آزاد ہند فوج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آزاد ہند فوج
فعال August 1942 – September 1945
ملک بھارت
تابعدار آزاد ہند
شاخ پیادہ
کردار گوریلا پیادہ ، خصوصی فوجی نقل و حمل
حجم 43,000 (approx)
نصب العین اعتماد ، اتحاد اور قربانی
(Unity, Faith and Sacrifice in اردو)
مارچ قدم قدم بڑھائے جا
معرکے

جنگ عظیم دوم

  • برما مہم
    • جنگ ِNgakyedauk
    • جنگِ امپھال
    • جنگِ کوہیما
    • جنگِ پوکوکو
    • جنگِ مرکزی برما
کمان دار
Ceremonial chief سبھاش چندر بوس
قابل ذکر
کمان دار

منصبِ جامع موہن سنگھ دیب

جامع اکبر محمد زمان کیانی
جامع اکبر شاہ نواز خان (منصبِ جامع)
کرنل پریم سہگل
کرنل شوکت ملک
کرنل گنپت رام نگر
کرنل احسان قادر
طغرا
شناخت
symbol
Flag of the Indian Legion.svg

آزاد ہند فوج یا انڈین نیشنل آرمی دوسری جنگِ عظیم کے دوران تشکیل پائی۔ سبھاش چندر بوس اس کے بانیوں میں سے تھے۔ برطانوی راج کے خلاف جہادِ آزادی میں حِصّہ لیا۔

تاریخ[ترمیم]

ملایا اور برما دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں کے قبضے میں چلے گئے اور برٹش آرمی میں بھرتی متحدہ ہندوستان بشمول موجودہ پاکستانی علاقوں سے بھرتی ہونے والے فوجی اور کئی سویلین جاپانی فوجوں کے قبضے میں گئے تو وہاں پہ ان قیدی فوجیوں اور سویلین نے جاپانی فوج سے ملکر ایک فوج تیار کی جس کا مقصد متحدہ ہندوستان کو برٹش غلامی سے آزاد کرانا تھا اور اس فوج کو “آزاد ہند فوج” یا انڈین نیشنل آرمی۔آئی این اے کا نام دیا گیا۔پہلی مرتبہ آئی این اے انڈین فوج میں کیپٹن کے عہدے پہ فائز سیالکوٹ کے سکھ گھرانے کے فرزند موہن سنگھ نے بنائی تھی۔اور 1943ء میں یہ دوبارہ بنگال سے تعلق رکھنے والے آل نڈیا نیشنل کانگریس کے سابق مرکزی صدر سبھاش چندر بوس المعروف نیتا جی کی سربراہی میں منظم ہوئی۔اس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے کیپٹن شاہنواز،ملایا سے تعلق رکھنے والی لکشمی سہگل،ّپدما ورما ، حبیب خان اور کئی اور معروف کردار تھے جو آزاد ہند فوج کا حصّہ بنے۔

اس میں ہندؤ، سکھ،مسلمان اور یہاں تک کہ ملایا سے تعلق رکھنے والے کئی ایک مقامی کرسچن بھی شامل تھے۔اور آزاد ہند فوج کی جڑیں آج کے پاکستانی علاقوں خاص طور پہ پنجاب سے لیکر کنیا کماری (آج کے ہندوستان) تک پھیلی ہوئی تھیں۔

آج گاندھی کے ساتھ ساتھ سبھاش چندر بوس،بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی ، آزاد ہند فوج سمیت ہندوستان میں آزادی کے لیے سرگرم مختلف قسم کی تحریکوں اور شخصیات کو شامل نصاب کیا گیا ہے ۔