ہلال امتیاز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہلال امتیاز
Hilal-i-imtiaz.jpg
ایوارڈ صدر پاکستان کی طرف سے نوازا جاتا ہے
قسم اعزاز
اہلیت پاکستانی یا غیر ملکی شہری
اعزاز برائے ادب، فنون لطیفہ، کھیل، طب، سائنس اور فوجی خدمات کے سلسلے میں
شماریات
پہلا اجرا 19 مارچ 1957
ترتیب مراتب
اگلا (اعلیٰ) نشان امتیاز
اگلا (کمتر) ستارۂ امتیاز
Crescent of Excellence Hilal-e-Imtiaz.png
اعزاز کا ربن جو مسلح افواج کے افسران کی وردی پر لگایا جاتا ہے۔

ہلال امتیاز (انگریزی: Crescent of Excellence) حکومت پاکستان کی طرف سے شہریوں کو دیا جانے والا دوسرا اعلیٰ ترین شہری انعام (سویلین ایوارڈ) اور پاکستان کی مسلح افواج کے افسران کو اعزازی طور پر دیا جانے والا انعام ہے ۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے "خاص طور پر پاکستان کی سلامتی، قومی مفاد، عالمی امن، ثقافتی اور دیگر عوامی خدمات میں شاندار حصہ ڈالا۔" یہ ایک شہری اعزاز ہے، اور پاکستان کے شہریوں تک محدود نہیں۔
یہ اعزاز ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں شاندار کارنامے سرانجام دئیے جس سے پاکستان کی بین الاقوامی شناخت بہتر ہوئی۔ یہ عام شہریوں کو ادب، فنون لطیفہ، کھیل، طب اور سائنس کے شعبوں میں دیا جاتا ہے۔ ہر سال یوم آزادی، 14 اگست، کو اس اعزاز کی نامزدگیاں کی جاتی ہیں اور یوم پاکستان، 23 مارچ، کو صدر پاکستان کی طرف سے ان لوگوں کو دیا جاتا ہے۔
مسلح افواج کے افسران جن میں میجر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل (آرمی)، ایئر وائس مارشل یا ایئر مارشل (ایئر فورس) اور ریئر ایڈمرل یا وائس ایڈمرل (بحریہ، پاکستان کوسٹ گارڈ، اور پاکستان میرینز) شامل ہیں، کو یہ اعزاز شاندار خدمات کے سلسلے میں دیا جاتا ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کی "کمیٹی براے ایوارڈ اینڈ ریکگنیشن سروسز(Award and Recognition Services)" اس اعزاز کے اہل افراد کے نام منتخب کرتی اور اپنی رپورٹ وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کرتی ہے۔ وزیر اعظم کے مشورے پر صدر پاکستان ایک تقریب میں جو پاکستان ٹیلی ویژن براہ راست نشر کرتا ہے، ان افراد کو ہلال امتیاز سے نوازتا ہے۔

ساخت[ترمیم]

ہلال امتیاز سنہری چمبیلی کی بنی ایک ڈسک جو ایک خالص سونے سے بنے ستارے کے درمیان میں ہوتی ہے، پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے عین درمیان میں زمرد کا گول ٹکڑا جس کے درمیان میں سنہری ہلال بھی موجود ہوتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]