سپاہ محمد پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سپاہ محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم
رہنما سید غلام رضا نقوی (۱۹۹۶ سے اب تک پابند سلاسل)
بانی علامہ مرید عباس یزدانی
نعرہ اردو: تذلیل ہماری ناممکن عربی زبان: هيهات منا الذلة)
تاسیس ۱۹۹۰
صدر دفتر ٹھوکر نیاز بیگ, لاہور, پاکستان
نظریات پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا تحفظ
مذہب اہل تشیع
ایوان زیریں پاکستان
0 / 342
State emblem of Pakistan.svg
حصہ سلسلہ مضامین بہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

سپاہ محمد پاکستان پاکستانی شیعہ مسلمانوں کی ایک مسلح تنظیم اور سابقہ سیاسی جماعت ہے جو 1990ء کی دہائی میں معرض وجود میں آئی۔ یہ تنظیم شیعہ مسلمانوں کی جانب سے کالعدم دہشتگرد جماعت سپاہ صحابہ کے مقابلہ میں بنائی گئی ہے۔ اس تنظیم پر سابقہ صدر پاکستان پرویز مشرف نے یہ کہہ کر پابندی لگائی کہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ جبکہ بھارت کی بھی شیعہ نشین آبادیوں میں اس تنظیم کی موجودگی سمجھی جاتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

سپاہ محمد کا قیام انیس سو ترانوے میں عمل میں آیا جب دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم انجمن سپاہ صحابہ اہل تشیع کو نظریاتی و فکری محاذ پر چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علماء اور مساجد پر حملے کر رہی تھی۔ بظاہر انجمن سپاہ صحابہ کا قیام تحریک نفاظ فقہ جعفریہ کے جواب میں تھا لیکن جلد ہی اعتدال پسند شیعہ رہنماؤں سے بغاوت کر کے ایک شدت پسند گروپ نمودار ہوا اور غلام رضا نقوی کی قیادت میں سپاہ محمد کے نام سے تنظیم قائم کر لی، جس کے بعد جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

قیادت[ترمیم]

انیس سو چھیانوے میں سپاہ محمد کے سالار اعلیٰ غلام رضا نقوی کو گرفتار کر لیا گیا ان پر قتل و اقدام قتل کے متعدد وارداتوں کا الزام تھا اور حکومت نے ان کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ ان کی عدم موجودگی میں علامہ مرید عباس یزدانی اور منور عباس علوی نے سپاہ محمد کی قیادت سنبھالی۔ ستمبر انیس سو چھیانوے میں علامہ مرید عباس یزدانی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا اور تنظیم کی قیادت منور عباس علوی اور جیل میں بند غلام رضا نقوی کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جنوری انیس سو ستانوے میں سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا ضیاءالرحمان فاروقی کو بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا، اس دوران سپاہ محمد میں ایک نئے شدت پسند گروپ کے ابھرنے کی اطلاعات بھی سنی گئیں جن کی قیادت میجر ریٹائرڈ اشرف علی شاہ کر رہے تھے۔

پابندی[ترمیم]

اگست دو ہزار ایک میں مشرف حکومت نے دیگر جنگجو گروپوں کے ساتھ سپاہ محمد پر بھی پابندی عائد کر دی اور ایجنسیوں نے جنگجو تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]