اہلیابائی ہولکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اہلیابائی ہولکر
اہلیابائی ہولکر
Ahilya Mata Statue at Datta Temple, Sahastra Dhara, Jalkoti.jpg
مالوہ سلطنت کی رانی
معیاد عہدہ 1 دسمبر 1767 – 13 اگست 1795
پیشرو مالیراؤ ہولکر
جانشین توکوجی راؤ ہولکر اول
شریک حیات کھندے راؤ ہولکر
مکمل نام
اہلیا بائی صاحبہ ہولکر
خاندان ہولکر گھرانہ
شاہی خاندان مرہٹہ سلطنت
والد منکوجی شندے
پیدائش 31 مئی 1725(1725-05-31)
گرم چونڈری، جام کھیڑ، احمد نگر، مہاراشٹر، بھارت
وفات 13 اگست 1795(1795-08-13)
مذہب ہندومت

مہارانی اہلیابائی ہولکر (31 مئی 1725ء – 13 اگست 1795ء) مرہٹہ مالوہ سلطنت کی ہولکر ملکہ تھیں۔ راج ماتا اہلیابائی کی ولادت صوبہ مہاراشٹر کے ضلع احمدنگر میں واقع جام کھیڑ کے چونڈی گاؤں میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے دار الحکومت کو اندور کے جنوب میں نرمدا ندی پر واقع مہیشور منتقل کر لیا تھا۔

اہلیابائی کے شوہر کھاندے راؤ ہولکر سنہ 1754ء میں معرکہ کمہیر میں مارے گئے۔[1] بارہ برس بعد ان کے خسر ملہار راؤ ہولکر نے وفات پائی۔ اس کے ایک سال بعد اہلیابائی مالوہ حکومت کی ملکہ کی حیثیت سے تخت نشین ہوئیں۔ انہوں نے اپنی سلطنت کو حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے اور ملک میں امن و امان بحال رکھنے کی بہت کوشش کی۔ گوکہ انہوں نے تکوجی راؤ ہولکر کو سپہ سالار مقرر کیا تھا لیکن جنگوں میں وہ خود فوج کی قیادت کرتیں۔

رانی اہلیابائی اس لحاظ سے بھی شہرت رکھتی ہیں کہ انہوں نے ہندوستان بھر میں سینکڑوں مندریں اور دھرم شالائیں تعمیر کروائیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

اہلیابائی 31 مئی 1725ء کو صوبہ مہاراشٹر کے ضلع احمدنگر میں واقع چونڈی گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد منکوجی راؤ شندے اپنے گاؤں کے پاٹل تھے۔ اس دور میں تعلیم نسواں کا رواج نہیں تھا لیکن اہلیابائی کے والد نے رواج کے برخلاف انہیں لکھنا پڑھنا سکھایا۔

ایک دفعہ مرہٹہ پیشوا بالاجی باجی راؤ کے کماندار اور مالوہ علاقہ کے جاگیردار ملہار راؤ ہولکر پونہ جاتے ہوئے اتفاقاً چونڈی میں ٹھہر گئے۔ روایتوں کے مطابق اسی قیام کے دوران میں انہوں نے گاؤں کے مندر میں آٹھ سالہ اہلیابائی کو دیکھا تو ان کے حسن صورت و سیرت سے خاصے متاثر ہوئے اور اپنے بیٹے کھاندے راؤ ہولکر (1723ء – 1754ء) کی دلہن بنا کر اپنی جاگیر لے گئے۔

سنہ 1733ء میں کھاندے راؤ ہولکر سے ان کا بیاہ ہوا۔ 1745ء میں ان کے بطن سے ایک لڑکا مالے راؤ اور 1748ء میں ایک لڑکی مکتابائی پیدا ہوئے۔ مالے راؤ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، چنانچہ وہ سنہ 1767ء میں اپنی اسی بیماری کی نذر ہو گیا۔ اہلیابائی نے اپنی بیٹی کی شادی ایک بہادر لیکن غریب شخص سے کی جس نے بہت سے ڈکیتوں کو کامیابی سے ٹھکانے لگا دیا تھا۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]