سیالکوٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیالکوٹ
(اردو میں: سیالکوٹ‎ ویکی ڈیٹا پر باضابطہ نام (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
WLMP sixty.JPG 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر ملک (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1][2]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ پنجاب، برطانوی پنجاب  ویکی ڈیٹا پر انتظامی تقسیم میں مقام (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 32°30′00″N 74°32′00″E / 32.5°N 74.533333333333°E / 32.5; 74.533333333333  ویکی ڈیٹا پر متناسقاتی مقام (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 19 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر رقبہ (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 256 میٹر  ویکی ڈیٹا پر سطح سمندر سے بلندی (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 920000 (2016)  ویکی ڈیٹا پر آبادی (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
جڑواں شہر
اوقات متناسق عالمی وقت+05:00  ویکی ڈیٹا پر منطقہ وقت (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمزِ ڈاک
51310  ویکی ڈیٹا پر ڈاک رمز (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 052  ویکی ڈیٹا پر مقامی ڈائلنگ کوڈ (P473) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز {{#اگرخطا:1164909  ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}
نحوی غلطی

سیالکوٹ، پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 30 لاکھ آبادی والا یہ شہر لاہور سے 125 کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ضلع سیالکوٹ چارتحصیلوں پر مشتمل ہے:

یہ پاکستان کا ایک اہم صنعتی اور زرعی شہر ہے جو کافی مقدار میں برآمدی اشیا جیسا کہ سرجیکل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور کپڑا پیدا کرتا ہے۔ سيالکوٹ کی برآمدات 1,000 ملين امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہيں۔ چاول اور گندم کی فصل بہت اچھی ہوتی ہے۔ سیالکوٹ کو شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے، عظیم مسلمان فلسفی شاعر، قانون دان اور مفکر علامہ محمد اقبال 9 نومبر1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ یہ پاکستان کا 12 واں بڑا شہر ہے۔

تاریخ[ترمیم]

،، سیالکوٹ شہر کی تاریخ چار ہزار سال قدیم ہے۔ جسے سب سے پہلے کھیشریا راجا سل نے آباد کیا۔جو ایک عظیم راجا تھا۔ اس کی سلطنت سیالکوٹ سے لے کر کشمیر تک تھی۔ کہا جاتا ہے جب اس نے قلعہ تعمیر کیا تو وہ کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں سے قلعے کی بار بار گرنے کی وجہ پوچھی؟ نجومیوں نے بتایا کہ یہ قلعہ اس وقت تک کھڑا نہیں ہو سکتا جب تک کسی پاکیزہ مومن شخص کا سر کاٹ کر اس کی بنیاد میں نہ رکھا جائے راجا یہ سن کر بہت پریشان ہوا۔ بہر کیف اسے ایک پاکیزہ شخص مل گیا جس کا نام پیر مرادیہ تھا۔ جو اس کی بیٹی کاشتی کے بطن سے تھا۔ اس کا سر کاٹ کر قلعے کی دیوار میں دیا اور قلعہ قیامت تک کھڑا ہو گیا پیر مرادیہ کا مزار آج بھی قلعے کے اوپر ہے۔ خیر یہ تو تھی کچھ کمزور سی تاریخ۔۔۔ اس کےبعد ہن گجروں کا یہاں پر قبضہ ہو گیا۔ جس کا مشہور راجا سالباہن تھا۔ جس کی دو بیویاں تھیں۔ رانی اچھراں اور رانی لوناں۔۔۔ اچھراں سے پورن بھگت پیدا ہوا اور لوناں سے راجا رسالو۔۔۔ رسالو گجر کی گلی اور محلہ آج بھی سیالکوٹ میں مشہور ہے۔ پورن بھگت کی درویشی کا قصہ عام ہے۔ ہن گجروں کی حکومت وقت کے ساتھ کمزور ہو گئی۔ سکندر اعظم سیالکوٹ پر حملہ کر کے اس پر قابض ہو گیا۔ اس کا ایک مشہور گورنر تھا بلندہ۔۔۔۔۔ جو کافی دیر تک یونانیوں کے زر اثر حکومت کرتا رہا۔ بلندہ کی موت کے بعد سیال خاندان نے نئے سرے سیالکوٹ پر حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ اور محمد بن قاسم کے دور تک سلطنت کو سنبھالنے رکھا۔ سلطان محمود غزنوی پہلا مسلمان بادشاہ تھا جس نے سیالکوٹ کو فتح کیا۔ اس کے بعد کئی مسلمان خاندان اس پر قابض رہے۔ مغل بادشاہ اکبر بھی یہاں آکر کافی وقت رہائش پزیر رہا۔ انگریزوں کے دور میں سیالکوٹ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔۔۔ بشکریہ سکندر حبیب گجر۔۔۔

سیالکوٹ کی شخصیات[ترمیم]

  1. علامہ اقبال پاکستان کے قومی شاعر
  2. فیض احمد فیض اردو شاعر
  3. سبط علی صبا اردو شاعر
  4. توفیق رفعت
  5. آفتاب اقبال، فرزند اقبال
  6. فاروق قیصر
  7. فیض احمد فیض
  8. اشفاق نیاز
  9. فدا فاطم

نگار خانہ[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ سیالکوٹ في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 دسمبر 2019۔
  2.   ویکی ڈیٹا پر میوزک برائنز ایریا آئی ڈی (P982) کی خاصیت میں تبدیلی کریں "صفحہ سیالکوٹ في ميوزك برينز."۔ MusicBrainz area ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 دسمبر 2019۔