الوری سیتارام راجو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الوری سیتارام راجو
(تیلگو میں: అల్లూరి సీతారామరాజు)،(ہندی میں: अल्लूरी सीताराम राजू ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Alluri Sita Rama Raju statue.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 4 جولا‎ئی 1897  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موگالو، مغربی گوداوری ضلع، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 مئی 1924 (27 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وشاکھاپٹنم ضلع، آندھرا پردیش، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند[1]  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک تحریک آزادی ہند  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

الوری سیتارام راجو (انگریزی: Alluri Sitarama Raju، ہندی= अल्लूरी सीताराम राजू، تیلگو= అల్లూరి సీతారామరాజు))، پیدائش: 4 جولائی، 1897ء - وفات: 7 مئی، 1924ء) ہندوستان کے مشہور انقلابی اور تحریک آزادی ہند کے مجاہد تھے۔ انہوں نے وشاکھاپٹنم ایجنسی میں قبائلی لوگوں کو برطانوی حکمرانوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کے لیے منظم کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے برطانوی انتظامیہ کے خلاف مسلح بغاوت کی قیادت کی جسے رمپا بغاوت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

الوری سیتارام راجو 4 جولائی، 1897ء کو موضع موگالو، مغربی گوداوری ضلع، آندھرا پردیش میں وینکٹا رام روجو کے گھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے وشاکھاپٹنم ایجنسی میں قبائلی لوگوں کو برطانوی راج کے خلاف سیاسی جدوجہد کے لیے منظم کیا۔ برطانوی پولیس اور عہدےداروں کے مظالم کے باعث انگریزوں کے خلاف ایک مسلح بغاوت کی تنظیم اور قیادت کی، جو رمپا بغاوت کے نام سے مشہور ہے۔ قبایلی وطن پرستوں نے ان کی رہنمائی میں برطانوی پولیس پر کئی کامیاب حملے کیے۔ وہ فنِ حرب اور چھاپہ ماروں کے کارروائیوں کے ماہر تھے۔ ان کی سرگرمیاں برطانوی اقتدار کے لیے ایک سخت چیلج بن گئی تھیں۔ حکومت کی طرف سے ان کی گرفتاری کے لیے دس ہزار روپیہ کا انعام رکھا گیا گیا تھا۔ برطانوی حکومت کے قبائلی لوگوں کے خلاف سفاکانہ انتقامی کارروائیوں اور شدید مصائب کی وجہ سے انہوں نے خود کو حکومت کے حوالے کر دیا۔ ایک انصاف پسند اور بہادر شخص ہونے کی حیثیت سے انہیں توقع تھی کہ ان پر مقدمہ کی سماعت منصفانہ ہو گی اور برطانوی حکومت قبائلیوں کے حقوق کو تسلیم کر لے گی۔ بالآخر 7 مئی 1924ء کو برطانوی پولیس نے انہیں دھوکے سے گولیوں مار کر ہلاک کر دیا۔[2]

1986ء بھارتی محکمہ ڈاک نے تحریک آزادی میں ان کی گراں قدر خدمات کے صلہ میں 50 پیسے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ حکومت آندھرا پردیش الوری سیتارام راجو کے جنم دن 4 جولائی کو ریاستی سطح پر مناتی ہے۔ اس کے علاوہ ان پر تیلگو زبان میں ایک فلم بھی بنائی جا چکی ہے، جس میں ان کی آزادی کے لیے کی گئی جدوجہد کی عکاسی کی گئی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.thehindu.com/news/cities/Visakhapatnam/Pandrangi-Alluri%E2%80%99s-birthplace-selected-under-%E2%80%98adarsh-gram%E2%80%99/article17037943.ece
  2. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 26