صالح بن احمد بن حنبل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صالح بن احمد بن حنبل
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 818  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 879 (60–61 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
والد احمد بن حنبل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
استاذ احمد بن حنبل،  علی بن مدینی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص ابو القاسم بغوی،  ابن ابو حاتم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،  فقیہ،  محدث،  قاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

صالح بن احمد بن حنبل، اصفہان کے قاضی تھے۔ پورا نام صالح بن احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد ہے، امام احمد بن حنبل کے سب سے بڑے صاحبزادہ تھے، ابو الفضل کنیت تھی۔ بغداد میں سنہ 203 ہجری مطابق 818 عیسوی میں پیدا ہوئے، اپنے والد امام احمد بن حنبل کی نگرانی میں پرورش پائی اور انھیں سے علم حاصل کیا، پھر اصفہان میں قاضی بنے اور وہیں وفات پائی۔[1]

اساتذہ[ترمیم]

تلامذہ[ترمیم]

مناقب[ترمیم]

ابو بکر خلال فرماتے ہیں:

کہ ہمیں محمد بن عباس نے محمد بن علی کے حوالہ سے بتایا کہ: جب صالح اصفہان تشریف لے گئے تو وہاں جامع مسجد میں جاکر خوب روئے حتی کہ بعض شیوخ بھی رونے لگے، جب مسجد سے فارغ ہوئے تو لوگ انھیں دعوت دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے شہر کا ہر شخص آپ کے والد محترم سے محبت کرتا ہے۔ صالح نے فرمایا: اس حالت میں میری تنہائی اور ویرانی نے مجھے رلا دیا، ان کے بدن پر کالی چادر تھی۔ پھر فرمایا: میرے والد کے پاس جب کوئی زاہد اور بزرگ آتا تو وہ میرے پاس بھیجتے تاکہ میں ان سے کچھ حاصل کروں، میرے والد چاہتے تھے کہ میں اس بھیجے ہوئے زاہد کی طرح بنوں، لیکن اللہ خوب جانتا ہے کہ اس معاملہ میں (قضا) میں صرف اور صرف اس وجہ سے داخل ہوا ہوں کہ مجھ دین اور کثرت عیال نے مجبور کیا۔

وفات[ترمیم]

صالح بن احمد بن حنبل نے اصفہان میں سنہ 265 ہجری مطابق 878 عیسوی میں وفات پائی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "المكتبة الشاملة : صالح بن أحمد"۔ shamela.ws۔
  2. "المكتبة الإسلامية : صالح بن أحمد بن حنبل"۔ library.islamweb.net۔