عبد القیوم خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عبدالقیوم خان (پیدائش: 16 جولائی، 1901ء، وفات: 22 اکتوبر، ء1981) پاکستانی سیاست اور خاص طور پر صوبہ سرحد میں ایک قد آور شخصیت تصور کیے جاتے تھے۔ صوبہ سرحد میں آپ نائب سپیکر، وزیراعلیٰ اور مرکزی حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ کے عہدوں پر فائز رہے۔

خاندان[ترمیم]

عبدالقیوم خان کے والد صوبہ سرحد میں تحصیلدار کے عہدے پر فائز تھے۔ آپ پیشے کے لحاظ سے اعلٰی پائے کے وکیل تھے جبکہ آپ کا تعلق کشمیری قوم سے بتایا جاتا ہے۔ آپ کے ایک بھائی عبد الحمید خان آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم بھی منتخب ہوئے۔

سیاسی دور[ترمیم]

آپ مسلم لیگ میں شامل ہونے سے پہلے کانگریس کے متحرک رکن تھے۔ 1940ء میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور صوبہ سرحد میں تحریک پاکستان کو ایک نئی زندگی بخشی۔ آپ ایک ایماندار شخص لیکن انتہائی سخت طبیعت حکمران کے طور پر جانے جاتے تھے اور آپ کی دوران حکومت صوبے کے لیے خدمات جن میں جامعہ پشاور کا قیام، بنیادی تعلیم کی اصلاحات، وارسک ڈیم کی تعمیر جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں، قابل تعریف ہیں۔ آپ کی پہچان قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی تحریک خدائی خدمتگار کو بے دردی سے کچلنے کے لیے بھی مشہور ہے جو کانگریسی نظریہ کے مطابق عدم تشدد کے فلسفے پر گامزن تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ سرحد کے قوم پرست پشتون حلقوں میں آپ کو انتہائی نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔

1953ء میں آپ وفاقی وزیر برائے صنعت، خوراک و زراعت بھی منتخب ہوئے۔

ایوب خان کے دور حکومت میں آپ کو سیاست کے لیے نااہل قرار دیا گیا اور آپ دو سال تک پابند سلاسل رہے۔ 1970ء کے انتخابات میں آپ نے اپنی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (قیوم) کے جھنڈے تلے حصہ لیا اور تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ سقوط بنگال کے بعد حکومت میں شراکت کی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کابینہ میں آپ کو وفاقی وزیر داخلہ مقرر کیا اور 1977ء کے انتخابات تک آپ نے اس عہدے پرفائز رہے۔ 1977ء کے انتخابات میں آپ کی جماعت کوئی بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے اقتدار پر قبضے کے بعد عبدالقیوم خان نے اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان مسلم لیگ کے دھڑوں کو یکجا کرنے میں صرف کر دیں لیکن یہ کوششیں آپ کی 22 اکتوبر، 1981ء کو وفات کی وجہ سے ادھوری رہیں۔