حامد میر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حامد میر
Hamid Mir.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 23 جولا‎ئی 1966 (53 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی،  کرکٹ کھلاڑی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں 30 برس کی عمر میں ایڈیٹر مقرر ہوئے
اسامہ بن لادن سے تین مرتبہ مکالمہ کیا
فلسطین، عراق، افغانستان، لبنان، چیچنیا، بوسنیا، آزاد کشمیر اور سری لنکا کی جنگوں کا احاطہ کیا۔
کھیل کرکٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کھیل (P641) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات

حامد میر، پیدائش 23 جولائی 1966ء، معروف پاکستانی صحافی اور مدیر ہیں۔ حامد میر روزنامہ جنگ میں اپنے اردو مضامین اور جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ٹاک (Capital Talk) کی وجہ سے مشہور ہیں، اس کے علاوہ بھی پاکستان میں آزادئ صحافت کے لیے ان کی بڑی کاوشیں ہیں۔[1]

تعلیم[ترمیم]

حامد میر نے 1989ء میں ابلاغ عامہ (Mass Communication) میں جامعہ پنجاب لاہور سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔

معاشی سفر[ترمیم]

حامد میر 1987ء میں مدیر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ لاہور سے منسلک ہوئے اور نامہ نگاری اور اشاعت کے شعبوں سے منسلک رہے۔ 1994ء میں آبدوز کیس مر روزنامہ جنگ میں ایک مکالمہ لکھا۔ اس مکالمہ کے چھپتے ہی انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔

1996ء میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر اعلیٰ بنے اور پاکستانی صحافت کے سب سے کم عمر مدیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1997ء میں ایک بار پھر انہیں پاکستانی وزیر اعظم پر بد عنوانی پر روزنامہ پاکستان پر مکالمہ لکھنے پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 1997ء میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے بانی مدیر بنے۔

حامد میر نے دس دن مشرقی افغانستان میں گزارے اور دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں سے اسامہ بن لادن کے فرار کی تحقیق کی اور 2002ء میں جیو ٹیلی وژن میں شمالی علاقہ کے مدیر کی نوکری اختیار کی۔ نومبر 2002ء سے سیاسی گفتگو کے بر نامہ کیپیٹل ٹالک کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آج کل وہ اسامہ بن لادن کی سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں اور روزنامہ جنگ اور دی نیوز(انگریزی: The News) میں ہفت روزہ کالم لکھتے ہیں۔

قاتلانہ حملہ[ترمیم]

19 اپریل 2014ء کو حامد میر نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کا دورہ کیا۔ کراچی ہوائی اڈے سے جیو کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں ناتھا پل کے قریب ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں حامد میر کو چھ گولیاں لگیں۔[2] ہسپتال سے خبر کے مطابق اب ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔[3] (اور اب ایک بار پھر عیدالفطر کے بعد حامد میر نے جیو۔ ٹی۔ وی اپنا۔ پروگرام (کیپٹیل ٹاک دوبارہ شروع کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں صحافت اگر کرنی ہو تو اس کے لے بہت بڑا دل اور ہمت چاہے

قابل قدر مکالمے اور انعامات[ترمیم]

  • 2000ء سے 2002ء تک فرائڈے ٹائمز (Friday Times) اور 2002ء سے 2003ء تک دی انڈیپنڈنٹ (The independent) میں ہفت روزہ کالم لکھتے رہے
  • بھارتی اخبارات ٹائمز آف انڈیا (Times of India)، آؤٹ لک (Outlook)، دہلی، دی ویک (The Week)، انڈیا، دینک بھاسکر اور Rediff.com میں بھی کالم لکھے
  • 1996،1997،1998ء میں کل جماعتی اخباراتِ پاکستان (All Pakistan Newspaper Society) کی طرف سے بہترین کالم نویس کا اعزاز حاصل کیا
  • مارچ 2005ء جودھپور میں صحافت میں امتیازی کارکردگی پر ”ٹرسٹ برائے تعلیماتِ وسیط“ کی جانب سے مہاشری سمان اعزاز
  • وزارت ترقی نسواں، حکومتِ پاکستان کیجانب سے عورتوں کے حقوق کے لیے لکھنے اور بولنے پر اگست 2005ء میں فاطمہ جناح طلائی تمغا حاصل کیا
  • 1994ء میں روزنامہ جنگ کے لیے اسرائیلی وزیر خارجہ شیمون پیریس سے سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کی
  • 1997 میں روزنامہ پاکستان کے لیے اور 1998ء میں روزنامہ اوصاف کے لیے اسامہ بن لادن سے مکالمے[4]

اور 2001ء میں روزنامہ ڈان[5] کے لیے گفتگو کی۔ آخری ملاقات 9/11 کے بعد کسی بھی صحافی کی ان سے پہلی ملاقات تھی۔ بی بی سی اور سی این این نے اسے بین الاقوامی دھماکا قرار دیا۔ ماہنامہ ہیرالڈ نے اس ملاقات کو اپنے دسمبر 2001[6] کے شمارے میں سال کا سب سے بڑا دھماکا قرار دیا

  • امریکی اخبار کرسچن سائنس مانیٹر نے حامد میر کی 8 اکتوبر 2005ء میں کشمیر میں آئے زلزلہ کی خبر رسانی پر ان کو پاکستانی عوام کا ہیرو قرار دیا
  • حامد میر نے ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفہ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 1990ء میں طبع ہوئی

حوالہ جات[ترمیم]