ممتاز دولتانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میاں ممتاز دولتانہ
Mian Mumtaz Daultana
معلومات شخصیت
پیدائش 20 فروری 1916[1]
لڈن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 جنوری 1995 عمر 78[1]
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان، سیاسی عہدہ دار
وجہ شہرت عقلمند سیاسی حکمت عملی
* 1953 violent street protests in Lahore against the Non-Muslim Qadianis as Chief Minister of Punjab

میاں ممتاز دولتانہ تحریک پاکستان کے ایک سرگرم رکن جنہوں نے برطانوی صوبہ پنجاب میں مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنے میں مدد کی۔[1] جوئیہ راجپوت : چند مشہور جوئیہ گوتیں دولتانہ,لالیکا,عاکوکا اور لکھویرا جوئیہ خاندان قبیلہ کے معروف سردار لونے خان اور اس کے دو بھائی بر اور وسیل اپنے ہزاروں اہل قبیلہ کے ساتھ 635ھ کے قریب بابا فرید رحمۃ اللہ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ بابا فرید نے لونے خان کو دعا دی، تو 12 فرزند ہوئے اس کا بڑا بیٹا لکھو خاں سردار بنا، بیکانیر میں رنگ محل کا قلعہ بنوایا بیکانیر میں قصبہ لکھویرا بھی اسی کے نام سے منسوب ہے۔ اس کی اولاد کو لکھویرا کہا جاتا ہے جو ضلع بہاولنگر اور پاکپتن میں آباد ہیں۔ بعض جوئیے اپنے قبیلے کو عربی النسل کہتے ہیں مگر اصل میں جوئیہ قوم ہند کی ایک قدیم قوم ہے۔ ٹاڈ کے مطابق جوئیہ قوم سری کرشن جی کی اولاد ہے یہ قوم پہلے بھٹنیر، ناگور اور ہریانہ کے علاقہ میں حکمران تھی اب بھی بھی یہ قوم راجپوتانہ میں اور اس کے ملحقہ علاقے میں کافی تعداد میں آباد ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ قبیلہ بیکانیر سے ہجرت کر کے زیادہ تر ریاست بہاولپور اور ضلع ساہیوال، عارف والا، پاکپتن میں آباد ہو گیا۔ ساتویں صدی ہجری میں جوئیوں کی بھٹی راجپوتوں سے بے شمار لڑائیاں ہوئیں، دسویں صدی ہجری میں راجپوتانہ کے جاٹ اور گدارے جوئیوں کے خلاف متحد ہو گئے ان لڑائیوں سے تنگ آکر دریائے گھاگرہ کے خشک ہونے کی بنا پر جوئیہ سردار نے دسویں صدی ہجری میں اپنے آبائی شہر رنگ محل کو خیر باد کہا اور دریائے ستلج کے گردونواح ایک نیا شہر سلیم گڑھ آباد کیا زبانی روایات کے مطابق سلیم گڑھ کا ابتدائی نام شہر فرید تھا۔

بعد میں نواب صادق محمد خان اول نے لکھویروں کے محاصل ادا نہ کرنے کی وجہ سے نواب فرید خان دوم اور ان کے بھائی معروف خان اور علی خان کے ساتھ جنگ کی۔ جس کی بنا پر جنوب میں بیکانیر کی سرحد تک اور شمال میں پاکپتن کی جاگیر تک نواب صادق محمد خان کا قبضہ ہو گیا اور لکھویرا کی ریاست بہاولپور کی ریاست میں مدغم ہو گی۔ تاہم بعد ازیں  شاہان عباسی نے لکھویروں کی ذاتی جاگیریں بحال کر دیں اور انہیں درباری اعزازات بھی دیے۔

جنرل بخت خان جنگ (آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا سپہ سالار) بھی جوئیہ تھا یہ کوروپانڈوؤں کی نسل سے خیال کیے جاتے ہیں۔ راجپوتوں کے 36 شاہی خاندانوں میں شامل ہیں۔ ایک روایت کے مطابق راجا پورس جس نے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا، جوئیہ راجپوت تھا۔ ملتان بار اور جنگل کے بادشاہ مشہور تھے۔ چونکہ سرسبز گھاس والے میدان کو جوہ کہا جاتا ہے۔ اسی جوہ کے مالک ہونے کی وجہ سے یہ جوھیہ اور جوئیہ مشہور ہوئے جو بابا فرید رحمۃ اللہ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ http://storyofpakistan.com/mian-mumtaz-daultana, Profile of Mumtaz Daultana on storyofpakistan.com website, Updated 4 January 2008, Retrieved 25 January 2017

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل 
افتخار حسین خان ممدوٹ
وزیر اعلیٰ پنجاب
1951–1953
مابعد 
ملک فیروز خان نون
ماقبل 
حسین شہید سہروردی
وزیر دفاع پاکستان
1957
مابعد 
ملک فیروز خان نون