شہباز شریف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شہباز شریف
Mian Shehbaz Sharif.JPG
میاں شہباز شریف
وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر اعلیٰ پنجاب
دفتر سنبھالا
8 جون 2013
صدر ممنون حسین
وزیر اعظم نواز شریف
گورنر رفیق رجوانہ
پیشرو نجم سیٹھی
اکثریت پاکستان مسلم لیگ
عہدہ سنبھالا
8 جون 2008 – 26 مارچ 2013
صدر آصف علی زرداری
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
راجہ پرویز اشرف
میر ہزار خان کھوسو
گورنر مخدوم احمد محمود
سردار لطیف کھوسہ
سلمان تاثیر
پیشرو دوست محمد کھوسہ
جانشین نجم سیٹھی
عہدہ سنبھالا
20 فروری 1997 – 12 اکتوبر 1999
صدر رفیق تارڑ
فاروق احمد خان لغاری
وسیم سجاد
وزیر اعظم نواز شریف
گورنر شائد حامد
سردار ذولفقار علی کھوسہ
پیشرو میاں محمد افضل حیات
جانشین چوہدری پرویز الٰہی
صدر پاکستان مسلم لیگ
عہدہ سنبھالا
30 ستمبر 2009 – 27 جولائی 2010
نائب صدر غوث علی شاہ
پیشرو نثار علی خان
جانشین نواز شریف
ذاتی تفصیلات
پیدائش 23 ستمبر 1951 (1951-09-23) ‏(65)
لاہور، پنجاب، پاکستان
قومیت پاکستانی
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ
شریک حیات بیگم نصرت (1973–1993)
عالیہ ہونی (1993–1994)
تہمینہ درانی (m. 2003)
اولاد 6 (بشمول حمزہ شہباز شریف)
والدین شمیم اور میاں محمد شریف
پیشہ سیاست دان

میان محمد شہباز شریف (پیدائش 23 ستمبر 1951ء) پاکستانی سیاست دان اور موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب سنہ 8 جون 2013ء سے۔

سیاسی طور پر ممتاز شریف خاندان سے ہیں، میاں محمد شریف (بانی اتفاق گروپ) ان کے والد اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف بھائی ہیںشہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر بھی ہیں۔ شہباز شریف 1988ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی اور 1990ء میں قومی اسمبلی پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993ء پھر پنجاب صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔ 1997ء میں تیسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے، شہباز شریف نے 20 فروری 1997ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔

پاکستان میں فوجی تاخت 1999ء کے بعد، شہباز شریف نے سعودی عرب میں جلا وطنی کی زندگی گزاری، اور آخرکار 2007ء میں پاکستان واپسی ہوئی۔ پاکستان کے عام انتخابات 2008ء میں کامیابی کے بعد شہباز شریف دوسری بار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 2009ء میں جب صدر آصف علی زرداری نے گورنر راج کا نفاذ کر کے سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب نامزد کیا تو شہباز شریف معزول ہو گئے۔[1] شریف برادران نے عدالت کی بحالی کے لیے یوسف رضا گیلانی کی حکومت کی خلاف لانگ مارچ کیا جس کس نتیجےمیں عدلیہ بحال ہو گئی، اور گورنر راج ختم ہو گیا۔ شریف کے دوسرے دور میں بنیادی ڈھانچے میں ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی، اور 2011ء میں ڈینگی کے بخار کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہے۔[2]

خاندان[ترمیم]

شہباز شریف 23 ستمبر 1951ء کو لاہور، پنجاب، پاکستان کے مسلمان مشہور کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں محمد شریف ایک صنعت کار تھے۔ ان کے والد امرتسر سے تھے، جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر آئے۔ ان کی والدہ کا نام شمیم اختر تھا۔ ان کے دو بھائی عباس اور میاں محمد نواز شریف (موجودہ وزیر اعظم پاکستان) ہیں۔ نواز شریف تین بار وزیر اعطم پاکستان منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کی بھابھی کلثوم نواز اس وقت خاتون اول ہیں۔ کلثوم نواز تیسری بار خاتون اول پاکستان ہیں جو اس عہدے پر پاکستان میں سب سے زیادہ غیر مسلسل وقت گزار چکی ہیں۔ شہباز شریف کا بیٹا حمزہ شہباز شریف اور بھتیجی مریم نواز اس وقت سیاست میں ہیں۔

ان کی پہلی شادی ان کے والد کی اجازت سے 1973ء میں ان کی کزن بیگم نصرت شہباز سے ہوئی جن سے ان کے دو بیٹے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز اور تین بیٹیاں ہیں۔ حمزہ شہباز سیاستدان ہے اور قومی اسمبلی کے رکن بھی ہے۔ سلمان شہباز نے جامعہ اوکسفرڈ لندن سے تعلیم حاصل کی اور ان کا زیادہ رجحان کاروبار کی طرف ہے۔ انہوں نے 1993ء میں دوسری شادی عالیہ ہنی سے کی جن سے ان کی ایک بیٹی خدیجہ ہیں۔ انہوں نے عالیہ ہنی کو جلاوطنی کے دور میں سعودی عرب میں طلاق دے دی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے تیسری شادی تہمینہ درانی سے کی جس کا وہ اقرار نہیں کرتے، اگر یہ سچ ہے تو یہ دونوں کی تیسری تیسری شادی ہے۔[3]

تاریخچہ[ترمیم]

  • صدر ایوانِ صنعت و تجارت لاہور (لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) 1985
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) 1988–1990
  • رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) 1990–1993
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) اور قائدِ حزبِ اختلاف 1993–1996
  • رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے پنجاب) اور وزیر اعلیٰ پنجاب 20 فروری 1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء
  • صدر مسلم لیگ نواز گروپ اگست 2002 تا حال
  • فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات میں جیت کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔
  • مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے، اور تاحال اسی عہدے پر فائز ہیں۔

وزارتِ اعلیٰ پنجاب[ترمیم]

میاں محمد شہباز شریف 20 فروری 1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کا دور نہائت سخت انتظام کے لیے مشہور ہے جس میں انہوں نے لاہور کی شکل بدلنے کی کوشش کی۔ خصوصاً ناجائز تجاوزات میں سے بےشمار کو ختم کیا۔ انہوں نے پنجاب کے ایسے اسکولوں کے خلاف بھی اقدام اٹھائے جو عرف عام میں بھوت اسکول یا گھوسٹ اسکول کہلاتے ہیں یعنی وسائل استعمال کرتے ہیں مگر وہاں اساتذہ نہیں ہوتے یا سرے سے اسکول ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے ڈھائی سال کے دوران میں اقربا پروری اور سفارش کے خلاف بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور بوٹی مافیا کے خلاف کام کیا۔ اپنے دور کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اور اس دوران میں پورے پنجاب میں کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی۔ پولیس میں پہلی دفعہ پڑھے لکھے جوان لڑکوں کی بھرتی میرٹ کی بنیاد پر کی گئی۔[4]

فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد ضمنی انتخاب میں جیت کر دوبارہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے، اور تاحال اسی عہدے پر فائز ہیں۔

جلا وطنی[ترمیم]

12 اکتوبر 1999ء کو پاکستان میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ شہباز شریف بھی قید میں رہے۔ بعد ازاں انہیں سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ ایک معاہدہ کے تحت ہوا مگر اس سے شریف خاندان انکار کرتا ہے اور حکومت بھی کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کر سکی۔ لاہور ہائی کورٹ نے جب فیصلہ دیا کہ وہ پاکستان آنے میں آزاد ہیں تو انہوں نے 11 مئی 2004ء کو انہوں نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی مگر لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے (علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ) پر انہیں گرفتار کر کے واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ سعودی عرب سے پھر وہ برطانیہ کے دار الحکومت لندن چلے گئے ہیں اور وہاں سے سیاست کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ نواز شریف کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے۔ حال ہی میں آل پارٹی کانفرنس میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔

مسلم لیگ کی صدارت[ترمیم]

سعودی عرب میں قیام کے دوران میں 3 اگست 2002ء کو پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کا صدر چنا گیا۔ 2 اگست 2006ء کو انہیں دوبارہ اگلی مدت کے لیے چنا گیا۔ نواز شریف کے مطابق پاکستانی حکومت نے انہیں اپنے بھائی نواز شریف سے متنفر کرنے کی کوشش بھی کی مگر ناکامی ہوئی۔ شہباز شریف کے مطابق وہ نواز شریف کو اپنے والد کی جگہ سمجھتے ہیں۔

ایف آئی آر[ترمیم]

انقلاب مارچ کے دوران میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مداخلت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران میں شہید ہونے والے 14 افراد کے قتل اور 90 سے زائد کے شدید زخمی ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ [5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشرو 
میاں محمد افضل حیات
وزیر اعلیٰ پنجاب
1997–1999
جانشین 
چوہدری پرویز الٰہی
پیشرو 
دوست محمد کھوسہ
دوسری مدت
2008–2009
جانشین 
سلمان تاثیر (گورنر راج)
پیشرو 
سلمان تاثیر
(بحالی)
2009–2013
جانشین 
نجم سیٹھی
پیشرو 
نجم سیٹھی
تیسری مدت
2013–تاحال
جانشین 
برسرعہدہ
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو 
نواز شریف
صدر پاکستان مسلم لیگ
2002–2011
جانشین 
نواز شریف