ضلع چکوال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ضلع چکوال
نشست

ضلع چکوال چکوال کی تاریخ تاریخی اہمیت۔

ضلع چکوال پنجاب کا اہم ترین ضلع ہے اور پانچ تحصیلوں چکوال، کلر کہار، چوآسیدن شاہ، تلہ گنگ اورلاوہ جبکہ 68 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ چکوال میں قومی اسمبلی کے دو این اے۔60 اور این اے۔61 جبکہ صوبائی اسمبلی کے چار پی پی-20 (چکوال-1)، پی پی-21 (چکوال-2)، پی پی-22 (چکوال-3) اور پی پی-23 (چکوال-4) کے حلقے آتے ہیں۔چکوال کو1985ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا اس سے قبل یہ ضلع جہلم کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔

تلہ گنگ ضلع چکوال کی ایک انتہائی اہم تحصیل ہے۔ اس کے نام کے ساتھ دو الفاظ تلہ اور گنگ بھی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔تلہ کا مطلب ہے نچلے حصے والی زمین اور گنگ ہندوؤں کی ایک قوم کا نام ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہاں پر گنگ قوم آباد تھی اور یہ علاقہ چونکہ باقی علاقے سے نچلی سطح پر واقع تھا اس لیے یہاں پر آباد گنگ قوم کے افراد کو تلہ گنگ کے باعث شناخت کیا جاتا تھا۔تحصیل تلہ گنگ ملک کی سب سے بڑی شاہراہ موٹروے سے 30کلو میٹر دور واقع ہے جبکہ ضلع چکوال سے 45کلو میٹر دور واقع ہے۔ یہاں پر آباد لوگ پنجابی زبان بولتے ہیں۔لاوہ جسے اب ضلع چکوال کی پانچویں تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے کچھ سال قبل تک تحصیل تلہ گنگ میں ایشیاء کے سب سے بڑے قصبے کے طور پر موجود تھا جس کے رقبے پر پوری تحصیل تلہ گنگ کی آباد ی کی اکثریت آباد تھی۔

چکوال کا علاقہ محل وقوع کے اعتبار سے شمالی حصے کی طرف سے ضلع راولپنڈی،جنوبی سطح پر ضلع جہلم ،مشرقی اعتبار سے خوشاب اورمغربی سرحد میانوالی سے ملتا ہے۔کل رقبہ 6609کلومیٹر اور1652443ایکٹر تک پھیلا ہوا ہے۔جنوبی حصے میں زیادہ تر پہاڑی سلسلہ واقع ہے اور سطح سمندر سے 3701فٹ کی بلندی پر ہے جبکہ شمال میں زیادہ حصہ دریا سواں کے قریب واقع ہے۔چکوال میں پہاڑی سلسلہ کےساتھ ساتھ ایک بارانی علاقہ ہے اس لیے یہاں پر کاشتکاری میں بارش کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔زیادہ تر لوگ دیہی علاقے میں آباد ہیں۔چکوال ایک تاریخی علاقہ ہے اور پاکستان کے قیام سے قبل یہاں پر ہندوسکھ اور عیسائی قومیں آباد تھیں جن میں اکثریت ہندوؤں اور سکھوں کی تھی۔1947میں پاکستان کے قیام کے بعد یہ قومیں بھارت کو ہجرت کرگئیں جبکہ بھارت سے آنے والے مسلمان یہاں پر آباد ہوئے۔1947ء سے قبل انگریزوں کے دور حکومت میں چکوال ضلع جہلم کی تحصیل ہوتی تھی۔

1891میں اعدادو شمار کے مطابق اس کی آبادی کی کل تعداد 164,912تھی۔تحصیل چوآ سیدن شاہ کے کہار روڈ کے قریب 3000قبل کاتیس راج ہوا کرتا تھا جس کے چند ایک آثار آج بھی پائے جاتے ہیں۔ ہندوراج کے علاوہ وہاں سے 3کلو میٹر دور دھمیال بھی واقع ہے جو 1920میں بھی تمام افراد کے لیے اس حوالے سے ایک اہم جگہ تھی کہ یہاں پر تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو روز گار کی تلاش کیلئے آنا پڑتا تھا اور انگریز فوج کا قیام بھی یہیں پر تھا۔

تحصیلیں

اسے انتظامی طور پر پانچ تحصیلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔