شہباز شریف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہباز شریف
Mian Shehbaz Sharif.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش 23 ستمبر 1951 (71 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ تہمینہ درانی  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد محمد حمزہ شہبازشریف  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد میاں محمد شریف  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان شریف خاندان  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
وزیر اعلیٰ پنجاب   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
20 فروری 1997  – 12 اکتوبر 1999 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png میاں محمد افضل حیات 
پرویزالہی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر اعلیٰ پنجاب   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
8 جون 2008  – 26 مارچ 2013 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png دوست محمد کھوسہ 
نجم سیٹھی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
2009  – 2011 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png چودھری نثار علی خان 
نواز شریف  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر اعلیٰ پنجاب   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
8 جون 2013  – 8 جون 2018 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نجم سیٹھی 
حسن عسکری رضوی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
13 مارچ 2018 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نواز شریف 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Flag of the Prime Minister of Pakistan.svg وزیر اعظم پاکستان[1] (23 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
11 اپریل 2022 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عمران خان 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ انتھونی ہائی اسکول
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کل دولت 1500000 امریکی ڈالر[2]  ویکی ڈیٹا پر (P2218) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

میاں محمد شہباز شریف (پیدائش 23 ستمبر 1951ء) پاکستانی سیاست دان اور موجودہ وزیر عظم ہیں۔ جو 8 جون 2013ء سے 8 جون 2018ء تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے اور سابقہ قائد حزب اختلاف، ایوان زیریں پاکستان۔ سیاسی طور پر ان کا تعلق شریف خاندان سے ہے، میاں محمد شریف (بانی اتفاق گروپ) ان کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف بھائی ہیں شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر بھی ہیں۔ شہباز شریف 1988ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی اور 1990ء میں قومی اسمبلی پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993ء میں پھر پنجاب صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔ 1997ء میں تیسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے، شہباز شریف نے 20 فروری 1997ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد 11 اپریل 2022ء کو 174 ووٹ لے کر پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔

پاکستان میں فوجی انقلاب 1999ء[ترمیم]

1999ء میں فوجی انقلاب کے بعد، شہباز شریف نے سعودی عرب میں جلا وطنی کی زندگی گزاری اور آخرکار 2007ء میں پاکستان واپسی ہوئی۔ پاکستان کے عام انتخابات 2008ء میں کامیابی کے بعد شہباز شریف دوسری بار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 2009ء میں جب صدر آصف علی زرداری نے گورنر راج کا نفاذ کر کے سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب نامزد کیا تو شہباز شریف معزول ہو گئے۔[3] شریف برادران نے عدالت کی بحالی کے لیے یوسف رضا گیلانی کی حکومت کی خلاف لانگ مارچ کیا جس کے نتیجے میں عدلیہ بحال ہو گئی اور گورنر راج ختم ہو گیا۔ شریف کے دوسرے دور میں بنیادی ڈھانچے میں ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی اور 2011ء میں ڈینگی کے بخار کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہے۔[4]

خاندان[ترمیم]

شہباز شریف 23 ستمبر 1951ء کو لاہور، پنجاب، پاکستان کے مسلمان مشہور کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں محمد شریف ایک صنعت کار تھے۔ ان کے والد کا تعلق امرتسر سے تھے، جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر آئے۔ ان کی والدہ کا نام شمیم اختر تھا۔ ان کے دو بھائی عباس اور میاں محمد نواز شریف (سابق وزیر اعظم پاکستان) ہیں۔ نواز شریف تین بار وزیر اعطم پاکستان منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کی بھابھی کلثوم نواز مرحوم ایک وقت میں خاتون اول رہی ہیں۔ کلثوم نواز تین بار خاتون اول پاکستان رہی ہیں جو اس عہدے پر پاکستان میں سب سے زیادہ غیر مسلسل وقت گزار چکی ہیں۔ شہباز شریف کا بیٹا حمزہ شہباز شریف اور بھتیجی مریم نواز اس وقت سیاست میں ہیں۔

شادیاں[ترمیم]

ان کی پہلی شادی ان کے والد کی اجازت سے 1973ء میں ان کی کزن بیگم نصرت شہباز سے ہوئی جن سے ان کے دو بیٹے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز اور تین بیٹیاں ہیں۔ حمزہ شہباز سیاست دان ہے اور قومی اسمبلی کے رکن بھی ہے۔ سلمان شہباز نے جامعہ اوکسفرڈ لندن سے تعلیم حاصل کی اور ان کا زیادہ رجحان کاروبار کی طرف ہے۔ انہوں نے 1993ء میں دوسری شادی عالیہ ہنی سے کی جن سے ان کی ایک بیٹی خدیجہ ہیں۔ انہوں نے عالیہ ہنی کو جلاوطنی کے دور میں سعودی عرب میں طلاق دے دی تھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے تیسری شادی تہمینہ درانی سے کی جس کا وہ اقرار نہیں کرتے، اگر یہ سچ ہے تو یہ دونوں کی تیسری ،تیسری شادی ہے۔[5]

عہدے اور دورانیہ[ترمیم]

  • صدر ایوانِ صنعت و تجارت لاہور (لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) 1985ء
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) 1988–1990ء
  • رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) 1990–1993ء
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) اور قائدِ حزبِ اختلاف 1993–1996ء
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) اور وزیر اعلیٰ پنجاب 20 فروری 1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء
  • صدر مسلم لیگ نواز گروپ اگست 2002ء تا حال
  • فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات میں جیت کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔
  • مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔
  • موجودہ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی

وزارتِ اعلیٰ پنجاب[ترمیم]

میاں محمد شہباز شریف 20 فروری 1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کا دور نہائت سخت انتظام کے لیے مشہور ہے جس میں انہوں نے لاہور کی شکل بدلنے کی کوشش کی۔ خصوصاً ناجائز تجاوزات میں سے بے شمار کو ختم کیا۔ انہوں نے پنجاب کے ایسے اسکولوں کے خلاف بھی اقدام اٹھائے جو عرف عام میں بھوت اسکول یا گھوسٹ اسکول کہلاتے ہیں یعنی وسائل استعمال کرتے ہیں مگر وہاں اساتذہ نہیں ہوتے یا سرے سے اسکول ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے ڈھائی سال کے دوران میں اقربا پروری اور سفارش کے خلاف بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور بوٹی مافیا کے خلاف کام کیا۔ اپنے دور کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اور اس دوران میں پورے پنجاب میں کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی۔ پولیس میں پہلی دفعہ پڑھے لکھے جوان لڑکوں کی بھرتی میرٹ کی بنیاد پر کی گئی۔[6]

فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد ضمنی انتخاب میں جیت کر دوبارہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے اور 8 جون 2018ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔

جلا وطنی[ترمیم]

12 اکتوبر 1999ء کو پاکستان میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ شہباز شریف بھی قید میں رہے۔ بعد ازاں انہیں سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ ایک معاہدہ کے تحت ہوا مگر اس سے شریف خاندان انکار کرتا ہے اور حکومت بھی کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کر سکی۔ لاہور ہائی کورٹ نے جب فیصلہ دیا کہ وہ پاکستان آنے میں آزاد ہیں تو انہوں نے 11 مئی 2004ء کو انہوں نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی مگر لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے (علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ) پر انہیں گرفتار کر کے واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ سعودی عرب سے پھر وہ برطانیہ کے دار الحکومت لندن چلے گئے ہیں اور وہاں سے سیاست کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ نواز شریف کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے۔ حال ہی میں آل پارٹی کانفرنس میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔

مسلم لیگ کی صدارت[ترمیم]

سعودی عرب میں قیام کے دوران میں 3 اگست 2002ء کو پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کا صدر چنا گیا۔ 2 اگست 2006ء کو انہیں دوبارہ اگلی مدت کے لیے چنا گیا۔ نواز شریف کے مطابق پاکستانی حکومت نے انہیں اپنے بھائی نواز شریف سے متنفر کرنے کی کوشش بھی کی مگر ناکامی ہوئی۔ شہباز شریف کے مطابق وہ نواز شریف کو اپنے والد کی جگہ سمجھتے ہیں۔

ایف آئی آر[ترمیم]

انقلاب مارچ کے دوران میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مداخلت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران میں شہید ہونے والے 14 افراد کے قتل اور 90 سے زائد کے شدید زخمی ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔[7]

الزامات اور مقدمات[ترمیم]

5 اکتوبر 2018ء کو شہباز شریف کو صاف پانی کرپشن اسکینڈل اور آشیانہ ہاؤسنگ اسیکنڈل کی وجہ سے نیب نے گرفتار کر لیا[8][9][10][11] صاف پانی کمپنی حکومت پنجاب نے قائم کی تھی تاکہ ہر شخص کو پانی فراہم کیا جا سکے۔ تاہم صاف پانی اسکینڈل میں مبینہ مالی ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔[12][11] نیب کے مطابق شہباز شریف نے اپنی من پسند کمپنیوں کو ٹھیکا دیا اور اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا۔ نیب کے مطابق اسکینڈل میں ملزمان کی ملی بھگت سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔[13][11]

وزارت عظمیٰ[ترمیم]

عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد 11 اپریل 2022ء کو قومی اسمبلی سے 174 ووٹ لے کر پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب ہوئے ،

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Twitter moment ID: https://twitter.com/i/events/1513466374449819649
  2. https://www.dawn.com/news/1415229
  3. Shaikh، Shakil. "Governor's rule imposed in Punjab as Sharif brothers disqualified". The News (26 فروری 2009). 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 جون 2010. 
  4. Dengue under control: Health department آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ thenews.com.pk [Error: unknown archive URL] The News International (18 اکتوبر 2012)
  5. "Shahbaz confirms marriage to Tehmina". روزنامہ ٹائم. 24 فروری 2005. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 اپریل 2013. 
  6. روزنامہ جنگ 4 مئی 2007
  7. شریف برادران کے خلاف قتل کی ایف آئی آر
  8. "Shehbaz Sharif arrested in Saaf Pani Company scam: sources، The News. اخذکردہ بتاریخ 5 اکتوبر 2018
  9. "NAB detains Shehbaz Sharif in Lahore". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 اکتوبر 2018. 
  10. "NAB arrests Shehbaz Sharif in Ashiana Housing scandal"، Dunya News. اخذکردہ بتاریخ 5 اکتوبر 2019
  11. ^ ا ب پ "Shehbaz Sharif arrested in Ashiana Company case"۔ اخذکردہ بتاریخ 5 اکتوبر 2018
  12. "Shehbaz Sharif arrested by NAB in Saaf Pani case"۔ اخذکردہ بتاریخ 5 اکتوبر 2018
  13. "NAB arrests Shehbaz Sharif in Ashiana Company case"، Geo TV.

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل by
میاں محمد افضل حیات
وزیر اعلیٰ پنجاب
1997–1999
مابعد 
ماقبل by دوسری مدت
2008–2009
مابعد 
سلمان تاثیر (گورنر راج)
ماقبل by (بحالی)
2009–2013
مابعد 
ماقبل by
نجم سیٹھی
تیسری مدت
2013–تاحال
مابعد 
برسرعہدہ
سیاسی جماعتوں کے عہدے
ماقبل by صدر پاکستان مسلم لیگ
2002–2011
مابعد 
نواز شریف