ضلع جہلم
| ضلع جہلم | |
|---|---|
نقشہ |
|
| انتظامی تقسیم | |
| ملک | |
| تقسیم اعلیٰ | راولپنڈی ڈویژن |
| جغرافیائی خصوصیات | |
| متناسقات | 32°56′00″N 73°44′00″E / 32.933333333333°N 73.733333333333°E |
| رقبہ | 3587 مربع کلومیٹر |
| قابل ذکر | |
| جیو رمز | 1175862 |
![]() |
|
| درستی - ترمیم | |
ضلع جہلم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نو ڈویژن میں سے راولپنڈی ڈویژن کا اور پنجاب کے 36 اضلاع میں سے ایک ضلع جس کا تاریخ میں 326 ق م سے 355 ق م یونانی مورخ نے زکر کیا ہے اور ہندوں کی مقدس سب سے قدم کتاب رگ وید میں اس کو وٹستا سے پکارا گیا اور بار بار اس کا زکر ملتا ہے کوررو پانڈؤ کی جنگ مہا بھارت میں بھی دریا وٹستا کا تفصیل سے ذکر کیا ہے اس کا مرکزی شہر جہلم ہے جو دریائے جہلم کے کنارے آباد ہے۔ مشہور شہروں میں جہلم اور پنڈ دادن خان جس کے قریب سکدر اعظم مقدونیہ کا گھوڑا دفن ہے بھی شامل ہیں۔ 1998ء میں کی آبادی کا تخمینہ 9,69,957 تھا۔ ضلع جہلم میں عمومی طور پر پنجابی پٹھواری ویدک سنسکرت کا لہجہ پٹھواری، اردو انگلش وغیرہ بولی جاتی ہیں لیکن لوگ انگلش فرنچ اسپنش یورپی زبانیں بھی جاگتے ہیں جو لوگ روزگار کے سلسلے یورپ میں کام کرتے ہین۔ اس کا رقبہ 3587 مربع کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے اوسط بلندی 250 میٹر (820.21 فٹ) او ضلع کا سب سے بلند ٹلہ جوگیاں جس کی بلندی 32 سوفٹ ہے
پاکستان کا مشہور منگلہ ڈیم تعبیر 1960 سے 1967 چیف مارشل صدر ایوب خان نے جہلم مین افتیا ح کیا جو آج کل تحصیل دینہ کا حصہ ہے .
تعارف
[ترمیم]جہلم، پنجاب، پاکستان کا ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے جو دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے۔ یہ ضلع جہلم کا صدر مقام اور راولپنڈی ڈویژن کا حصہ ہے۔ جہلم کو سپاہیوں کا شہر (City of Soldiers) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے بڑی تعداد میں افراد پاک فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں۔
نام کی وجہ
[ترمیم]"جہلم" کا نام دو سنسکرت الفاظ "جل" (پانی) اور "ہم" (برف) سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے "برف کا پانی"۔ بعض مؤرخین کے مطابق، یہ نام سکندر اعظم کے گھوڑے بیوسیفلس (Bucephalus) سے منسوب شہر بیوسیفالا (Bucephala) سے اخذ کیا گیا۔
تاریخی پس منظر
[ترمیم]قدیم تاریخ
[ترمیم]وادی سندھ، موریہ سلطنت، گپتا سلطنت اور یونانی سلطنت کی تہذیبوں سے اس شہر کا گہرا تعلق رہا ہے۔ یہاں 326 قبل مسیح میں جنگ ہائیڈیسپس (Battle of Hydaspes) سکندر اعظم اور راجہ پورس کے درمیان لڑی گئی۔
مغلیہ اور سکھ دور
[ترمیم]مغلیہ دور میں جہلم، گکھڑ قبیلے کے زیر اثر رہا۔ بعد ازاں سکھ سلطنت نے اس علاقے پر قبضہ کیا اور آخرکار یہ برطانوی راج کا حصہ بن گیا۔
برطانوی دور
[ترمیم]1857ء کی جنگ آزادی کے دوران جہلم میں بغاوت ہوئی جس میں 35 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے۔ ان کی یاد میں چرچ آف سینٹ جان تعمیر کیا گیا۔
جغرافیہ
[ترمیم]جہلم، پوٹوہار کے میدانوں میں واقع ہے۔ یہاں کا موسم گرمیوں میں گرم اور مرطوب جبکہ سردیوں میں ٹھنڈا ہوتا ہے۔ دریائے جہلم شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے، جو زرخیزی اور خوبصورتی کا ذریعہ ہے۔
معیشت
[ترمیم]قدیم دور میں جہلم نمک کی تجارت کا مرکز تھا۔ موجودہ دور میں یہاں ٹمبر، ٹیکسٹائل، ماربل، تمباکو، آٹا اور شیشہ سازی کی صنعتیں ہیں۔ کھیوڑہ نمک کی کان دنیا کی دوسری بڑی کان مانی جاتی ہے۔
تعلیم
[ترمیم]شہر میں متعدد تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن میں گورنمنٹ ہائی اسکول جہلم اور مختلف کالج شامل ہیں۔ سراۓ عالمگیر کے قریب واقع ملٹری کالج جہلم فوجی افسران کی تربیت کے لیے معروف ہے۔
مشہور مقامات
[ترمیم]- قلعہ روہتاس — شیر شاہ سوری کا بنایا ہوا عظیم قلعہ، یونیسکو کا عالمی ورثہ۔
- چرچ آف سینٹ جان — 1857ء کے برطانوی شہداء کی یادگار۔
- ٹلہ جوگیان — ہندو اور سکھ مذاہب کا مقدس مقام۔
- کھیوڑہ نمک کی کان
- منگلا ڈیم اور رسول بیراج
ثقافت و زبان
[ترمیم]- زبانیں: پنجابی (اکثریتی)، اردو۔
- تہوار: عیدین، بسنت، میلوں، دیوالی اور ثقافتی تقریبات۔
آمد و رفت
[ترمیم]- گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) سے ملک بھر سے منسلک۔
- ریلوے اسٹیشن اور روڈ نیٹ ورک کے ذریعے ملک کے دیگر شہروں سے جڑا ہوا۔
- جہلم پل — سڑک و ریل دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مشہور شخصیات
[ترمیم]- سید ضمیر جعفری — شاعر، مزاح نگار
- اندرا کمار گجرال — بھارت کے سابق وزیر اعظم، جہلم میں پیدا ہوئے۔
خلاصہ
[ترمیم]جہلم ایک تاریخی، ثقافتی اور عسکری اہمیت کا حامل شہر ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے واقع یہ شہر آج بھی تاریخ، ترقی اور ورثے کا حسین امتزاج ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "صفحہ ضلع جہلم في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مارچ 2026ء
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|accessdate=(معاونت) و|accessdate=میں 13 کی جگہ line feed character (معاونت)
تحصیلیں
[ترمیم]اسے انتظامی طور پر چار تحصیلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔


