بالاجی وشوناتھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بالاجی وشوناتھ
(مراٹھی میں: बाळाजी विश्वनाथ भट ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل=

Fleche-defaut-droite-gris-32.png پرشورام تریمبک کلکرنی
باجی راؤ اول Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1662  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شری وردھن  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 اپریل 1720 (58 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ساسواڑ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب براہمن، ہندو مت
اولاد باجیراؤ اول  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان[1]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بالاجی وشوناتھ (1662ء – 1720ء) جو پیشوا بالاجی وشوناتھ کے نام سے معروف ہیں، مرہٹہ سلطنت کے چھٹے اور موروثی پیشواؤں میں پہلے پیشوا ہیں جن کا تعلق ایک چت پاون کوکنستھ برہمن ہندو خاندان سے تھا جسے اٹھارویں صدی عیسوی میں مرہٹہ سلطنت پر خاصا اثر و رسوخ حاصل تھا۔

بالاجی وشوناتھ نے نوجوان مرہٹہ حکمران شاہو اول کی سلطنت کے استحکام میں خاصی مدد کی جو مغلوں کے حملوں سے ناتواں ہو رہی تھی۔ انہیں مرہٹہ ریاست کا دوسرا بانی بھی کہا جاتا ہے۔[2] بعد ازاں ان کا بیٹا باجی راؤ پیشوا بنا۔ ان کے دوسرے فرزند چمناجی اپا نے وسائی قلعہ حاصل کیا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بالاجی وشوناتھ (بھٹ) چت پاون کوکنستھ برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔[3][4][5] ان کا آبائی وطن کوکن کی ساحلی پٹی تھا جو اب مہاراشٹر میں شامل ہے۔ ان کا خاندان ریاست جنجیرہ کے شیدی کے زیر نگین شری وردھن کا موروثی دیشمکھ تھا۔[6] بالاجی مغربی گھاٹ کے اوپری حصے میں ملازمت کی تلاش میں آئے اور متعدد مرہٹہ جرنیلوں کی کمان میں کرائے کے سپاہی کی حیثیت سے کام کیا۔

چھترپتی سمبھاجی یا ان کے بھائی راجا رام اول کے دور حکومت میں بالاجی وشوناتھ مرہٹہ سلطنت کے انتظام و انصرام کا حصہ بنے۔ کچھ عرصے انہوں نے جنجیرہ میں مرہٹہ جرنیل دھناجی جادھو کے محاسب کے طور پر بھی کام کیا۔[7] 1699ء سے 1702ء تک بالاجی پونہ کے اور 1704ء سے 1707ء تک دولت آباد کے سر صوبیدار رہے۔ دھناجی کی وفات تک بالاجی نے اپنے آپ کو ایک ایماندار اور قابل افسر منوا لیا تھا۔

دھناجی کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اور جانشین چندر راؤ جادھو سے ان کی نہیں بنی اور وہ چھترپتی شاہو کے پاس چلے گئے جہاں ان کی صلاحیتوں نے شاہو کو متاثر کیا اور انہیں اپنا معاون بنا لیا۔[8][9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://pantheon.world/profile/person/Balaji_Vishwanath
  2. Sen، Sailendra۔ A Textbook of Medieval Indian History۔ Primus Books۔ صفحات 202–204۔ ISBN 978-9-38060-734-4۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. Burman، J. J. Roy۔ Hindu-Muslim Syncretic Shrines and Communities (in انگریزی)۔ Mittal Publications۔ ISBN 9788170998396۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. Singer، Milton B.؛ Cohn، Bernard S.۔ Structure and Change in Indian Society (in انگریزی)۔ Transaction Publishers۔ ISBN 9780202369334۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. Rao، Anupama۔ The Caste Question: Dalits and the Politics of Modern India (in انگریزی)۔ University of California Press۔ ISBN 9780520255593۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  6. Bharathi، K.S.۔ Encyclopaedia Eminent Thinkers (Vol. 22 : The Political Thought of Mahadev Govind Ranade۔ New Delhi: Concept Publishing Company۔ صفحہ 11۔ ISBN 81-8069-582-4۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  7. Gazetteer of the Bombay Presidency, Volume XIX, SATARA، صفحہ 254 نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  8. Jasvant Lal Mehta، Advanced study in the history of modern India 1707–1803، ISBN 1-932705-54-6 نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  9. Haig L، t-Colonel Sir Wolseley۔ The Cambridge History of India. Volume 3 (III). Turks and Afghans۔ Cambridge UK: Cambridge University press۔ صفحات 392–396۔ ISBN 9781343884571۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 May 2017۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)