ضلع لودھراں
| ضلع لودھراں | |
|---|---|
نقشہ | |
| انتظامی تقسیم | |
| ملک | |
| دار الحکومت | لودهراں |
| تقسیم اعلیٰ | ملتان ڈویژن |
| جغرافیائی خصوصیات | |
| متناسقات | 29°32′N 71°38′E / 29.54°N 71.63°E |
| رقبہ | 1790 مربع کلومیٹر |
| قابل ذکر | |
| جیو رمز | 7418846 |
![]() | |
| درستی - ترمیم | |
ضلع لودھراں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جنوبی پنجاب کا ایک ضلع ہے۔ اس کا مرکزی شہر لودھراں ہے۔ مشہور شہروں میں لودھراں، دنیاپور، کہروڑ پکا اور گیلا والا شامل ہیں۔ 1998ء میں آبادی کا تخمینہ 11,71,800 تھا۔ ضلع لودھراں میں عمومی طور پر سرائیکی، اردو،پنجابی وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ 2778 مربع کلومیٹر ہے۔
تاریخ
راجا لودھرا، سکھ راجا رام دیو منہاس کے بیٹے تھے اور ان کا خاندان 'سورج ہنسی راجپوت' کی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ لودھرا خاندان پہلے ریاست بہاولپور میں مقیم تھا اور بعد ازاں 1743 کے اوائل میں دریائے ستلج اور دریائے بیاس کی وادی میں آباد ہوا۔ اسی وجہ سے اس علاقے کو 'لودھر واہ' کے نام سے جانا جاتا تھا۔
1849 میں ملتان کا علاقہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِ انتظام آیا، جس کے نتیجے میں 5 مئی 1883 کو لودھراں کو تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ ملک غلام حسین لودھرا (ذیلدار) نے اس علاقے کے لیے "لودھراں" کا نام تجویز کیا تھا۔ اس وقت لودھراں میں صرف 19 دیہات تھے اور یہ ضلع ملتان کی ایک تحصیل تھی۔ یہ علاقہ اس وقت 'کوٹ پیر سعادت' میں واقع تھا اور تحصیل کا دفتر بھی وہیں تین سال تک کام کرتا رہا۔ بعد ازاں، لودھراں شہر کے اندر تحصیل کا دفتر تعمیر کیا گیا۔ منشی عبدالوحید لودھراں کے پہلے سپرنٹنڈنٹ تھے۔
اگست 1873 میں صدر پولیس اسٹیشن اور 1885 میں ریلوے اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا۔ یکم اپریل 1909 کو برطانوی حکومت نے لودھراں سے کراچی تک ریلوے لائن بچھائی۔
سن 1924 میں کہروڑ پکا اور دنیا پور کے علاقوں کو تحصیل میلسی سے الگ کر کے تحصیل لودھراں میں شامل کر دیا گیا۔ نوجوان نسل کو تعلیم دینے اور علم کی اشاعت کے لیے لودھراں میں بے شمار تعلیمی ادارے، اسکول اور کالج کام کر رہے ہیں۔ یہاں لوگوں کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کے متعدد سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری پرائمری اور ہائی اسکول، انٹر کمرشل انسٹی ٹیوٹ، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور کالج موجود ہیں۔ یہاں کئی ہسپتال بھی قائم ہیں۔
سن 1981 میں، وکلا ایم ارشد خان اور چوہدری ایم علی گوہر نے لودھراں کو ضلع کا درجہ دلوانے کے لیے "لودھراں کو ضلع بناؤ" تحریک کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر شیر محمد اعوان کی قیادت میں ایک زبردست جدوجہد شروع کی گئی۔ بالآخر عوامی جدوجہد کامیاب رہی؛ سابق وفاقی وزیر خارجہ جناب محمد صدیق خان کانجو شہید نے بھرپور کوششیں کیں اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ جناب غلام حیدر وائیں نے 30 جون 1991 کو لودھراں کو ضلع کا درجہ عطا کیا۔
جہاں کہروڑ پکا اور دنیا پور کو تحصیلوں کا درجہ دیا گیا، وہیں جلال پور پیر والا سے 14 دیہات الگ کر کے تحصیل لودھراں میں شامل کر دیے گئے۔ شوکت حیات خان درانی لودھراں ضلع کے پہلے ڈپٹی کمشنر بنے اور ایم اختر خان کانجو کو ڈسٹرکٹ کونسل لودھراں کا پہلا چیئرمین منتخب کیا گیا۔
یہ پنجاب کا 32 واں ضلع ہے جو دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے درمیان واقع ہے؛ یہ دریا اس کی حدود تشکیل دیتے ہیں۔ دریائے بیاس اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے لیکن دریائے ستلج بدستور بہہ رہا ہے۔
لودھراں شہر کو سب سے پہلے 18 ویں صدی میں انگریز حکمرانوں نے دریائے ستلج کے شمالی جانب آباد کیا تھا۔ لودھراں کی بنیاد 1830 میں رکھی گئی تھی اور جب 1849 میں پنجاب میں برطانوی راج کا دائرہ کار وسیع ہوا تو لودھراں کے علاقے سمیت ضلع ملتان بھی برطانوی حکمرانی کے زیرِ اثر آ گیا۔ یہ جنوبی پنجاب کے مرکزی راستے پر واقع ایک اہم ریلوے جنکشن ہے۔ پنجاب گزٹیئر ملتان (1901-02) کے مطابق، اس وقت ضلع ملتان میں پانچ تحصیلیں (پرگنے) شامل تھیں۔
پھر 1873 میں اراضی کے بندوبست (سیٹلمنٹ) کا عمل شروع ہوا جو اپریل 1875 میں مکمل ہوا۔ اس وقت تحصیل لودھراں درج ذیل 19 دیہات پر مشتمل تھی: عمر پور، موچی موہانہ، بیلی، لاہوری، فتح پور، خان پور، خان واہ گھلوان، گوگراں، موتھا، کوٹ لال شاہ، کرم علی والا، لطف پور، وگھامل، ٹھٹھ گھلوان اور لودھراں۔
اس کے بعد 1881 میں شجاع آباد کے دائرہ کار کو بڑھانے اور میلسی کے انتظامی رقبے کو کم کرنے کے مقصد سے کئی تبدیلیاں کی گئیں۔ ان انتظامات کے تحت کہروڑ پکا کے نواح میں واقع 60 دیہات کو میلسی سے لودھراں تحصیل میں منتقل کر دیا گیا۔ مزید تبدیلیاں 1897 میں کی گئیں جن کے ذریعے 46 دیہات لودھراں سے شجاع آباد منتقل کیے گئے، جبکہ اس کے عوض کہروڑ پکا کے مشرق میں واقع 104 دیہات میلسی سے لے کر لودھراں میں شامل کر دیے گئے۔
واضح رہے کہ کہروڑ پکا اور دنیا پور پہلے تحصیل میلسی کا حصہ تھے جنھیں 1924 میں لودھراں کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ لودھراں ایک ویران مگر زرعی لحاظ سے موزوں اور ہموار خطہِ اراضی تھا۔ 1920 میں برطانوی حکومت نے اس علاقے کو آباد کرنے کا منصوبہ بنایا، چنانچہ مختلف زرعی اراضی (اسٹیٹس) دوسرے علاقوں کے لوگوں میں تقسیم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، فوجی گرانٹ اور ٹیوب ویل اسکیم نے بھی علاقے کی آبادی میں اضافہ کیا۔ یوں اس خطے کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
تحصیلیں
اسے انتظامی طور پر تین تحصیلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔
مزید دیکھیے
حوالہ جات
- ↑ "صفحہ ضلع لودھراں في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اکتوبر 2026ء
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|accessdate=(معاونت) و|accessdate=میں 16 کی جگہ line feed character (معاونت)

