سکھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سکھ
Sikh
Nishan Sahib.svg
نشان صاحب سکھوں کا پرچم
کل آبادی
27 ملین
خاطر خواہ آبادی والے علاقے
Flag of India.svg بھارت 19,215,730[1]
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 760,000[2]
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا 500,000[3]
Flag of Canada.svg کینیڈا 468,000[4]
Flag of Malaysia.svg ملائیشیا 100,000
100,000[5]
Flag of Australia.svg آسٹریلیا 72,000[6]
Flag of Italy.svg اطالیہ 70,000[7]
Flag of Thailand.svg تھائی لینڈ 70,000[8]
Flag of Pakistan.svg پاکستان 50,000[9]
Flag of the Philippines.svg فلپائن 30,000[10]
Flag of Kuwait.svg کویت 20,000[11]
Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا 15,000[12]
Flag of France.svg فرانس 15,000[13]
Flag of the Netherlands.svg نیدرلینڈز 12,000[14]
Flag of Singapore.svg سنگاپور 9,733[15]
Flag of New Zealand.svg نیوزی لینڈ 9,507[16]
Flag of Hong Kong.svg ہانگ کانگ 8,000[17]
Flag of Nepal.svg نیپال 5,890[18]
Flag of Germany.svg جرمنی 5,000[19]
Flag of Fiji.svg فجی 4,674[20]
Flag of Norway.svg ناروے 3,000[21]
Flag of Afghanistan.svg افغانستان 3,000[22]
Flag of Austria.svg آسٹریا 2,794[23]
Flag of Ireland.svg جمہوریہ آئرستان 1,200[24]
Flag of Turkey.svg ترکی 2[25]
زبانیں
پنجابی (گرمکھی)
سکھ تارکین وطن انگریزی, سندھی,[26] ہندی, اردو, سواحلی, مالے, تھائی اور دیگر زبانیں بھی استعمال کرتے ہیں۔
مذہب
سکھمت

2004 کے اعداد و شمار.

سکھ مذہب (سکھ مت) کے پیروکار کو سکھ کہتے ہیں۔ سکھ پنجابی زبان کا لفظ ہے اور سنسکرت سے آیا ہے اور اسکا مطلب ہے سیکھنے والا۔ سکھ ساری دنیا میں پھیلے ہوۓ ہیں۔ لیکن ان کی زیادہ تعداد بھارت میں ہے۔

سکھ ہونے کی شرائط[ترمیم]

ایک خدا کو ماننا۔

  • 10 گرووں کو ماننا جو گرو نانک سے گورو گوبند سنگھ تک ہیں۔
  • گرو گرنتھ صاحب، سکھوں کی مقدس کتاب کو ماننا۔
  • 10 گرووں کی تعلیمات کو ماننا۔
  • ایک ایماندارانہ زندگی گزارنا، ظلم سے باز رہنا اور نیک لوگوں کی عزت کرنا۔

دنیا بھر میں سکھوں کی تعداد 2 کروڑ 30 لاکھ ہے اور اس کا 60٪ بھارتی صوبہ پنجاب ميں رہتے ہیں۔ بھارت کے سابقہ وزیراعظم منموہن سنگھ بھی ایک سکھ ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

سکھ مذہب کا آغاز پندرھویں صدی میں بابا گرُو نانک نے کیا۔اُن کےبعداُن کے پیش رو، نو(9) گُرووں نے سکھ عقائد کو آنے والی کئی صدیوں تک فروغ دینے کا کام کیا۔پانچویں گُرو، گُرو ارجن کے دور میں سکھ ازم بہت زیادہ مستحکم ہوا۔ گرُو ارجن نے امرتسر کو دنیا بھر کے سکھوں کے لیے دارالحکومت قرار دیا اور سکھوں کی پہلی مستند مذہبی کتاب ’ادی گرنتھ‘ مرتب کی۔ تاہم گُرو ارجن کے دور میں ریاست کی جانب سے سکھ ازم کو ایک خطرہ سمجھا گیا اور1606میں گُرو ارجن کو پھانسی دے دی گئی۔سکھوں کے خلاف ہونے والے ریاستی مظالم سے تنگ آکر چھٹے گُرو ہرگوبند نے سکھوں کو عسکری تربیت دینا شروع کی تا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے ظلم کا مقابلہ کر سکیں۔ اس دوران سکھوں نے اپنے عقیدے کے تحفظ کے لیے کئی لڑائیاں لڑیں۔ مغلیہ دور حکومت آنے تک سکھوں نے حکمرانوں کے ساتھ نسبتاً پُر امن دور گزارا۔ مغل بادشاہ اورنگزیب کے دور میں حکومت اور سکھوں کے درمیان چپقلش شروع ہوئی جس نے لڑائی کی شکل اختیار کر لی۔ 1675میں اورنگزیب نے نویں گُروتیغ بہادر کو گرفتار کرکے تختۂ دار پر لٹکا دیا۔ 1699میں دسویں گُرو گوبند سنگھ نے مردوخواتین پر مشتمل عسکری گروپ ’خالصہ‘ تشکیل دیا، جس کا مقصد اپنے عقیدے کا تحفظ کرنا تھا۔ گوبند سنگھ نے سکھوں کی ابتدائی رسم (کندھے دی پھول) قائم کی اور سکھوں کو انوکھی وضع قطع دینے کے لیے پانچ ’ک‘ دیے۔ گوبند سکھوں کے آخری گُرو تھے، اب سکھ اُن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ سکھوں کے پہلے عسکری لیڈر بندا سنگھ بہادر تھے، جنہوں نے 1716میں اپنی گرفتاری اور پھانسی تک مغلوں کے خلاف زبردست مہم چلائی۔ سترھویں صدی کے وسط میں سکھ ایک بار پھر منظم ہوئے اور اگلے پچاس سالوں میں انہوں نے خطے کے زیادہ سے زیادہ حصے پر اپنا تسلط قائم کیا۔ 1799میں رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا اور1801میں پنجاب کو ایک خود مختار ریاست قرار دے کر خود کو مہاراجہ کا لقب دیا۔ اُس نے ایک ایسی ریاست میں کام یابی سے حکومت کی جہاں سکھ اقلیت میں تھے۔ 1839میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اقتدار کے لیے ہونے والی جنگ نے ریاست کو دو لخت کردیا۔ 1845میں سلطنتِ برطانیہ نے اندرون خانہ ہونے والی لڑائیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سکھ فوج کو شکست سے دوچار کیا اور ان کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کرلیا۔ چار سال بعد سکھوں نے دوبارہ برطانوی فوج پر حملہ کیا، تاہم اس میں بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس لڑائی کے بعد انگریزوں اور سکھوں کے درمیان تعلقات خوش گوار ہوگئے اور سکھوں کی بڑی تعداد نے بعد میں برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دیں۔ تاہم یہ دوستی زیادہ عرصے نہیں چل سکی اور اس کا اختتام 1919میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ہونے والے قتل عام پر ہوا، جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں سکھ بھی مارے گئے۔ اس واقعے میں تقریباً چار سو افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے[27]۔

پانچ ککے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Census of بھارت". اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  2. Robertson، David (30 January 2009). "UK Labour force survey replies by religion July to September 2008". The Times (London). http://www.timesonline.co.uk/multimedia/archive/00478/table_478352a.jpg۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 June 2010. 
  3. "Sikhs express shock after shootings at Wisconsin temple". BBC. 6 August 2012. http://www.bbc.co.uk/news/world-us-کینیڈا-19143281۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 August 2012. 
  4. =12 May 2013 "2011 National Household Survey". Statistics کینیڈا. 8 May 2013. اخذ کردہ بتاریخ 12 May 2013. 
  5. "Overseas بھارتn: Connecting بھارت with its Diaspora". اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. [مردہ ربط]
  6. "Reflecting a Nation: Stories from the 2011 Census". آسٹریلیاn Bureau of Statistics. 21 June 2012. اخذ کردہ بتاریخ 11 May 2013. 
  7. "2004 Sikh Population of اطالیہ". اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  8. "2006 Sikh Population". اخذ کردہ بتاریخ September 2012. 
  9. Rana، Yudhvir. "Pak NGO to resolve issues of Sikh community". The Times Of بھارت. http://timesofبھارت.بھارتtimes.com/بھارت/Pak-NGO-to-resolve-issues-of-Sikh-community-/articleshow/7382102.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 January 2011. 
  10. "2011 Gurdwara فلپائن: Sikh Population of the فلپائن". اخذ کردہ بتاریخ 11 June 2011. 
  11. "Sikh Population of کویت". اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  12. "2008 UNHCR report of religions and religious affiliations: Sikh Population of انڈونیشیا". اخذ کردہ بتاریخ 3 March 2009. 
  13. Moliner، Christine. "Estimate of French Sikh population 'Workshop on بھارتn Migration' at Laboratoire d’Anthropologie Urbaine/CNRS". Ph.d. اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  14. "Sikh Population of The نیدرلینڈز". اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  15. "Sikh Population of سنگاپور" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  16. "نیوزی لینڈ Sikh Population via NZ 2006 census". اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  17. "2008 UNHCR report: Sikh Population of ہانگ کانگ/چین". اخذ کردہ بتاریخ 3 March 2008. 
  18. "Sikh Population of نیپال" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  19. "Sikh Population of جرمنی for statistical sampling". اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  20. "UN figures for فجی 1986" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  21. "Sikhism in ناروے". 
  22. "Sikhs struggle for recognition in the Islamic republic – Radio فرانس Internationale". اخذ کردہ بتاریخ 23 November 2009. 
  23. "Sikh Population of آسٹریا" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  24. Coghlan، Tom; Pitel، Laura; Gray، Sadie (30 August 2007). "Sikh Population of جمہوریہ آئرلینڈ from The Times". London. http://www.timesonline.co.uk/tol/news/world/article2351224.ece۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 April 2008. 
  25. "2013 ترکی Census – Sikh Population" (PDF). 
  26. Saathi، Jeevan. "Sindhi Sikh Matrimony". Sindhi Sikh Online Matrimonial Service. Jeevansathi. اخذ کردہ بتاریخ 17 May 2011. 
  27. بھارت کے سر پر منڈلاتا خطرہ۔۔۔۔۔’’خالصتان‘‘