حرکت الجہاد الاسلامی
{{خانہ معلومات عسکریت پسند تنظیم | name = حرکت الجہاد الاسلامی | native_name = حرکة الجہاد الاسلامی | native_name_lang = ar | logo = | caption = حرکت الجہاد الاسلامی کا لوگو | dates = 1980ء – موجودہ | country = پاکستان | area = افغانستان،[[کشمیر] | ideology = اسلامی جہادی نظریہ | allegiance | founders = مولانا ارشاد | leaders =
* قاری سیف اللہ اختر (سابق سربراہ) * مولانا فضل الرحمان خلیل (سابق رہنما، حرکت المجاہدین کے بانی) * الیاس کشمیری (کمانڈر) * خالد محمود کراچوی (کمانڈر)
| predecessor = حرکت انقلاب اسلامی | successor = حرکت المجاہدین (ایک دھڑا) | motive = سوویت یونین کے خلاف جنگ، کشمیر میں مسلح جدوجہد | status = کمزور | size = سینکڑوں جنگجو | allies حرکت المجاہدین، لشکر طیبہ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک، ایشیائی ٹائیگرز،
جماعت المجاہدین بنگلہ دیش، انڈین مجاہدین
| opponents = سوویت یونین، بھارت، امریکا | battles =
* افغان جنگ (1979ء–1989ء) * کشمیر میں مسلح مزاحمت * افغانستان میں طالبان کا دور
| attacks =
- بھارتی زیر انتظام کشمیر میں حملے
- چند کارروائیاں بھارت میں
| designated_as_terror_group_by =
*پاکستان
| website = |image=File:Flag of Jihad.svg}}
حرکت الجہاد الاسلامی (عربی: حرکة الجہاد الاسلامی) جنوبی ایشیا کی جہادی تحریکوں میں سے ایک اہم تنظیم ہے، جسے دنیا کی حالیہ جہادی تحریکوں میں جنوبی ایشیا کی مادر جہادی تحریک سمجھا جاتا ہے۔[1] [2]اس تنظیم کی بنیاد 1980ء کی دہائی کے اوائل میں افغانستان میں سوویت یونین کی افواج کے خلاف جنگ کے دوران رکھی گئی۔[3] حرکت الجہاد الاسلامی کو جنوبی ایشیا کی مادر جہادی تحریک بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے کئی دیگر جہادی تنظیموں نے جنم لیا۔[4][5][6]
تنظیم کی بنیاد اور بانیان
[ترمیم]حرکت الجہاد الاسلامی کی بنیاد پاکستانی دیوبندی عالم مولانا ارشاد نے رکھی، جو روس کے خلاف افغانستان کی جنگ میں شریک ہوئے۔[7] مولانا ارشاد 1980ء کے اوائل میں اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان گئے اور روسی افواج کے خلاف مولوی نبی محمدی کی تنظیم حرکت انقلاب اسلامی کے زیر سایہ لڑتے رہے۔[8] بعد ازاں، مولانا ارشاد نے اپنی الگ تنظیم، حرکت الجہاد الاسلامی، قائم کی اور اس کے ابتدائی کمانڈروں میں قاری سیف اللہ اختر، مولانا فضل الرحمان خلیل اور کمانڈر خالد محمد کراچوری جیسے افراد شامل تھے۔[9]
تنظیم کی ابتدائی سرگرمیاں
[ترمیم]حرکت الجہاد الاسلامی نے ابتدائی طور پر افغانستان میں روسی افواج کے خلاف جنگ کی۔[10] تنظیم کے بانی مولانا ارشاد کے جاں بحق ہو جانے کے بعد قاری سیف اللہ اختر کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔ [11]بعد میں مولانا فضل الرحمان خلیل کی قیادت میں تنظیم کا ایک دھڑا علاحدہ ہو گیا، جس نے اپنا نام حرکت المجاہدین رکھا۔ افغانستان میں جنگ کے دوران، حرکت الجہاد الاسلامی نے جنوبی افغانستان کے متعدد مقامات پر جنگ لڑی۔[12]
روس کے افغانستان سے انخلا کے بعد
[ترمیم]روس کے افغانستان سے انخلا کے بعد، حرکت الجہاد الاسلامی نے اپنی کارروائیوں کو وسعت دی اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت کا آغاز کیا۔[13] 1988ء میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت شروع ہوئی، جس کے بعد تنظیم نے کشمیر میں اپنی کارروائیاں تیز کر دیں اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیر سے بھارتی فوج پر حملے شروع کیے۔ ان حملوں کی قیادت کمانڈر خالد محمود کراچوی کر رہے تھے، جو بعد میں ایک بم دھماکے میں مارے گئے۔[14]
آپریشن خلافت اور بے نظیر بھٹو کے خلاف سازش
[ترمیم]حرکت الجہاد الاسلامی کے دوسرے امیر، قاری سیف اللہ اختر، پاکستانی فوج کے جرنیلوں کے ساتھ مل کر وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے اور طالبان طرز کی اسلامی حکومت قائم کرنے کی سازش میں بھی ملوث تھے۔ اس ناکام سازش کو "آپریشن خلافت" کا نام دیا گیا تھا، جس میں کئی فوجی جرنیل بھی ملوث تھے۔ تاہم، یہ کوشش ناکام ہو گئی اور کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ سیف اللہ اختر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[15]
کشمیر میں مسلح مزاحمت
[ترمیم]حرکت الجہاد الاسلامی نے 1990ء کی دہائی میں کشمیر میں اپنی مسلح مزاحمت کو مزید تیز کیا اور بھارتی فوج کے خلاف کارروائیاں کیں۔ تنظیم کے جنگجو بھارتی فوج کے ساتھ کئی جھڑپوں میں شامل رہے، جن میں سے کئی افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ کشمیر کی جنگ میں حصہ لینے والے افراد میں الیاس کشمیری بھی شامل تھے، جو بعد میں دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد کمانڈر کے طور پر مشہور ہوئے۔[16]
نتیجہ
[ترمیم]حرکت الجہاد الاسلامی ایک ایسی تنظیم رہی ہے جس نے جنوبی ایشیا میں اسلامی جہاد کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم نے نہ صرف افغانستان میں روسی افواج کے خلاف جنگ کی، بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی مسلح مزاحمت کا آغاز کیا۔ تنظیم کی تقسیم اور اندرونی اختلافات نے اس کی طاقت کو کمزور کر دیا،[17]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Expansion of Terror Networks in South Asia"۔ The Telegraph۔ 15 جولائی 2020۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "History of Harakat-ul-Jihad al-Islami"۔ NBC News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "The South Asian Jihadist Threat"۔ BBC۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "Harakat-ul-Jihad al-Islami Overview"۔ BBC News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14[مردہ ربط]
- ↑ "Jihadist Networks in Pakistan: Harakat-ul-Jihad al-Islami's Role"۔ Foreign Policy۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14[مردہ ربط]
- ↑ "Harakat-ul-Jihad al-Islami's Ties to Afghanistan and Pakistan"۔ NPR۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "Harakat-ul-Jihad al-Islami Listed as a Terrorist Organization"۔ FBI۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "Harakat-ul-Jihad al-Islami: U.S. State Department Designation"۔ U.S. State Department۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "The Role of Harakat-ul-Jihad al-Islami in Global Terrorism"۔ CNN۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "Indian Government Report on Harakat-ul-Jihad al-Islami"۔ The Hindu۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "The Role of HUJI in South Asian Terrorism"۔ Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14[مردہ ربط]
- ↑ "Jihadist Movements in South Asia: An Overview"۔ The New York Times۔ 10 جون 2021۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "Profile of Harakat-ul-Jihad al-Islami's Leaders"۔ Dawn۔ 10 ستمبر 2023۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "Kashmir Insurgency: Role of Jihadist Groups"۔ CNN۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14[مردہ ربط]
- ↑ "South Asian Terror Networks: HUJI's Activities"۔ Al Jazeera۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14[مردہ ربط]
- ↑ "Harakat-ul-Jihad al-Islami's Global Network"۔ Reuters۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
- ↑ "Harakat-ul-Jihad al-Islami: A Historical Perspective"۔ Times of India }۔ اکتوبر 2024۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-09-14
{{حوالہ ویب}}: نامعلوم پیرامیٹر|bot=رد کیا گیا (معاونت)
- ایشیا میں دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیمیں
- بنگلہ دیش میں دہشت گردی
- بھارت کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیمیں
- پاکستان کی کالعدم تنظیمیں
- پاکستان میں 1984ء کی تاسیسات
- پاکستان میں جہادی گروہ
- پاکستان میں دہشت گردی
- جہادی تنظیمیں
- متحدہ مملکت کے ہوم آفس کی جانب سے قرار دیے جانے والے دہشت گرد گروہ
- 1990ء کی دہائی میں قائم ہونے والی تنظیمیں
- دیوبندی تنظیمیں
- ریاستہائے متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں
- اسلام سے منسوب دہشت گردی
- بھارت میں اسلامی دہشت گردی
- بھارت میں باغی گروہ
- پاکستان میں اسلامیت
- القاعدہ
- منظم جرائم