ملوٹ (چکوال)
| ملوٹ (چکوال) Malot | |
|---|---|
| گاؤں اور یونین کونسل | |
| ملک | پاکستان |
| صوبہ | پنجاب |
| ضلع | ضلع چکوال |
| منطقۂ وقت | پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5) |
ملوٹ (چکوال) (انگریزی: Malot) پاکستان کے ضلع چکوال کا ایک گاؤں جوپاکستان کی یونین کونسلیں تحصیل کلرکہار میں واقع ہے۔ اس کا پرانا نام ملکوٹ اور راج گڑھ تھا۔یہاں کی اکثر آبادی کا تعلق راجپوت اور جنجوعہ برادری سے ہے۔ [1] اس گاؤں کی حدود میں قلعہ ملوٹ ایک تاریخی قلعہ ہے۔ جہاں تک ملوٹ کے وجہ تسمیہ کا تعلق ہے اس سلسلہ میں ایک اساطیری روایت کے مطابق جنجوعہ راجپوتوں کے ایک مورث اعلیٰ کے نام ’’ملودیویا ملو‘‘ کی نسبت سے اس کا نام ملوٹ پڑا لیکن تاریخ راجپوتاں کے مصنف کے مطابق ملوٹ ملک کوٹ کا مخفف ہے۔ اس کے مطابق مسلم سلاطین ملک کا خطاب اس راجا کو دیتے تھے جو اس کی بالادستی کو قبول کر لیتا تھا اور خود مختار بھی ہوتا تھا اس بیان کی تائید تزک بابری سے بھی ہوتی ہے۔[2] ملوٹ کا ذکر ایک عسکری چوکی اور جنجوعہ طاقت کے مرکز کے طور پر ملتا ہے، جو اس دور میں کوہِ نمک کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ تھا
ملوٹ کی تفصیلات
[ترمیم]انتظامی مقام: مغل دور میں ملوٹ صوبہ لاہور کی سرکار سندھ ساگر دوآب (Sarkar of the Sindh Ságar Doab) کے تحت ایک اہم محل (پرگنہ) تھا جغرافیائی و دفاعی حیثیت: ملوٹ ایک پہاڑی پر واقع ہے جہاں پتھر کا ایک مضبوط قلعہ موجود ہے یہ علاقہ دفاعی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ آبادی و قبائل: یہاں کے زمیندار اور باشندے جنجوعہ (Janjua) قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنجوعہ اس خطے کا ایک قدیم اور جنگجو راجپوت قبیلہ ہے
شماریاتی اعداد و شمار
[ترمیم]پیمائش شدہ اراضی: ملوٹ کا کل رقبہ 3,296 بیگھہ درج ہے۔ مالگزاری (محصول): اس محل سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی 188,233 دام بتائی گئی ہے۔ عسکری قوت: ملوٹ مغل سلطنت کو 10 سوار (Cavalry) اور 200 پیادہ (Infantry) سپاہی فراہم کرنے کا پابند تھا۔[3]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://newpakhistorian.wordpress.com/2025/04/27/villages-of-choa-saidan-shah-and-kallar-kahar-tehsils-with-information-on-major-clans/
- ↑ Roznama Dunya: اسپیشل فیچرز :- قلعہ ملوٹ
- ↑ آئینِ اکبری:ابوالفضل علامی*مترجم: ایچ ایس جیرٹ جلد:دوم صفحہ نمبر: 328 ناشر: لو پرائس پبلیکیشنز، دہلی : 1997ء
|
|