غلام خلال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غلام خلال
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 898  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات جون 973 (74–75 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
استاذ ابو بکر خلال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو بکر عبد العزیز بن جعفر بن احمد بن یزداد بغوی ہے، غلام خلال نام سے مشہور ہیں، خلال لقب کی وجہ یہ ہے کہ ابو بکر خلال کے مایہ ناز شاگرد تھے، مفسر اور ثقہ محدث ہیں۔

ولادت اور اوصاف[ترمیم]

سنہ 285 ہجری میں پیدا ہوئے، حنبلی مذہب کے اہم شیوخ میں شمار ہوتا ہے، مشہور حنبلی فقیہ اور مؤرخ ابن ابو یعلیٰ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ: "زبردست فہم، راسخ علم، کثیر الروایت، حکومت اور لوگوں کے درمیان قابل تعظیم و تکریم اور مذہب حنبلی کے ماہر تھے"۔ علامہ ذہبی نے فرمایا: " امام احمد کے تلامذہ میں ابو بکر خلال جیسا کوئی نہیں اور ابوبکر خلال کے بعد عبد العزیز (غلام خلال) جیسا کوئی نہیں سوائے ابو القاسم خرقی کے"۔

اساتذہ[ترمیم]

بچپن ہی میں

  • محمد بن عثمان بن ابی شیبہ
  • موسیٰ بن ہارون
  • فضل بن حباب جمحی
  • جعفر فریابی
  • احمد بن محمد بن جعد وشاء
  • حسین بن عبد اللہ خرقی سے علم کی سماعت کی ۔

اسی طرح کہا جاتا ہے کہ احمد بن حنبل کے بیٹے عبد اللہ بن احمد سے بھی سماعت کیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔

اس کے علاوہ با ضابطہ طور پر

  • ابو القاسم بغوی
  • محمد بن عثمان بن ابی شیبہ
  • حسین بن عبد اللہ خرقی اور دوسرے حنبلی کبار علما کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔

تلامذہ[ترمیم]

  • احمد بن جنید خطبی
  • بشری بن عبد اللہ فاتنی
  • ابو اسحاق برمکی اور دیگر نے ان سے حدیث روایت کی ہے۔ اسی طرح
  • ابن بطہ
  • ابو اسحاق بن شاقلا
  • ابو حفص عکبری
  • ابو الحسن تمیمی
  • ابو حفص برمکی
  • ابو عبد اللہ بن حامد نے ان سے فقہ کا علم حاصل کیا۔

علما کی آرا[ترمیم]

غلام خلال کو فقہ میں یدِ طولیٰ حاصل تھا اور بڑی شان کے مالک تھے، جس نے بھی ان کی کتاب "الشافی" پڑھی ہوگی وہ ان کے مرتبہ و شان سے واقف ہوگا۔

  • ابو حفص برمکی نے کہا کہ انھوں نے غلام خلال کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: "مجھ سے میرے استاذ ابو بکر خلال نے تقریباً بیس مسائل کو سنا اور اس کو اپنی کتاب میں درج کیا"۔
  • قاضی ابو یعلیٰ کہتے ہیں: «ابو بکر عبد العزیز کی بہت سی بہترین تصنیفات ہیں، اس میں سے ایک کتاب "المقنع" ہے جس کے تقریباً سو حصے ہیں، ایک کتاں "الشافی" جس کے تقریباً اسّی حصے ہیں، اسی طرح کتاب "زاد المسافر"، "الخلاف مع الشافعی" اور "مختصر السنہ" ہے۔ روایت ہے کہ انھوں نے مرض الوفات میں فرمایا کہ میں تمھارے درمیان جمعہ کے دن تک ہوں، چنانچہ جمعہ کے دن انتقال ہو گیا"۔

وفات[ترمیم]

ابن الفراء کہتے ہیں کہ "غلام خلال کی وفات شوال سنہ 362 ہجری میں ہوئی، عمر تقریباً 78 سال تھی، تقریباً یہی عمر ان کے شیخ ابو بکر خلال نے پائی۔ اسی طرح اسی سال دمشق کے مؤذن جمح بن قاسم، ابو بکر محمد بن احمد رملی، ابو الحسن محمد بن حسین بن ابراہیم آبری، حافظ ابو العباس محمد بن موسیٰ سمسار، مظفر بن حاجب فرغانی اور ابو حنیفہ نعمان بن محمد قاضی عبیدیہ نے بھی وفات پائی۔"

ماخذ[ترمیم]

  • طبقات الحنابلة للشيخ ابن أبي يعلى الحنبلي.