ٹکا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جنرل
ٹکا خان
General.TikkaKhan.jpg
پہلے رئیسِ عملۂ پاک فوج
عہدہ سنبھالا
3 مارچ 1972 – 1 مارچ 1976
صدر ذوالفقار علی بھٹو
فضل الہی چوہدری
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
پیشرو نیا عہدہ متعارف ہوا
جانشین ضیاءالحق
گورنر پنجاب
عہدہ سنبھالا
دسمبر 1988 – اگست 1990
صدر غلام اسحاق خان
وزیر اعظم بینظیر بھٹو
پیشرو سجاد حسین قریشی‎
جانشین میاں اظہر
گورنر مشرقی پاکستان
عہدہ سنبھالا
6 اپریل 1971 – 31 اگست 1971
صدر یحییٰ خان
پیشرو یعقوب خان
جانشین عبدالمطلب ملک
ذاتی تفصیلات
پیدائش محمد ٹکا خان
قومیت Flag of Pakistan.svg پاکستان
مذہب اسلام
اعزازات ہلال جرات (HJ)
ہلال قائد اعظم (HQA)
ستارۂ پاکستان (SPk)
فوجی خدمات
عرفیت جنرل ٹکا خان
تابعداری Flag of Pakistan.svg پاکستان
سروس/شاخ  پاکستان فوج
سالہائے خدمات 1940 – 1976
عہدہ US-O10 insignia.svg منصبِ جامع
کماندز آٹھویں انفنٹری ڈویژن, رن کچھ
پندرہویں انفنٹری ڈویژن, سیالکوٹ
کور IV (پاکستان), لاہور
ایسٹرن کمانڈ, ڈھاکہ
کور II (پاکستان) ملتان
رئیس عملہ فوج
لڑائیاں/جنگیں جنگ رن کچھ
چوندا کی لڑائی
پاک بھارت جنگ 1965ء
پاک بھارت جنگ 1971ء
جنگ آزادی بنگلہ دیش
آپریشن سرچ لائٹ

سابق مشرقی پاکستان کے گورنر اور سابق چیف آف آرمی سٹاف، ٹکا خاں کا تعلق ضلع راولپنڈی تحصیل کہوٹہ کے ایک گاؤں [[کالیاں سہالیاں] سے تھا۔ برطانوی فوج میں سپاہی کے حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کرنے کے بعد ٹکا خان کی 1940ء کی دہائی کے اوائل میں کمیشنڈ افسر کی حیثیت سے ترقی ہو گئی۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ میں رن آف کچھ میں ایک بریگیڈ کی کمان کی اور ہلال جرات حاصل کیا۔

ٹکا خاں پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور میں سابق مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر اور گورنر بھی رہے۔ اور ان کے اسی کردار نے ان کو ایک متنازع شخصیت بنا دیا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک ان کا شمار ان افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے مشرقی پاکستان میں انتہائی ناپسندیدہ کردار ادا کیا جبکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے سابق فوجی افسران ان کو ایک سادہ اور محنتی فوجی کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پچیس مارچ، 1971ء کی رات کو ہونے والے ایک ظالمانہ آپریشن نے جس میں شیخ مجیب الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا تھا جنرل ٹکا خاں کو متنازع بنا دیا۔ لیکن ان افسران کے مطابق جنرل ٹکا خان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور ذرائع ابلاغ میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔

جنرل ٹکا خان

سابق صدر ایوب خان نے اپنی یاداشت میں آپ کو "Goof" کے لقب سے پکارا ہے۔[1] [2] 1972ء میں وہ چیف آف آرمی سٹاف بنے اور تین سال بعد فوج سے ریٹائر ہونے پر وہ صوبہ پنجاب کے گورنر بنے۔ 1988ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر وہ دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی سال انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر الیکشن لڑا جس میں وہ ہار گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. روزنامہ نیشن،3 مئی2007ء، "Ayub on Bhutto"
  2. Diaries of Field Marshal Muhammad Ayub Khan" edited by Craig Baxter

[1]

  1. https://www.pakistanarmy.gov.pk/AWPReview/TextContent.aspx?pId=149