شہباز شریف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
میاں محمد شہباز شریف
Shahbaz Sharif (cropped).jpg
وزیر اعلیٰ شہباز شریف, پاکستان مسلم لیگ (ن)
اکیسویں وزیر اعلیٰ پنجاب، پاکستان
عہدہ سنبھالا
جون 2013ء – تا حال
صدر آصف علی زرداری
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
گورنر محمد سرورِ
لطیف کھوسہ
سلمان تاثیر
پیشرو دوست محمد کھوسہ
حلقہ بھکر, صوبہ پنجاب
اکثریت پاکستان مسلم لیگ (ن)
سترہویں وزیر اعلیٰ پنجاب، پاکستان
عہدہ سنبھالا
20فروری, 1997ء – 12 اکتوبر, 1999ء
صدر محمد رفیق تارڑ
فاروق لغاری
وسیم سجاد
وزیر اعظم نواز شریف
گورنر شاہد حامد
ذوالفقار علی کھوسہ
ذاتی تفصیلات
پیدائش میاں محمد شہباز شریف
1950 (عمر 60 یا 61 سال)
لاہور, صوبہ پنجاب, مغربی پاکستان
قومیت پاکستانی
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)
شریک حیات بیگم نصرت شہباز (1973-1993)
عالیہ ہنی (1993-1994)
تہمینہ درانی (2003 - تا حال)
رہائش وزیراعلیٰ ہاؤس, لاہور (سرکاری)
ذریعہ معاش سیاستدان
پیشہ کاروبار
مذہب اسلام

میاں محمد شہباز شریف پاکستان کے مشہور سیاستدان، پاکستان مسلم لیگ (نواز گروپ) کے اہم رکن اور پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بھائی ہیں۔ 1950ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے سب سے گنجان آباد صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ شہباز شریف 20 فروری 1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء تک بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ 1999ء میں پرویز مشرف کے حکومت پر قبضہ کر لینے کے بعد وہ سعودی عرب ، میں جلا وطن رہے۔ 11 مئی 2004ء کو انہوں نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی مگر لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انہیں واپس بھیج دیا گیا۔

خاندان[ترمیم]

شہباز شریف مشہور کشمیری صنعت کار I[1] میاں محمد شریف کے بیٹے اور میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کے بھائی ہیں۔ ان کی پہلی شادی ان کے والد کے اجازت سے 1973ء میں ان کی کزن بیگم نصرت شہباز سے ہوئی جن سے ان کے دو بیٹے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز اور تین بیٹیاں ہیں۔ حمزہ شہباز سیاستدان ہے اور قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں۔ سلمان شہباز نے آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے تعلیم حاصل کی اور ان کا زیادہ رجحان کاروبار کی طرف ہے۔ انہوں نے 1993ء میں دوسری شادی عالیہ ہنی سے کی جن سے ان کی ایک بیٹی خدیجہ ہیں۔ انہوں نے اپنی عالیہ ہنی کو جلاوطنی کے دور میں سعودی عرب میں طلاق دے دی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے تیسری شادی تہمینہ درانی سے کی جس کا وہ اقرار نہیں کرتے، یہ دونوں کی تیسری تیسری شادی ہے.[2]

تاریخچہ[ترمیم]

  • صدر ایوانِ صنعت و تجارت لاہور (لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) 1985
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) 1988-1990
  • رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) 1990-1993
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) اور قائدِ حزبِ اختلاف 1993-1996
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) اور وزیر اعلیٰ پنجاب 20 فروری 1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء
  • صدر مسلم لیگ نواز گروپ اگست 2002 تا حال
  • فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات میں جیت کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔
  • مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے، اور تاحال اسی عہدے پر فائز ہیں۔

وزارتِ اعلیٰ پنجاب[ترمیم]

میاں محمد شہباز شریف 20 فروری 1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء تک پنجاب کے وزیر اعلی رہے۔ ان کا دور نہائت سخت انتظام کے لیے مشہور ہے جس میں انہوں نے لاہور کی شکل بدلنے کی کوشش کی۔ خصوصاً ناجائز تجاوزات میں سے بےشمار کو ختم کیا۔ انہوں نے پنجاب کے ایسے اسکولوں کے خلاف بھی اقدام اٹھائے جو عرف عام میں بھوت اسکول یا گھوسٹ اسکول کہلاتے ہیں یعنی وسائل استعمال کرتے ہیں مگر وہاں اساتذہ نہیں ہوتے یا سرے سے اسکول ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے ڈھائی سال کے دوران اقربا پروری اور سفارش کے خلاف بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور بوٹی مافیا کے خلاف کام کیا۔ اپنے دور کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اور اس دوران پورے پنجاب میں کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی۔ پولیس میں پہلی دفعہ پڑھے لکھے جوان لڑکوں کی بھرتی میرٹ کی بنیاد پر کی گئی۔[3]

فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد ضمنی انتخاب میں جیت کر دوبارہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے، اور تاحال اسی عہدے پر فائز ہیں۔

جلا وطنی[ترمیم]

12 اکتوبر 1999ء کو پاکستان میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ شہباز شریف بھی قید میں رہے۔ بعد ازاں انہیں سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ ایک معاہدہ کے تحت ہوا مگر اس سے شریف خاندان انکار کرتا ہے اور حکومت بھی کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کر سکی۔ لاہور ہائی کورٹ نے جب فیصلہ دیا کہ وہ پاکستان آنے میں آزاد ہیں تو انہوں نے 11 مئی 2004ء کو انہوں نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی مگر لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے (علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ) پر انہیں گرفتار کر کے واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ سعودی عرب سے پھر وہ برطانیہ کے دار الحکومت لندن چلے گئے ہیں اور وہاں سے سیاست کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ نواز شریف کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے۔ حال ہی میں آل پارٹی کانفرنس میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔

مسلم لیگ کی صدارت[ترمیم]

سعودی عرب میں قیام کے دوران 3 اگست 2002ء کو پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کا صدر چنا گیا۔ 2 اگست 2006ء کو انہیں دوبارہ اگلی مدت کے لیے چنا گیا۔ نواز شریف کے مطابق پاکستانی حکومت نے انہیں اپنے بھائی نواز شریف سے متنفر کرنے کی کوشش بھی کی مگر ناکامی ہوئی۔ شہباز شریف کے مطابق وہ نواز شریف کو اپنے والد کی جگہ سمجھتے ہیں۔

ایف آئی آر[ترمیم]

انقلاب مارچ کے دوران پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مداخلت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران شہید ہونے والے 14 افراد کے قتل اور 90 سے زائد کے شدید زخمی ہونے والوں کو انصاف دلانے کیلئے وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ [4]

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشتر
میاں محمد افضل حیات
وزیر اعلیٰ پنجاب
1997 – 1999
اگلا
چوہدری پرویز الٰہی
پیشتر
دوست محمد کھوسہ
دوسری مدت
2008 – 2009
اگلا
سلمان تاثیر (نگران)
پیشتر
سلمان تاثیر
دوسری مدت
2008 – 2009
اگلا
سلمان تاثیر (نگران)
پیشتر
سلمان تاثیر
(بحال کر دئیے گئے)
2009–2013
اگلا
نجم سیٹھی
پیشتر
نجم سیٹھی
تیسری مدت
2013
موجودہ
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشتر
نواز شریف
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)
2002 – تا حال
موجودہ