مادھو راؤ اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مادھو راؤ اول
(مراٹھی میں: माधवराव पेशवे ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= مادھو راؤ اول کا پورٹریٹ

Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت کے پیشوا
مدت منصب
23 جون 1761ء – 18 نومبر 1772ء
بادشاہ راجا رام دوم، ستارا
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بالاجی باجی راؤ
ناراین راؤ پیشوا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 14 فروری 1745  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مراٹھا سلطنت  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 نومبر 1772 (27 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پونے  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات سل  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل مراٹھی
مذہب ہندو مت
والد بالاجی باجی راؤ  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مادھو راؤ اول (14 فروری 1745ء – 18 نومبر 1772ء) مرہٹہ سلطنت کے چوتھے پیشوا تھے۔ ان کے دور اقتدار میں مرہٹہ سلطنت پانی پت کی تیسری جنگ کے زخموں سے جانبر ہونے کی کوشش کرتی رہی۔ اس صورت حال کو تاریخ میں "مرہٹوں کی حیات نو" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مادھو راؤ کو مرہٹہ تاریخ کے عظیم پیشواؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور منصبِ پیشوائی[ترمیم]

مادھو راؤ نانا صاحب پیشوا کے دوسرے بیٹے تھے۔ سنہ 1745ء میں مادھو راؤ کی ساونور میں پیدائش ہوئی۔ ان کی پیدائش کے وقت مرہٹہ سلطنت کی سرحدیں مغربی، وسطی اور شمالی ہندوستان کے خاصے بڑے علاقوں تک پھیل چکی تھیں۔ 9 دسمبر 1753ء کو پونہ میں مادھو راؤ کا رمابائی سے بیاہ ہوا۔

ان کے والد نانا صاحب نے اپنے دور اقتدار میں مرہٹہ سلطنت کی سرحدوں کو بے حد وسیع کر دیا تھا اور ایک بہتر حکمرانی کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم وہ پانی پت کے میدان میں احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں 14 جنوری 1761ء کو مرہٹہ تاریخ کی بدترین شکست کے ذمہ دار بھی تھے۔ اس جنگ میں مرہٹوں نے اپنے بہترین جرنیل کھوئے، خود نانا صاحب کا بڑا بیٹا اور وارث وشواس راؤ بھی کام آگیا۔ نانا صاحب پیشوا کی وفات کے بعد سولہ سالہ مادھو راؤ مرہٹہ سلطنت کے اگلے پیشوا مقرر ہوئے اور ان کے چچا رگھوناتھ راؤ نائب السلطنت کے طور پر کام کرتے رہے۔

قتل کی کوشش[ترمیم]

یہ حادثہ 7 ستمبر 1769ء کو صبح کے وقت پیش آیا۔ مادھو راؤ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پونہ کے پروتی مندر سے لوٹ رہے تھے کہ اچانک ان کے ایک جرنیل رام سنگھ نے اپنی تلوار سے ان پر حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے مادھو راؤ بروقت خبردار ہو گئے اور اس اچانک وار سے اپنے آپ کو بچا لیا لیکن بچاؤ کی اس کوشش میں ان کا کاندھا زخمی ہو گیا۔ مادھو راؤ کا خیال تھا کہ یہ رگھوناتھ راؤ کی کوشش تھی لیکن کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا اس لیے انہوں نے سالار رام سنگھ کو قید کر دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

مزید پڑھیے[ترمیم]