لشکر جھنگوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لشکرجھنگوی
شہرت LeJ
رہنما ریاض بسرا 
اکرم لاہوری‎
سالہائے فعالیت 1996–تا حال
مقاصد فرقہ واریت
فعال علاقے پاکستان
قابلِ ذکر کاروائیاں شیعہ پر حملے
حیثیت آسٹریلیا، کینیڈا، یورپی یونین، پاکستان، برطانیہ، اور امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد۔

نوے کی دہائی میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ سے سپاہ صحابہ کی قیادت پر مقدمات بننے لگے اور حکومتی دباو میں اضافہ ہوا تو مولانا ضیاءالرحمان فاروقی نے 1996ء میں ملک اسحاق، اکرم لاہوری (جو اس وقت سکهر جیل میں قید ہے) اور ریاض بسرا کی سرپرستی میں سپاہ صحابہ سے الگ تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی،[1]، جو بظاہر ایک الگ تنظیم تھی مگر اس کے کارکنان کو قانونی اور مالی پشت پناھی سپاہ صحابہ ہی فراہم کرتی تھی۔

آج کل لشکر جھنگوی بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی فرقہ وارانہ دہشت گردی پر گرفت نہیں کی جا رہی۔ پاکستان آرمی نے سب سے پہلے جن منظم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کی وہ 1971 میں بنگال کے البدر مجاہدین اور الشمس مجاہدین تھے۔ ان مجاہدین کی وجہ سے بنگالی عوام پاکستان سے متنفر ہوئے۔ ان مجاہدین نے پاک فوج کی سہولت کاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مذہبی اور سیاسی مخالفوں کو قتل کیا۔ اس کے نتیجے میں پاک فوج پر عوام دشمنی کا الزام آیا۔ اگر 1971 کی جنگ سے حاصل ہونے والے اسباق پاک فوج کے نصاب کا حصہ ہوتے تو آج بلوچستان میں لشکر جھنگوی کی سرپرستی نہ کی جاتی۔

دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعت سپاہ صحابہکا نام پہلے انجمن سپاہ صحابہ تھا۔ یہ جماعت 1944ءمیں امرتسر میں قائم ہونے والی "تنظیم اہلسنت" نامی شیعہ مخالف جماعت کا تسلسل ہے جو 1984ء میں دیوبندی عالم مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے ساتھ عملی طور پر ختم ہو گئی تھی۔ مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے بعد پاکستان میں شیعیت کے خلاف یلغار کے لیے سپاہ صحابہ کے نئے نام سے اس جماعت کی تنظیم نو 1985ء میں پاکستانی پنجاب کے شہر جھنگ میں دیوبندی عالم مولاناحق نواز جھنگوی نے کی۔

آج کل سپاہ صحابہ کے سیاسی نظریات رکھنے والے زیادہ تر کارکن احمد لدھیانوی کے حق میں ہیں جبکہ انتہا پسند کارکنوں کی بڑی تعداد ملک اسحاق کو پسند کرتی تھی۔

ملک اسحاق جب رہا ہوئے تو اس وقت وہ کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ تھے اور 2012ء میں لدھیانوی سے بات چیت کے بعد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنکوی کی صلح ہو گئی، جس کے بعد ملک اسحاق سپاہ صحابہ کے نائب امیر بنے۔ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے اور انہیں اکتوبر 2009 میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائینڈ سمجھا جاتا ہے۔ انہیں پھانسی بھی دی جاچکی ہے اور تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہو گئے تھے۔[2] لشکرِجھنگوی اُس عسکریت اور شدت پسندی کے مجموعے کا ایک حصہ ہے، جس کی طویل تاریخ ہے اور یہ کسی خاص علاقے کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان اور اس کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

لشکرِ جھنگوی آج دہشت گردی کے خطرات میں خود اپنی ہی ایک تاریخ ہے: اس کا آغاز شیعہ مخالف ایجنڈے سے ہوا اور انہوں نے اپنی طویل فہرست کے مطابق چُن چُن کر شیعہ اور زائرین کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ یہی نہیں، اکثر اوقات انہوں نے اندھا دھند حملے بھی کیے، جن میں بچے اور خواتین بھی براہ راست نشانہ بنیں۔[3] بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی موجود ہے اور اس نے مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں سے رابطے استوار کر لیے ہیں۔ وہاں قبائلی علاقوں میں بھی لشکرِ جھنگوی ہے، جو طویل عرصے تک پہلے القائدہ کے ساتھ کھڑی تھی، اب تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔

وہاں پنجاب میں لشکرِ جھنگوی موجود ہے، جو پنجابی طالبان کے زیرِ سایہ، خود کو بدستور پروان چڑھاتے ہوئے اپنا دائرہ وسیع کرتی چلی جا رہی ہے۔ لشکرِ جھنگوی عسکریت اور شدت پسندی کے مختلف چہروں اور جہتوں کا صرف ایک رخ ہے۔[3] ملک اسحاق پر ایک مقدمہ جسے صوبائی حکومت نے ملٹری کورٹ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے کہ انہوں نے 3 مارچ 2009ء کو قذافی سٹیڈیم کے قریب سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملہ کی منصوبہ بندی کی تھی۔[4] ادھر امریکی حکام نے پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے بانی امیر ملک محمد اسحاق کو ’خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔ محکمۂ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک اسحاق نے ایسی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اپنے کردار کو تسلیم کیا ہے جن کے نتیجے میں 100 سے زیادہ پاکستانیوں کی جانیں گئیں۔ ملک اسحاق پر سو سے زیادہ شیعہ اور دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کے مقدمات قائم ہیں اور وہ تقریباً پندرہ سال جیل کاٹ چکے ہیں۔[5] بی بی سی کی ایک رپورٹ میں حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے جس کا مقصد تنظیم کے ارکان کی پھانسیاں رکوانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ کی طرف سے صوبوں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اس کالعدم تنظیم نے کارروائیوں کے لیے القاعدہ سے بھی مدد مانگی تھی اور وہاں سے انکار پر اس نے تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق لشکرِ جھنگوی نے جیلوں میں قید اپنے شدت پسندوں کی رہائی کے لیے عام لوگوں کو یرغمال بھی بنا سکتی ہے۔ کریک ڈاؤن کے بعد تنظیم کے ارکان نے القاعدہ سے مدد مانگی تاہم القاعدہ کے ذمہ داران نے عراق اور شام میں مصروفیت کی وجہ سے لشکرِ جھنگوی کی مدد کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔ القاعدہ کے انکار کے بعد تنظیم نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ سے رابطہ کیا جنھوں نے نہ صرف لشکر جھنگوی کو مالی معاونت فراہم کی بلکہ اُنہیں مزید معاونت فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔[6] پھانسی پر پابندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 22 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے جن میں لشکرِ جھنگوی سے تعلق رکھنے والے متعدد شدت پسند بھی شامل ہیں۔[6] 3 فروری 2015ء کو بھی کراچی میں لشکرِ جھنگوی کے دو ارکان کی پھانسی کے بعد دو نجی سکولوں کے قریب کریکر دھماکوں کے بعد پولیس کو جائے وقوع سے ایسے پمفلٹ بھی ملے تھے جن میں متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’ہمارے لوگوں کو پھانسی دینے اور جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ بند کرو ورنہ یہ واقعہ بھرے سکول میں بھی پیش آ سکتا ہے۔‘[6]

حوالہ جات[ترمیم]