تیسری اینگلو مرہٹہ جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تیسری اینگلو مرہٹہ جنگ
حصہ اینگلو مرہٹہ جنگیں
Indian Camp Scene.jpg
پڑاؤ کا منظر
تاریخنومبر 1817ء – فروری 1818ء
مقامجدید صوبہ مہاراشٹر اور اس کے ہمسایہ علاقے
نتیجہ انگریزوں کی فیصلہ کن فتح
مرہٹہ سلطنت کا سقوط؛ ہندوستان کے بیشتر حصوں پر انگریزوں کا قبضہ
محارب

Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت

Flag of مملکت متحدہ سلطنت برطانیہ

کمانڈر اور رہنما
  • باپو گوکھلے (پیشوا باجی راؤ دوم کا سالار)
  • اپا صاحب بھونسلے
  • ملہار راؤ ہولکر سو۔
  • فرانسس روڈون ہیسٹنگز
  • جان مالکوم
  • ٹامس ہسلاپ
  • طاقت
    دس ہزار سے زائد ایک لاکھ سے زائد

    تیسری اینگلو مرہٹہ جنگ[1] (1817ء – 1818ء) مرہٹہ سلطنت اور برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے مابین آخری اور فیصلہ کن جنگ تھی جس کے بعد ہندوستان کے بیشتر علاقے کمپنی کے زیر نگین آگئے تھے۔ اس جنگ کی ابتدا انگریز فوجیوں کی جانب سے مرہٹہ علاقے پر حملے سے ہوئی تھی۔[2] ان فوجیوں کی کمان گورنر جنرل فرانسس روڈون ہیسٹنگز کے ہاتھوں میں تھی اور جنرل ٹامس ہسلاپ کی زیر کمان فوج تعاون پر مامور تھی۔ ہیسٹنگز نے جنگ کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے تیار کردہ منصوبے کے مطابق پنڈاریوں کے خلاف فوجی کارروائی سے جنگ کی ابتدا کی۔ پنڈاری وسطی ہندوستان کے لٹیرے جن میں بیشتر مسلمان تھے اور درپردہ انہیں مرہٹہ سرداروں کی حمایت حاصل تھی۔[پاورقی حاشیہ 1]

    ہیسٹنگز کے اس حملے کے بعد پیشوا باجی راؤ دوم کی افواج ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں۔ انہیں ناگپور کے مدھوجی دوم بھونسلے اور اندور کے ملہار راؤ ہولکر سوم کی افواج کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ان سب نے مل کر چوتھے بڑے مرہٹہ سردار دولت راؤ شندے پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس معاملے میں غیر جانبدار رہیں گوکہ وہ بھی راجستھان کھو چکے تھے۔

    انگریز انتہائی برق رفتاری سے فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ بالآخر ان فتوحات کے نتیجے میں مرہٹہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور مرہٹہ خود مختاری جاتی رہی۔ کھڑکی اور کورے گاؤں کے معرکوں میں پیشوا نے شکست کھائی، کچھ مزید چھوٹی موٹی جھڑپیں بھی ہوئیں جن کا مقصد پیشوا کو قید ہونے سے بچانا تھا۔ لیکن ان جھڑپوں اور سخت کوششوں کے باوجود پیشوا گرفتار ہوئے۔[4] گرفتار ہونے کے بعد انہیں منصب سے معزول کرکے کانپور کے پاس واقع بٹھور میں جاگیر دے دی گئی اور ان کے علاقہ کا بڑا حصہ بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کر لیا گیا۔ مہاراجا ستارا کو ان کے علاقے کا حاکم بنا کر اس عملداری کو نوابی ریاست کا درجہ دیا گیا۔ تاہم سنہ 1848ء میں ان کی نوابی ریاست کو بھی لارڈ دلہوزی کی الحاق کی پالیسی کے تحت بمبئی پریزیڈنسی میں ضم کر لیا گیا۔ اسی طرح معرکہ سیتابلڈی میں بھونسلوں اور معرکہ مہیدپور میں ہولکروں نے بھی ہزیمت اٹھائی۔[5]

    حاشیہ[ترمیم]

    پاورقی حاشیے[ترمیم]

    1. "Thus, many Pindaris were originally Muslim or Maratha cavalrymen who were disbanded or found Pindari life better than formal military service.۔. Most Pindaris professed to be Muslims, but some could not even repeat the kalima or Muslim creed nor knew the name of the prophet."[3]

    حوالہ جات[ترمیم]

    1. "Maratha Wars"۔ Britannica Encyclopædia۔ 
    2. Bakshi & Ralhan 2007، صفحہ۔ 261.
    3. McEldowney 1966، صفحہ۔ 18.
    4. M.S. Naravane (2014)۔ Battles of the Honorourable East India Company۔ A.P.H. Publishing Corporation۔ صفحات 79–86۔ آئی ایس بی این 9788131300343۔ 
    5. Black 2006، صفحہ۔ 78.

    کتابیات[ترمیم]

    ماقبل 
    دوسری اینگلو مرہٹہ جنگ
    اینگلو مرہٹہ جنگیں مابعد 
    ماقبل 
    دوسری اینگلو مرہٹہ جنگ
    ہند برطانوی جنگیں مابعد 
    پہلی اینگلو سکھ جنگ