قومی اسمبلی پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قومی اسمبلی پاکستان
ایوان زیریں پاکستان
15ویں قومی اسمبلی پاکستان
Emblem of national Assembly
قسم
قسم
مدت
5 سال
تاریخ
آغاز اجلاس نو
13 اگست 2018ء (2018ء-08-13)
قیادت
شہباز شریف، مسلم لیگ ن
از 11اپریل 2022
ساخت
نشستیں342
  • اسمبلیاں تحلیل (از صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان )
بتاریخ: 3 اپریل 2022
National Assembly 2018.svg
سیاسی گروہ
حکومت (179)

حزب اختلاف (162)

(132)

انتخابات
پچھلے انتخابات
25 جولائی 2018ء
مقام ملاقات
Pakistani parliament house.jpg
پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد
ویب سائٹ
www.na.gov.pk
Coat of arms of Pakistan.svg
سلسلہ مضامین
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے جو صدر اور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر اسد قیصر ہیں جبکہ قاسم خان سوری ان کے ڈپٹی اسپیکر ہیں۔موجودہ ہونے والے قائد ایوان عمران خان ہیں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ہیں جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے۔

آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں سے 272 نشستوں پر اراکین براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذہبی اقلیتوں کے لیے 10 اور خواتین کے لیے 60 نشستیں بھی مخصوص ہیں، جنہیں 5 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کے درمیان میں نمائندگی کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں خواتین کی موجودہ تعداد 72 ہے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کثیر الجماعتی انتخابات کے ذریعے عوام کی جانب سے منتخب کیے جاتے ہیں جو پانچ سال میں منعقد ہوتے ہیں۔ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی نشست کے لیے مقابلہ کرنے والے امیدواروں کا پاکستانی شہری ہونا 18 سال سے زائد العمر ہونا ضروری ہے۔

آئین پاکستان کی شق 58 کے تحت صدر پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پانچ سالہ مدت ختم ہونے سے قبل بھی اسمبلی کو تحلیل کر دے تاہم اس کے لیے عدالت عظمیٰ کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسمبلی تحویل تہلیلتہلیلہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہوتا ہے۔

3 اپریل 2022 کو عمران خان نے صدر پاکستان کو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مشورہ دیا [1] جسے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قبول کر لیا اور یوں 3 اپریل 2022 کو 15ویں قومی اسمبلی تحلیل ہو گئی۔

وضاحت[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Imran Khan advised President Alvi to Dissolve Assembly". 3 April 2022.