مرہٹہ سلطنت کی فتوحات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مرہٹہ سلطنت کی فتوحات سے مراد برصغیر کی تاریخ میں پیش آنے والی وہ فتوحات ہیں جو مرہٹہ سلطنت کے قیام کا باعث بنیں۔ سنہ 1659ء میں شیواجی کی قیادت میں معرکہ پرتاپ گڑھ سے ان فتوحات کا آغاز ہوا۔ مرہٹوں کے ساتھ لڑائیوں اور جنگوں میں مغلیہ سلطنت کے بہت سے سالاروں نے ہزیمت اٹھائی اور نتیجتاً مغلیہ عمل داری کے بڑے حصہ پر مرہٹے قابض ہو گئے اور یوں شیواجی کے ہاتھوں مرہٹہ سلطنت کا قیام عمل میں آیا۔ مرہٹوں نے برصغیر کے بڑے حصے پر برسوں حکمرانی کی۔ پانی پت کی تیسری جنگ میں احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں شکست فاش سے ان کا زوال شروع ہوا جو بالآخر دوسری اور تیسری اینگلو مرہٹہ جنگوں میں مرہٹہ جرنیلوں کی ہزیمت کے بعد مرہٹہ سلطنت کے سقوط پر منتج ہوا۔

سنہ 1795ء میں مرہٹہ سلطنت کے حدود

پس منظر[ترمیم]

بیجاپور کی عادل شاہی سلطنت اور مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر سے برسوں مصروف پیکار رہنے کے بعد سنہ 1674ء میں مرہٹہ جانباز شیواجی نے ایک آزاد اور خود مختار سلطنت کی بنیاد رکھی اور رائے گڑھ کو اپنا پایہ تخت بنایا۔ سنہ 1680ء میں شیواجی کی وفات ہوئی تو ان کے فرزند سمبھاجی سریر آرائے سلطنت ہوئے اور سلطنت کی سرحدوں کو مزید وسیع کیا۔ انہوں نے اپنے عہد حکومت میں ایک طاقت ور بری فوج کے ساتھ ساتھ بحری بیڑا بھی تیار کر لیا تھا۔ اس عہد میں مرہٹہ سلطنت کی طاقت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کو سمبھاجی کی سرکوبی کے لیے اپنا پایہ تخت چھوڑ کر دکن میں فروکش ہونا پڑا۔ سنہ 1681ء سے 1707ء میں عالمگیر کی وفات تک ستائیس برس مغلوں نے مرہٹوں سے جنگ کی لیکن مجموعی طور پر مغل ناکام رہے۔

شیواجی کے پوتے چھترپتی شاہو نے سنہ 1749ء تک حکمرانی کی، انہوں نے اپنے عہد حکومت میں پیشوا کا منصب قائم کیا۔ اس منصب پر براجمان شخص کچھ شرائط کے ساتھ حکومت کا صدر ہوتا۔ لیکن شاہو کی وفات کے بعد پیشوا ہی عملاً مرہٹہ سلطنت کے حکمران بن گئے۔ ان کے حکمرانی کا یہ سلسلہ 1761ء تک برقرار رہا، اس کے بعد سلطنت کا کاروبار معمول پر آیا اور شیواجی کے جانشین ستارا میں حقیقی حکمران کی حیثیت سے مرہٹہ سلطنت کے چھترپتی بنتے رہے۔ برصغیر کے بڑے حصے پر حکمران مرہٹہ سلطنت اٹھارہویں صدی عیسوی میں برطانوی افواج کا کامیابی سے مقابلہ کرتی رہی لیکن جب سلطنت کے پیشواؤں اور سرداروں (فوجی سالار) کے آپسی تعلقات کشیدہ ہو گئے اور ان میں حصول اقتدار کی جنگ چھڑ گئی تو سلطنت آہستہ آہستہ زوال پزیر ہونے لگی۔

حوالہ جات[ترمیم]