سپاہ صحابہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعت سپاہ صحابہکا نام پہلے انجمن سپاہ صحابہ تھا۔ یہ جماعت1944ءمیں امرتسر میں قائم ہونے والی "تنظیم اہلسنت" نامی شیعہ مخالف جماعت کا تسلسل ہے جو 1984ء میں دیوبندی عالم مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے ساتھ عملی طور پر ختم ہو گئی تھی۔ مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے بعد پاکستان میں شیعیت کے خلاف یلغار کے لیے سپاہ صحابہ کے نئے نام سے اس جماعت کی تنظیم نو 1985ء میں پاکستانی پنجاب کے شہر جھنگ میں دیوبندی عالم مولاناحق نواز جھنگوی نے کی۔ اس تنطیم نو کے بعد سے اب تک ہزاروں شیعہ شہری قتل ہو چکے ہیں۔ مولانا حق نواز جھنگوی کو 1990ء میں شیخ اقبال کے لیے سیاسی خطرہ بننے کے باعث قتل کر دیا گیا۔ حق نواز جھنگوی کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی اس جماعت کے سربراہ بنے، جنہیں 1991ء میں قتل کر دیا گیا۔ اس کے بدلے میں سپاہ صحابہ نے شیخ اقبال کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد ضیاء الرحمن فاروقی نے سپاہ صحابہ کی قیادت سنبھالی لی اور لشکر جھنگویکے نام سے ایک اور تنظیم کی بنیاد رکھی۔ مولانا ضیاءالرحمان فاروقی 18 جنوری 1997ء کو سپاہ محمد پاکستان کے بم حملے کا شکار ہوئے۔ اس کے بعد اعظم طارق اس جماعت کے سربراہ بنے، جو 2003ء میں اسلام آباد میں کمانڈوز کے آپریشن میں قتل کر دیے گئے۔ جب جنرل پرویز مشرف نے جنوری 2002ء میں سپاہ صحابہ پاکستان پر بابندی عائد کی اس جماعت کا نام بدل کر ملت اسلامیہ پاکستان رکھ دیا گیا۔ سپاہ صحابہ جماعت کے اب تک کم وبیش ایک ہزار کارکن مارے جاچکے ہیں جن میں سے اکثر مبینہ پولیس مقابلوں میں قتل ہوئے[1]۔


تاریخی پس منظر

وادئ سندھ میں شیعہ مخالف سوچ قیام پاکستان سے پہلے ہی موجود تھی - وادئ سندھ میں قیام پاکستان سے پہلے مسلمان عوام کو صرف ایک قسم کی مذہبی ثقافت میں ڈھالنے کی کوشش سب سے پہلے سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی نے کی[2]۔ 1818ء سے 1821ء کے دوران سید احمد بریلوی نے شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کے عقائد کی تبدیلی کی مہم چلائی، وہاں زیادہ کامیابی نہ ملی تو 1826ء میں وہ پختون علاقوں میں سخت گیر مذہبی حکومت بنانے پہنچ گئے۔ان دو حضرات کا کردار اس خطے کی مذہبی تاریخ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کا اثر آج بھی بھارت کے صوبوں اترپردیش،اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پختون اور مہاجر اکثریت والے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں پائی جانے والی محرومیوں کو سکھوں کے خلاف استعمال کر نے کے لیے سید احمد بریلوی اورشاہ اسماعیل دہلوی کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں لشکر سازی کی مکمل آزادی دی[3] ۔ 1831 ء میں سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کی طالبانی  حکومت سے اکتائے ہوئے مسلمانوں اور سکھوں کے اشتراک عمل کے نتیجے میں بالاکوٹ کے مقام پر ان کے قتل[4] کے بعد ان حضرات کی تحریک کا دوبارہ ظہور 30 مئی 1867ء میں دار العلوم دیوبند کے قیام کی شکل میں ہوا۔ بانی دار العلوم دیوبند مولانا رشیداحمد  گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ :۔

"محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے"[5]۔

دیوبند مکتب کی اس سوچ کاپہلا نتیجہ افغانستان کے شاہ امیر عبد الرحمن کی طرف سے 1891ء سے 1893ء تک کی جانے والی شیعہ ہزارہ قبائل کی نسل کشی اور انکی جائداد کی پشتونوں میں تقسیم اورانکو غلام اورلونڈیاں بناکر فروخت کرنے کا عمل تھا جس  کے نتیجے میں افغانستان کے شیعوں کی آبادی میں 60فیصد تک کمی آ گئی [6]۔ امیر عبد الرحمن خان نے اپنی  حکومت کا نظام چلانے کے لیے ہندوستان سے دیوبندی علما منگوائے تھے جنہوں نے شیعوں کے کافر ہونے اور ان کی جان و مال کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا۔  یہ جدید انسانی تاریخ کی پہلی نسل کشی تھی جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ انسان لقمۂ اجل بنے۔ اسی دوران میں کچھ ہزارہ خاندان ہجرت کر کے   کوئٹہ میں آ گئے جو انگریزوں کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے ان کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوا۔  کرم ایجنسی کے شیعہ قبائل  افغان شاہ کی ایسی فرقہ وارانہ کاروائیوں کے خوف سے ہندوستان کی انگریز حکومت سے ملحق ہو گئے اور یوں فاٹا کا بندوبست عمل میں آیا۔ ہندوستان میں انگریزوں کے قانون کی مساوات  اور بہتر انتظامی  اقدامات کی بدولت  اس سوچ کو قتل عام کا دائرہ وادی سندھ تک پھیلانے کا موقع نہ مل سکا۔ کرم ایجنسی کے بعد باقی قبائل نے بھی انگریز حکومت کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ اس تاریخی عمل جس کاآغاز شیعہ دشمنی سے ہوا، نے مستقبل میں بننے والے ملک پاکستان کی شمال مغربی سرحد کو متعین کیا۔ اس تاریخ کا ہی نتیجہ ہے کہ ریاض بسرا سے لیکر ملک اسحاق اور داود بادینی تک جیسے تربیت یافتہ جہادیوں کو قندھار کے دیوبندی علاقوں میں پناہ ملتی رہی ہے۔

1906ء میں لکھنؤ کے عزاداری کے جلوسوں  مقابلے میں دیوبندی علما  کی طرف سے مدح صحابہ کے نام سے جلوس نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا[7]۔ ان جلوسوں میں کربلا کے واقعے پر گفتگو  اور نعرے بازی ہوا کرتی جس میں بنی امیہ کی وکالت کی جاتی۔ عاشورا کے دن یہ سب کرنے سے شیعوں میں اشتعال پھیل گیا۔ انگریزحکومت نے فرقہ وارانہ فساد  کے خطرے کے پیش نظر ان  جلوسوں پر پابندی لگا دی۔ لکھنؤ  کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ شہر اس وقت ہندوستان میں شیعوں کا ثقافتی مرکز تھا۔ لکھنؤ میں اس اشتعال کے بعد فرقہ وارانہ لٹریچر چھپنے لگا، جو لکھنؤ تک محدود نہ رہا بلکہ وادی سندھ میں بھی آیا۔ 1920ء میں دیوبندی عالم مرزا حیرت دہلوی نے "کتاب شہادت" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں حضرت علی و حسنین پرشدید تنقید کی گئی تھی[8]۔ لکھنؤ شہر میں تو انگریز حکومت کے حسن انتظام اور قانون کے مساوی نفاذ نے قتل و غارت تک نوبت نہیں آنے دی، لیکن پنجاب اور پختون خواہ کے بعض علاقوں میں محرم کے جلوسوں پر حملے ہوئے۔ 1931ء میں دیوبندی عالم مولانا عبد الشکور لکھنؤی نے لکھنؤ میں ایک دیوبندی مدرسہ قائم کیا اور دوبارہ مدح صحابہ کے سلسلے کا آغاز کر دیا۔ اس اشتعال انگیزی کا نتیجہ اس وقت سامنے آیا جب 1938ء میں اس جلوس کے رد عمل کے طور پر لکھنؤ کے شیعہ حضرات نے بنی امیہ پر تبرے کے جلوس نکالنے شروع کر دیے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی آزادی کے تاریخی لمحات قریب آ چکے تھے اور یہاں مسلمان آپس میں لڑپڑے تھے۔ اکتوبر 1939ءکومولانا ابو الکلام آزاد کلکتہ سے لکھنؤ تشریف لائے اور سات دن تک مختلف شیعہ سنی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں[9]۔ اس کوشش  کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیعہ حضرات نے تبرے کے جلوس نکالنا بند کر دیے البتہ مولانا عبد الشکور لکھنؤی  پھر بھی فرقہ وارانہ اشتعال سے باز نہیں آ ئے اور نتیجتا حکومت کو اس سلسلے پر پابندی لگانا پڑی۔ مولانا عبد الشکور  1942ءمیں سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو  گئے[10]۔

جنگ عظیم دوم  کی وجہ سے کمزور ہونے والے انگریزوں کے ہندوستان سے جانے  اور   مسلم لیگ کی تحریک کے نتیجے میں  ہندوستان کے شمال مغرب  میں ایک مسلمان ریاست کے ممکنہ قیام کی آہٹ پا کر دیوبندی علما میں سے اکثر نے قیام پاکستان کی مخالفت کی البتہ کچھ دیگر سخت گیر علما نے قیام پاکستان کو ناگزیر سمجھتے ہوئے وادی سندھ  کی طرف ہجرت  شروع کی اور دوبارہ سے   سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی  یک ثقافتی  ریاست کے قیام کی کوششیں شروع کر دیں۔1944ء میں لاہور کے نواحی قصبے امرتسر میں تنظیم اہل سنت  کے نام سے ایک شیعہ مخالف دیوبندی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ دیوبندی علما مولانا نور الحسن بخاری، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبد الستارتونسوی دیوبندی وغیرہ نے پاکستان بھر میں شیعہ مخالف جلسے کیے اور لوگوں کو فسادات کے لیے اکسایا[11][9]۔ لہٰذا قیام پاکستان سے بعد  ہی شیعوں پر حملے شروع ہو گئے۔ 26اکتوبر 1946ءکو مولانا شبیر احمد عثمانی نے جمعیت علمائے اسلام قائم کی جو مسلم لیگ کے متوازی سیاسی جماعت تھی،کیونکہ دیوبندی علما محمد علی جناح کے جدید نظریات پر مبنی تصورپاکستان کو غلط سمجھتے تھے[12]۔ جب قائد اعظم نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں ریاست کی نظر میں سب شہریوں کوبلا تفریق مذہب مساوی قرار دیا تو 1 ستمبر 1947ء کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے اخبارات میں ایک بیان جاری کیا جس کا ایک ایک لفظ قائد اعظم کی اس تقریر کی مخالفت پر مبنی تھا[13]، یوں جدت اور پسماندگی کے درمیان ایک سرد جنگ شروع ہو گئی۔ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی دیوبندی علما نے شیعوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو حرام قرار دے رکھا تھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی بھی شیعوں کے لیے یہی سوچ رکھتے تھے[10]۔ لہٰذا قائد اعظم کی پہلی نماز جنازہ گورنر ہاؤس میں ان کے اپنے مسلک کے مطابق پڑھی گئی [14]مگر جب عوام میں نماز جنازہ پڑھانے کی باری آئ تو حکومت نے فرقہ وارانہ ہرج مرج سے بچنے کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی کو طلب کیا[15]۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی تو انہوں نے اپنے فتووں سے رجوع کرنے کی بجائے ایک خواب سنا کر سوال کو ٹال دیا[16]۔

پاکستان میں شیعہ مخالف مہم کاآغاز

1948ء میں روزنامہ احسان نے اپنے اداریے میں شیعوں کے عقائد اور ثقافت پر تنقید کی اور ان  کو تلقین کی کہ انگریز دور کو بھول کر نئے ملک میں مسلمانوں کی طرح رہنا سیکھیں۔  اس اخبار کو سرکاری اداروں میں بھی منگوایا جاتا تھا، چنانچہ اس اداریے کے خلاف شیعوں  نے ملک گیر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں حکومت نے نفرت پھیلانے کے جرم میں اخبار پر تین ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا[9]۔ 1949ء میں چوٹی زیریں اور 1950ء میں نارووال میں عزاداری پر حملے ہوئے۔ 1951ء میں پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں شیعہ امیدواروں کے خلاف فرقہ وارانہ بنیادوں پر مہم چلائی گئی اور انھیں کافر قرار دیا گیا[9]۔ ستم ظریفی  یہ  کہ 24جنوری 1951ء میں کراچی میں سب مکاتب فکر بشمول شیعہ کے علما نے پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے لیے 22 نکات ترتیب دیے[17]، جبکہ عملی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے تھے۔ 1953ء میں قادیانیوں  کے خلاف چلنے والی مہم میں شیعہ رہنما بھی شامل ہوئے۔  دو سالوں کے لیے دیوبندی علما کی توجہ ختم نبوت کے معاملے پر مرکوز رہنے کی وجہ سے شیعوں  پر کوئی حملہ نہ ہوا۔ شیعہ مخالف حملوں کا دوبارہ آغاز 1955ء میں ہوا جب پنجاب میں پچیس مقامات پر عزاداری کے جلوسوں اور امام بارگاہوں  پر حملے کیے گئے جن میں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔  اسی سال کراچی میں ایک مولانا صاحب نے افواہ اڑائ کہ شیعہ ہر سال ایک سنی بچہ ذبح کر کے نیاز پکاتے ہیں، اس افواہ کے زیر اثر کراچی میں ایک بلتی امامبارگاہ پر حملہ ہوا اور بارہ افراد شدید زخمی ہو گئے[9]۔

قیام پاکستان کے بعد شیعہ مخالف تشدد

پاکستان میں شیعہ کشی کی پہلی واردات 1950 ء میں وادئ کرم پر دیوبندی قبائل کے حملے کی صورت میں ہوئی، جو 1948ء میں جہاد کشمیر کے نام پر اسلحہ اور مال غنیمت سمیٹ کر طاقتور ہو گئے تھے۔ 1956ء میں وادئ کرم دوبارہ حملوں کا نشانہ بنی۔ پنجاب میں شیعہ کشی کی پہلی واردات 1957ء میں ملتان کے ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں سیت پور میں ہوئی جہاں جلوس پر حملہ کر کے تین عزاداروں کو قتل کر دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے عدالتی کمیشن قائم کیا گیا اور اس واردات میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئی۔ اسی سال احمد پور شرقی میں عزاداری کے جلوس پر پتھراؤ کے نتیجے میں ایک شخص جان بحق اور تین شدید زخمی ہوئے۔ جون 1958ء میں بھکر میں  ایک شیعہ خطیب آغا محسن کو  قتل کر دیا گیا۔ قاتل نے اعترافی بیان میں  کہا کہ مولانا نور الحسن بخاری کی تقریر  نے اس کو اس جرم پر اکسایا تھا جس میں شیعوں کو قتل کرنے  والے کو غازی علم دین شہید سے نسبت دی گئی تھی اور جنت کی بشارت دی گئی تھی[9]۔ مولانا نور الحسن بخاری کوکوئی سزا نہ ملی۔ جوں جوں پاکستان میں نفاذ  اسلام کی تحریک زور پکڑتی گئی، معاشرے کو دیوبندی قسم کے مذہبی سانچے میں ڈھالنے کے عمل میں اضافہ ہوتا گیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ شیعہ علما بھی نفاذ اسلام کی تحریکوں کا ساتھ دیتے رہے۔

پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں 1963ء کا سال سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا۔ اسی سال جنرل ایوب نے علما کے احتجاج کے دباؤ میں آ کر پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا۔ 3 جون 1963ء کو بھاٹی دروازہ لاہور میں عزاداری کے جلوس پر  پتھروں اور چاقوؤں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو شیعہ قتل اور سو کے قریب زخمی ہوئے[18]۔ نارووال، چنیوٹ اور کوئٹہ میں بھی عزاداروں پر حملے ہوئے ۔  اس سال دہشت گردی کی بدترین واردات سندھ کے ضلعے خیر پور کے گاؤں ٹھیری میں پیش آئ جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 120 عزاداروں کو کلہاڑیوں اور تلواروں کی مدد سے ذبح کیا گیا[18][19]۔  متعدد زخمیوں نے خود کو مردہ ظاہر کر کے جان بچائی۔ یہ  لوگ   ایک چھوٹے سے امام بارگاہ میں یوم عاشور  کی مناسبت سے ماتم اور گریہ و زاری کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جھنگ، کراچی، لاہور، چکوال، ڈیرہ غازی خان، ملتان، شیخوپورہ، پاراچنار اور گلگت میں عزاداروں پر حملے ہوئے۔ بات صرف قتل و غارت تک محدود  نہیں تھی، فرقہ وارانہ لٹریچر کا تنور بھی دہک رہا تھا جس میں اکثر شیعوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔دیوبندی علما مرزا حیرت دہلوی  اور مولانا  عبد الشکور لکھنؤی  کی کتابیں کم تھیں کہ  مولانا محمود احمد عباسی[20] اور مولانا ابو یزید بٹ[21] کی کتابوں نے اشتعال انگیزی کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔  بعد میں علامہ احسان الہی ظہیر نے جلتی پر مزید تیل چھڑکا[22] ان لوگوں کی گندی زبان کا رد عمل  قیام پاکستان کے تقریباً چالیس سال بعد  اس صورت میں آیا جب پنجاب کے ایک دیہاتی شیعہ مولوی غلام حسین نجفی نے بعض صحابہ کرام (رض) کے بارے میں بھی ایسی ہی زبان استعمال کی[23][24]۔

قیام پاکستان سے ہی یہ تاثر عام تھا کہ دیوبندی علما قادیانیوں کے بعد شیعوں کے خلاف مہم چلائیں گے۔1965ء سے 1977ءتک کے سالوں میں شیعہ کشی کی مہم دیوبندی علما کے پیپلز پارٹی کے سوشلزم، بنگلہ دیش کی تحریک آزادی اور بعد میں ختم نبوت کی تحریک جیسے مسائل میں الجھ جانے کی وجہ سے ماند پڑ گئی۔  1974ء میں جب قومی اسمبلی میں قادیانی مسلہ زیر بحث آیا تو مرزا ناصر صاحب کی طرف سے شیعہ عقائد پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ شیعہ ایم این اے سید عبّاس حسین گردیزی نے اپنے مکتب فکر کے علما سے رابطہ کر کے 2 ستمبر 1974ء کو دس صفحات پر مشتمل وضاحتی بیان داخل کرایا۔

افغانستان میں عدم استحکام اور ایران میں انقلاب

افغانستان نے 1973ء میں پشتونستان کے نام پر پاکستان  کے پختونون کو استعمال کر کے ملک توڑنے کی سازش بنائی  جس کے جواب میں پاکستان نے افغان حکومت کے مخالف اخوان کو مدد دینا شروع کی تھی۔ اس طرح "افغان  مجاہدین"  کے ساتھ پاکستانی حکومت کے تعلقات 1974 ء میں ہی استوار ہو گئے۔ پاکستان کے پختونوں نے انگریزوں کے دور میں ہی وادئ سندھ کو سنگلاخ افغانستان پر ترجیح دی تھی اور پنجاب ،سندھ اور بلوچستان  کے ساتھ اپنے معاشی اور تاریخی تعلق کی وجہ سے ہی قیام پاکستان کے بعد ہونے والے ریفرنڈم میں پاکستان سے الحاق کیا تھا۔اسی گہرے تعلق کی بدولت پاکستان کے پختون عوام میں افغانستان  کی حمایت سے چلنے والی اس تحریک کو خاطر خواہ حمایت نہ مل سکی ۔جمعہ خان صوفی نے اپنی کتاب "فریب ناتمام" میں ان سب واقعات  اور افغانستان کی پسماندگی کی تفصیل لکھی ہے۔اسی دوران ایران میں مذہبی انقلاب کی تحریک آیت الله خمینی کی قیادت میں چل رہی تھی - پاکستان کے شیعہ علماءکی اکثریت اس تحریک کے خلاف تھی اورآیت الله شریعت مدارنامی شاہ نواز مرجع تقلید کی حامی تھی - پاکستان میں شیعہ عوام یا تو نجف میں مقیم عراقی مرجع آیت الله محسن الحکیم کے پیرو تھے یاقم کے آیت الله کاظم شریعت مدار[25] کی تقلید کرتے تھے - پاکستان میں سب سے پہلے جس نے ایران میں مذہبی انقلاب کی تحریک کی حمایت کی وہ مولانا مودودی تھے[26] جونومبر 1963ء میں حج کے سفر کے دوران آیت الله خمینی سے ملاقات کر چکے تھے[27] - آیت الله خمینی انکی کتاب " اسلامی ریاست " سے متاثر تھے۔ پاکستان کے روایتی شیعہ علما آیت الله خمینی کی طرف سے فلسفے اور تصوف کی تعلیم اور شاہ ایران کی مخالفت کی وجہ سے ان کو گمراہ سمجھتے تھے[28]۔ البتہ لاہور کے مولانا مرتضیٰ حسین صدر الافاضل نے انکی توضیح المسائل کا ترجمہ کر کے عوام میں انکی تقلید کو رواج دینے کی محدود کوشش کی۔

پاکستان میں شیعہ کشی کے واقعات میں شدت اس وقت آئ جب27 اپریل 1978ء کو افغانستان میں انقلاب ثور آیا اور اس سے اگلے سال  کمیونسٹ حکومت نے روس کو مداخلت کی دعوت دی۔ اس اقدام کے نتیجے میں افغانستان غیر مستحکم ہو گیا۔ جب کوئی ریاست ٹوٹتی ہے تو وہ ڈاکووں اور دہشت گردوں کے لیے جنت بن جاتی ہے۔ پختون قبائل میں پہلے ہی امیر عبد الرحمن خان کے زمانے سے شیعہ اور بریلوی مخالف جذبات پائے جاتے تھے۔  اگلے سال فروری 1979ء میں ایران میں انقلاب آیا جس نے شیعہ مسلک کو ایک مسلمان مسلک کے طور پر متعارف کرایا۔ ایران کی مذہبی قیادت نےانقلاب کی کامیابی کے بعد سب سے پہلے ایران سے باہر جس شخصیت سے رابطہ کیا وہ جماعت اسلامی کے علیل رہنما مولانا مودودی تھے [29]۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد پاکستان کا انقلابی حکومت کو سب سے پہلے تسلیم کرنا بھی مولانا مودودی کی کوشش سےممکن ہوا- پاکستانی شیعوں میں آیت الله خمینی کی باقاعدہ حمایت سن 1985ء میں علامہ عارف حسین الحسینی کے منظر عام پر آنے سے پیدا ہوئی جو مذہبی نظام حکومت پر یقین رکھتے تھے اور جماعت اسلامی اور جمیعت علما اسلام کی قیادت کے کافی قریب تھے۔ پاکستان میں جماعت اسلامی کی طرف سے کھلے عام آیت الله خمینی کی حمایت نے بعض دیوبندی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کی جوشاہ کے زمانے میں "الحق" جیسے مجلات میں ایران کی مذہب سے دوری کو شیعہ مسلک کی بے راہ روی قرار دیا کرتے تھے۔ افغانستان میں جاری جنگ کے ضمن میں جنگی تربیت، مالی وسائل اور پناہ گاہیں ملنے کے نتیجے میں پاکستان میں شیعہ ثقافت کو ختم کرنے کی سوچ رکھنے والی  تنظیم اہل سنت اب سپاہ صحابہ کی شکل میں زیادہ متحرک ہو گئی۔ گزشتہ سو سال میں اردو زبان میں لکھا گیا نفرت انگیز لٹریچر کافی مقدار میں پھیل چکا تھا۔ تحریر و تقریر کے ذریعے شیعہ مسلک کو کافر قرار دینے کی مہم اب جہاد افغانستان کے ضمن میں ملنے والے فنڈز کی بدولت زیادہ تیز ہو گئی اور اس کے ساتھ ساتھ شیعہ کشی بھی بڑھنے لگی۔ پاکستان کے کونے کونے میں دیوبندی مدارس کھلنے لگے۔ ایک اندازے کے مطابق  آج کل ان مدارس میں طلبہ کی تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی زمانے میں پاکستان کے در و دیوار پر کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے درج ہو گئے۔

ضیاء دور میں شیعہ کشی کے واقعات

جب جولائی 1977ء میں جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تو اگلے محرم، فروری 1978ء میں لاہور میں 8 جبکہ کراچی میں 14 شیعہ قتل ہوئے[30]۔ کوئٹہ، کراچی، پاراچنار اور گلگت  میں شیعوں پر بڑے    حملے ہوئے۔1981 ء  میں کرم ایجنسی کے سارے  دیوبندی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر  پاراچنار کے راستے پر موجود قصبہ "صدہ "میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا  اور شیعوں کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز وں کے زمانے  میں تشکیل دی گئی  کرم ملیشیا وادئ کرم میں موجودتھی  لہذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک پھیلنے  نہ دی گئی۔1983 ء   میں کراچی میں شیعہ آبادیوں پر حملے ہوئے جن میں ساٹھ افراد قتل کر دیے گئے۔5 جولائی 1985ء کو کوئٹہ میں دیوبندیوں نے اپنے دو پولیس والے سہولت کاروں کے ہمراہ پولیس کی وردیاں پہن کر  شیعوں کے احتجاجی جلوس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 25 شیعہ قتل ہو ئے۔ البتہ چونکہ یہ دو بدو مقابلے کی کوشش تھی، لہذا  11 دیوبندی جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ہلاک شدگان میں سے دو کی شناخت پولیس اہلکاروں کے طور پر ہوئی ، باقی 9 جعلی وردیاں پہن کر آ ئے تھے۔ 24 جولائی 1987 ء کوپاراچنار میں شیعہ آبادیوں پر افغان مجاہدین کا حملہ شیعوں کی بھرپور تیاری کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔ اسی کی دہائی میں پاکستان بھر میں سات سو کے لگ بھگ شیعہ قتل ہوئے، جن میں سے 400کے قریب لوگ 1988ء میں گلگت کی غیر مسلح شیعہ آبادیوں پر حملے کے نتیجے میں قتل ہوئے[31]۔

نوے کی دہائی میں شیعہ کشی اورسپاہ محمد کا قیام

نوے کی دہائی میں سپاہ صحابہ نے شیعوں پر کئی خونریز حملے کیے[32]۔ ادھر افغانستان میں روس کے جانے کے بعد  مجاہدین کے گروہ اقتدار کی خاطر آپس میں لڑتے رہے یہاں تک کہ پاکستانی حمایت یافتہ تحریک طالبان افغانستان نے  مجاہدین کے باقی گروہوں کو ملک کے   شمالی علاقوں تک محدود کر دیا۔ افغان طالبان نے پاکستان  میں دیوبندی انقلاب لانے کی غرض سے دیوبندی تنظیموں کے کارکنان  کو فراخدلی سے پناہ اور ٹریننگ  فراہم کی۔ پاکستان میں شیعہ قتل کر کے یہ لوگ افغانستان بھاگ جاتے۔ ملک کے کئی  نامور ڈاکٹر، انجنیئر اور قانون دان محض شیعہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیے گئے۔ انکی عورتیں بیوہ، والدین بے سہارا اور بچے یتیم ہو گئے۔ افغانستان اور کشمیر میں  جہاد کی بدولت سپاہ صحابہ (تنظیم اہل سنت کا نیا نام) کے ہاتھوں میں پتھروں اور چاقوؤں کی جگہ دستی بم اور کلاشنکوف آ گئے تھے۔ اسی کی دہائی میں  مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے بعد شیعہ کشی کی سرپرستی کا بیڑا اٹھانے  والے مولانا حق نواز جھنگوی اور ان کے پیشرو مولانا ایثار القاسمی کو جھنگ میں سیاسی خطرہ بننے کے باعث شیخ اقبال ایم این اے نے قتل کرا دیا، جو خود بعد میں سپاہ صحابہ کی انتقامی کارروائی میں قتل ہو گئے[33]۔ 1993ء میں لاہور میں سپاہ محمد کے نام سے ایک شیعہ دہشت گرد تنظیم کا قیام ہوا جس نے سپاہ صحابہ کے حملوں کے جواب میں دیوبندی حضرات پر حملے کرنا شروع کیے۔ چنانچہ اگر کسی شیعہ مسجد پر حملہ ہوتا تو کچھ ہی دنوں میں کسی دیوبندی مسجد میں بے گناہ لوگ قتل کیے جاتے۔ حکومت نے صورت حال خطرناک ہوتے دیکھ کر دونوں تنظیموں کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہا تو مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے سپاہ صحابہ کے عسکری حصے کو لشکر جھنگوی کا نام دے کر لا تعلقی کا اعلان کر دیا، اگرچہ لشکر جھنگوی کے کارکنوں کی گرفتاری کی صورت میں سپاہ صحابہ ہی قانونی اور مالی امداد مہیا کرتی۔ لشکر جھنگوی کے بانی مولانا ضیاء الرحمن فاروقی جنوری 1997 میں سپاہ محمد کی طرف سے کیے گئے ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے[34]۔ اس دھماکے میں متعدد بے گناہ لوگ بھی مارے گئے۔ ادھر لاہور پولیس نے آپریشن کر کے سپاہ محمد کا خاتمہ کر دیا۔ نوے کی دہائی میں ہی کراچی میں  سپاہ صحابہ اور جماعت اسلامی کی طرف سے بریلوی مساجد پر قبضے کے خلاف سنی تحریک کے نام سے ایک اور مزاحمتی گروہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ چنانچہ تکفیری علما نے اب بریلویوں پر قاتلانہ حملے کرنے کا آغاز کر دیا۔ بریلویوں پر پہلا نمایاں حملہ 2001ء میں ہوا جب سنی تحریک کے بانی  جناب  سلیم قادری کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔

نائن الیون اور خودکش حملوں کا دور

نوے  کی دہائی کے آخر میں افغان طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا جس کی تنظیم نے 1998ء میں مشرقی افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر بم سے حملے کیے تھے اور ایک امریکی  بحری جہاز کو ڈبونے کی کوشش کی تھی[35]۔اسامہ بن لادن دراصل اپنے ملک سعودی عرب میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف تھا مگر اپنے ملک میں سیاسی تحریک چلانے  کے بجا ئے اس قسم  کی  کاروائیوں  میں ملوث ہو گیا تھا۔کراچی میں مقیم ایک بڑے نام والے دیوبندی عالم مفتی نظام الدین شامزئی پاکستان میں سعودی عرب میں امریکی موجودگی کے خلاف پورے اخلاص کے ساتھ سرگرم تھے [36]۔11 ستمبر  2001 ء کو القاعدہ نے کچھ مسافر بردار طیارے اغوا کر کے امریکا کے شہر نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی  میں عمارتوں سے ٹکرا دیے۔7 اکتوبر 2001ءکو امریکا نے افغان طالبان پر حملہ کر دیا۔  پاکستان کی حکومت نے القاعدہ کی جنگ اپنے سر لینے کے بجا ئے  امریکا کو راستہ دینے کا فیصلہ کیا۔ مفتی نظام الدین شامزئی  نے  پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح جہاد کا فتویٰ جاری کیا[37]۔ مفتی شامزئی دیوبندی مسلمانوں میں بہت بڑا مقام رکھتے تھے اور ان کے فتوے کو پاکستان بھر میں خصوصا قبائلی علاقہ جات میں جہاں حکومتی رٹ کمزور تھی، بہت پزیرائی ملی۔ افغان طالبان چند دنوں میں امریکا کے  ہاتھوں شکست کھا گئے اور بہت سے طالبان اور القاعدہ کے جنگجو پاکستانی  علاقوں میں آ گئے۔ اس طرح ریاست اور طالبان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ ادھر سن 2002ء کے الیکشن میں خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت اور کراچی کی شہری حکومت متحدہ مجلس عملکے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ ان حکومتوں نے سرکاری نوکریاں ایسے مذہبی مہم جو افراد کو دیں جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں  طالبان کے سہولت کار بنے۔ اس جنگ کے ماحول میں شیعہ مخالف تنظیموں نے شیعہ کشی میں خودکش دھماکے کا استعمال شروع کیا جس کے نتیجے میں اعداد و شمار کے مطابق سن 2000ء سے 2017ء  تک تقریباً تین ہزار شیعہ قتل ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی اور معذور ہو کر زندہ لاش بن چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ کوئٹہ ،کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے شیعہ ہیں[38][32]۔

حوالہ جات

  1. https://www.theguardian.com/world/2016/sep/26/pakistan-police-accused-of-illegally-killing-hundreds-of-suspects-a-year
  2. ڈاکٹر مبارک علی، "المیہ تاریخ، حصہ اول، باب 11جہاد تحریک" تاریخ پبلیکیشنز لاہور 2012
  3. شاہ اسماعیل دہلوی کے الفاظ میں: "انگریزوں سے  جہاد کرنا کسی طرح واجب نہیں ایک تو ان کی رعیت ہیں دوسرے ہمارے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست اندازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح کی آزادی ہے بلکہ ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں"۔ مرزا حیرت دہلوی ،"حیات طیبہ"‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 260
  4. مقالات سرسید حصہ نہم 145-146
  5. فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی
  6. https://www.aljazeera.com/indepth/features/2016/06/afghanistan-hazaras-160623093601127.html
  7. https://www.tandfonline.com/doi/abs/10.1080/14736480701493088
  8. مرزا حیرت دہلوی، "کتاب شہادت"، کرزن پریس دہلی، (1920)۔
  9. ^ 9.0 9.1 9.2 9.3 9.4 9.5 Andreas Rieck, "The Shias of Pakistan: An Assertive and Beleaguered Minority"، Oxford University Press, (2015)۔
  10. ^ 10.0 10.1 http://www.farooqia.com/ur/lib/1434/11/p40.php
  11. http://zahidrashdi.org/1614
  12. "قائد اعظم لکھنؤ تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لیے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور عیسائی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں؟ جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا۔ اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گذرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کے لیے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے"۔ عبید الرحمن، ’یاد ہے سب ذرا ذرا ‘، صفحہ 49، طبع کراچی
  13. "میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قائد اعظم کی یہ فتح مبین (قیام پاکستان) مسلمانوں کے ضبط و نظم کی مرہوں احسان ہے۔ مسلمانوں کی افتاد طبع مذہبی واقع ہوئی ہے اور دو قوموں کے نظریے کی بنیاد بھی مذہب ہے۔ اگر علمائے دین اس میں نہ آتے اور تحریک کو مذہبی رنگ نہ دیتے تو قائد اعظم یا کوئی اور لیڈر خواہ وہ کیسی قابلیت و تدبر کا مالک ہی کیوں نہ ہوتا یا سیاسی جماعت مسلم لیگ مسلمانوں کے خون میں حدت پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ تاہم علمائے دین اور مسلمان لیڈروں کی مشترکہ جہد و سعی سے مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور ایک نصب العین پر متفق ہو گئے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام مساعی پاکستان کے دستور اساسی کی ترتیب پر صرف کریں اور اسلام کے عالمگیر اور فطری اصولوں کو سامنے رکھیں کیونکہ موجودہ مرض کا یہی ایک علاج ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مغربی جمہوریت اپنی تمام برائیوں کے ساتھ چھا جائے گی اور اسلام کی بین الاقوامیت کی جگہ تباہ کن قوم پرستی چھا جائے گی" مولانا شبیر احمد عثمانی، 1 ستمبر 1947ء
  14. آپ کا پہلا جنازہ گورنر ہاؤس میں شیعہ طریقے پر ہوا، آپ کیجائداد بھی محترمہ فاطمہ جناح کو شیعہ طریقے پر منتقل کی گئی، تفصیل اس کتاب میں: Khalid Ahmed, "Sectarian War: Pakistan's Sunni-Shia Violence and its links to the Middle East"، Oxford University Press, 2011.
  15. "فتاویٰ مفتی محمود" میں شیعہ حضرات کا جنازہ نہ پڑھنے کے فتووں ذیل میں قائد اعظم کے شیعہ ہونے کی وجہ سے علامہ شبیر احمد عثمانی کی طرف سے ان کا جنازہ پڑھنے کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ فتاویٰ مفتی محمود، جلد سوم، کتاب الجنائز، صفحہ 67
  16. قائد اعظم کی نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”قائد اعظم کا جب انتقال ہوا تو میں نے رات رسول اکرم ﷺ کی زیارت کی۔ رسول قائد اعظم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا مجاہد ہے۔“
  17. https://juipak.org.pk/22-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AA/
  18. ^ 18.0 18.1 http://sharaabtoon.blogspot.com/2013/06/the-most-unfortunate-incident-theri.html
  19. http://www.shaheedfoundation.org/tragic.asp?Id=13
  20. محمود احمد عباسی، "تحقیق مزید بسلسلہ خلافت معاویہ و یزید"، الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ، کراچی
  21. ابو یزید محمد دین بٹ، "خلافت رشید ابن رشید امیر المومنین سیدنا یزید"، طبع لاہور
  22. احسان الہی ظہیر، "الشیعہ و اہل بیت"
  23. غلام حسین نجفی، "قول سدید در جواب وکلا یزید" https://books.shiatiger.com/2016/03/Qol-e-Sadeed.html
  24. غلام حسین نجفی، "کیا ناصبی مسلمان ہیں" https://books.shiatiger.com/2016/03/Kya-Nasbi-Musalmaan-Hain.html اوپر جائیں↑
  25. http://www.oxfordislamicstudies.com/article/opr/t125/e2170
  26. ترجمان القرآن اکتوبر ۱۹۶۳ء کے شمارہ میں ایک مضمون’’ایران میں دین اور لادینی کشمکش‘‘ شائع ہوا جس کے بعد رسالے پر چھ ماہ کے لیے پابندی لگا دی گئی۔
  27. پروفیسرافتخار احمد،عالمی تحریک اسلامی کے قائدین ( فیصل آبادالمیزان پبلیکیشنز،امین پورہ بازار، ۱۹۸۴)
  28. بطور مثال ملاحظہ ہو کتاب "خمینیت اور شیعیت میں فرق" از علامہ محمد حسین برستی- نیز اس زمانے میں شیعہ ذاکرین اور علما کے درمیان عقائد کی بحث بھی دیکھنے کے لائق ہے-
  29. 20جنوری 1979ء کو آیت الله خمینی کے دو نمائندوں نے مولانا مودودی سے ملاقات کی۔ وہ ان کا خصوصی خط لے کر آئے تھے۔ جناب رفیق ڈوگر (صحافی) نے ملاقات سے پہلے اور ملاقات کی تمام تر تفصیلات اپنی کتاب ’’مولانا مودودی سے ملاقاتیں" میں درج کی ہیں۔ ارشاد احمد حقانی نے بھی مولانا مودودی اور آیت الله خمینی کے روابط کا ذکر کیا ہے۔
  30. http://www.thefridaytimes.com/tft/shiaphobia/
  31. In May 1988, low-intensity political rivalry and sectarian tension ignited into full-scale carnage as thousands of armed tribesmen from outside Gilgit district invaded Gilgit along the Karakoram Highway. Nobody stopped them. They destroyed crops and houses, lynched and burnt people to death in the villages around Gilgit town. The number of dead and injured was in the hundreds. But numbers alone tell nothing of the savagery of the invading hordes and the chilling impact it has left on these peaceful valleyshttps://www.outlookindia.com/website/story/the-aq-khan-proliferation-highway-iii/261824 اوپر جائیں↑
  32. ^ 32.0 32.1 http://www.satp.org/satporgtp/countries/pakistan/database/sect-killing.htm
  33. Hassan Abbas, "Pakistan's Drift Into Extremism: Allah, the Army, and America's War on Terror"، Routledge, (2015)۔
  34. http://edition.cnn.com/WORLD/9701/18/pakistan.explosion/
  35. جان آر شمٹ، "گرِہ کھلتی ہے: جہاد کے دور کا پاکستان" ترجمہ: اعزاز باقر http://mashalbooks.org/product/the-unraveling-pakistan-in-the-age-of-jihad/
  36. http://zahidrashdi.org/1037
  37. مفتی نظام الدین شامزئی  صاحب کا پاکستانی تاریخ کا رخ موڑنے والا فتویٰ حسب ذیل ہے:۔ أ‌.       تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گیا ہے کیونکہ موجودہ صورت حال میں صرف افغانستان کے آس پاس کے مسلمان امارتِ اسلامی افغانستان کا دفاع نہیں کرسکتے ہیں اور یہودیوں اورامریکہ کا اصل ہدف امارتِ اسلامی افغانستان کو ختم کرنا ہے دارالاسلام کی حفاظت اس صورت میں تمام مسلمانوں کا شرعی فرض ہے۔ ب‌.     جو مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو اور کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے سے وابستہ ہو وہ اگر اس صلیبی جنگ میں افغانستان کےمسلمانوں یا امارتِ اسلامی افغانستان کی اسلامی حکو مت کے خلاف استعمال ہوگا وہ مسلمان نہیں رہے گا۔ ت‌.     الله تعالی کے احکام کے خلاف کوئی بھی مسلمان حکمران اگر حکم دیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو اسلامی حکومت ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہے ،تو ماتحت لوگوں کے لیے اس طرح کے غیر شرعی احکام مانناجائز نہیں ہے، بلکہ ان احکام کی خلاف ورزی ضروری ہوگی ۔ ث‌.    اسلامی ممالک کے جتنے حکمران اس صلیبی جنگ میں امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں اور اپنی زمین ،وسائل اور معلومات ان کو فراہم کر رہے ہیں، وہ مسلمانوں پر حکمرانی کے حق سے محروم ہو چکے ہیں، تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ ان حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کر دیں، چاہےاسکے لیے جو بھی طریقہ استعمال کیاجائے ۔ ج‌.      افغانستان کے مسلمان مجاہدین کے ساتھ جانی ومالی اور ہر قسم کی ممکن مدد مسلمانوں پر فرض ہے، لہذا جو مسلمان وہاں جا کر ان کےشانہ بشانہ لڑ سکتے ہیں وہ وہاں جا کر شرکت کر لیں اور جو مسلمان مالی تعاون کرسکتے ہیں وہ مالی تعاون فرمائیں الله تعالی مصیبت کی اس گھڑی میں مسلمانوں کاحامی و ناصر ہو۔ اس فتویٰ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرکے دوسرے مسلمانوں تک پہنچائیں فقط و سلام مفتی نظام الدین شامزئی https://sadaehaqq.wordpress.com/2013/11/14/%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%B2%D8%A6%DB%8C-%D8%B1%D8%AD%D9%85%DB%81-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%D8%AA%D9%88%DB%8C%D9%B0-%D8%AC%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D9%86%D8%A7/
  38. https://www.bbc.com/news/world-asia-22248500