رولٹ ایکٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انارکی و انقلابی جرائم ایکٹ 1919ء المعروف برولٹ ایکٹ برطانوی ہندوستان کی مرکزی قانونی مشاورتی کونسل نے 18 مارچ 1919ء کودہلی میں منظور کیا جس کے تحت کسی بھی ہندوستانی باشندے کو محض شک و شبہ کی بنیاد پر جیل میں ڈالا جا سکتا تھا۔ اس پر شدید رد عمل سامنے آیا اور بعض حلقوں نے اسے کالا قانون بھی قرار دیا۔یہ دراصل ایک دفاعی قانون تھا جس کے تحت دفاع ہندوستان ایکٹ 1915ء کی طرح کسی کو بھی بغیر عدالتی کارروائی کے گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران میں حکومت نے محسوس کیا کہ کچھ مظاہرین اور انقلابی لوگ حکومت کے خلاف ہلہ بول سکتے ہیں لہذا جنگ کے اختتام کے فوراً بعد رولٹ ایکٹ کو نافذ کر دیا گیا۔ [1][2][3][4][5]

اس ایکٹ کو رولٹ کمیٹی کی سفارشات پر نافذ کیا گیا اور کمیٹی کے صدر سر سڈنی رولٹ کے نام پر اس ایکٹ کا نام رکھا گیا۔ اس ایکٹ کی بنا پر حکومت کسی کو بھی دہشت گردی کے جرم میں گرفتار کرسکتی تھی اور بنا عدالتی مداخلت کے دو سال تک جیل میں رکھ سکتی تھی۔ اس ایکٹ نے ان معاملات کا پورا اختیار امپیریال اتھارٹی کو دے دیا۔

اس ایکٹ کے بعد میڈیا پربھی حکومت کا دباو بڑھ گیا، بغیر وارنٹ کے گرفتاری اور مقدمے کے بغیر غیر معینہ مدت تک حراست کا اختیار حکومت کو مل گیا۔ یہاں تک کہ ملزم کو وجہ جاننے کا بھی حق نہیں تھا۔ [6] گرفتار شدہ لوگوں کو رہا ہونے پر سیکیورٹی جمع کروانی پڑتی تھی اور ان کو کسی بھی طرح کی سیاسی، تعلیمی اور مذہبی سرگرمی میں حصہ لینا منع تھا۔ [6] فروری 1919ء کو کمیٹی کے صدر جسٹس رولٹ کی صدارت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں دو بل متعارف کروائے گئے۔ جن کو کالا قانون کہا گیا۔ ان قوانین نے پولس کو بہت سارے اختیارات دے دیے جن کی رو سے پولس کسی بھی جگہ کی تلاشی لے سکتی تھی اور بغیر وارنٹ کے کسی کو بھی گرفتار کر سکتی تھی اور اس حالت میں کوئی دلیل، اپیل، وکیل کام نہیں آتے تھے۔ سخت اختلافات کے باوجود یہ قانون مارچ 1919ء کو نافذ کر دیا گیا۔ اس قانون کا مقصد قومی اور نیشنلسٹ رجحان کو روکنا تھا۔

موہن داس گاندھی دیگر رہنماؤں کے ساتھ اس قانون کے خلاف چراغ پا تھے اور ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جرائم کے لیے ہر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ اس ایکٹ نے کئی لیڈران اور عوام کو مشتعل کر دیا جس کے بعد حکومت کو جابرانہ اقدامات کرنے پڑے۔ گاندھی اور دیگر لوگوں کو لگا کہ اس ایکٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی بے سود ہے لہذا انہوں نے 6 اپریل کو ہڑتال کا اعلان کر دیا جس کی رو سے یہ اپیل کی گئی کہ ہر ہندوستانی اپنا سارا کام چھوڑ کر اس کالے قانون کے خلاف بھوک ہڑتال کرے، دعائیں کرے اور عوامی جلسے منعقد کرے اور سرکاری نافرمانی کرے۔ اس انعقاد کو تحریک عدم تعاون کا نام دیا گیا۔

حالانکہ دہلی میں ہڑتال کو کامیابی ملی مگر یہ کامیابی کچھ صوبہ میں شدید کشیدگی کی وجہ کی پھیکی پڑ گئی۔ صوبہ پنجاب اور دوسرے صوبہ جات میں فسادات ہوئے۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ہندوستانی عوام تحریک عدم تشدد کے حق میں نہیں تھی۔ گاندھی نے اس کو مکمل نکار دیا۔

یہ ایکٹ مارچ 1919ء کو نافذ کیا گیا۔ پنجاب میں جم کر ہو ہلہ ہوا اور اس کی مخالفت ہوئی۔ 10 اپریل کو کانگریس کے دو رہنما ، ڈاکٹر ستیہ پال اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو کو خفیہ طور پر گرفتار کر کے دھرم شالہ بھیج دیا گہا۔ پنجاب میں فوج کو تعینات کر دیا گیا۔ آس پاس کے گاؤں سے لوگ 13 اپریل کو یوم بیساکھی کی تقریبات اور اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کے لیے امرتسر میں جمع ہوئے جس کے بعد جلیانوالہ باغ قتل عام کا ناقابل تصور اور دلخراش واقعہ پیش آیا۔ [7][8] ریجینالڈ ایڈورڈ ہیری ڈائر نے جلیانوالہ باغ کا صدر دروازہ بند کروادیا اور اپنے فوجیوں کو نہتے 5000 مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔ کل 1650 راؤنڈ گولی باری ہوئی جس میں 379 لوگ مارے گئے ( برطانوی کمیشن۔ ہندوستانی اعداد و شمار کے مطابق 1500 لوگ شہید ہوئے تھے)۔ [9]) اور 1137 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ریپریسیو لا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ ایکٹ، پریس ایکٹ اور دیگر 22 ایکٹ کو حکومت نے 1922ء میں ختم کر دیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Popplewell 1995، صفحہ۔ 175
  2. Lovett 1920، صفحات۔ 94, 187–191
  3. Sarkar 1921، صفحہ۔ 137
  4. Tinker 1968، صفحہ۔ 92
  5. Fisher 1972، صفحہ۔ 129
  6. ^ ا ب Vohra, Ranbir (2001)۔ The Making of India: A Historical Survey، 2nd Ed. Armonk, New York: M.E. Sharpe. ISBN 0-7656-0711-5۔ p. 126.
  7. "From the Land of Paradise to the Holy City"۔ The Tribune۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "Op-ed: Let's not forget Jallianwala Bagh"۔ Daily Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. Ackerman, Peter, and Duvall, Jack, A Force More Powerful: A Century of Nonviolent Conflict p. 74.