ابن ابو حاتم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو حاتم الرازی سے مغالطہ نہ کھائیں۔
ابن ابو حاتم
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 854  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 938 (83–84 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
طوس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو حاتم رازی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ صالح بن احمد بن حنبل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ابن ابو الحاتم الرازی (پیدائش: 854ء— وفات: 938ء) قدیم محدث، مفسر اور جرح و تعدیل کے امام تسلیم کیے جاتے ہیں۔

نام[ترمیم]

ابو محمد کنیت ہے نام عبد الرحمن بن محمد بن ادریس بن منذر بن داود بن مہران تمیمی الحنظلی رازی۔ -

ولادت[ترمیم]

ابن ابو حاتم 240ھ بمطابق 854ء کو رے، ایران میں پیدا ہوئے۔

شہرت[ترمیم]

ابن ابو حاتم کے نام سے مشہور ہیں ہے۔ ان کے والد ابو حاتم الرازی امام حافظ اور محدث تھے

نسبت رازی[ترمیم]

رازی نسبت رے شہر کی وجہ سے یہ مرو شاہجان کی وجہ ہے

علمی اسفار[ترمیم]

ان کے والد امام فی الحدیث ،امام جرح والتعدیل اور علل تھے طلب حدیث میں ان کے ساتھ بہت سفر کیے ان کے بیٹے عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میرے والد فرماتے کہ میں نے طلب حدیث میں اس وقت نکلا جب میری عمر سات سال تھی اور اکثر سفر مجھے پیدل کرنا پڑے ہزاروں فرسخ چل کر علم حدیث حاصل کیا ان سفروں میں كوفہ سے بغداد کتنے سفر میں نے کیے مجھے اس کا شمار بھی یاد نہیں،اسی طرح مکہ سے مدینہ کئی سفر کیے اور بحرین جو صلا کے قریب تھا پیدل مصر جاتا تھا،مصر سے رملہ رملہ سے بیت المقدس، رملہ سے عسقلان رملہ سے طبریہ اور دمشق ،دمشق سے حمص اور حمص سے أنطاكية،اور أنطاكية سے طرسوس، پھرواپس طرسوس سے کا سفر کیا [2]

عقیدہ[ترمیم]

یہ اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھتے اور عقیدہ جہیمیہ کے سخت مخالف تھے۔

اساتذہ[ترمیم]

بہت سے شائخ میں سے چند ایک یہ ہیں

  • ابو حاتم محمد بن ادريس بن المنذر الحنظلی الرازی۔ (والد تھے)
  • احمد بن اصرم۔
  • يونس بن حبيب الاصفہانی۔
  • احمد بن منصور الرمادی۔

شاگرد[ترمیم]

  • حُسينك التميمی۔
  • يوسف الميانجی۔
  • علی بن مدرك.
  • علی بن محمد القصار۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • الجرح والتعديل - 8 جلدوں میں ہے ۔
  • تفسير ابن ابی الحاتم کئی جلدوں پر مشتمل ہے دو ان میں سے طبع ہوئیں۔
  • الرد على الجہميہ
  • علل الحديث دو جلد
  • المسندكبير
  • الكنى
  • الفوائد الكبرى
  • المراسيل
  • تقدمہ المعرفہ بكتاب الجرح والتعديل
  • زهد الثمانيہ من التابعين
  • آداب الشافعي ومناقبہ

وفات[ترمیم]

ابن ابو حاتم کی وفات 327ھ بمطابق 938ء میں ہوئی۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://libris.kb.se/katalogisering/gdsvq9m02w3pc6d — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 25 ستمبر 2012
  2. الرحلہ فی طلب الحديث صفحہ213
  3. تذكرة الحفاظ 3/34
  4. الاعلام خیر الدین الزرکلی