ضلع وہاڑی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضلع وہاڑی

ضِلع وِہاڑى پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے۔ اس کا مرکزی شہر وہاڑی ہے۔ مشہور شہروں میں وہاڑی، بورے والا اور میلسی شامل ہیں۔ 1998ء کے میں کی آبادی کا تخمینہ 20,90,416 تھا۔ ضلع وہاڑی میں عمومی طور پر اردو، پنجابی اور سرائیکی بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ 4364 مربع کلومیٹر ہے۔

تحصیلیں

ضلع وہاڑی کو انتظامی طور پر تین تحصیلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے[1]۔ جو درج ذیل ہیں۔

اس کے علاوہ تین سب تحصیلیں بھی موجود ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں* گگو* کرم پور* جلہ جیم ضلع وہاڑی1 جولائی 1976ء کو ضلع ملتان کی تین تحصیلوں(وہاڑی، میلسی، بورے والہ) کو یکجا کرکے ضلع وہاڑی بنادیا گیا جس کا صدر مقام وہاڑی شہر ہے۔ وہاڑی کا مطلب "سیلابی پانی کی گزرگاہ کی وجہ سے آبادی" ہے۔ ضلع وہاڑی دریائے ستلج کے دائیں کنارے پر واقع ہے ضلع کی کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ د رہائے ستلج بہتا ہے۔

زبان

پنجابی کے لہجے

ضلع وہاڑی میں اردو اور پنجابی بڑی زبانیں ہیں۔ سکولوں اور دفاتر میں زیادہ تر اردو اور انگریـزی رائج ہے 1998ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع وہاڑی کی 94 فیصد آبادی پنجابی بولنے والوں کی ہے ان 94% میں سے 83 % ماجھی لہجہ بولنے والوں کی ہے ضلع وہاڑی کے تقریبا تمام حصوں میں پنجابی بولی جاتی ہے۔ سرائیکی زبان تحصیل میلسی میں بولی جاتی ہے اور ضلع کی کل آبادی کا 11 فیصد لوگ سرائیکی بولتے ہیں جبکہ باقی 6 % دیگر زبانیں(پشتو وغیرہ) بولتے ہیں اردو قومی زبان کے طور پر ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے جبکہ انگریزی پڑھے لکھے طبقے میں مقبول ہے۔

جغرافیہ

ضلع وہاڑی 29°36′N 71°44′E / 29.600°N 71.733°E / 29.600; 71.733 اور 30°22′N 72°53′E / 30.367°N 72.883°E / 30.367; 72.883کے درمیان واقع ہے۔ اس کے جنوبی طرف ضلع بہاولنگر اور ضلع بہاولپور مشرقی طرف ضلع پاکپتن مغربی جانب ضلع لودھراں اور ضلع خانیوال اور شمالی طرف ضلع ساہیوال اور خانیوال واقع ہیں۔ ضلع وہاڑی کا کل رقبہ 4364 مربع کلومیٹر(1685مربع میل) ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 93 کلومیٹر(58میل) اور چوڑائی 47 کلومیٹر(29میل) ہے۔ ضلع وہاڑی کا زیادہ تر علاقہ میدانی اور زرخیز زمین پر مشتمل ہے اس کی زمین کپاس، گندم اور دیگر زرعی اجناس کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ ضلع وہاڑی نیلی بار علاقے میں ہے جو د رہائے ستلج اور دریائے راوی کے درمیان کا علاقہ ہے۔ ضلع وہاڑی کی زرخیز زمین دریائے چناب اور راوی کے پانی سے سیراب کی جاتی ہے۔ ضلع وپاڑی میں وسیع اور اچھا نہری نظام موجود ہے اس میں دو بڑی نہریں ہیں پاکپتن کینال اور میلسی کینال(سدھنائی میلسی لنک کینال). ضلعے میں تمام چھوٹی بڑی نہروں کی تعداد 19 ہے جن کی کل لمبائی 1380 کلومیٹر ہے۔

نُلّہ

دریائے بیاس کا مقامی نام وِیاہ بھی ہے دریائے بیاس کی پرانی گزرگاہ ضلع وہاڑی میں ہی واقع ہے جسے سک بیاس کا نام دیا جاتا ہے اسے نلہ بھی کہتے ہیں شدید بارشوں اور سیلاب کے دوران کبھی کبھار اس میں پانی آجاتا ہے یہ شیخ فاضل کے قریب وہاڑی میں داخل ہوتا ہے اور پکّہی موڑ اور پُل کے قریب دریائے ستلج سے ملتا ہے۔ نلہ کا راستہ کئی سالوں سے تبدیل ہوتا رہا ہے اب یہ بورے والہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

تاریخ

یہ ضلع دو دریائوں ستلج اور سکھ بیاس کے درمیان ہے۔ اس ضلع کا علاقہ دریائے ستلج کے بائیں اور سکھ بیاس کے دائیں کنارے کے درمیان ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ نیلی بار کہلاتا تھا۔ اس ضلع کی حدود جنوب کی طرف ضلع بہاولپور اور بہاولنگر سے ملتی ہیں۔ دریائے ستلج ان دونوں اضلاع کی حد بندی کا کام دیتا ہے۔ مشرقی طرف ضلع ساہیوال، شمال میں ضلع خانیوال اور شمال مغرب کی طرف ضلع ملتان واقع ہے۔ اس ضلع کی شرقاً غرباً لمبائی 80 میل اور شمالاً جنوباً چوڑائی 40 میل بنتی ہے۔ اس کا کل رقبہ1854 مربع میل ہے۔ ماضی قدیم میں ہزاروں سال قبل اس علاقے میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں پھیلی ہوئی تھیں اور یہ علاقہ تاریخی ریاست ملوہہ کا حصہ تھا۔ اس زمانے میں دریائے بیاس اپنی پوری روانی کے ساتھ موجود تھا۔ صدیوں پہلے وسطی پنجاب یعنی ہڑپہ اور ملتان کے علاقے میں دریائے بیاس سوکھ گیا۔ اس آبی گزرگاہ کو آج کل مقامی زبان میں سکھ ویاہ (خشک بیاس) کہتے ہیں۔ 1985ء سے اس میں تھوڑا تھوڑا پانی رواں رہتا ہے۔ دریائے بیاس کے خشک ہوجانے کے بعد ان کے کنارے بسی بسائی آبادیوں پر موت نے اپنے سائے پھیلا دیے۔ مختصر مختصر سی بستیاں، بڑے بڑے قصبے اور گائوں کھنڈروں میں بدل گئے اور وہ بلند ٹیلوں کی صورت میں باقی رہ گئے۔ نہروں کے نکلنے کے بعد لوگوں نے ہزاروں برس پرانی بستیوں کے آثار کے حامل ٹیلوں کو ہموار کر کے زراعت شروع کردی۔ اس طرح قدیم مقامات کا نام و نشان ہی مٹ گیا۔ ضلع وہاڑی کے علاقے میں دریائے بیاس کو مقامی لوگ ’’ویاہ‘‘ کہتے تھے۔ جب بیاس سوکھ گیا تو برساتی نالے کی گزرگاہ کے لیے بھی لفظ ’’ویاہ‘‘ استعمال ہونے لگا۔ چنانچہ برساتی نالوں کے قریب کئی بستیاں آباد ہوئیں جو لفظ ’’ویاہ‘‘ کی نسبت سے ’’ویاڑی‘‘ اور پھر ہوتے ہوتے ’’وہاڑی‘‘ کہلائیں۔ اس نام کی کئی بستیاں مثلاً وہاڑی سموراں والی اور وہاڑی ملکاں والی وغیرہ آباد ہیں۔ وہاڑی دراصل ’’وہاڑی لُڑکیاں والی‘‘ نام کی ایک معمولی بستی تھی جو اس جگہ آباد تھی جہاں آج کل اسلامیہ ہائی سکول واقع ہے۔ رفتہ رفتہ اس لمبے نام کا تخصیصی حصہ ’’لُڑکیاں والی‘‘ کثرت استعمال سے حذف ہو گیا اور اس پرانی بستی کی جگہ جواب ناپید ہو چکی ہے۔ نئی بستی صرف ’’وہاڑی‘‘ کہلائی۔ ابتداً وہاڑی میلسی میں شامل تھا ۔ دریائے ستلج کے کنارے وہاڑی، میلسی، بورے والا اور ساہیوال تک بھابھے، تجوانے، دولتانے، مگھرانے، دادپوترے، لکھویرے، سلایرے، سنپال، سیال اور کھرل قوم کے لوگ آباد چلے آ رہے تھے۔ ماضی میں اس علاقہ کا تعلق ملتان سے رہا ہے۔ ضلع وہاڑی کی تحصیل بوریوالہ کا قصبہ کھتوال سب سے پُرانا اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ علاقہ محمد بن قاسم کی ملتان فتح کے وقت راجا داہر کی حکومت کے ماتحت تھا۔ اکبر بادشاہ کے زمانے میں 1591ء میں ملتان، کہروڑپکا، جھنگ، شورکوٹ اور وہاڑی کے علاقوں کو ملا کر دوبارہ صوبہ ملتان بنایا گیا۔ اسی عرصے میں شہنشاہ اکبر کے زمانے میں ستلج دریاکے دائیں کنارے کے علاقے پر جوئیہ خاندان کا راج تھا اور ان کا مرکز فتح پور (تحصیل میلسی) تھا۔ یہ قصبہ آج بھی قائم ہے۔ 1748ء سے 1752ء کے دوران معین الدین اور میر منو لاہور اور ملتان کے صوبیدار مقرر ہوئے۔ میر منو نے ایک چھوٹے درجہ کے ہندو کوڑا مل کو علاقہ ملتان کا کچھ مشرقی حصہ، جس میں وہاڑی، میلسی، کہروڑپکا، بہاول گڑھ اور دُنیا پور کے علاقے شامل تھے، پٹے پردے دیا۔ کوڑا مل نے بغاوت کی اور مہاراجا کا لقب اختیار کر کے ان علاقوں پر حکمرانی کرنے لگا۔ بعد ازاں اس کے خلاف کارروائی کرکے اس کا اقتدار ختم کر دیا گیا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخری ربع میں نواب مظفر خاں والیِ ملتان کی حکومت قائم ہوئی۔ میلسی اور لُڈن کو اس زمانے میں پرگنوں کی حیثیت حاصل تھی۔ وہاڑی کی آباد کاری باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت 1924ء میں شروع ہوئی۔ اس سال پاک پتن نہر نکلی اور1925ء میں نیلی بار پراجیکٹ شروع ہوا۔ مسٹر ایف ڈبلیو ویس پہلے منتظم آبادی مقرر ہوئے۔ 1925ء میں یہاں لائن بچھائی گئی اور 1928ء میں منڈی کی تعمیر ہوئی۔ 1927ء میں اسے نوٹیفائیڈ ایریا قرا ر دیا گیا، پھر ٹائون کمیٹی اور 1966ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل ہو گیا۔ ایک سکیم کے تحت علاقے میں دس ایکڑ فی خاندان رقبہ الاٹ کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ ضلع وہاڑی کے چکوک ڈبلیو بی 19، 21 اور 23، 1926ء میں اسی سکیم کے تحت وجودمیں آئے تھے۔ 1942ء میں وہاڑی کو تحصیل میلسی سے الگ کر کے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ 1963ء میں وہاڑی کو سب ڈویژن اور 1976ء میں اسے ضلع بنا دیا گیا۔ میلسی، بوریوالہ اور وہاڑی کو اس کی تحصیلیں اور ٹبہ سلطان اور گگو منڈی کو سب تحصیلوں کا درجہ دیا گیا۔ قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان وسیم احمد اور اولمپین وقاص اکبر کا تعلق اس ضلع سے ہے۔

کھیل

ضلع وہاڑی کی سرزمین نے کئی کھلاڑیوں کو جنم دیا ہے۔ یہ علاقہ ہاکی میں مشہور ہے۔ کھیل میں وہاڑی سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیون کی فہرست درج ذیل ہے۔* وقار یونس قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان* وسیم احمد قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان* چوہدری طلعت وحید گولڈ میڈلسٹ۔ انٹر بورڈ اتھلیٹک چیمپیئن شپ(لانگ جمپ)* محمد سجاد تھوٹا گولڈ میڈلسٹ پاکستان انٹر بورڈ تاکیوانڈو چیمپیئن شپ* محمد عرفان قومی کرکٹ ٹیم کے لمبے ترین کھلاڑی

تعلیم

کامسٹس یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،وہاڑی کیمپس
  • کامسیٹس یونیورسٹی* گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول وہاڑی* گورنمٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج وہاڑی* گورنمٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج خواتین وہاڑی* گورنمٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج بورے والا* گورنمٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج خواتین بورے والا* گورنمٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج میلسی* گورنمٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج خواتین میلسی* گورنمنٹ کالج ٹبہ سلطانپور* تابندہ ماڈل ہائی سکول بورے والا* پنجاب گروپس آف کالجز وہاڑی،بورے والا* سپریئر گروپ آف کالجز بورے والا* بیسٹ گروپ آف کالجز وہاڑی* پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی وہاڑی* دی سٹی سکول وہاڑی،بورے والا

موسم

وہاڑی کا موسم خشک اور گرم ہے موسم گرما اپریل میں شروع ہوتا ہے اور اکتوبر اختتام پزیر ہوتا ہے۔ مئی، جون، جولائی گرم ترین مہینے ہوتے ہیں۔ ان مہینوں میں درجہ حرارت 28 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔ موسم گرما کے دوران گرم اور گرد آلود ہواؤں کا چلنا عام بات ہے۔ موسم سرما نومبر سے مارچ تک شروع رہتا ہے اس دوران درجہ حرارت 4 سے 22 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے موسم سرما کے دوران دھند چھانا معمول ہے۔ مون سون بارشیں جولائی سے ستمبر تک ہوتی ہیں۔ سردیوں میں بہت کم بارشیں ہوتی ہیں۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

بیرونی روابط