سلمان تاثیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سلمان تاثیر
Salmaan Taseer October 29, 2009 Lahore.jpg
سلمان تاثیر اکتوبر 2009ء میں
26 ویں گورنر پنجاب، پاکستان
عہدہ سنبھالا
15 مئی 2008ء – 4 جنوری 2011ء
پیشرو خالد مقبول
ذاتی تفصیلات
پیدائش لاہور، پنجاب (پاکستان)، برطانوی ہند
وفات 4 جنوری 2011(2011-01-04)
اسلام آباد، پاکستان
سیاسی جماعت Flagge der Pakistanischen Volkspartei.svg پاکستان پیپلز پارٹی
شریک حیات تَولین سنگھ، آمنہ تاثیر
اولاد آتش تاثیر، مریم، شہریار، شہباز، سارہ، صنم، شہر بانو
رہائش گورنر ہاؤس لاہور (سرکاری)
مادر علمی چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ، لندن سے [1]
مذہب اسلام
ویب سائٹ سلمان تاثیر کا ذاتی موقع جال

سلمان تاثیر ایک پاکستانی کاروباری شخصیت اورسیاستدان تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا اور جنہوں نے صوبہ پنجاب کے چھبیسویں گورنر کے فرائض انجام دئیے-

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سلمان تاثیر 31 مئی 1944ء کو برطانوی ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے- ان کے والد ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر امرتسر کے ایم-اے-او کالج میں پروفیسر تھے جنہوں نے برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی- ان کی والدہ بلقیس کرسٹوبیل تاثیر ایک انگریز خاتوں اور فیض احمد فیض کی شریک حیات ایلس فیض کی ہمشیرہ تھیں-[2]

سیاسی تاریخ[ترمیم]

سلمان تاثیر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر تھے۔ آپ نے گورنر کا حلف 15 مئی 2008ء کو اٹھایا جب پرویز مشرف نے آپ کو گورنر مقرر کیا۔ اس سے پہلے سلمان تاثیر 1988ء کے انتخابات میں میں پیپلز پارٹی کی طرف سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی (1964ء-2011ء) طرف سے کئی الیکشن لڑ چکے ہیں تاہم مشرف دور کی نگراں حکومت میں وزیر بھی رہے۔ آپ فرسٹ کیپیٹل اور ورلڈ کال گروپ کے چیرمین تھے۔ آصف علی زرداری کے صدر بننے کے بعد بھی آپ گورنر رہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان و نمائندہ۔

کاروباری زندگی[ترمیم]

سلمان تاثیر نے متعدد چارٹرڈ اکاونٹنگ اور کنسلٹنسی فرمز قائم کریں- اس میں سرفہرست بینالاقوامی اکاونٹنگ فرم کے-پی-ایم-جی کی پاکستانی شاخ کی بنیاد رکھی جوکہ آج تک ان کے نام سے منسوب ہے اور تاثیر-ہادی کے نام سے جانی جاتی ہے-

سوچ[ترمیم]

آپ کی سیاسی وابستگی پیپلز پارٹی سے رہی۔ قانون کی حکمرانی بارے آپ کی سوچ آپ کے اس بیان سے عیاں ہوتی ہے جو 2010ء میں آپ نے بطور گورنر پنجاب جامعہ فیصل آباد کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں پر دیا[3]

پاکستان کے عوام ڈرون حملوں کی طرف نہ دیکھیں، امریکہ سے ملنے والی امداد پر توجہ دیں

قتل[ترمیم]

سلمان تاثیر نے 2010ء میں پاکستان میں ناموس رسالت قانون توہین رسالت کی شدید مخالفت کی اور اس میں ضیاالحق کے دور میں کی کی گئی ترمیم کو کالا قانون قرار دیا- اس کے نتیجہ میں علماء کی ایک بڑی تعداد نے اسے واجب القتل قرار دیدیاحوالہ درکار؟ اور 4 جنوری 2011ء کو اس کے ایک محافظ ملک ممتاز حسین قادری نے اسلام آباد کے علاقے ایف-6 کی کوہسار مارکیٹ میں اسے قتل کر دیا- متعدد مذہبی سیاسی جماعتوں اور طالبان سمیت کئی دہشتگرد تنظیموں کی طرف سے تنبیہ اور دھمکی کے باوجود اس کی نماز جنازہ میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت پیپلز پارٹی کے ہزاروںحوالہ درکار؟ جیالوں اور خاص و عام افراد نے شرکت کی-[4] نماز جنازہ افضل چشتی نے پڑھائی- اور نماز جنازہ پڑھنے والے متعدد افراد نے توبہ کر کے تجدید ایمان کی۔حوالہ درکار؟

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Profile of new Punjab Governor". APP. اخذ کردہ بتاریخ 2010-07-28. 
  2. "Stephen Sackur Interviews Shehrbano Taseer". BBC. 30 April. 2011. اخذ کردہ بتاریخ 30 April 2011. 
  3. روزنامہ جنگ، "عرفان صدیقی: نقش خیال: کیا بے حمیتی کی کوئی حد نہیں ہوتی"
  4. [Sana Saleem, "Salmaan Taseer: murder in an extremist climate", The Guardian, 5 January 2011. Retrieved 2011-01-07.

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشتر
خالد مقبول
گورنر پنجاب
2008 – 2011
اگلا
سردار لطیف کھوسہ