محمد بن عبد الوہاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(محمد بن عبدالوہاب سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محمد بن عبد الوہاب
(عربی میں: محمد بن عبد الوهاب ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
محمد بن عبد الوهاب.png

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1703[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
العيينہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 جون 1792 (88–89 سال)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
درعیہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the First and Second and Third Saudi States.svg امارت درعیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد حسین بن محمد بن عبد الوہاب،  عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب،  علی بن محمد بن عبد الوہاب،  ابراہیم بن محمد بن عبد الوہاب،  حسن بن محمد بن عبد الوہاب  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبد الوہاب بن سلیمان  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد عبد الوہاب بن سلیمان  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب،  علی بن محمد بن عبد الوہاب،  حسین بن محمد بن عبد الوہاب  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ امام،  واعظ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[6]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل توحیدیت  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں کتاب التوحید،  اسلام کے تین بنیادی اصول  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمد بن عبد الوہاب (پیدائش: 1703ء— وفات: 21 مئی 1792ء) عرب کے علاقے نجد کے ایک قصبہ العيينہ میں 1703ء میں پیدا ہوا۔ دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ جاکر قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی۔

1158ھ میں نجد کے ایک شہر درعیہ کے امیر محمد بن سعود (متوفی:1765ء) نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنے کا عہد کیا اور کتاب و سنت کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے پر آمادگی ظاہر کی۔ امیر محمد بن سعود کی مدد سے ان کی تحریک سارے نجد میں پھیل گئی اور امیر کی حکومت بھی شہر درعیہ سے بڑھ کر سارے نجد میں قائم ہو گئی۔

عبدالوہاب نجدی کی حقیقت عقیدہ ختم نبوت کے سچے عاشق

تاجدار گولڑہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وہابیت کی داغ بیل محمد بن عبدالوہاب نجدی نے ڈالی 1143ھ میں اس نے علمائے مدینہ سے مناظرہ کیا جس میں اسے شکست فاش ہوئی جب مدینہ سے ناکام ہوا تو نجد کے بدوؤں میں اس نے اپنے مسلک کی تبلیغ شروع کردی ابن مسعود نامی ایک حاکم اس کے خیالات سے متفق ہو گیا ان دونوں نے مل کر بیس ہزار کا ایک لشکر تیار کیا اپنا پایہ تخت درعیہ نامی جگہ کو قرار دیا 1218ھ میں اس لشکر نے مکہ مدینہ پر چڑھائی کردی مسلمانوں کو بے دریغ شہید کر دیا مسجد نبوی کے خزانوں کو لوٹ لیا محمد علی پاشا خدیو مصر کے حکم سے طوسون مصری نے ان سے جنگ کی 1227ھ میں ان سے فتح پائی اور مدینہ کو وہابیوں سے پاک کر دیا۔ ادھر محمد علی پاشا کے دوسرے بیٹے ابراہیم نے 1224ھ میں درعیہ وہابیوں کے پایہء تخت کو فتح کر لیا مگر خفیہ طور پر وہابیت کی تبلیغ جاری رہی اور اس عقیدے کی حکومتیں قائم ہوتی رہیں۔ (از سیف چشتیائی تاجدار گولڑہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ نمبر 98)

ھجری میں آل سعود و آل نجد نے یہودیوں کے ساتھ مل کر حرمین مقدسہ پر قبضہ کیا آل سعود و آل نجدی کے قبضہ سے پہلے حرمین مقدسہ میں وھابیت اور وھابی عقائد کا کوئی وجود نہیں تھا اگر کسی وھابی میں ہمت ھے تو آل سعود و آل نجدی کے حرمین پر قبضہ سے پہلے حرمین مقدسہ میں وھابی عقائد کا وجود ثابت کر دیکھائے اوٹ پٹانگ باتیں نہ کی جائیں بحوالہ جواب دیا جائے جو بھی جواب دینا چاہے ؟

محمد ابن عبدالوہاب نجدی کے عقائد : درج ذیل سطور میں وہابیوں کے چند عقائد ذکر کئے جاتے ہیں یہ ان کی اصل کتاب میں مذکور ہیں حوالہ ساتھ درج ہیں۔

محمد کی قبر، ان کے دوسرے متبرک مقامات، تبرکات یا کسی نبی ولی کی قبر یا ستون وغیرہ کی طرف سفر کرنا بڑا شرک ہے۔ (کتاب التوحید محمد ابن عبدالوہاب ص 124)

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مزار گرا دینے کے لائق ہے اگر میں اس کے گرا دینے پر قادر ہو گیا تو گرا دوں گا۔ (اوضح البراہین)

میری لاٹھی محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)سے بہتر ہے کیونکہ اس سے سانپ مارنے کا کام لیا جا سکتا ہے اور محمد مر گئے ان سے کوئی نفع باقی نہ رہا۔ (اوضح البراہین ص 103)

یہ چند عقائد تھے اگرچہ ان کی خبا ثتیں بہت زیادہ ہیں جن سے آپ نے اندازہ لگایا ہو گا کہ وہابیوں کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان مشرک قرار پاتے ہیں۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔

عَنْ عُقَبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْکُمْ وَإِنِّي وَاﷲِ لَأَنْظُرُ إِلَي حَوْضِي الآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيْتُ مَفَاتِيحَ خَزَآئِنِ الْأَرْضِ، أَوْمَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاﷲِ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَُشْرِکُوْا بَعْدِي وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوْا فِيهَا.مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

ترجمہ : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔

(أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علامات النَّبُوَّةِ فِي الإِسلام، 3 / 1317، الرقم : 3401، وفي کتاب : الرقاق، باب : مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيها، 5 / 2361، الرقم : 6061، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1795، الرقم : 2296 وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 153)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صاف الفاظ میں نجد سے بیزاری کا اظہار فرمایا

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نَجْدِنَا؟ قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نَجْدِنَا؟ فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ(رواہ احمد ،بخاری،ترمذی)

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یا اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا اللہ ہمارے لیے ہمارے یمن میں برکت عطا فرما لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں آپ نے فرمایا: ’’یا اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا اللہ ہمارے یمن میں برکت عطا فرما لوگوں نے کہا یا رسول اللہ اور ہمارے نجد میں میرا خیال ہے کہ شاید آپ نے تیسری بار فرمایا کہ یہاں زلزلے ہوں گے اور فتنے ہوں اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا ۔

محمد بن عبد الوہاب نے پچاس سال تبلیغ کا کام انجام دینے کے بعد وفات پائی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں کتاب التوحید مشہور ہے۔ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک فتنہ نے اسلامی دنیا پر گہرا اثر ڈالا۔

حوالہ جات

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119152169 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb122717906 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6rv4s5j — بنام: Muhammad ibn Abd al-Wahhab — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Babelio author ID: https://www.babelio.com/auteur/wd/82379 — بنام: Cheikh Mohammed Ibn Abd Al Wahab — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. Store norske leksikon ID: https://snl.no/Muhammad_Ibn_Abd_al-Wahhab — بنام: Muhammad Ibn Abd al-Wahhab — عنوان : Store norske leksikon
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb122717906 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ