ شیعہ قتل ہوئے، جن میں سے 400کے قریب لوگ 1988ء میں گلگت کی غیر مسلح شیعہ آبادیوں پر حملے کے نتیجے میں قتل ہوئے۔

    تحریک طالبان کے ابتدائی سال

    طالبان کی موجودہ شکل کی پیدائش کے بارے میں مختلف نظریات ہیں لیکن اس میں کسی کو شک نہیں کہ اسامہ بن لادن اور طالبان دونوں کو امریکی سی آئی اے نے پاکستانی جاسوسی اداروں کی مدد سے تخلیق کیا[24][25]۔ اس وقت امریکی دانشوروں مثلاً سلگ ہیریسن نے امریکی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ہم ایک درندہ پیدا کرنے جا رہے ہیں۔ طالبان صرف مدرسے کے طلبہ نہیں ہیں بلکہ جاسوسی اداروں کے تنخواہ دار ہیں اور انہوں نے دہشت گردی کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔[26] آج یہ تصور پیش کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے طالبان پیدا کیے اور سی آئی اے نے صرف مدد کی مگر حقیقت یہ ہے کہ نیٹو (NATO) نے پاکستان سے بھی زیادہ براہ راست کردار ادا کیا یہاں تک کہ طالبان کے پہاڑوں میں خفیہ اڈے تک سی آئی اے نے براہ راست خود بنائے۔[27] 1994ء میں افغانستان میں طالبان کی شروعات ہوئی جس کے لیے پیسہ امریکا، برطانیہ، سعودی عرب نے فراہم کیا۔ درحقیقت پاکستان نے امریکا کے لیے یہ کام کیا[24]

    امریکا کے ایک ڈپلومیٹ و سینیٹر ہینک براؤن نے طالبان حکومت کے قیام پر کہا کہ ہم افغانستان میں سعودی عرب کی طرز کی ریاست کے قیام پر خوش ہیں۔ یہاں صرف آرامکو (امریکی تیل کمپنی)، بغیر پارلیمنٹ کے ایک امیر، پائپ لائنیں اور بہت سے شریعت کے قوانین ہوں گے اور یہ ہمارے (امریکیوں کے ) لیے بہت مناسب ہے۔ فرق یہ کہ تیل وسطی ایشیا کا اور پائپ لائنیں افغانستان میں ہونگی۔[28] طالبان سے امریکا کے محبت بھرے تعلقات اس وقت تک عروج پر رہے جب تک اسامہ بن لادن کے مسئلے پر طالبان نے امریکا کی بات ماننے سے انکار کیا۔ حقیقتاً امریکی اسامہ بن لادن کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ اس کے بہانے افغانستان میں گھسنا چاہتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ امریکا کے خیال میں طالبان اب پہلے جیسے فائدہ مند نہ رہے تھے۔[24]۔ پاکستانی پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک سعودی خیراتی ادارہ نے تحریک طالبان کو 15 ملین امریکی ڈالر دیے ہیں جسے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جائے گا اور پنجاب کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔[29]

    افغانستان میں روس کے جانے کے بعد  مجاہدین کے گروہ اقتدار کی خاطر آپس میں لڑتے رہے یہاں تک کہ پاکستانی حمایت یافتہ تحریک طالبان افغانستان نے  مجاہدین کے باقی گروہوں کو ملک کے   شمالی علاقوں تک محدود کر دیا۔ افغان طالبان نے پاکستان  میں دیوبندی انقلاب لانے کی غرض سے دیوبندی تنظیموں کے کارکنان  کو فراخدلی سے پناہ اور ٹریننگ  فراہم کی۔ پاکستان میں شیعہ قتل کر کے یہ لوگ افغانستان بھاگ جاتے۔ ملک کے کئی  نامور ڈاکٹر، انجنیئر اور قانون دان محض شیعہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیے گئے۔ انکی عورتیں بیوہ، والدین بے سہارا اور بچے یتیم ہو گئے۔ افغانستان اور کشمیر میں نام نہاد  جہاد کی بدولت تکفیری  عفریت کے ہاتھوں میں پتھروں اور چاقوؤں کی جگہ دستی بم اور کلاشنکوف آ گئے تھے۔ اسی کی دہائی میں  مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے بعد شیعہ کشی کی سرپرستی کا بیڑا اٹھانے  والے مولانا حق نواز جھنگوی اور ان کے پیشرو مولانا ایثار القاسمی کو جھنگ میں سیاسی خطرہ بننے کے باعث شیخ اقبال ایم این اے نے قتل کرا دیا، جو خود بعد میں سپاہ صحابہ کی انتقامی کارروائی میں قتل ہو گئے[30]۔ 1993ء میں لاہور میں سپاہ محمد کے نام سے ایک شیعہ دہشت گرد تنظیم کا قیام ہوا جس نے سپاہ صحابہ کے حملوں کے جواب میں دیوبندی حضرات پر حملے کرنا شروع کیے۔ چنانچہ اگر کسی شیعہ مسجد پر حملہ ہوتا تو کچھ ہی دنوں میں کسی دیوبندی مسجد میں بے گناہ لوگ قتل کیے جاتے۔ حکومت نے صورت حال خطرناک ہوتے دیکھ کر دونوں تنظیموں کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہا تو مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے سپاہ صحابہ کے عسکری حصے کو لشکر جھنگوی کا نام دے کر لا تعلقی کا اعلان کر دیا، اگرچہ لشکر جھنگوی کے کارکنوں کی گرفتاری کی صورت میں سپاہ صحابہ ہی قانونی اور مالی امداد مہیا کرتی۔ لشکر جھنگوی کے بانی مولانا ضیاء الرحمن فاروقی جنوری 1997 میں ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے[31]۔ ادھر لاہور پولیس نے آپریشن کر کے سپاہ محمد کا خاتمہ کر دیا۔ نوے کی دہائی میں ہی کراچی میں  سپاہ صحابہ اور جماعت اسلامی کی طرف سے بریلوی مساجد پر قبضے کے خلاف سنی تحریک کے نام سے ایک اور مزاحمتی گروہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ چنانچہ تکفیری علما نے اب بریلویوں پر قاتلانہ حملے کرنے کا آغاز کر دیا۔   بریلویوں پر پہلا نمایاں حملہ 2001ء میں ہوا جب سنی تحریک کے بانی  جناب  سلیم قادری کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔

    نوے  کی دہائی کے آخر میں افغان طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا جس کی تنظیم نے 1998ء میں مشرقی افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر بم سے حملے کیے تھے اور ایک امریکی  بحری جہاز کو ڈبونے کی کوشش کی تھی[32]۔اسامہ بن لادن دراصل اپنے ملک سعودی عرب میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف تھا مگر اپنے ملک میں سیاسی تحریک چلانے  کے بجا ئے اس قسم  کی  کاروائیوں  میں ملوث ہو گیا تھا۔کراچی میں مقیم ایک بڑے نام والے دیوبندی عالم مفتی نظام الدین شامزئی پاکستان میں سعودی عرب میں امریکی موجودگی کے خلاف پورے اخلاص کے ساتھ سرگرم تھے[33] ۔11 ستمبر  2001 ء کو القاعدہ نے کچھ مسافر بردار طیارے اغوا کر کے امریکا کے شہر نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی  میں عمارتوں سے ٹکرا دیے۔7 اکتوبر 2001ءکو امریکا نے افغان طالبان پر حملہ کر دیا۔  پاکستان کی حکومت نے القاعدہ کی جنگ اپنے سر لینے کے بجا ئے  امریکا کو راستہ دینے کا فیصلہ کیا۔ مفتی نظام الدین شامزئی  نے  پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح جہاد کا فتویٰ جاری کیا[6]۔ مفتی شامزئی دیوبندی مسلمانوں میں بہت بڑا مقام رکھتے تھے اور ان کے فتوے کو پاکستان بھر میں خصوصا قبائلی علاقہ جات میں جہاں حکومتی رٹ کمزور تھی، بہت پزیرائی ملی۔ افغان طالبان چند دنوں میں امریکا کے  ہاتھوں شکست کھا گئے اور بہت سے طالبان اور القاعدہ کے جنگجو پاکستانی  علاقوں میں آ گئے۔ اس طرح ریاست اور طالبان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ ادھر سن 2002ء کے الیکشن میں خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت اور کراچی کی شہری حکومت متحدہ مجلس عملکے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ ان حکومتوں نے سرکاری نوکریاں ایسے مذہبی مہم جو افراد کو دیں جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں  طالبان کے سہولت کار بنے۔ اس جنگ کے ماحول میں شیعہ مخالف تنظیموں نے شیعہ کشی میں خودکش دھماکے کا استعمال شروع کیا جس کے نتیجے میں اعداد و شمار کے مطابق سن 2000ء سے 2017ء  تک تقریباً تین ہزار شیعہ قتل ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی اور معذور ہو کر زندہ لاش بن چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ کوئٹہ ،کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے شیعہ ہیں۔ متاثرین کو  مدد کی بجائے شیعہ علما اور مذہبی تنظیموں کی طرف سے  استحصال کی کوششوں  کا سامنا ہے۔

    تحریک طالبان کے مختلف گروہ

    تفصیل کے لیے دیکھیں تحریک طالبان پاکستان کے گروہ
    طالبان کے بے شمار گروہ ہیں جن میں غیر ملکی امداد کی تقسیم پر لڑائی جھگڑا رہتا ہے مگر بنیادی طور پر بیشتر گروہ محسود گروہ کی چھتری کے نیچے جمع ہو چکے ہیں جن کی ایک 42 رکنی شوریٰ موجود ہے جو فیصلہ کا اختیار رکھتی ہے۔[34] ان گروہوں میں سے کچھ زیادہ مشہور ہیں جیسے بیت اللہ محسود گروپ۔

    تحریک طالبان پاکستان اورتحریک الاسلامی طالبان

    تحریک طالبان پاکستان اور تحریک الاسلامی طالبان القاعدہ کے آپس میں بھی تعلقات ہیں۔ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں افغانستان کی جہادی تنظیموں کا ایک اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے خلاف 'معرکہ خیر و شر' (بقول ان کے ) شروع کرنے کا فیصلہ ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ افغانی طالبان کو پاکستانی طالبان کی مدد کے لیے پاکستان بھیجا جائے گا۔ افغانستان کے تمام کمانڈروں نے حکیم اللہ محسود کو پاکستانی طالبان کا امیر تسلیم کر لیا ہے اور اس کی امارت میں جہاد (بقول ان کے ) جاری رکھا جائے گا۔[35]

    افغان طالبان ملا طور کے مطابق افغانی طالبان کا تحریک طالبان پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ بے گناہ لوگوں کو فدائی حملوں اور دھماکوں میں نشانہ بنانا غلط ہے۔ افغان طالبان صرف نیٹو اور امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہیں۔[36]

    طالبان کے بھارت، سی آئی اے و دیگر غیر ممالک سے روابط

    جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان، جن میں افغانی طالبان بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔[8] اگرچہ بظاہر امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کر دیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔[9]

    روزنامہ نوائے وقت کے مطابق پشاور کار بم دھماکے سے دو روز قبل امریکا اور بھارت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر سے گریز اور یہاں موجود شہریوں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایات کی تھیں۔ سکیورٹی ماہرین کی جانب سے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سانحہ سے قبل ان دونوں ممالک کی ہدایات غیر معمولی امر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کو پاکستان میں ہونیوالی کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کا پہلے ہی علم ہو جاتا ہے۔[37]

    2 نومبر 2009ء کو پاک فوج کے ترجمان اطہر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرستان میں جاری آپریشن راہ نجات کے دوران بھارتی روابط کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں۔ دہشت گردوں کے زیرِ استعمال بھارتی لیٹریچر اور اسلحہ بھی پکڑا گیا ہے۔ یہ شواہد وزارت خارجہ کو بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ مناسب کارروائی کی جائے۔[38]

    امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کو مانا ہے کہ دہشت گردوں کی تخلیق میں امریکا کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔[39]

    پاکستان نے امریکی سی آئی اے کی پاکستان میں سرگرمیوں پر مشتمل ثبوت امریکا کو پیش کیے ہیں۔ اس میں کابل میں سی آئی اے کے ڈائیریکٹر پر واضح کیا کہ کابل میں سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی معاونت کر رہے ہیں۔[40]

    پاکستان میں افغانستان کے سفیر نے کہا ہے کہ بھارت وزیرستان میں طالبان کو اسلحہ مہیا کر رہا ہے۔[41]

    تحریک طالبان کی دہشت گردی

    تفصیل کے لیے دیکھیں: تحریک طالبان کی دہشت گردی
    تحریک طالبان کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا جاچکا ہے۔ وہ اغوا برائے تاوان، لوگوں کو قتل کر کے سر قلم کرنے اور بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ حرکتیں اب بھی جاری ہیں۔ پچھلے کئی سال میں انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور کئی علمائے دین اور امن کمیٹی کے ارکان کو بھی ہلاک کیا ہے۔ یہاں تک کہ مسجدیں شہید کرنے میں وہ کوئی عار محسوس نہیں کرتے مثلاً 4 دسمبر 2009ء کو انہوں نے 17 نمازی بچوں سمیت چالیس افراد کے قتل اور راولپنڈی میں مسجد کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری قبول کی۔ طالبان پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ستر ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانی شہریوں کو خود کُش بم دہماکوں میں شہید کر چکے ہیں۔ جس میں زیادہ تر تعداد نمازیوں اور دیگر مذہبی اجتماعات میں شامل ہونے والے لوگوں کی ہے۔ طالبان کی دہشت گردی کا پاکستان میں نشانہ سب سے زیادہ شیعہ کیمونٹی اُس کے بعد سنی اور اقلیتی برادری کے لوگ بنے۔ طالبان نے جہاں فوجی اداروں پراٹیک کر کے ہزاروں پاکستانی فوجی جوانوں کو شہید کیا وہاں اِن کی درندگی اور سفاکی کا نشانہ سکول کے بے گناہ بچے بھی بنے جس کی تازہ مثال آرمی پبلک سکول پشاور کے سینکڑوں معصوم بچوں کو سکول میں گھس کر کچھ کو ذبح اور کچھ کو گولیوں سے نشانہ بنا کو شہید کیا گیا اور اُن کی خواتین اساتذہ کو بچوں کے سامنے زندہ جلا دیا گیا۔[42]

    تحریک طالبان اور جرائم

    دہشت گردی کی وارداتوں کے علاوہ تحریک طالبان کے افراد مختلف جرائم میں ملوث رہتے ہیں جن میں اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتی شامل ہیں۔ 22 اکتوبر 2009ء کو کراچی سے دو افغان ڈاکو پکڑے گئے جن سے ہینڈ گرنیڈ اور کلاشنکوفیں برآمد ہوئیں۔ یہ دونوں قتل، اغوا اور ڈکیتی کے درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کے ذریعے رقم اکٹھا کر کے طالبان کو بھجواتے تھے۔[43]

    تحریک طالبان پاکستان کے اورکزئی ایجنسی کے نئے امیر نے اورکزئی ایجنسی کے تمام اساتذہ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے دو ہزار روپے تنطیم کو دیا کریں۔ یہ سلسلہ پہلے سے جاری تھا لیکن اب اساتذہ کی مرضی کے خلاف رقم دو ہزار کر دی گئی ہے۔[44]

    طالبان نے پاکستان کے محکمہ کسٹمز کے کئی اہلکار اغوا کیے ہیں جن کے لیے وہ کروڑوں روپے تاوان مانگ رہے ہیں۔[45]

    طالبان کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج

    پاکستان میں طالبان کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں قبائلی علاقے کے افراد، ڈاکٹر، اساتذہ، طالب علم، زمینداروں اور کاشتکاروں سمیت ہر مکتب فکر کے افراد شامل ہیں۔ قبائلی علاقے اور سوات میں طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیے جا رہے ہیں جو اس علاقے کا پرانا طریقہ ہے۔ سوات کے لشکروں کے مطابق فوج جب اس علاقے سے جائے گی تو وہ اپنی حفاظت کے قابل ہوں گے۔[46]

    20 اکتوبر 2009ء کو پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ نے ایک 'پاکستان زندہ باد' جلوس نکالا جس میں دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کیا اور پاک فوج کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔ اس جلوس میں صدرِ جامعہ اور پروفیسروں نے بھی شرکت کی۔[47] 26 اکتوبر 2009ء کو لاہور میں سرکاری ملازمین نے دہشت گردی کے خلاف اور وزیرستان میں آپریشن کی حمایت میں ایک پر امن جلوس نکالا جس میں طلبہ بھی شامل ہوئے۔[48]

    آپریشن راہ نجات

    جون 2009ء میں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں طالبان کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا باقاعدہ آغاز پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز پر تحریک طالبان کے حملے کے بعد ہوا۔ اس کارروائی میں پاک فضائیہ بھی پاک فوج کے ہمراہ حصہ لے رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ آپریشن تحریک طالبان پاکستان کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔

    مزید دیکھیے

    بیرونی روابط

    حوالہ جات

    1. Deobandi Islam: The Religion of the Taliban U. S. Navy Chaplain Corps, 15 October 2001
    2. Rashid, Taliban (2000)
    3. "Why are Customary Pashtun Laws and Ethics Causes for Concern? | Center for Strategic and International Studies"۔ Csis.org۔ 2010-10-19۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-18۔ 
    4. "Understanding taliban through the prism of Pashtunwali code"۔ CF2R۔ 2013-11-30۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-18۔ 
    5. Owen Bennett-Jones (25 April 2014)۔ "Pakistan army eyes Taliban talks with unease"۔ بی بی سی نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 July 2014۔ 
    6. ^ ا ب مفتی نظام الدین شامزئی  صاحب کا پاکستانی تاریخ کا رخ موڑنے والا فتویٰ حسب ذیل ہے:۔ أ.       تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گیا ہے کیونکہ موجودہ صورت حال میں صرف افغانستان کے آس پاس کے مسلمان امارتِ اسلامی افغانستان کا دفاع نہیں کرسکتے ہیں اور یہودیوں اورامریکہ کا اصل ہدف امارتِ اسلامی افغانستان کو ختم کرنا ہے دارالاسلام کی حفاظت اس صورت میں تمام مسلمانوں کا شرعی فرض ہے۔ ب.     جو مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو اور کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے سے وابستہ ہو وہ اگر اس صلیبی جنگ میں افغانستان کےمسلمانوں یا امارتِ اسلامی افغانستان کی اسلامی حکو مت کے خلاف استعمال ہوگا وہ مسلمان نہیں رہے گا۔ ت.     الله تعالی کے احکام کے خلاف کوئی بھی مسلمان حکمران اگر حکم دیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو اسلامی حکومت ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہے ،تو ماتحت لوگوں کے لیے اس طرح کے غیر شرعی احکام مانناجائز نہیں ہے، بلکہ ان احکام کی خلاف ورزی ضروری ہوگی ۔ ث.    اسلامی ممالک کے جتنے حکمران اس صلیبی جنگ میں امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں اور اپنی زمین ،وسائل اور معلومات ان کو فراہم کر رہے ہیں، وہ مسلمانوں پر حکمرانی کے حق سے محروم ہو چکے ہیں، تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ ان حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کر دیں، چاہےاسکے لیے جو بھی طریقہ استعمال کیاجائے ۔ ج.      افغانستان کے مسلمان مجاہدین کے ساتھ جانی ومالی اور ہر قسم کی ممکن مدد مسلمانوں پر فرض ہے، لہذا جو مسلمان وہاں جا کر ان کےشانہ بشانہ لڑ سکتے ہیں وہ وہاں جا کر شرکت کر لیں اور جو مسلمان مالی تعاون کرسکتے ہیں وہ مالی تعاون فرمائیں الله تعالی مصیبت کی اس گھڑی میں مسلمانوں کاحامی و ناصر ہو۔ اس فتویٰ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرکے دوسرے مسلمانوں تک پہنچائیں فقط و سلام مفتی نظام الدین شامزئی https://sadaehaqq.wordpress.com/2013/11/14/مفتی-شامزئی-رحمہ-اللہ-کا-فتویٰ-جس-کی-بنا/
    7. https://umarmedia.xyz/فتاوی/
    8. ^ ا ب روزنامہ ایکسپریس، 12 جولائی 2009
    9. ^ ا ب روزنامہ ایکسپریس پاکستان 24 اکتوبر 2009ء
    10. ڈاکٹر مبارک علی، "المیہ تاریخ، حصہ اول، باب 11جہاد تحریک" تاریخ پبلیکیشنز لاہور 2012
    11. شاہ اسماعیل دہلوی کے الفاظ میں: "انگریزوں سے  جہاد کرنا کسی طرح واجب نہیں ایک تو ان کی رعیت ہیں دوسرے ہمارے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست اندازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح کی آزادی ہے بلکہ ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں"۔ مرزا حیرت دہلوی ،"حیات طیبہ"‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 260
    12. مقالات سرسید حصہ نہم 145-146
    13. Afghanistan: Who are the Hazaras? | Taliban | Al Jazeera
    14. "قائد اعظم لکھنؤ تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لیے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور مسیحی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں؟ جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا۔ اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گذرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کے لیے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے"۔ عبید الرحمن، ’یاد ہے سب ذرا ذرا ‘، صفحہ 49، طبع کراچی
    15. "میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قائد اعظم کی یہ فتح مبین (قیام پاکستان) مسلمانوں کے ضبط و نظم کی مرہوں احسان ہے۔ مسلمانوں کی افتاد طبع مذہبی واقع ہوئی ہے اور دو قوموں کے نظریے کی بنیاد بھی مذہب ہے۔ اگر علمائے دین اس میں نہ آتے اور تحریک کو مذہبی رنگ نہ دیتے تو قائد اعظم یا کوئی اور لیڈر خواہ وہ کیسی قابلیت و تدبر کا مالک ہی کیوں نہ ہوتا یا سیاسی جماعت مسلم لیگ مسلمانوں کے خون میں حدت پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ تاہم علمائے دین اور مسلمان لیڈروں کی مشترکہ جہد و سعی سے مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور ایک نصب العین پر متفق ہو گئے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام مساعی پاکستان کے دستور اساسی کی ترتیب پر صرف کریں اور اسلام کے عالمگیر اور فطری اصولوں کو سامنے رکھیں کیونکہ موجودہ مرض کا یہی ایک علاج ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مغربی جمہوریت اپنی تمام برائیوں کے ساتھ چھا جائے گی اور اسلام کی بین الاقوامیت کی جگہ تباہ کن قوم پرستی چھا جائے گی" مولانا شبیر احمد عثمانی، 1 ستمبر 1947ء
    16. جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی
    17. آپ کا پہلا جنازہ گورنر ہاؤس میں شیعہ طریقے پر ہوا، آپ کیجائداد بھی محترمہ فاطمہ جناح کو شیعہ طریقے پر منتقل کی گئی، تفصیل اس کتاب میں: Khalid Ahmed, "Sectarian War: Pakistan's Sunni-Shia Violence and its links to the Middle East"، Oxford University Press, 2011.
    18. "فتاویٰ مفتی محمود" میں شیعہ حضرات کا جنازہ نہ پڑھنے کے فتووں ذیل میں قائد اعظم کے شیعہ ہونے کی وجہ سے علامہ شبیر احمد عثمانی کی طرف سے ان کا جنازہ پڑھنے کو غلطی قرار دیا گیا ہے۔ مفتی محمود ستر کی دہائی میں جمیعت علمائے اسلام کے قائد اور مولانا فضل الرحمن کے والد تھے۔ فتاویٰ مفتی محمود، جلد سوم، کتاب الجنائز، صفحہ 67
    19. قائد اعظم کی نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”قائد اعظم کا جب انتقال ہوا تو میں نے رات رسول اکرم ﷺ کی زیارت کی۔ رسول قائد اعظم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا مجاہد ہے۔“
    20. مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ | مولانا زاہد الراشدی
    21. ^ ا ب پ Andreas Rieck, "The Shias of Pakistan: An Assertive and Beleaguered Minority"، Oxford University Press, (2015)۔
    22. Sharaabtoon: 'The Most Unfortunate Incident': The Theri Massacre and Fifty years of Sectarian Violence in Pakistan
    23. 20جنوری 1979ء کو آیت الله خمینی کے دو نمائندوں نے مولانا مودودی سے ملاقات کی۔ وہ ان کا خصوصی خط لے کر آئے تھے۔ جناب رفیق ڈوگر (صحافی) نے ملاقات سے پہلے اور ملاقات کی تمام تر تفصیلات اپنی کتاب ’’مولانا مودودی سے ملاقاتیں" میں درج کی ہیں۔ ارشاد احمد حقانی نے بھی مولانا مودودی اور آیت الله خمینی کے روابط کا ذکر کیا ہے۔
    24. ^ ا ب پ افغانستان، سی آئی اے، اسامہ بن لادن اور طالبان
    25. سی آئی اے نے پاکستان کی مدد سے طالبان تخلیق کیے
    26. لسگ ہیریسن۔ دہشت گردی اور علاقائی تحفظ کی کانفرنس 2000ء
    27. http://emperors-clothes.com/docs/camps.htm نیو یارک ٹائمز 24 اگست 1998
    28. امریکی سینیٹر ہینک براؤن (Hank Brown)۔ صدر سینٹ خارجہ تعلقات سب۔ کمیٹی برائے جنوبی ایشیا۔ بحوالہ ورلڈ ٹریویلر
    29. روزنامہ دی نیوز۔ 14 ستمبر 2009
    30. Hassan Abbas, "Pakistan's Drift Into Extremism: Allah, the Army, and America's War on Terror"، Routledge, (2015)۔
    31. CNN - Blast kills at least 26 outside Pakistani courtroom - Jan. 18, 1997
    32. جان آر شمٹ، "گرِہ کھلتی ہے: جہاد کے دور کا پاکستان" ترجمہ: اعزاز باقر http://mashalbooks.org/product/the-unraveling-pakistan-in-the-age-of-jihad/
    33. مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ | مولانا زاہد الراشدی
    34. طویل جنگ کا جریدہ
    35. روزنامہ جنگ 18 اکتوبر 2009ء
    36. جنگ تازہ خبریں 10 نومبر 2009ء
    37. نوائے وقت 29 اکتوبر 2009ء
    38. روزنامہ جنگ 3 نومبر 2009ء
    39. http://www.jang.com.pk/jang/nov2009-daily/11-11-2009/u11008.htm جنگ 11 نومبر 2009ء۔ تازہ خبریں
    40. روزنامہ جنگ 21 نومبر 2009ء
    41. جنگ تازہ ترین 27 نومبر 2009ء
    42. روزنامہ جنگ 5 دسمبر 2009ء
    43. روزنامہ جنگ تازہ ترین خبریں 22 اکتوبر 2009ء
    44. بی بی سی اردو 22 اکتوبر 2009ء
    45. روزنامہ جنگ 20 نومبر 2009ء
    46. http://www.jang.com.pk/jang/oct2009-daily/26-10-2009/u9483.htm روزنامہ جنگ تازہ ترین 26 اکتوبر 2009ء
    47. دانشگاہِ پنجاب پریس ریلیز 20 اکتوبر 2009ء
    48. http://www.jang.com.pk/jang/oct2009-daily/26-10-2009/u9516.htm روزنامہ جنگ تازہ ترین 26 اکتوبر 2009ء