یوم پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوم پاکستان
Two JF-17 Thunders.jpg
جے ایف 17 تھنڈر طیارے
منانے والے Flag of Pakistan.svg پاکستان
قسم قومی
تقریبات پریڈ، قومی تمغوں پر مشاورت
تاریخ 23 مارچ
تکرار سالانہ

یوم پاکستان پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن۔ یعنی 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس دن "23 مارچ" پورے پاکستان میں عام چھٹی ہوتی ہے۔

اور 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین کو اپنایا گیا مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔

تاریخ[ترمیم]

23 مارچ کو ہم یوم قرارداد پاکستان مناتے ہیں جو اصل میں بائیس مارچ کو مسلم لیگ کے لاہور جلسے میں پیش ہوئی اور چوبیس کو منظور ہوئی..پاکستان بننے سے پہلے اور انیس سو چھپن تک ایسا کوئی دن نا منایا گی۔. تئیس مارچ چھپن کو پاکستان کا پہلا آئیں نافذ ہوا اسکندر مرزا گورنر جنرل سے صدر بن گئے - ستاون اور اٹھاون کی تئیس مارچوں کو اسے یوم جمہوریہ پاکستان کے طور منایا گیا - اکتوبر اٹھاون میں مارشل لا لگ گیا اور جمہوریت کا خاتمہ ہوا۔ اب انسٹھ کی تئیس مارچ کو پاکستان اس وقت جمہوری ملک نہیں تھا یوم جمہوریہ نہیں منایا جا سکتا تھا..اور جس آئیں کے نفاذ کے دن کے لیے مناتے ہیں وہ آئیں ہی ختم ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے اس دن کو یوم قرارداد پاکستان کے طور منایا جانے لگا۔

خصوصی پریڈ[ترمیم]

یوم پاکستان کو منانے کے لیے ہر سال 23 مارچ کو خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں پاکستان مسلح افواج پریڈ بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستی اثاثوں اور مختلف اشیاء کا نمائش کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر سے لوگ فوجی پریڈ کو دیکھنے کے لیے اکھٹے ہوتے ہیں۔2008ء کے بعد سیکیورٹی خدشات اور ملک کو درپیش مسائل کے باعث پریڈ کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن 23 مارچ 2015ء کو ایک بار پھر اس تقریب کو منانے کا آغاز ہو رہاہے۔

یوم پاکستان پریڈ 2015[ترمیم]

23 مارچ 2015ء کو 7 سال کے عرصے کے بعد فوجی پریڈ کا انعقاد وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں ہوا جس میں صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی- یہ پریڈ خاص اہمیت کی حامل تھی کیوں کہ 2008ء، جب طالبان کے خلاف پاکستان میں عسکری کروائی کا آغاز ہوا، کے بعد پہلی مرتبہ پریڈ کا انعقاد ہوا- پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا جس کی قیادت پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے خود کی-[1]

تقریبات[ترمیم]

مہمان خصوصی[ترمیم]

عمومی طور پر 23 مارچ کی تقریب میں مہمان خصوصی صدر پاکستان ہی ہوتا ہے- لیکن اس کے علاوہ دوسرے ممالک سے بھی مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے- چند ایک قابل ذکر مہمانوں کے نام درج ذیل ہیں:-


2019 مہاتیر محمد ملائیشیا وزیر اعظم
سال مہمان کا نام ملک عہدہ
1985 انڈونیشیا آرمی چیف، انڈونیشا آرمی
1996 قاسم اتم ماریشس صدر ماریشس

تصاویر[ترمیم]

تصاویر

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. یومِ پاکستان پر نریندر مودی کی مبارک باد، بی بی سی اردو (آن لائن)، 23 مارچ 2015ء