معرکہ کولہاپور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معرکہ کولہاپور
بسلسلہ مرہٹہ سلطنت کی فتوحات
تاریخ28 دسمبر 1659ء
مقامکولہاپور، مہاراشٹر، بھارت
نتیجہ مرہٹہ سلطنت کی فیصلہ کن فتح
محارب
Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت بیجاپور سلطنت
کمانڈر اور رہنما
شیواجی
نیتاجی پالکر
گوداجی
جادھو واڑ
شیدی ہلال
انگلے
سدھوجی پوار
مہادک
واگھ
رستم زمان
فضل خان
فاتح خان
سرجیراؤ گھاڑگے
باجی گھورپڑھے
ملک عتبر
سعادت خان
یعقوب خان
انکش خان
سنتاجی گھاٹگے
طاقت
3,500 10,000
ہلاکتیں اور نقصانات
1000+ 7000+

معرکہ کولہاپور مرہٹہ چھترپتی شیواجی اور عادل شاہی افواج کے درمیان میں 28 دسمبر 1659ء کو صوبہ مہاراشٹر کے شہر کولہاپور کے قریب پيش آیا۔ شیواجی نے اس معرکے میں انہی جنگی چالوں کو استعمال کیا جنہیں مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے رانا سانگا کے خلاف برتا تھا، میمنہ اور میسرہ کے اسی مدبرانہ استعمال نے اس جنگ کو خاصی شہرت بخشی۔

پس منظر[ترمیم]

معرکہ پرتاپ گڑھ (10 نومبر 1659ء) میں شیواجی نے افضل خان کو دھوکے سے قتل کرکے عادل شاہی افواج کو شکست فاش دی تھی۔ اس فتح کے نتیجے میں شیواجی کو تقریباً 200 کلومیٹر کا وسیع پہاڑی رقبہ زمین میسر آگیا نیز بہت سے قلعوں مثلاً واسوٹا قلعے پر بھی مرہٹے قابض ہو گئے۔ دسمبر 1659ء میں شیواجی پنہالا قلعہ کے پاس نمودار ہوئے۔ رستم زمان نے پیجاپور سے کوچ کیا اور 27 دسمبر 1659ء کو کولہاپور کے مضافات میں واقع مرج کے قریب پڑاؤ کیا۔

معرکہ[ترمیم]

عادل شاہی افواج کی ترتیب[ترمیم]

سردار خان، ملک عتبر، سعادت خان، یعقوب خان، انکش خان، حسن خان، ملا یحیی اور سنتاجی گھاٹگے جیسے سردار رستم زمان کی فوج میں مدد کرنے کے لیے موجود تھے۔ رستم زمان کو عادل شاہی کی سب سے طاقتور فوج کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔

عادل شاہی فوج کی پہلی قطار میں ہاتھیوں کو رکھا گیا۔ رستم زمان فوج کے قلب میں تھے جبکہ فضل خان بائیں طرف تھے اور ملک عنبر کو میمنہ کی قیادت سونپی گئی تھی۔ فتح خان اور ملا یحیٰ عقب میں تھے جبکہ بقیہ سرداروں نے دوسرے محاذ سنبھال رکھے تھے۔

مراٹھا فوج کی ترتیب[ترمیم]

شیواجی کی مدد کرنے کے لیے ان کی فوج میں نیتاجی پالکر، سردار گوداجی راجے، ہروجی انگلے، بھیماجی واگھ، سدھوجی پوار، جادھو راؤ، ہنمنتر راؤ کھراٹے، پنڈھارے، شیدی ہلال اور مہادک جیسے سردار موجود تھے۔ شیواجی نے خود کو عقب میں رکھا، شیدی ہلال اور جادھو راؤ میسرہ پر اور انگلے اور سدھوجی پوار دونوں میمنہ پر تھے۔ مہادک اور بھیماجی واگھ عقب میں موجود تھے۔

تصادم[ترمیم]

رستم زمان پنہالا قلعہ پر جانے کی منصوبہ بندی کر رہے رھے جبکہ شیواجی پہلے ہی اس حقیقت کو جان گئے تھے۔

28 دسمبر، 1659 کی صبح، جب 10 ہزار عادل شاہی فوج مرہٹہ افواج کو دکھائی دی تو 3500 مرہٹوں نے انتہائی برق رفتاری سے عادل شاہی فوج کے چاروں طرف سے حملہ آور ہوئے۔ گھمسان کی جنگ کے بعد مرہٹوں نے عادل شاہی افواج کو شکست دی۔ رستم زمان فرار ہو گئے اور دوپہر تک اپنے بہت سے فوجیوں سمیت میدان چھوڑ دیا۔

کولہاپور کی اس جنگ میں جہاں 7 ہزار سے زائد عادل شاہی فوجی ہلاک ہوئے وہیں مرہٹوں کے ایک ہزار سے کچھ زیادہ فوجی مارے گئے۔ مال غنیمت کے طور ہر مرہٹوں کے ہاتھوں دشمن کے دو ہزار گھوڑوں اور 12 ہاتھی ملے۔

نتیجہ[ترمیم]

اس فتح کے بعد شیواجی نے ایک بڑے علاقے پر فتح حاصل کر لی اور انہوں نے اپنے ابھرتی ہوئی سلطنت کو مزید مضبوط کر لیا۔ شیواجی کی قیادت میں مرہٹوں نے عادل شاہی سلطنت کے مزید علاقوں پر تسلط حاصل کر لیا۔

ایک اور اہم واقعہ اس جنگ کے بعد پیش آیا۔ شیواجی کو قلعہ کھیلنا عادل شاہ سے حاصل کرنا تھا لیکن قلعہ کا استحکام اس پر قبضے سے مانع تھا۔ شیواجی نے قلعے کھیلنا پر قبضہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا۔ جس کے تحت انہوں نے اپنے کچھ سرداروں کو قلعہ کے قلعہ دار کے پاس یہ کہلا بھیجا کہ وہ شیواجی کی حکمرانی سے مطمئن نہیں ہیں اور اسے عادل شاہ سے ملنا چاہتا ہے۔ قلعہ دار شیواجی کے سرداروں کی باتوں میں آگیا، اگلے پی دن ان سرداروں نے قلعہ میں شورش برپا کر دی اور شیواجی نے قلعہ کے باہر سے حملہ کر دیا۔ اس طرح ایک مختصر مدت میں شیواجی نے قلرہ حاصل کر لیا۔ فتح کے بعد شیواجی نے نے قلعے کا نام وشال گڑھ رکھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • Grant Duff – History of Marathas
  • S.D.Samant – Vedh Mahamanvacha