موت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search



اسلامی لحاظ سے روح کا جسد عنصری سے الگ ہونے کا نام ہے۔

[[فائل:Animated flower.GIF|بائیں|100px|تصغیر|ایک پودے کے ذریعے زندگی سے موت کی جانب تشبہ کا عکس محرک http://www.mtfoto.dk/maleneآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ mtfoto.dk [Error: unknown archive URL]

ترقی پزیر ممالک میں اسباب اموات تعداد اموات ترقی یافتہ ممالک میں اسباب اموات تعداد اموات
ایچ آئی وی-ایڈز 2,678,000 مرض قلب اقفاری 3,512,000
زیریں تنفسی عدوی 2,643,000 سکتہ (فالج) 3,346,000
مرض قلب اقفاری 2,484,000 مسدود مزمن مرض ریوی 1,829,000
اسہال 1,793,000 زیریں تنفسی عدوی 1,180,000
دماغی شریانوں کا مرض 1,381,000 پھیپھڑوں کا سرطان 938,000
امراض اطفال 1,217,000 حادثات مرور 669,000
ملیریا 1,103,000 سرطان معدہ 657,000
سل (ٹی بی) 1,021,000 بلند فشار خون 635,000
مسدود مزمن مرض ریوی 748,000 سل (ٹی بی) 571,000
حصبہ (خسرہ) 674,000 خودکشی 499,000

اسلام اور ادیان[ترمیم]

موت کے متعلق تمام ادیان اور سائنس متفق تو ہے، وہ ہمیں موت کے بارے میں باتیں بتاتے ہیں لیکن ایک حد ایسی آتی ہے جہاں سے آگے سوائے اسلام کے کوئی مذہب یا سائنس جواب نہیں دے سکتا۔ کچھ مختصر مفہومات درجہ ذیل ہیں:

اسلام، یہودیت اور مسیحیت[ترمیم]

ان تینوں مذہبوں میں دیگر کے نسبت موت پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ مگر اسلام نے موت کو سب سے تفصیلاً بیان کیا ہے اور اپنے پیروؤں کو ہمیشہ موت کے بعد کی زندگی کو حقیقی زندگی مان کر دنیا میں صالح کردار پیش کرنے کی نصیحت کی ہے۔

جزء آخر[ترمیم]

جزء آخر (telomere)

جزء آخر جس کو انگریزی میں telomere کہا جاتا ہے دراصل لونی جسیمات یا کروموسومز کے سروں (اطراف) پر ڈی این اے کے جزء یا ٹکڑے ہوتے ہیں جو مختلف افعال انجام دینے کے ساتھ ساتھ ڈی این اے اور باالفاظ دیگر لونی جسیمات کی حفاظت کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ ہر بار جب خلیہ تقسیم ہوتا ہے تو ان کی طوالت کچھ کم ہوجاتی ہے اور سائنسی شواہد اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان کی طوالت کا گھٹتے چلے جانا، حیات کی طوالت یا یوں کہہ لیں کہ موت سے سروکار رکھتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]