نانا صاحب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پونے کے پیشوا بالاجی باجی راؤ کے لیے، ناناصاحب پیشوا ملاحظہ فرمائیں۔
نانا فڈنویس سے مغالطہ نہ کھائیں۔
Nana Sahib, watercolour on ivory, c. 1857.png
نانا صاحب کا ایک تصویرچہ، ہاتھی دانت پر واٹر کلر ت 1857 کا۔[1]
پیدائش 19 مئی 1824ء
بٹھور
غائب 1857 (عمر 32 یا 33 سال)
کاؤن پور (موجودہ کانپور)، برطانوی ہند
وفات 1859 (عمر 34 یا 35 سال)
عنوان نانا صاحب
پیشرو باجی راؤ دوم
مذہب ہندو مت
والدین ناراین بھٹ اور گنگا بائی؛ باجی راؤ دوم (سوتیلے)

نانا صاحب (19 مئی 1824ء – 1859ء) (پیدائشی نام دھونڈو پنت) مرہٹہ سلطنت کے پیشوا، طبقہ اشرافیہ کے فرد اور جنگجو تھے جنہوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں کانپور شورش کی قیادت کی تھی۔ جلاوطن مرہٹہ پیشوا باجی راؤ دوم کے لے پالک ہونے کی وجہ سے ان کا خیال تھا کہ انہیں بھی ایسٹ انڈیا کمپنی سے وظیفہ ملنا چاہیے لیکن کمپنی نے انکار کر دیا۔

نانا صاحب کے والد کی وفات کے بعد انگریزوں نے انہیں پنشن دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے کمپنی حکومت کے خلاف بغاوت کردی اور آزادی کے خواہاں ہوئے۔ شہر کانپور میں انگریزوں کے فوجی پڑاؤ پر وہ قابض ہو گئے، بچ جانے والے فوجیوں کو مار دیا اور کچھ دنوں تک کانپور پر قابض رہے۔ انگریزی فوجوں نے جنگ کرکے دوبارہ کانپور حاصل کر لیا تو وہ لاپتہ ہو گئے۔ سنہ 1859ء میں وہ نیپال پہنچے جہاں ان کی وفات ہوئی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نانا صاحب کی پیدائش 19 مئی 1824ء کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام ناراین بھٹ اور والدہ کا گنگا بائی تھا۔ پیدائش کے بعد ان کا نام دھونڈو پنت رکھا گیا۔[2]

تیسری اینگلو مرہٹہ جنگ میں شکست دینے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے باجی راؤ دوم کو کانپور کے قریب واقع بٹھور جلاوطن کر دیا تھا جہاں انہیں اچھا خاصا وظیفہ ملا کرتا تھا۔ نانا صاحب کے والد جو ایک تعلیم یافتہ دکنی برہمن تھے، اپنے خاندان کے ساتھ مغربی گھاٹ سے بیٹھور پہنچے تاکہ سابق پیشوا کے درباری بن سکیں۔ باجی راؤ کو اولاد نرینہ نہیں تھی چنانچہ انہوں نے سنہ 1827ء میں نانا صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی کو گود لے لیا۔ دونوں بچوں کی ماں پیشوا کی کسی بیوی کی بہن بھی تھی۔[3] نانا صاحب کا بچپن تانتیہ ٹوپے، عظیم اللہ خان اور منی کرنیکا تامبے (جو بعد میں رانی لکشمی بائی کے نام سے مشہور ہوئیں) کے ساتھ گزرا۔

تانتیہ ٹوپے پاندورنگ راؤ ٹوپے کے فرزند تھے اور پیشوا باجی راؤ دوم کے دربار میں بڑے سرداروں میں سے ایک تھے۔ باجی راؤ کو جب بٹھور جلاوطن کیا گیا تو وہ بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں آگئے۔ سنہ 1851ء میں باجی راؤ کی وفات کے بعد عظیم اللہ خان نانا صاحب کے معتمد بن کر آئے اور بعد ازاں نانا صاحب کے دربار میں دیوان کے عہدے پر مامور ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Nana Sahib, Rani of Jhansi, Koer Singh and Baji Bai of Gwalior, 1857, National Army Museum, London"۔ collection.nam.ac.uk (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2017۔
  2. Wolert, Stanley. A New History of India (3rd ed., 1989), pp. 226–28. Oxford University Press.
  3. , Saul David. The Indian Mutiny (published 2003), pp.45–46. Penguin Books, ISBN 0-141-00554-8.

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Pratul Chandra Gupta۔ Nana Sahib and the Rising at Cawnpore۔ Oxford University Press۔ آئی ایس بی این 0-19-821523-1۔
  • Petr Mikhaĭlovich Shastitko؛ Savitri Shahani۔ Nana Sahib: An Account of the People's Revolt in India, 1857–1859۔ Shubhada-Saraswat Publications۔