پاکستان تحریک انصاف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاکستان تحریک انصاف
چئیرمین عمران خان
نعرہ انصاف، انسانیت، خودداری
تاسیس 25 اپریل 1996 (1996-04-25)
صدر دفتر سیکٹر G-6/4
اسلام آباد، پاکستان
اسٹوڈنٹ ونگ انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن
یوتھ ونگ انصاف یوتھ ونگ
وومن ونگ انصاف وومن ونگ
رکنیت  (2013) 10 ملین (عالمی)
نظریات فلاحیت[1][2][3]
اسلامی جمہوریت
اشتمالیت
سیاسی حیثیت مرکز اور تمام صوبے
ایوان بالا
18 / 104
ایوان زیریں
151 / 342
پنجاب اسمبلی
179 / 371
خیبر پختونخوا اسمبلی
84 / 124
سندھ اسمبلی
30 / 168
بلوچستان اسمبلی
7 / 65
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی
1 / 41
گلگت بلتستان اسمبلی
1 / 33
خیبر پختونخوا مقامی حکومت
395 / 1,484
جماعت کا پرچم
Pakistan Tehreek-e-Insaf flag.PNG
ویب سائٹ
باضابطہ ویب سائٹ
سیاست پاکستان
State emblem of Pakistan.svg
مضامین بسلسلہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ مشہور سابق کرکٹ کھلاڑی عمران خان ہیں۔ "انصاف، انسانیت اور خود داری"جماعت کا نعرہ ہے۔عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین ہیں اور اس کے علاوہ وہ براڈفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر بھی رہے چکے ہیں۔ عمران خان نے پولیٹیکل سائنس، اکنامکس اور فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں عمران خان کی طرف سے پاکستان کے موجودہ نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے ایک حل پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل تین نکات ہیں:

1.آزاد الیکشن کمیشن

2.آزاد عدلیہ

3.آزاد احتساب بیورو

پارٹی اس حل پر عمل درآمد کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تحریک انصاف اس وقت اپوزیشن کی ایک جماعت کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تحریک کا پاکستانی مڈل کلاس لوگوں پر بہت گہرا اثر ہے۔

2002ء کے انتخابات[ترمیم]

20 اکتوبر 2002ء کے قانون سازی اسمبلی کے انتخابات میں اس پارٹی کو 0.8 فیصد ووٹ ملے اور ان انتخابات میں کل 272 ارکان میں سے ایک ممبر تحریک انصاف کی طرف سے منتخب ہوا۔ اسی طرح صوبائی انتخابات میں صوبہ سرحد کی طرف سے تحریک انصاف کا ایک رکن منتخب ہوا۔

2008ء کے انتخابات[ترمیم]

2008 کے عام انتحابات میں پاکستان تحریک انصاف نے حصہ نہیں لیا۔

2013ء کے انتخابات[ترمیم]

2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف ایک مضبوط پارٹی بن کر ابھری، قومی اسمبلی میں اس کی اچھی خاصی نشتیں ہیں، جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اس پارٹی کی حکومت ہے، جبکہ ،پنجاب میں دوسری اور سندھ میں تیسری بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ عام انتخابات میں ووٹوں کے لحاظ سے دوسری اور سیٹوں کے لحاظ سے تیسری بڑی پارٹی بنی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی ورنہ وفاق میں بھی تحریک انصاف کی حکومت ہوتی، اس بات نے بعد ازاں آزادی مارچ کی شکل میں ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔

منشور

تحریک کا منشور یہ ہے:

پاکستان تحریک اِنصاف کے قیام کا بنیادی محرک ا یک ایسی تحریک کا آغاز تھاجو عدل و مساوات پر  مبنی ایک ایسے معاشرے کے لیے جدوجہد کر سکے جس کی اساس حضرت محمد مصطفے ﷺٰ کا عطا کردہ وہی میثاقِ مدینہ ہو جس نے اُس بے مثال اسلامی ریاست کو تخلیق کیاجو عدل اور سماجی انصاف کے زریں اصولوں پر استوار کی  گئی تھی اور جسے تہذیب انسانی کی اولین فلاحی ریاست ہونےکااعزاز ہے ۔

شومیء قسمت جیسا کہ نامور مسلمان فلسفی ابن خِلدون نے خبردار  کیاتھا، مسلمانوں کی تہذیب کا زوال تب ہوا جب ظام عِدل سے انحراف کیا گیآ

عدل و مساوات کے یہی وہ راہنما اصول تھے جن پر قائداِعظم محمد علی جناح نے مملکت پاکستان کی بنیاد رکھی اور یہی اصول پاکستان تحریک انصاف کی فکری اساس ہیں ۔

"سیاست برائے سیاست“ پی ٹی آئی کامقصد  نہیں بلکہ"سیاست برا ئےجدمت"کا علم اُٹھائے ہم محض اس عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں گزشتہ تین دھائیوں سے سرگرمِ عمل ہیں تاکہ  ہم ایسی فلاحی ریاست کاخواب شرمندہء تعبیر کر سکیں جہاں قانون کی حکمرانی، قابلیت اورشفافیت کی ضمانت تمام شہریوں کو حاصل ہو۔۔

جہاں محروم اور بزرگ طبقوں کو سماجی فلاح کے موثر ومربوط انتظامات تک رسایی حاصل ھو

بے عیب نظام عدل ہی وہ بنیاد ہےجس پر وہ قوم تحلیق ہو سکتی ہے جہاں شہریوں کو صحت سے لے کر تعلیم اور جان و مال کے تحفظ  تک ہر شعبہ ہائے زندگی میں مساوی مواقع میسر ہوں۔

اور یہی وہ میزانِ عدل ہے جوخواتین ،اقلیتوں، معذوروں اور مجبوروں کو اہلِ جبرکے ہاتھوں ہونےوالے استحصال و امتیاز سے محفوظ رکھتی ہے۔

پاکستان تحر یک اِنصاف اُس عام آدمی کی سیاسی آواز ہے جو کسی بھی صنفی و سماجی تخصیص سے بے نیاز اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ایک بہتر مستقبل کے لیے کوشاں ہے

سو پی ٹی آئی کا نصب العین اسِی سنہرے مستقبل کا حصول ہے ۔تحر یک اِنصاف کے لیے پاکستان کی انمول دولت پاکستان کے لوگ ہیں ۔۔ ۔

سچے ،محنتی اور پر امن لوگ۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ابتدا سے لے کر آج تک، پی ٹی آئی نے خود کو بلا تعصب، رنگ، نسل، صنف ومذہب ہر پاکستانی کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کیے رکھا ہے

پاکستان تحریِک انصاف کا ہدف قابلیت اور بروقت خدمت کی صلاحیتیں رکھے ایک موثر عوامی حکومت کاقیام ہے کیونکہ یہ ہمارا متفقہ تجزیہ ہےکہ پاکستان  میں جاری طرزِ حکمرانی بحران دراصل اُس دیمک ذدہ ریاستی ڈھانچےکا شخسانہ ہے جسنے اشرافیہ کے ایک مختصر طبقے کےسوا ریاست کے ہرشہری میں احساسِ محرومی کو پروان چڑھایاہے۔ سو پی ٹی آئی  کی اولین ترجیح اسِ  بدعنوان اورشکستہ نظام کا خاتمہ اور اس کی جگہ عدل ومساوات پر مبنی نئے طرز حکومت کا احیاء ہے تاکہ بدعنوان اور نااہل اشرافیہ کی ظالمانہ طرزِ حکومت کو ماضی کا ایک قصہء پارینہ بنایاجاسکے۔

پاکستان تحریِک انصاف کو بڑھتی ہوئی دہشت گرردی اوراس کے باعث ریاست پاکستان پر پڑنے والے اُن تباہ کن اثرات کا بھی مکمل ادراک ہے جو محض انگنت قیمتی پاکستانی جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ جس کے باعث باہمی احترام اور   پرامن بقائے باہمی پر مبنی پاکستانی معاشرہ عدم برداشت خوف اور نفرت کے اسٓیبوں کی زد میں آگیا۔ پاکستان تحریِک انصاف کا وعدہ ہےکہ ہماری جماعت ریاست کے تمام شہریوں کے مابین باہمی برداشت، احترام اور قبولیت کی فضا بحال کرےگی۔

مدتوں سے مسلط حالات  کوجوں کا توں رکھنے کی تباہ کن سیاست کا مکمل خاتمہ بھی پاکستان تحریک اِنصاف کے اولین مقاصد میں شامل ہے۔

اس جماعت نے محض حصول اقتدارکےلیئےنہ توکبھی ماضی میں اپنےاصولوں پے سودہ بازی کی تھی اور نہ ہی کبھی آئندہ ایسا سوچ سکتی ہے

انصاف پر مبنی تبدیلی کا یہی وہ نظر یہ اور اصو ل ہے جس پر کو ئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی نظریہ اُس" نئےپاکستان" کی فکری اساس ہے جو علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کے تصورات پر قائم ہونے والی اسلامی فلاحی ریاست کی حقیقی روح ہے ۔وہ نیا پاکستان جہاں ہر شہری قانون کی نظر میں براب رہے-

جہاں سب کو صحت و تعلیم سمیت رہ شعبہ ہایے زندگی میں یکساں مواقع میسر ہیں۔

ایک ایسا نیا پاکستان جو اپنےشہریوں کےِ جان و مال کو ہرشے پر مقدم رکھتا ہے

سو تحریک انصاف ایک ایسے "نئے پاکستان"کا تصور پیش کر رہی ہے جسے اپنے زورِ بازو پر اعتماد ہے اور جو اپنے ہمسایہ ممالک کےساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر فضائےامن و آشٓتی میں پنپبا چاہتاہے۔

وہ پاکستان جو کرہء خاکی کی تمام ریاستوں کے ساتھ شفاف، باہمی مفید اور ایک دوسرے کی حاکمیتِ اعلیٰ کےاحترام پر مبنی دوستانہ تعلقات استوار کرناچاہتا ہے۔

وہ نیا پاکستان جو اپنےحساس جوہری اساسوں پر کسی قسم کی سودہ بازی سے مبرا ہو کر تنازعات کے پر اُمن حل کی راہ اپنائےگا۔ وہ نیا پاکستان جو اغیار کی لڑائی کےلیئے نہ,تو اپنے کندھے فراہم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی  بین القوامی طاقت کا فیلی حلیف ہے۔

ایک نئے پاکستان کا یہ وہ تصور اور وعدہ ہے جو اسِ منشور کے ذریعے پاکستان کے غیور عوام کے سامنے پیش کیا جا رے ہے ۔

یہ منشور ہر پاکستانی کو بااختیار بنانےکاوعدہ ہے۔

یہ منشور ہمارے اس عزم کا اعادہ ہے کہ اپنی تقدیر ہم خود لکھیں گے۔۔۔ دوسرا کوئی اور نہیں لکھے گا۔

یہ منشور طاقت کو عوام کی دھلیز تک پہنچا کر فیصلہ سازی میں شراکت دار بنانے کا ایک باعمل منصوبہ ہے

اور یہ منشور اُس "نیا پاکستان" کا تحریری خاکہ ہے جو فقط امید کی کرن نہیں بلکہ وعدے کی وہ کڑی میزان ہے جو پی ٹی آ ئی پاکستان کے مجبور، محروم اور اچھے دنوں کے خواب دیکھنے والے ہر پاکستانی سے کر رہی ہے

سن2013کے پرعکس، تحریک انصاف یہ وعدہ اُس اعتماد کی بنیاد پر کر رہی ہے جو خیبر پختونخوا کی پانچ سالہ حکومت کی کامیابی نے اسے عطا کیا ہے۔

ان پانچ سالوں میں پاکستان کے اس بے مثال لیکن  دانستہ تور پر پسمانندہ رھے گیےصوبے میں "نیا پاکستان" کے تصور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ہم کئی تجربات سے گزرے اور بہت سے سبق حاصل کیے ۔باوجود اس کے کہ یہ ہماری پہلی حکومت تھی پاکستان تحریک انصاف قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر پولیس، دیوانی نظامِ عدل ، صحت اور تعلیم کے نظاموں سمیت بہت شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں لانے میں کامیاب رہی

حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آ ئی کی متعارف کردہ پولیس اصلاحات کےباعث آج صوبہ پختونخوا کا محکمہء پولیس کُلی تور پر ایک غیر سیاسی ادارہ بن چکا ہے

جہاں تمام ترقیاں قابلیت اورصلاحیت کی بنیاد  پر ہو رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ انِ کلیدی اصلاحات کی بازگشت پورے ملک کےہر علاقے تک گئی ہے اور انِ اصلاحات کو دیگر صوبوں میں بھی بطور نمونہ اپنانے کا عمل جاری ہے

اسِی طرح ، بنیادی اور ثانوی تعلیم کے محکمہ جات میں کی جانے والی کلیدی اصلاحات کے باعث صوبہ پختونخوا کے سرکاری اسکولوں کا معیار اس قدر بہتر ہوا ہے کہ اب عوام سرکاری اسکولوں میں داخلے کو نجی اسکولوں پر ترجیح دے رہی ہے

تحریک انصاف کی تحفظِ ماحولیات سے وابستگی اُس تاریخ ساز "ایک ارب درخت لگاو مہم"سے عیاں ہے جس کی نا صرف  بین القوامی  سطح پر پزیرائی ہوئی بلکہ جواب صوبے  کی ثقافتی پہچان بن گیا ہے۔ درحقیقت، اس مہم کے باعث علاقائی سطح پر خواتین کو مالی طور پر مستحکم بنانے کی ہماری کوششوں کو بھی تقویت ملی کیونکہ گاوںٗ کی سطح  پرخواتین ہی اس ماحولیاتی تحریک کی امین تھیں

انہی پانچ سالوں میں ضلعی حکومتوں کو با اختیار بنانے کے پی ٹی آئی کے وعدہ کی تکمیل بھی ممکن ہوئی اور خیبر پختونخوا کی صوبا ئی اسمبلی   نےضلعی حکومتوں کے ایک جامع قانون کی منظوری دی جس کے باعث مالیاتی اختیار سمیت فیصلہ سازی دیہات کی سطح تک منتقل ہوئی۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسی سفر میں پی ٹی آ ئی نےملک میں رائیج طرزِ حکمرانی میں پنہاں اُن خطرات کا بھی بحوبی تجربہ کر لیا ہے جن سے مستقبل میں ہم بہت بہتر انداز میں نبرد آٓزما ہو سکیں گے اور "نئے پاکستان" کےخواب کو کہیں بہتر انداز میں شرمندہء تعبیر کر سکیں گے۔

یہ تجربہ اُس بائیس سالہ طویل سفر کا نچوڑ ہے جو  1996 میں اہلِ پاکستان کے حقوق کی  جدوجہد کی خاطر تحریک انصاف کے قیام سے شروع ہوا تھا۔ سو تحریک انصاف کی اس خوداعتمادی کا مظہر ہےکہ:

اگر ہے جذبہء تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی

عمران خان چیئرمین،

پاکستان تحریک انصاف

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sidrah Moiz Khan "Pakistan's creation pointless if it fails to become Islamic welfare state" "Imran Khan said on Wednesday that Pakistan's creation had been pointless if the country fails to become an Islamic welfare state" 27 جون 2012.
  2. Marcus Michaelsen "Pakistan's dream catcher" "Iqbal's work has influenced Imran Khan in his deliberations on an "Islamic social state" 27 مارچ 2012.
  3. "Constitution of Pakistan Tahreek e Insaaf"