سپاہ محمد پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سپاہ محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم
رہنما سید غلام رضا نقوی
بانی علامہ مرید عباس یزدانی
نعرہ اردو: تذلیل ہماری ناممکن عربی: هيهات منا الذلة)
تاسیس 1993
صدر دفتر ٹھوکر نیاز بیگ, لاہور, پاکستان
نظریات یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کے قیام کا مقصد قیام پاکستان کے بعد سے جاری شیعوں کے قتل کا انتقام عام دیوبندیوں سے لینا تھا۔
مذہب اہل تشیع
ایوان زیریں پاکستان
0 / 342
State emblem of Pakistan.svg
مضامین بسلسلہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

سپاہ محمد پاکستان پاکستانی شیعہ مسلمانوں کی ایک مسلح تنظیم اور سابقہ سیاسی جماعت ہے جو 1990ء کی دہائی میں معرض وجود میں آئی۔ یہ تنظیم شیعہ مسلمانوں کی جانب سے کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے مقابلہ میں بنائی گئی ہے۔ اس تنظیم پر سابقہ صدر پاکستان پرویز مشرف نے پابندی لگائی کہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

تاریخ[ترمیم]

سپاہ محمد کا قیام انیس سو ترانوے میں عمل میں آیا۔قیام پاکستان کے بعد سے ہی دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں، جو 1984 میں سپاہ صحابہ کے نئے نام سے زیادہ مشہور ہوئیں، اہل تشیع کے عوامی اجتماعات، ان کے مولوی صاحبان اور جدید تعلیم سے آراستہ طبقے پر حملے کر رہی تھیں۔ نوے کی دہائی مین اعتدال پسند شیعہ رہنماؤں سے بغاوت کر کے ایک شدت پسند گروپ نمودار ہوا اور غلام رضا نقوی کی قیادت میں سپاہ محمد کے نام سے تنظیم قائم کر لی، جس کے بعد جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

قیادت[ترمیم]

انیس سو چھیانوے میں سپاہ محمد کے سالار اعلیٰ غلام رضا نقوی کو گرفتار کر لیا گیا ان پر قتل و اقدام قتل کے متعدد وارداتوں کا الزام تھا اور حکومت نے ان کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ ان کی عدم موجودگی میں علامہ مرید عباس یزدانی اور منور عباس علوی نے سپاہ محمد کی قیادت سنبھالی۔ ستمبر انیس سو چھیانوے میں علامہ مرید عباس یزدانی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا اور تنظیم کی قیادت منور عباس علوی اور جیل میں بند غلام رضا نقوی کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جنوری انیس سو ستانوے میں سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا ضیاءالرحمان فاروقی کو بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا، اس دوران سپاہ محمد میں ایک نئے شدت پسند گروپ کے ابھرنے کی اطلاعات بھی سنی گئیں جن کی قیادت میجر ریٹائرڈ اشرف علی شاہ کر رہے تھے۔2015 میں سپاہ محمد پاکستان کے سربراہ آزاد کردئے گئے جو خفیہ مقام پر رہائش پزیر ہے۔[1]

پابندی[ترمیم]

اگست دو ہزار ایک میں مشرف حکومت نے دیگر جنگجو گروپوں کے ساتھ سپاہ محمد پر بھی پابندی عائد کر دی اور ایجنسیوں نے جنگجو تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔

وفات[ترمیم]

اپریل سنہ 2016 میں غلام رضا نقوی اپنے گھر سے غائب ہونے کے بعد اپنی فیملی کے ہمراہ ایران چلے گئے۔ اور کسی نے ان کو زہر دیکر قتل کر دیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]