عمیرہ احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عمیرہ احمد
معلومات شخصیت
پیدائش 10 دسمبر 1976 (47 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی مرے کالج سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منظر نویس،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں میری ذات ذرہ بے نشاں  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

عمیرہ احمد (ولادت:1976ء) پاکستانی ادیب اور اسکرین لکھاری جو اپنی کتاب پیر کامل کی بدولت مشہور ہوئیں اور پھر اپنے متعدد ناولوں پر مبنی ٹی وی ڈراموں سے شہرہ آفاق پر پہنچیں- ان کے ناولوں پر بننے والے ڈراموں میں میری ذات ذرہ بے نشاں، دوراہا،پیر کامل، مٹھی بھر مٹی، شہرذات,alif، میرا نصیب اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں-فہرست میں دوسرا عمرہ احمد کا عالیف ہے ، جو نہ صرف جدید دور کا کلاسک ہے بلکہ صدی کے اس پہلو میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولوں میں سے ایک ہے۔ جیسے ہی ہدایت کار حسیب حسن نے اعلان کیا کہ وہ اس ناول کو ٹی وی کے لیے ڈھال رہے ہیں ، اس کی فروخت بڑھ گئی کیونکہ لوگ اس پلاٹ ، کہانی اور کرداروں کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ ڈائریکٹر نے ہوشیاری کے ساتھ اس بیان کو لکیری سے غیر لکیری شکل میں تبدیل کر دیا ، جس سے ناظرین اس سسپنس کا انتظار کرنے لگے جو بعد میں ڈراما میں آیا لیکن ناول کے آغاز میں قارئین کے سامنے انکشاف ہوا۔ اور چونکہ میکرز یوٹیوب پر اقساط شائع کرنے کے لیے کافی ہوشیار تھے ، اس لیے ڈراما ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ایک بہت بڑی کامیابی بن گیا ، اس سال کے سب سے زیادہ پائے جانے والے ڈرامے میرے پاس تم ہو کے مخالف نشر ہونے کے باوجود ۔ اداکار حمزہ علی عباسی نے مذہبی وجوہات کی بنا پر اداکاری چھوڑنے کے فیصلے سے صرف قارئین کو ناول کے بارے میں مزید دلچسپی پیدا ہو گئی ، کیونکہ حمزہ بالکل وہی کر رہا تھا جو ان کا کردار قلب مومن اسکرین اور پرنٹ میں کرتا ہے۔

عمیرہ احمد مرے کالجسیالکوٹ سے انگریزی میں ماسٹرز کر کے آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں۔ اپنے تحریری سفر کا آغاز انھوں نے خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں آ گئیں- ان کا پہلا ڈراما ‘‘وجود لاریب‘‘ انڈس ویژن سے 2005 میں آیا جس کے لیے انہوں نے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ لیا۔ اس کے بعد ‘‘دام‘‘، ‘‘قید تنہائی‘‘ اور متعدد ڈرامے وہ لکھ چکی ہیں اور ان کے کئی ناول کی ڈرامائی تشکیل ہو چکی۔ ‘‘نور کا مسکن‘‘ کے نام سے ایک ریڈیو ڈراما بھی لکھا۔

ناول اور کہانیاں[ترمیم]

  • واپسی
  • شیریں
  • میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے
  • سحر ایک استعارہ ہے
  • دربار دل
  • امبر بیل
  • عکس
  • آب حیات
  • ہم کہاں کے سچے تھے

ڈرامے[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]